Al-Risala · February 2006

الرساله مشن

Al-Risala, February 2006, pp. 47–33

By Maulana Wahiduddin Khan

الرساله مشن اور میری زندگی دونوں اس طرح جڑے ہوئے ہیں کہ ایک کو دوسرے کے بغیر سمجھا میری پیدائش کی تخمینی تاریخ یکم جنوری ۱۹۲۵ء ہے۔ جس صبح کو میری پیدائش ہونے والی تھی، اُس صبح کی رات کو میری ماں زَینب النساء (وفات ۱۹۸۵ء) نے ایک خواب دیکھا۔ دیکھا کہ میں پیدا ہوا ہوں۔ اور پھر ایک بڑا ہاتھی آیا، اِس نے اپنی سُونڈ سے اٹھا کر مجھ کو اپنی پیٹھ پر رکھا اور پھر جنگل کی طرف چلا گیا۔ یہ دیکھ کر میری ماں نے خواب میں کہا کہ دیکھو، اتنا اچھا بچہ تھا اور ہاتھی اس کو لے کر چلا گیا۔

میں اپنی زندگی کو دیکھتا ہوں تو مجھے یہ خواب بہت با معنی معلوم ہوتا ہے۔ یہ واقعہ مجھے اُس قدیم تاریخ کا اعادہ نظر آتا ہے جب کہ حضرت ابراہیم کی بیوی ہاجرہ چار ہزار سال پہلے شام کے علاقے سے اپنے چھوٹے بچے کو لے کر نکلیں اور عرب کے غیر آباد صحرا میں آکر رہنے لگیں۔ ہاجرہ کا یہ فعل اس لیے تھا کہ اُن کا بچہ اسماعیل بن ابراہیم صحرا کے غیر مُتمدّن ماحول میں پُرورش پائے۔ وہ شہری آبادی سے دور ایک ایسے ویرانے میں تربیت پا کر بڑا ہو جہاں فطرت کے سوا کوئی اور چیز اُس کے ذہن کی تشکیل کرنے والی نہ ہو۔ ابتدائی زندگی میں میرے ساتھ جو معاملہ ہوا وہ اپنی نوعیت کے اعتبار سے ایسا ہی تھا۔ میرے جدِ اعلیٰ ضیاء الدین خاں ایک افغانی تھے۔ پانچ سوسال پہلے وہ افغانستان سے نکل کر انڈیا کی طرف روانہ ہوئے۔ راستے میں وہ بہت سے شہروں سے گزرے، مگر وہ کہیں نہیں رکے۔ آخرکار یوپی کے علاقے میں پہنچے اور اعظم گڑھ کے ایک دور افتادہ گاؤں میں مقیم ہوگئے۔ زندگی اسی دور افتادہ گاؤں میں گزری۔ یہاں تمدن جیسی کوئی چیز موجود نہ تھی۔ میرے گاؤں کے پاس ایک ندی بہتی تھی جو گویا یہ خاموش پیغام دے رہی تھی کہ زندگی ایک مسلسل حرکت کا نام ہے نہ کہ جمود کا۔ دن کے وقت سورج کی حیات بخش روشنی اور رات کو ستاروں کی مسحور کن جگمگاہٹ، کائنات کی معنویت کا تعارف کراتی تھی۔ گاؤں کے چاروں طرف پھیلے ہوئے باغ اور کھیت کی ہر یالی بتاتی تھی کہ

زندگی ایک نمو پذیر حقیقت کا نام ہے۔ تازہ ہوا کے جھونکے اور چڑیوں کے چہچہانے کی آوازیں ”سمع و بصر اور فؤاد“ کے لیے مسلسل طور پر روحانی غذا کا ذریعہ بنی ہوئی تھیں۔

یہ گویا فطرت کی تعلیم گاہ تھی۔ اس تعلیم گاہ کے اندر میری شخصیت بنی۔ میرا ذوق ہر اعتبار سے فطری ذوق بن گیا۔ میری سوچ اپنے آپ وہ سوچ بن گئی جس کو آفاقیت اور حقیقت پسندی کہا جاتا ابتدائی دور میں میرا یہ ”صحرائی تجربہ“ غالباً وہ سب سے اہم واقعہ تھا جس نے میری شخصیت کو ایک مکمل قسم کی مثبت شخصیت بنا دیا، جو ہر قسم کے منفی تصورات سے خالی تھی۔ غالباً یہی وجہ ہے کہ راقم الحروف کی اٹھائی الرسالہ تحریک دَورِ جدید کی وہ پہلی اسلامی تحریک تھی جو کسی ردِ عمل کے تحت شروع نہیں ہوئی بلکہ وہ مکمل طور پر مثبت ذہن کے تحت شروع ہوئی۔

پچھلے دو سو سال کے اندر دنیا بھر کے مسلمانوں میں بہت سی تحریکیں اٹھیں۔ ان تحریکوں کے گرد لاکھوں آدمی اکٹھا ہوئے، مگر میں سمجھتا ہوں کہ ان میں سے کوئی بھی تحریک حقیقی تحریک نہ تھی۔ مدت میں الرسالہ تحریک پہلی تحریک ہے جس کو مثبت معنوں میں ایک تحریک کہا جا سکتا ہے۔ الرسالہ تحریک کو چھوڑ کر دوسری تمام تحریکیں ردِ عمل کی تحریکیں تھیں۔ مثلاً انگریزوں نے مغل سلطنت کا خاتمہ کیا تو تحریکِ آزادی اُٹھ کھڑی ہوئی۔ کمال اتا ترک (وفات: ۱۹۳۸) نے خلافت کے خاتمے کا اعلان کیا تو اس کے احیاء کے نام پر خلافت تحریک کھڑی ہوئی۔ مغربی تہذیب کے مفروضہ یلغار کا مسئلہ پیدا ہوا تو اس سے مقابلہ کرنے کی تحریک اٹھ کھڑی ہوئی۔ فلسطین میں یہودیوں نے داخل ہو کر اسرائیل کی حکومت قائم کر دی تو اس کے جواب میں پُر شور تحریک شروع ہو گئی۔ کشمیر، بوسنیا، چیچنیا، فلپائن، آراکان وغیرہ میں لوگوں کو مفروضہ دشمن کی طرف سے خطرہ نظر آیا تو ہر جگہ جوابی تحریک کا طوفان بر پا ہو گیا۔ اسی طرح ہندوؤں کی طرف سے شُدھی کی اسکیم، عیسائیوں کی طرف سے مسلمانوں کو عیسائی بنانے کا منصوبہ، جیسے واقعات نے کچھ مسلم بزرگوں میں جوش پیدا کیا اور انہوں نے ان کی روک تھام کے لیے تحریک شروع کر دی۔

ردِ عمل کی تحریکوں کے اس ہجوم میں الرسالہ تحریک واحد تحریک ہے جو خالص مثبت ذہن کے

تحت شروع ہوئی۔ اس تحریک میں کسی بھی قسم کے کوئی ردعمل کی آمیزش نہ تھی۔ الرسالہ تحریک ابدی حقائق کی بنیاد پر اٹھی۔ وہ وقتی ہنگاموں کے جواب میں شروع نہیں ہوئی۔

غالباً ۱۹۵۴ء کی بات ہے، میں اعظم گڑھ کی جامع مسجد کے صحن میں پیتے کے درخت کے نیچے میری آنکھوں سے مسلسل آنسو جاری تھے اور میری زبان پر بار بار یہ الفاظ آرہے تھے: " خداوند ! تو کب آئے گا ، میں کب تک تیرے آنے کا انتظار کروں"۔

یہ گویا میرے دل کی یہ آواز تھی کہ کاش میں یہ جانوں کہ سچائی کیا ہے اور پھر میں خود اُسی سچائی کو اپناؤں اور ہر دوسرے کو اُس سے باخبر کروں۔

اس طرح واقعات گذرتے رہے یہاں تک کہ میں نے اسلام کی صورت میں سچائی کو دریافت اس کے بعد مسلسل طور پر میں اس سچائی کے اعلان میں مشغول ہو گیا۔ غالباً ۱۹۴۸ء کا واقعہ ہے، اعظم گڑھ میں بڑے پیمانے پر سالانہ نمائش کا انعقاد ہوا۔ اس موقع پر میں نے ایک بک اسٹال کی جگہ حاصل کی اور اپنے ساتھیوں کی مدد سے اسلامی کتابوں کا اسٹال لگایا۔ اس اسٹال کے اوپر نصب کرنے کے لیے میں نے ایک بہت بڑا بورڈ تیار کرایا۔ اس بورڈ پر جلی حرفوں میں یہ لکھا ہوا تھا: And God calls to the home of peace. یہ قرآن کی آیت واللہ يدعو إلى دار السلام (یونس ۲۵) کا انگریزی ترجمہ تھا۔ آیت کی تشریح مولا ناشبیر احمد عثمانی نے ان الفاظ میں کی ہے:

"یعنی دنیا کی زائل وفانی زندگی پر مت رجھو۔ دارالسلام (جنت) کی طرف آؤ۔ خدا تم کو سلامتی کے گھر کی طرف بلا رہا ہے اور وہاں تک پہنچنے کا راستہ بھی دکھلاتا رہا ہے۔ وہ ہی گھر ہے جہاں کے رہنے والے ہر قسم کے رنج و غم، پریشانی، تکلیف، نقصان، آفت اور فنا وزوال وغیرہ سے صحیح وسالم رہیں گے۔ فرشتے اُن کو سلام کریں گے۔ خود ربّ العزت کی طرف سے تحفۂ سلام پہنچے گا۔ (تفسیر عثمانی، صفحہ ۳۷۲) انگریزی کا یہ بورڈ اعظم گڑھ کے ایک آرٹسٹ محمد یوسف مرحوم نے تیار کیا تھا۔ وہ لال رنگ کے چمکدار حرفوں میں تھا اور نمائش گاہ کے اندر داخل ہوتے ہی دور سے دکھائی دیتا تھا۔

تحریک الرساله کے آرگن کے طور پر ماہنامہ الرسالہ ۱۹۷۶ سے برابر نکل رہا ہے۔ جو لوگ اس کو پڑھتے رہے ہیں وہ اچھی طرح جانتے ہیں کہ الرسالہ مشن مکمل طور پر مثبت ذہن کے تحت شروع ہوا۔ وہ ہر معاملے میں لوگوں کو مثبت رہنمائی دیتا رہا ہے۔ ۱۹۷۶ میں جب ماہنامہ الرسالہ جاری ہوا تو اُس وقت تمام لکھنے اور بولنے والے لوگ مایوسی کی بولی بول رہے تھے۔ ہر طرف یہ تاثر دیا جا رہا تھا گویا کہ اُمت کا ستارہ غروب ہو چکا ہے اور ہر طرف اندھیرا ہی اندھیرا ہے۔ ان حالات میں الرسالہ روشنی کی کرن بن کر نمودار ہوا۔ چنانچہ اس کے پہلے شمارے میں اس کے صفحۂ اول پر یہ الفاظ درج تھے: ’’سورج پچھم میں غروب ہوتا ہے تاکہ وہ دوبارہ پورب سے نئی شان کے ساتھ طلوع ہو۔ ایک روشن نشانی ہے جو آسمان پر ظاہر ہو کر ہر روز ہمیں بتاتی ہے کہ خدا نے اپنی مملکت کا نظام کس طرح بنایا ہے۔ یہ اس حقیقت کا ایک کائناتی اعلان ہے کہ خدا کی اس دنیا میں کوئی ’’غروب‘‘ آخری نہیں ۔ ہر غروب کے لیے ایک نیا طلوع مقدّر ہے۔ شرط صرف یہ ہے کہ آدمی کے اندر حوصلہ ہو۔ غروب کا واقعہ پیش آنے کے بعد وہ از سر نو اپنی جد و جہد کا منصوبہ اور زندگی کی شاہ راہ پر دوبارہ اپنا سفر شروع کر دے۔ ‘‘ (اکتوبر ۱۹۷۶) میری ابتدائی تعلیم گاؤں کے ایک مکتب میں ہوئی۔ اس مکتب کے واحد استاد مولانا فیض الرحمن اصلاحی (وفات ۱۹۷۲) تھے۔ اس مکتب میں میں نے قرآن اور اردو کے ساتھ عربی اور فارسی کی ابتدائی اُس وقت ہمارے خاندان میں انگریزی تعلیم کا کافی چرچا ہو چکا تھا۔ بھائی اقبال احمد سہیل (وفات ۱۹۵۵) سرسید کے قائم کردہ علی گڑھ کالج کے اُس اوّلین بیچ میں شامل تھے جس نے پہلی بار وہاں سے ایم۔ اے کی ڈگری حاصل کی۔ اس خاندانی ماحول کے تحت، مجھے انگریزی تعلیم کی طرف جانا چاہیے تھا۔ مگر میرے کسی منصوبے کے بغیر حالات نے میری زندگی کا رُخ بدل دیا۔ میرے والد میرے بچپن (۱۹۲۹ء) میں انتقال کر چکے تھے۔ میرے چچا صوفی عبدالمجید خاں (وفات ۱۹۳۸ء) کی حیثیت میرے خاندانی بزرگ کی تھی۔ اُن کو یہ شوق تھا کہ خاندان میں ایک شخص عالم دین بنے۔ چنانچہ انھوں نے اصرار کر کے ۱۹۳۸ء میں مجھے مشہور عربی درس گاہ

مدرسۃ الاصلاح (سرائے میر) میں مستطیع طالب علم کی حیثیت سے داخل کیا۔ آخر تک میری تعلیم کے تمام اخراجات وہ تنہا ادا کرتے رہے۔

عربی درس گاہ کی یہ تعلیم میری زندگی کا اہم ترین واقعہ تھا۔ اس تعلیم کے بغیر ناممکن تھا کہ میں وہ دینی مشن شروع کروں جو میں نے بعد کو شروع کیا۔ اس مدرسے سے مجھ کو جو دینی اور علمی فائدے ہوئے وہ ایک علیحدہ موضوع ہے۔ یہاں میں صرف ایک واقعے کا ذکر کروں گا جو میری شخصیت کی تعمیر میں بے حد اہم ثابت ہوا۔ غالباً ۱۹۴۰ء کا واقعہ ہے۔ مولانا امین احسن اصلاحی (وفات ۱۹۹۸) اُس وقت مدرسۃ الاصلاح کے صدر مدرس تھے۔ ایک دن کلاس میں قرآن کی یہ آیت زیر بحث آئی: وإلى الإبل كيف خلقت (الغاشیہ ۱۷) آیت کی تفسیر کرتے ہوئے اُنھوں نے طلباسے ایک سوال کیا۔ انہوں نے پوچھا کہ اونٹ کے سم پھٹے ہوتے ہیں یا جڑے ہوئے۔ کلاس میں اُس وقت بیس سے زیادہ طالب علم تھے مگر کوئی بھی یقین کے ساتھ اس سوال کا جواب نہ دے سکا۔ اس کے بعد اُنھوں نے ایک تقریر کی۔ انھوں نے عربی مقولہ: لا أدرى نصف العلم (میں نہیں جانتا آدھا علم ہے) کا فلسفہ بیان کیا۔ اُنھوں نے کہا کہ اپنے نہ جاننے کو جاننا، علمی سفر کی پہلی منزل ہے۔ آدمی اگر اپنی لاعلمی سے بے خبر ہو تو اس کے اندر جاننے کا شوق پیدا نہیں ہوگا، وہ بدستور بے خبر پڑا رہے گا۔ انھوں نے طلباسے کہا کہ آپ لوگ اونٹ کے سم کے بارے میں اپنے ’’لاادری‘‘ سے بے خبر تھے، اگر آپ اس معاملے میں اپنے ’’لاادری‘‘ کو جانتے تو اونٹ کو دیکھ کر آپ اس کو معلوم کر لینیتے۔ لیکن اپنے ’’لاادری‘‘ کو نہ جاننے کا نتیجہ یہ ہوا کہ بار بار اونٹ دیکھنے کے باوجود آپ اونٹ کے سم کے بارے میں بے خبر رہے۔ میری ابتدائی زندگی کا یہ واقعہ گویا میرے تفگیری سفر کے لیے ایک رجحان ساز (trend setter) واقعہ بن گیا۔ بعد کو جب انگریزی سیکھنے کے بعد میں نے برٹرینڈ رسل کی کتاب ول ٹو ڈاؤٹ (Will to Doubt) پڑھی تو معلوم ہوا کہ یہ وہی چیز تھی جس کو سائنس کی تاریخ میں روح تجسس (spirit of enquiry) کہا جاتا

چنانچہ روح تجسس میری طبیعت ثانیہ بن گئی۔ ہر چیز کی اصل کو جاننا، حتیٰ کہ معلوم چیز کو بھی از سر نو دریافت کرنا، یہ میرے ذہن کا مستقل حصہ بن گیا جو ساری عمر یکساں شدت کے ساتھ جاری رہا۔ تجسس کا نتیجہ تھا کہ میں یہ کہہ سکتا ہوں کہ میں نے خدا کے فضل سے، ایسی چیزیں دریافت کیں جو معلوم طور پر پوری تاریخ میں دریافت نہیں ہوئی تھیں، نہ مسلم تاریخ میں اور نہ وسیع تر معنوں میں بشری تاریخ میں۔ مدرسی کی تعلیم سے فارغ ہونے کے بعد میرا تعلیمی سفر ختم نہیں ہوا۔ اس کا ابتدائی محرک یہ تھا کہ جب میں مدرسے سے عربی اور دینی تعلیم لے کر واپس ہواتو میرے خاندان نے مجھے ایک نئے احساس سے دوچار کر دیا۔ میرے خاندان کے تقریباً تمام مرد اور عورت انگریزی تعلیم یافتہ تھے۔ میرے خاندانی دوست عتیق احمد انصاری (حال مقیم لاہور) بہت اچھی انگریزی جانتے تھے۔ اسکولنگ لکھنؤ کے لامائینیر اسکول میں ہوئی۔ اس کے بعد انھوں نے وہیں کے لامائینیر کالج سے انگلش لٹریچر میں ایم۔ اُن سے اور خاندان کے دوسرے افراد سے مل کر مجھے بیک وقت دو احساس ایک یہ کہ میں وقت کی زبان نہیں جانتا۔ دوسرے یہ کہ میں دینی تعلیم کے باوجود یہ اہلیت نہیں رکھتا کہ دورِ جدید کے ایک انسان کو اسلام کی معنویت پر مطمئن کر سکوں۔

اس تجربے کے بعد میں نے انگریزی زبان سیکھنے کا فیصلہ کیا۔ اُس وقت میں اعظم گڑھ میں اپنے بڑے بھائی عبدالعزیز خان کے ساتھ مقیم تھا۔ عجیب بات ہے کہ کوئی بھی شخص مجھے حوصلہ افزائی کرنے والا نہیں ملا۔ میرے بڑے بھائی نے جب یہ دیکھا کہ میں انگریزی زبان سیکھنے کی کوشش کر رہا ہوں تو انھوں نے کہا: بُڈھا طوطا کیا پڑھے گا۔ مجھے یاد ہے کہ ایک بار میں باقی منزل (اعظم گڑھ) میں انگریزی اخبار ہندوستان ٹائمنر کھول کر اُسے دیکھ رہا تھا کہ مولانا شہباز اصلاحی وہاں آگئے۔ مجھے دیکھ کر کہا: کچھ سمجھتے بھی ہو یا یوں ہی انگریزی اخبار لے کر بیٹھے ہوئے ہیں۔ اُس زمانے میں میرا یہ حال تھا کہ ہر وقت میں انگریزی کتابیں پڑھتا رہتا تھا۔ سڑک پر چلتے ہوئے بھی میرے ہاتھ میں کوئی انگریزی کتاب ہوتی تھی اور میں راستہ چلتے ہوئے اس کو پڑھتا رہتا تھا۔ میری اس عادت پر میری ماں غصہ ہوتی تھیں اور کہتی تھیں کہ تم کسی نہ کسی دن سڑک پر کسی گاڑی سے ٹکرا جاؤ گے۔

انگریزی سیکھنے کے بعد میں نے دورِ جدید کے سیکولر مفکرین کی کتابیں پڑھنا شروع کیں۔ اعظم گڑھ میں انگریزی کتابوں کی ایک لائبریری تھی جس کا نام مہتا لائبریری (Mehta Library) میں اس کا مستقل ممبر بن گیا۔ میں تقریباً روزانہ وہاں جاتا اور وہاں مدتوں سے بند پڑی ہوئی الماریوں سے انگریزی کتابیں نکال کر گھنٹوں اُن کا مطالعہ کرتا رہتا تھا۔ اس دور کا ایک واقعہ وہ ہے جس کو میں نے اپنی کتاب (مذہب اور سائنس) میں اس طرح نقل

”یہ ۱۹۶۶ء کی بات ہے۔ میں نے طے کیا کہ میں برٹرینڈ رسل (۱۹۷۰ء ۔ ۱۸۷۲ء) کو پڑھ خوش قسمتی سے میرے قریب شبلی نیشنل کالج اعظم گڑھ کی لائبریری میں مجھے رسل کی کتابوں کا پورا سٹ مل گیا۔ مگر جب میں اُن کتابوں کو لے کر گھر پہنچاتو میری بیوی ان کو دیکھ کر بہت متوحش ہوئیں۔ ”اب آپ ضرور گمراہ ہو جائیں گے‘‘ انھوں نے کہا۔ رسل اس دور کا معروف ترین ملحد ہے۔ اس لحاظ سے اس کی تصنیفات کو پڑھنا عام دینی ذوق کے مطابق خطرے سے خالی نہ تھا۔ مگر خدا کا شکر ہے کہ میں رسل کی دنیا میں داخل ہو کر اس طرح اُس سے نکلا کہ میرا ایمان پہلے سے زیادہ پختہ ہو چکا تھا (صفحہ ۲۳)

جدیدیات کے اسی تفصیلی مطالعہ کا نتیجہ تھا کہ خدا کی توفیق سے میں اس قابل ہو سکا کہ اسلام کی تعلیمات کو عصری اسلوب (modern idiom) میں پیش کروں۔

اسی کے ساتھ میں نے یہ ضرورت محسوس کی کہ میں اسلام کا مطالعہ از سر نو زیادہ تفصیل کے ساتھ اُس کے اصل مصادر کے ذریعے کروں۔ چنانچہ میں لمبی مدت تک قرآن و حدیث، سیرت اور اسلامی تاریخ کے مطالعے میں مشغول رہا۔ اس دور کے مطالعے کا ایک اندازہ اُس زمانے کے ایک واقعے سے کیا جا سکتا ہے جس کو میں نے اپنی کتاب ’’تعبیر کی غلطی‘‘ میں نقل کیا ہے۔ یہ واقعہ ۷ مارچ ۱۹۶۳ء کا ہے۔ میں نے اس واقعے کا ذکر کرتے ہوئے لکھا تھا:

”یہ دار المصنفین اعظم گڑھ کے کتب خانے کا وسطی کمرہ ہے۔ چاروں طرف تفسیر، حدیث،

فقہ، تاریخ، علمِ کلام اور لغت کی ایک درجن سے زیادہ بڑی بڑی الماریاں دیواروں سے لگی ہوئی رکھی ہیں۔ ایک بجے دن کا وقت ہے۔ کتب خانے کے بیرونی دروازے بند ہو چکے ہیں اور تمام لوگ دوپہر کے وقفے میں اپنے اپنے ٹھکانوں کو جا چکے ہیں۔ مکمل تنہائی کا ماحول ہے جس میں ایک طرف میں ہوں اور دوسری طرف کتابیں۔ مسلسل مطالعے کی وجہ سے اس وقت میری کیفیت یہ ہو چکی تھی کہ ایسا معلوم ہوتا تھا جیسے کسی نے میرے سارے بدن کا خون نچوڑ لیا تفسیر ابن جریر کی ایک جلد دیکھ کر میں اٹھا کہ اس کو الماری میں رکھ کر دوسری کتاب نکالوں۔ مگر اٹھاتو کمزوری کی وجہ سے چکر آ گیا اور سمت بھول گیا۔ یہ میرا مدت کا جانا پہچانا کمرہ ہے۔ مگر تھوڑی دیر تک میں وہاں اس طرح کھڑا رہا کہ میری سمجھ میں نہیں آتا تھا کہ میں کدھر جاؤں اور کس الماری سے کتاب نکالوں۔ کچھ دیر کے بعد ہوش آیا تو معلوم ہوا کہ متعلقہ الماری فلاں سمت میں ہے‘‘ (صفحہ ۱۶-۱۵)

اس طرح دو طرفہ طور پر اپنے تفصیلی مطالعے کے بعد میں نے مضامین لکھنے کا سلسلہ شروع کیا جو مختلف اخبارات اور جرائد میں چھپتے رہے۔ اس سلسلے میں اسلام اور عصر حاضر کے موضوع پر میری پہلی تفصیلی کتاب ’’علمِ جدید کا چیلنج‘‘ ہے جو ۱۹۶۶ میں شائع ہوئی۔ اسی طرح دین کی تعبیر و تشریح کے اعتبار سے میری پہلی مفصل کتاب ’’اسلام‘‘ ہے جو ۱۹۷۵ ۱۹ میں مکمل ہو کر شائع ہوئی۔ میں اپنے تفصیلی مطالعے کے بعد اس نتیجے پر پہنچا کہ اسلام ایک ایسا مذہب ہے جس کی تعلیمات مکمل طور پر خدا اور آخرت کے مرکزی تصور پر مبنی ہیں۔ اسلام کی دعوت در اصل انڈار آرٹ کی دعوت ہے۔ انسان کے اندر متقیانہ ذہن بنانا اور اس کے اندر ربانی شخصیت کی تعمیر کرنا، یہی اسلام کی دعوت کا اصل نشانہ ہے۔ یہی ذہن میرا پہلے بھی تھا اور یہی ذہن آج بھی ہے۔ اس حقیقت کو نہایت آسانی کے ساتھ اس طرح سمجھا جا سکتا ہے کہ کوئی شخص میری ابتدائی تحریروں کا مجموعہ پڑھے جو ’’قرآن کا مطلوب انسان‘‘ کے نام سے چھپ کر شائع ہو چکا ہے، اور

دوسری طرف وہ ماہنامہ الرسالہ میں میری بعد کی تحریروں کو پڑھے، دونوں کے درمیان وہ حیرت انگیز مشابہت پائے گا۔

قرآن کا مطلوب انسان نامی کتاب کے صفحہ ۶۰ - ۶۲ پر ایک مضمون چھپا ہے۔ یہ مضمون پہلی بار جماعتِ اسلامی کے سہ روزہ اخبار دعوت کے شمارہ ۵ ستمبر ۱۹۵۵ میں چھپا تھا۔ یہ مضمون دعوتِ اسلامی کے موضوع پر تھا۔ اس مضمون میں واضح طور پر بتایا گیا تھا کہ اسلامی دعوت دراصل اندازِ آخرت کا دوسرا نام ہے نہ کہ اقامتِ سیاست کا۔ اس کے بعد کوئی شخص ماہنامہ الرسالہ کا شمارہ دسمبر ۲۰۰۲ دیکھے۔ میں وہ چار صفحے کے اُس مضمون کو پڑھے جو اس عنوان کے تحت چھپا ہے: ڈرواس سے جو وقت ہے ان دونوں تحریروں کے درمیان اگر چہ تقریباً ۵۰ سال کا فاصلہ ہے مگر دونوں کا مضمون مکمل طور پر ایک ہے۔ یہ تقابل صاف طور پر بتا رہا ہے کہ ۲۰۰۲ میں میرا جو دعوتی ذہن ہے ٹھیک وہی ذہن میرے اندر ۱۹۵۵ میں بھی موجود تھا۔

اس کے بعد میں نے سیکڑوں کی تعداد میں کتابیں اور مضامین شائع کیے۔ میری ان تمام تحریروں میں مشترک طور پر یہی ذہن پایا جاتا ہے— ایک طرف اسلام کا ایسا علمی تعارف جس میں آج کا انسان یہ محسوس کرے کہ اسلام آج بھی اُتنا ہی ریلیونٹ (relevant) ہے جتنا کہ وہ اپنے ابتدائی دَور دوسرا پہلو جو میری تحریروں کا خاص موضوع رہا ہے وہ ہے اسلام کو بعد کی آمیزشوں سے پاک کرنا اور اُس کو اُس کی خالص صورت میں پیش کرنا۔

میرے ذہن میں اوّل روز سے یہ تھا کہ مجھے اپنی کوئی علیحدہ جماعت بنانا نہیں ہے بلکہ موجودہ جماعتوں اور اداروں سے مل کر کام کرنا ہے۔ اس سلسلے میں میں اکثر بڑی جماعتوں اور اداروں کے ساتھ تنظیمی طور پر وابستہ ہوا۔ مگر تجربے کے بعد معلوم ہوا کہ ہر جماعت اور ہر ادارہ، گروہی عصبیت کا میرے جیسا آدمی کسی بھی ادارے یا جماعت کے ساتھ زیادہ فعال انداز میں کام نہیں کر سکتا۔ مثلاً میں اس سلسلے میں جماعتِ اسلامی ہند سے وابستہ ہوا۔ مگر میں نے محسوس کیا کہ جماعت اسلامی کی فکر کا سر چشمہ حقیقتاً قرآن اور سنت نہیں ہے بلکہ وہ قرآن اور سنت کی ایک منحرف سیاسی تعبیر

چنانچہ میں زیادہ دیر تک جماعت اسلامی کے ساتھ نہ چل سکا۔ اسی طرح کچھ عرصے کے لیے میری وابستگی تبلیغی جماعت سے ہوئی، مگر اس سے قریب ہو کر معلوم ہوا کہ تبلیغی جماعت بھی اصلاً قرآن اور سنت پر نہیں کھڑی ہوئی ہے بلکہ وہ خود اپنی جماعت انجیل پر کھڑی ہوئی ہے، جس کا نام فضائل اعمال اسی طرح میں چند سال کے لیے ندوۃ العلماء (لکھنؤ) سے وابستہ رہا، مگر میں نے پایا کہ یہاں کے ماحول میں خدا پرستی سے زیادہ شخصیت پرستی کا غلبہ ہے۔ یہ بلاشبہ ایک مبتدانہ مزاج تھا۔ مزاج کے ساتھ مصالحت نہیں کر سکتا تھا۔ اس لیے اُس سے بھی میرا تعلق ٹوٹ گیا۔ یہی معاملہ جمعیت علماء ہند کے ساتھ پیش آیا۔ اس کے ساتھ میں چند سال تک وابستہ رہا مگر آخر کار معلوم ہوا کہ جمعیت علماء کا سارا زور ملی سیاست پر ہے۔ اور ملی سیاست میرے دعوتی مزاج سے مطابقت نہیں رکھتی۔ ان تجربات کے بعد آخر کار میں نے ۱۹۷۶ میں ماہنامہ الرسالہ جاری کیا۔ الرسالہ اپنی ابتدا ہی سے صرف ایک ماہنامہ نہیں تھا بلکہ وہ ایک مشن تھا۔ الرسالہ کا مقصد اسلام کو مسلمانوں کی قومی سیاست سے الگ ہو کر خالص دعوتی حیثیت سے زندہ کرنا تھا۔ خدا کی توفیق سے الرسالہ اسی نہج پر قائم ہے۔ بھی شخص الرسالہ کے شماروں کا مطالعہ کر کے اس حقیقت کو سمجھ سکتا ہے۔

۱۹۷۴ کے بعد جب مسلم تاریخ کا نیا دور شروع ہوا تو عین اُسی کے ساتھ ملک میں فرقہ وارانہ فساد کا سنگین مسئلہ شروع ہو گیا۔ مسلمانوں کے تمام لکھنے اور بولنے والے افراد کو اس مسئلے کا حل صرف یہ نظر آیا کہ وہ اپنے مفروضہ حریفوں کے خلاف احتجاج اور شکایت کا بے فائدہ طوفان جاری کر دیں۔ میں نے اس مسئلے کا مطالعہ قرآن اور حدیث کی روشنی میں کیا اور پھر مسلسل جدوجہد کے ذریعے مسلمانوں کو یہ بتایا کہ اس مسئلے کا حل صرف ایک ہے اور وہ اعراض ہے۔ مسلمان ہندوؤں کی مفروضہ اشتعال انگیزی پر اعراض کا طریقہ اختیار کریں اور پھر کوئی فساد نہ ہوگا۔ لمبی مدت کی اس صبر آزما کوشش کے بعد آخر کار مسلمانوں کی سمجھ میں یہ قرآنی اصول آگیا اور انھوں نے اس کو اختیار کر لیا۔ اسی کا نتیجہ ہے کہ اب انڈیا میں فرقہ وارانہ فساد صرف ماضی کی ایک یاد بن کر رہ گیا ہے۔ اسی طرح آزادی کے بعد تبادلہ آزادی کے نتیجے میں یہ ہوا کہ ہندوستان کی سرکاری ملازمتوں

میں اچانک مسلمانوں کا تناسب بہت کم ہو گیا۔ تعلیمی اداروں میں داخلہ لینا بھی اُن کے لیے ایک مشکل امر بن گیا۔ اس موضوع پر بھی مسلمانوں نے اپنے مزاج کے مطابق مطالبا تی مہم شروع کر دی ۔ اس مہم کا خاص نکتہ رزرولیشن تھا۔ مسلمانوں کی عمومی سوچ یہ بن گئی کہ جب تک مسلمانوں کو خصوصی رعایت نہ دی جائے وہ دوبارہ سروسوں میں اپنا مقام نہیں حاصل کر سکتے۔

اس موضوع پر میرا ذہن مکمل طور پر مختلف تھا۔ میں جانتا تھا کہ زندگی میں کامیابی کا راز اس امر پر ہے کہ آدمی اپنی اہلیت ثابت کر سکے۔ یہ دنیا مقابلے کی دنیا ہے، یہاں رزرولیشن کی بات کرنا ایک ایسی خلاف فطرت بات ہے جو کبھی کامیاب نہیں ہو سکتی۔ لمبی جدوجہد کے بعد اس پہلو سے بھی مسلمانوں کا ذہن بدلا اور اب سارے ملک میں مسلمان نہایت تیزی کے ساتھ تعلیم کے میدان میں جدوجہد کر رہے ہیں اور اُس کا مفید نتیجہ حاصل کر رہے ہیں۔

اسی طرح مختلف واقعات کے نتیجے میں ہندوئوں اور مسلمانوں کے درمیان نفرت کا ماحول قائم ہو گیا تھا۔ یہ صورتِ حال مسلمانوں کی ترقی کے لیے خطر ناک تھی۔ اور اس سے بڑھ کر یہ کہ اس کے نتیجے میں وہ معتدل ماحول ختم ہو رہا تھا جو دعوتی عمل کے جاری رہنے کے لیے ضروری ہے۔ اس منفی ذہن کو ختم کرنے کے لیے میں نے مسلسل تقریری اور تحریری جدوجہد شروع کر دی جو خدا کے فضل سے نہایت مفید

اس منفی ذہن کو ختم کرنے کے لیے میں نے دو طرفہ کوشش کی۔ ایک طرف ہندوئوں کے اندر اسلام اور مسلمانوں کے خلاف معاندانہ سوچ کو کمزور کیا۔ یہ مہم اس حد تک کامیاب ہوئی کہ ہندوئوں کی ’’ اینٹی مسلم پارٹی‘‘ کی سوچ بنیادی طور پر بدل گئی۔ پہلے یہ لوگ صرف ہندوئوں کو اپنا ووٹ بینک سمجھتے تھے، اس لیے وہ مسلمانوں کو نظر انداز کرتے تھے۔ اب وہ سمجھنے لگے کہ اپنی سیاسی کامیابی کے لیے اُنہیں لازمی طور پر مسلم ووٹ کی ضرورت ہے۔ اس کے نتیجے میں ان کی سیاسی فکر مکمل طور پر بدل گئی۔ جہاں تک مسلمانوں کا تعلق ہے، میں نے پایا کہ ان کی منفی سوچ کا اصل سبب یہ ہے کہ وہ ہندوستان کو اپنے لیے ایک پرابلم کنٹری سمجھتے ہیں۔ میں نے مسلسل کوشش کے ذریعے اُن کو بتایا کہ

ہندوستان اُن کے لیے مواقع (opportunities) کا مُلک ہے نہ کہ مسائل (problems) کا مُلک۔ اس کوشش کی ایک جھلک میری کتاب ’’ہندوستانی مسلمان‘‘ میں دیکھی جاسکتی ہے، جو اردو اور انگریزی دونوں زبانوں میں شائع ہوچکی ہے۔ ان کوششوں کے نتیجے میں مسلمانوں کا ذہن بڑے پیمانے پر ہندوستان کے بارے میں مسلمانوں کے اندر وہ معتدل سوچ پیدا ہوئی جو دنیوی ترقی اور دعوتی عمل کے لیے یکساں طور پر ضروری ہے۔

موجودہ زمانہ ایک اعتبار سے ڈائیلاگ کا زمانہ ہے۔ ساری دنیا میں مسلسل طور پر مختلف طبقوں کے درمیان ڈائیلاگ اور تبادلۂ خیال جاری ہے۔ یہ زمانہ رُجحان مذہب کے میدان میں بھی بڑے پیمانے پر جاری ہے۔ ہندوستان میں اور ساری دنیا میں یہ ہورہا ہے کہ مختلف مذاہب کی مشترک کانفرنسیں ان میں ہر مذہب کے لوگ شرکت کرتے ہیں۔ میں نے محسوس کیا کہ اس محاذ پر اسلام کی نمائندگی بہت کمزور ہے۔ مسلمان یا تو ان مشترک کانفرنسوں میں شرکت نہیں کرتے یا اگر کوئی مسلمان وہاں پہنچ جاتا ہے تو وہ اسلام کی نمائندگی اِس مطلوب انداز میں نہیں کر پاتا جو آج کی دنیا میں معیاری انداز سمجھا جاتا ہے۔

میں نے اس اعتبار سے اپنے آپ کو تیار کرنا شروع کیا اور جہاں بھی موقع ملا وہاں پہنچ کر اسلام کی مثبت نمائندگی کا سلسلہ بڑے پیمانے پر شروع کر دیا۔

یہ مہم ابتدائی طور پر ۱۹۴۸ میں شروع ہوئی ۔ تاہم اِس کا مطبوعہ آغاز ۱۹۵۹ میں ہوا۔ ۱۹۵۹ء کو سیوبارہ ( بجنور) میں آریہ سماج کے تحت مختلف مذاہب کی ایک کانفرنس ہوئی۔ اس موقع پر میں نے ایک مقالہ پیش کیا جو پہلی بار جنوری ۱۹۶۰ میں ’’اسلام کا تعارف‘‘ کے نام سے شائع ہوا۔ کانفرنس کے صدر بریلی کے ایک ہندو ایڈوکیٹ تھے۔ انہوں نے اپنی صدارتی تقریر میں کہا تھا کہ ’’ آج کے جلسے میں جو تقاریر ہوئیں اُن میں سب سے زیادہ ریلیوینٹ (relevant) تقریر مولانا صاحب کی تھی۔ آریہ سماج کی گولڈن جبلی کے موقع پر الہ آباد میں ۲۰ مئی ۱۹۶۰ کو ’’سرودھرم سمینن‘‘ کا

ایک پروگرام ہوا۔ اس میں مختلف مذاہب کے علماء کو دعوت دی گئی کہ وہ سیمیلین میں شریک ہو کر مندرجہ ذیل عنوان کے تحت اپنے اپنے مذہب کی برتری ثابت کریں۔ ”مانو وکاس کے لیے آپ ہی کے دھرم کو ماننا کیوں آوشیک ہے۔ “ اس دعوت نامے کے جواب میں میں نے اس موقع پر ایک مقالہ پیش کیا جو بعد کو ’منزل‘ کے نام سے شائع ہوا۔

۱۹۷۶ء سے اس سلسلے میں میری زندگی کا نیا دور شروع ہوا۔ اس سال میں نے ایک مسلم۔ ڈائیلاگ میں شرکت کی جو لیبیا کی راجدھانی طرابلس میں ہوا تھا۔ اس میں اسلام کی طرف سے جامعۃ الازہر (قاہرہ) نے شرکت کی، اور ویٹکن (روم) نے مسیحیت کی طرف سے نمائندگی کی۔ دعوت پر میں نے اُس میں شرکت کی اور زیر بحث موضوع پر ایک مقالہ (انگریزی زبان میں) پیش کیا۔ میری اس شرکت کی تفصیل ’سفر نامہ‘ جلد اول میں دیکھی جا سکتی ہے۔

اس کے بعد عالمی سفروں کا سلسلہ شروع ہوگیا۔ ملک کے اندر اور ملک کے باہر مسلسل طور پر مختلف مذاہب کی عالمی کانفرنسیں ہوتی رہتی ہیں۔ مجھے ان کانفرنسوں میں ہر جگہ بلایا جانے لگا۔ ایک وجہ یہ تھی کہ میرے بارے میں یہ مشہور ہو گیا کہ وہ مسلم علماء میں معتدل اور سائنٹفک ذہن کے آدمی ہیں اور اسلام کی پر امن تشریح پیش کرتے ہیں۔ اس طرح مجھے یہ موقع مل گیا کہ میں ہر جگہ جا کر عالمی اجتماعات میں اسلام کی تعلیمات کو مثبت انداز میں پیش کروں۔ یہ اسفار جو تادمِ تحریر جاری ہیں اُن کا مختصر تذکرہ میرے ان سفروں میں دیکھا جا سکتا ہے جو برابر الرسالہ میں چھپتے رہتے ہیں۔ ان سفروں کے تجربات بہت سبق آموز ہیں۔ مثلاً میں نے غیر مسلموں کے ایک اجتماع میں اسلام کا تعارف پیش کیا۔ اس میں میں نے کہا کہ اسلام اپنے ماننے والوں کے اندر انسانی خیر خواہی کا مزاج پیدا کرتا ہے۔ وہ اہلِ ایمان کو انسان دوست (insan friendly) بناتا ہے۔ آخر میں ایک غیر مسلم نے کھڑے ہو کر کہا کہ آج میں نے اسلام کا سچا تعارف حاصل کیا۔ اب میں نے یہ طے کیا ہے کہ آج سے میں نہ صرف انسان فرینڈلی بنوں گا بلکہ اسی کے ساتھ میں اسلام فرینڈلی بھی بنوں گا۔ اسی طرح میری ایک تقریر ایک یونیورسٹی کے ہال میں ہوئی۔ اس تقریر میں میں نے بتایا کہ

اسلام کی تعلیمات کیا ہیں۔ میں نے یہ تعارف قرآن اور حدیث کی روشنی میں پیش کیا۔ آخر میں ایک غیر مسلم پروفیسر نے کھڑے ہو کر کہا کہ: اگر یہی اسلام ہے پھر تو کوئی مسئلہ نہیں: If this is Islam, then where is the problem. غیر مسلموں کے اداروں اور کانفرنسوں میں میری تقریروں کا مثبت اثر ہوا۔ اکثر جگہ انھوں نے میری تقریروں کو اپنی رپورٹ میں چھاپا۔ غیر مسلموں کی طرف سے شائع ہونے والی میگزینوں اور ان کی کتابوں میں میرے مضامین شائع ہوتے رہے۔ کئی غیر مسلم اداروں نے مجھ سے یہ پیش کش کی کہ آپ اسلام کے مثبت اور حقیقی تعارف پر ایک کتاب تیار کر کے ہم کو دیجیے۔ ہم اس کو اپنے خرچ پر چھاپ کر دنیا میں پھیلائیں گے۔

اسی طرح سے غیر مسلم اخباروں اور ریڈیو اور ٹی وی میں مسلسل انٹرویو کی صورت میں اسلامی تعلیمات کا تعارف پیش کرنے کا موقع ملا۔ یہ ایک مستقل کام تھا۔ اس کام کی مختصر سرگذشت ماہنامہ الرسالہ کے شماروں میں’’ خبرنامہ‘‘ کے عنوان کے تحت دیکھی جا سکتی ہے۔ پرنٹنگ پریس کا زمانہ آنے کے بعد مسلم رہنماؤں نے بے شمار کتابیں چھاپیں، اخبارات اور رسائل جاری کیے مگر تقریباً یہ سب کے سب ردِ عمل کے تحت نکلے۔

اصل یہ ہے کہ جب پرنٹنگ پریس کا زمانہ آیا تو یہ وہ زمانہ تھا جب کہ یورپ کی مسیحی قوموں نے استعمار کے نام پر پوری مسلم دنیا پر براہ راست یا بالواسطہ غلبہ حاصل کر لیا تھا۔ اس کے نتیجے میں مسلمانوں کے اندر مغربی قوموں کے خلاف نفرت کے جذبات پیدا ہو گئے تھے۔ اس ماحول میں جب پریس کے ذریعے مسلمانوں کے جذبات ظاہر ہونا شروع ہوئے تو انھوں نے بہت جلد منفی صورت پوری مسلم دنیا کا پریس منفی طرزِ فکر کی اشاعت کا ذریعہ بن گیا۔ عربی پریس ’’الجہاد ھُو الحل الوحید‘‘ جیسے عنوانات سے بھرا ہوا نظر آنے لگا۔ دوسری طرف اردو پریس میں اس طرح کے جنگ جو نغمے سنائی دینے لگے :

شہادت ہے مطلوب و مقصود مومن نہ مالِ غنیمت نہ کشور کشائی لکھنؤ اور سہارن پور میں مولانا وحید الدین خاں کی عصری اسلوب میں ف ماہ نامہ الرسالہ حسب ذیل پتے پر دستیاب ہیں :

Mohmmad Hassan Nadwi Mobiles & Electronics, Shop No. 6, Sabzi Mandi, A-Market, Sector: 17, Lucknow (U.P.) 226 016 Phone: 09305356090, Email: mhcps@yahoo.com

اس منفی ماحول میں غالباً ماہنامہ الرسالہ پہلا اشاعتی پروگرام تھا جو خالص مثبت ذہن کے تحت شروع کیا گیا اور برابر مثبت ذہن کے تحت جاری رہا۔ کوئی بھی شخص جو الرسالہ اور دوسرے جرائد کا تقابلی مطالعہ کرے گا وہ اس فرق کو تسلیم کرے گا، خواہ وہ اس سے اتفاق کرتا ہو یا نہ کرتا ہو: عرب دنیا میں ایک عربی شاعر کا یہ شعر مدتوں سے گونج رہا تھا:

هاتِ صلاحَ الدين ثانية فينا جَدَّي حِطّين أو شبه حطّينا دوسری طرف برصغیر ہند میں مسلم شاعر کا یہ شعر گرمی مجلس کا ذریعہ بناہوا تھا: آگ ہے، اولادِ ابراہیم ہے، نمرود ہے کیا کسی کو، پھر کسی کا امتحاں مقصود ہے ان حالات میں ماہنامہ الرسالہ پوری مسلم دنیا میں ایک صحافتی استثناء کے طور پر ابھرا۔ نے لوگوں کو بتایا کہ زندگی کا راز پرامن جدوجہد میں ہے نہ کہ متشدّد دانہ جدوجہد میں۔ نیز یہ کہ موجودہ زمانہ میں عمومی تباہی کے ہتھیار (weapons of mass destruction) کے ظہور کے بعد مُسَلَّح جدوجہد یا جنگی کارروائی عملاً بے فائدہ ہوچکی ہے کیوں کہ اب تشدّد کا طریقہ صرف کاؤنٹر پروڈکٹیو(counterproductive) ثابت ہوگا، وہ کسی مثبت نتیجہ تک پہنچنے والا نہیں۔ الرسالہ جیسے ایک ماہنامہ کو شائع کرنا میرے لیے ایک مشکل ترین کام تھا۔ اُس زمانے میں دہلی میں ایک تعلیم یافتہ مسلمان مسٹّرتنویر احمد رہتے تھے۔ اُن سے میں نے ذکر کیا کہ میں ایک ماہنامہ جاری کرنا چاہتا ہوں۔ اُنھوں نے فوراً کہا کہ آپ کا ماہنامہ کبھی نہیں چلے گا۔ اس کی وجہ بتاتے ہوئے انھوں نے کہا کہ آپ کے مزاج کو میں جانتا ہوں۔ آپ جو ماہنامہ نکالیں گے وہ ایک سجیسٹیو (suggestive) جب کہ آج کا انسان صرف انفرمٹیو (informative) پرچہ پسند کرتا ہے۔ اُنھوں نے کہا کہ آپ کا رسالہ اگر معلوماتی رسالہ ہو تو لوگ معلومات کو جاننا چاہتے ہیں، مگر لوگوں کو یہ بتانا کہ تم یہ کرو اور وہ نہ کرو، ایک غیر مطلوب آواز ہے۔ کیوں کہ آزادی کے اس دور میں ہر انسان اپنا رہنما آپ ہے، وہ کسی اور کو اپنا رہنما بنانے کے لیے تیار نہیں۔

اسی طرح میں نے جس سے بھی مشورہ لیا اُس نے یہی مشورہ دیا کہ آپ ہرگز کوئی ماہنامہ نہ

نکالیں کیوں کہ وہ لازمی طور پر نا کام ہو جائے گا۔ اردو کے تجربہ کار صحافی بانی ’’ نئی دنیا‘‘ مولا نا عبد الوحید صدیقی (وفات : ۱۹۸۶) اُس وقت نظام الدین ایسٹ میں رہتے تھے اور میں پرانی دہلی میں جمعیت بلڈنگ کے ایک کمرے میں رہتا تھا۔ ایک دن میں ان سے مشورہ لینے کے لیے نظام الدین ایسٹ گیا۔ جب میں ان کے گھر پہنچا تو اُس وقت وہ بیمار تھے اور اپنے کمرے میں بستر پر لیٹے اُن سے میں نے کہا کہ میں ماہنامہ الرسالہ جاری کرنا چاہتا ہوں۔ یہ سن کر وہ اُٹھ کر اپنے بستر پر بیٹھ گئے اور کہا کہ ماہنامہ نہ نکالنے کا نام بھی نہ لیجئے ۔ کیوں کہ اس قسم کا ماہنامہ کبھی چلنے والا نہیں۔ غرض ہر ایک سے مجھے مایوس کن مشورہ ملا۔ میں ان منفی مشوروں سے بہت پریشان ہوا اور دعائیں کرنے لگا۔ پھر ایک رات میں نے اس معاملے پر استخارہ کیا۔ عشاء کے بعد دو رکعت استخارے کی نماز ادا کر کے دعا کی اور سو گیا۔ رات کو میں نے ایک خواب دیکھا۔ اس خواب میں میں نے دیکھا کہ ایک بوڑھی گائے ہے جس کا دودھ خشک ہو چکا ہے۔ میں ایک بڑی بالٹی لے کر آتا ہوں، میں نے اس بالٹی کو گائے کے تھن کے نیچے رکھا اور اپنے ہاتھ سے دودھ نکالنے لگا۔ وہاں آس پاس کئی لوگ وہ ہنس کر کہہ رہے تھے کہ دیکھو ، اس نادان کو وہ سوکھی گائے سے دودھ نکالنا چاہتا ہے۔ جب میں نے اپنا ہاتھ گائے کے تھن سے لگایا تو اس سے دودھ نکلنے لگا۔ اور پھر دودھ اتنا زیادہ نکلا کہ پوری بالٹی بھر گئی اور دودھ بالٹی سے نکل کر زمین پر بہنے لگا۔

اس خواب کے بعد میں نے فیصلہ کیا کہ مجھے ماہنامہ ’’الرسالہ‘‘ جاری کرنا ہے۔ رسالے کا یہ نام ڈاکٹر ظفر الاسلام خاں (پیدائش ۱۹۳۸) نے تجویز کیا تھا۔ میں نے اپنے بڑے بھائی عبد العزیز خاں صاحب سے پانچ ہزار روپے کا ابتدائی عطیہ لیا اور اکتوبر ۱۹۷۶ میں الرسالہ کا پہلا شمارہ شائع کر دیا۔ ماہنامہ الرسالہ کا اجراء میں نے بے سروسامانی کے عالم میں کیا تھا۔ اُس کے ابتدائی دور میں عبد العزیز خاں مرحوم کے علاوہ ڈاکٹر ظفر الاسلام خاں کا تعاون میرے لیے بہت مددگار ثابت ہوا۔ کا یہ قیمتی تعاون کئی سال تک مسلسل جاری رہا۔ بعد کے دور میں ماہنامہ الرسالہ کے قیام و بقا میں سب سے زیادہ حصہ ڈاکٹر ثانی اثنین خاں (پیدائش 1959) کا رہا ہے۔ یہ سب کچھ بلاشبہ اللہ کی توفیق سے ہوا۔

الرساله جاری کرنے سے پہلے میں اردو دنیا میں معروف ہو چکا تھا۔ میرے مضامین بہت سے اردو اخباروں اور رسالوں میں چھپ چکے تھے۔ مثلاً نگار، شاعر، پیام تعلیم، عصمت، ندائے ملت، الفرقان، دعوت، زندگی وغیرہ۔ اس کے علاوہ سہ روزہ ”الجمعیتہ“ میں ایڈیٹر کی حیثیت سے ۱۹۶۷ سے لے کر ۱۹۷۲ تک برابر میرے مضامین چھپتے رہے تھے۔

اس طرح ماہنامہ الرسالہ جاری کرنے سے پہلے ہی میرا ایک وسیع حلقۂ تعارف بن چکا تھا۔ مجھے یقین تھا کہ اگر لوگوں کے علم میں یہ بات آجائے کہ میں ایک ماہنامہ نکال رہا ہوں تو ضرور وہ اس کے خریدار بن جائیں گے۔ مگر یہاں غیر متوقع طور پر ایک حادثہ پیش آیا۔ مسلم جماعتوں اور مسلم اداروں کے اخبارات اور رسائل میں الرسالہ کا اشتہار چھاپنے کے لیے دیا گیا، مگر قیمت ادا کرنے کے باوجود اُن میں سے کوئی بھی الرسالہ کا اشتہار چھاپنے پر راضی نہیں ہوا۔ اس واقعے کا ذکر میری ڈائری میں اس طرح آیا ہے:

”احمد دیدات صاحب نے ساؤتھ افریقہ (ڈربن) میں اسلامک پروپیگنڈیش سنٹر قائم کیا ہے۔ انھوں نے اپنے ادارے کی طرف سے ایک اشتہار ٹائم میگزین (نیویارک) میں چھپنے کے یہ قرآن (ترجمہ) کا اشتہار تھا۔ اس اشتہار میں اس قسم کے الفاظ تھے: Establish the kingdom of God on Earth. The Future world Constitution. اس ایک صفحے کے اشتہار کی قیمت ستر ہزار ڈالر تھی۔ مگر ٹائم میگزین نے اس کو چھاپنے سے انکار کر دیا۔ احمد دیدات صاحب کے انگریزی پرچہ (البرہان دسمبر ۱۹۹۰) میں یہ قصہ چھاپا گیا ہے۔ اور یہ تاثر دیا گیا ہے کہ مغرب کے لوگ اسلام کے بارے میں سخت متعصب ہیں۔

میرے نزدیک یہ طریقہ صحیح نہیں۔ مغرب سے مسلمانوں کو بے شمار فائدے پہنچ رہے ہیں۔ فائدوں کا ذکر نہ کر کے مذکورہ واقعے کو سنسنی خیز انداز میں بیان کرنا سخت مہلک ہے۔ اس کی وجہ سے مسلمانوں کے اندر اپنی مدعو قوموں کے بارے میں نفرت کے جذبات پیدا ہوتے ہیں اور مسلمانوں کے لکھنے اور بولنے والے موجودہ زمانے میں یہی کام مسلسل کر رہے ہیں۔

میرا خود تجربہ ہے کہ جب الرسالہ نکلا تو میں نے اس کا اشتہار اخبار الجمعیة، دعوت، تعمیر حیات اور الكفاح وغیرہ میں دینا چاہا، مگر سب نے انکار کر دیا۔ حالاں کہ ہم اس کی پوری قیمت ادا کر رہے تھے۔ اگر اسلام دشمنی میں اشتہار نہیں چھاپا تو مذکورہ مسلم پرچوں نے الرسالہ کا اشتہار چھاپنے سے کیوں (ڈائری ۹۱-۹۲ صفحہ ۱۲- ۱۳)

تاہم میرا دعوتی جذبہ میرا رہنما ثابت ہوا۔ آخر کار اللہ کے بھروسے پر میں نے اکتوبر ۱۹۷۶ میں ماہنامہ الرسالہ کا اجرا کر دیا۔

شروع میں نہایت صبر آزما حالات پیش آئے۔ لوگوں نے ہر طرف میرے بارے میں یہ پروپیگنڈہ کر رکھا تھا کہ ان کے اندر مستقل مزاجی نہیں ہے، تھوڑے دنوں وہ پرچہ نکالیں گے اور اس کے بعد وہ بند ہو جائے گا۔ اس لیے الرسالہ کو پسند کرنے والے بھی اس کی سالانہ خریداری شروع کرنے میں ہچکچا رہے تھے۔ اُسی زمانے کا واقعہ ہے، میں دہلی شہر میں کسی مقام پر گیا ہوا تھا، واپس ہو کر جمعیة بلڈنگ میں داخل ہوا تو دروازے پر مولا نا اخلاق حسین قاسمی مل گئے۔ اُنھوں نے کہا: آپ نے ماہنامہ الرسالہ تو نکال دیا ہے، کیا اُس کے لیے کچھ فنڈ بھی اکٹھا کیا ہے۔ دیوانگی کے عالم میں میری زبان سے نکلا: کیا خدا سیف سائنڈ (safe side) میں رہے گا۔

یہ دیوانگی کا ایک کلمہ تھا جو اس کیفیت کے ساتھ میری زبان سے نکلا جس کا ذکر حدیث میں ان الفاظ میں آیا ہے: رُبَّ أَشْعَثَ أَغْبَرَ مدفوع بالأبواب، لو أقسم على الله لأَبَرَّہ۔ اس کے بعد ایک تدبیر سمجھ میں آئی۔ میں نے اعلان کر دیا کہ لوگ الرسالہ کی ایجنسی لے کر اُس اگر وہ کسی وقت محسوس کریں کہ ایجنسی کے تحت منگاۓ ہوۓ شمارے فروخت نہیں ہو رہے ہیں تو وہ غیر فروخت شدہ پرچوں کو بھیج کر اُن کی پوری قیمت واپس لے سکتے ہیں۔ یہ تدبیر کارگر ہوئی اور بہت بڑی تعداد میں لوگوں نے ایجنسی کے تحت الرسالہ منگانا شروع کر دیا۔ اس طرح اچانک الرسالہ ہر جگہ پھیل گیا۔

الرسالہ کی فطری آواز بہت جلد لوگوں کے دلوں میں اپنی جگہ بنانے لگی۔ جدید تعلیم یافتہ طبقے کو

محسوس ہوا کہ الرسالہ اسلام کو آج کے انسان کے لیے قابلِ فہم انداز میں پیش کر رہا ہے۔ کے ایک پروفیسر نے الرسالہ کے کچھ شمارے پڑھے۔ اس کے بعد انہوں نے کہا:

خدا کے فضل سے بہت جلد ایسا ہوا کہ الرسالہ کی آواز پھیلنے لگی۔ دنیا کے ہر حصے میں اُس کے پڑھنے والے پیدا ہو گئے۔ اُس کی مقبولیت صرف اُردوخواں طبقے میں نہیں بڑھی بلکہ دوسروں میں بھی۔ بہت سے لوگ جو اُردو نہیں پڑھ سکتے تھے انہوں نے باقاعدہ ٹیوٹر رکھ کر اُردو پڑھی تا کہ وہ براہِ راست الرسالہ پڑھ سکیں ۔ اسی قسم کے ایک صاحب مسٹرکشن جیونت راؤ پائل ( ناندیڑ ) ہیں جن کا ذکر الرسالہ (مارچ ۲۰۰۳ ، صفحہ ۳۸ ) میں آ چکا ہے۔ ایک عرب عالم شیخ محمد سلیمان القائد الرسالہ کے اتنے گرویدہ تھے کہ وہ ایک بنگلہ دیشی عالم کو ایک سو ڈالر ماہانہ دیتے تھے تا کہ وہ الرسالہ کا عربی ترجمہ کر کے انہیں دیا کرے، وغیرہ۔

میں پاکستانی تحریک کا کبھی حامی نہیں رہا۔ مگر عجیب بات ہے کہ پاکستان میں بھی الرسالہ اور مطبوعات الرسالہ اتنی زیادہ مقبول ہوئیں کہ آج پاکستان کے اکثر پڑھے لکھے لوگ اُس سے واقف ہیں اور پسند کرتے ہیں۔ ماہنامہ الرسالہ انڈیا کا واحد پرچہ ہے جو ہر مہینے اُسی طرح پاکستان سے شائع ہوتا ہے جس طرح وہ انڈیا سے چھپتا ہے۔ پاکستان کے سفر میں ایک بار ایسا ہوا کہ ایک مجلس میں پاکستانی جرائد سے تعلق رکھنے والے کچھ صاحبان موجود تھے۔ میں نے یہ پوچھا کہ پاکستان میں کون سا دینی ماہنامہ ہے جو مختلف حلقوں میں پڑھا جاتا ہے۔ شرکاء میں سے ایک صاحب نے کہا کہ پاکستان میں تو ایسا کوئی دینی ماہنامہ نہیں۔ اگر کوئی ماہنامہ یہاں مختلف حلقوں میں پڑھا جاتا ہوگا تو وہ ماہنامہ الرسالہ ہی ہوگا۔ الرسالہ شروع سے ایک دعوتی مشن کا ترجمان تھا۔ الرسالہ کی اس نوعیت کو برقرار رکھنے کے لیے مجھے بہت بھاری قیمت دینی پڑی۔ مثلاً الرسالہ میں چھاپنے کے لیے قیمتی اشتہارات مل رہے تھے مگر قصداً اُن کو نہیں لیا گیا۔ کیوں کہ اس سے الرسالہ کا داخلی ماحول متاثر ہو جاتا۔ دوسروں کے مضامین نہیں لیے گئے۔ کیوں کہ میں نے دیکھا کہ لوگوں کے ہر مضامین میں کچھ نہ کچھ

انحراف پایا جاتا ہے۔ مثلاً فرقہ وارانہ تعصب کی بُو، مسلمانوں کے تشدد کی توجیہہ، اپنی قوم کی وکالت، سیاسی سوچ کی آمیزش، صحیح میں غلط کو ملانا، غیر دعوتی انداز اور غیر مسلموں کو مدعو کے بجائے حریف کی حیثیت دینا، وغیرہ۔ چنانچہ مجھے غیر معمولی مشقت اُٹھا کر یہ کرنا پڑا کہ الرسالہ میں صرف میرے مضامین ہوں تا کہ فکری تشکیل و تربیت کے عمل میں کوئی رُکاوٹ نہ پڑے۔ الرسالہ کے تعمیری اور دعوتی مزاج کے تحفظ کے لیے مجھے بہت سی قربانیاں دینی پڑیں۔ میں سے ایک وہ ہے جس کا ذکر ڈائری (۱۹۸۹۔ ۱۹۹۰) میں آیا ہے۔ ڈائری کا یہ حصہ یہاں نقل کیا

”ڈاکٹر عبد الحلیم عویس ریاض کی جامعۃ الامام میں علومِ اجتماعیہ کے پروفیسر ہیں۔ میری تحریروں کے بہت قدرداں ہیں اور سعودی عرب کے اونچے حلقوں سے قریبی روابط اپریل ۱۹۸۶ کے دوسرے ہفتے میں وہ دہلی آئے اور ہمارے مرکز میں ٹھہرے۔ اُن کے اس قیامِ دہلی کا ایک واقعہ الرسالہ اپریل ۱۹۸۷ (صفحہ ۸) میں شائع ہوا ہے۔ ڈاکٹر عبد الحلیم عویس کی اس آمد کا مقصد یہ تھا کہ الرسالہ کے عربی ایڈیشن کے معاملات ڈاکٹر ظفر الاسلام خاں کو انہوں نے راضی کر لیا کہ وہ ترجمہ اور ایڈٹ کرنے کا کام انھوں نے پیش کش کی کہ اس کا سارا خرچہ مکمل طور پر سعودی عرب سے پورا کیا جائے گا اور تمام عالم عرب میں اِس کو پھیلایا جائے گا۔

تاہم میں اس پیش کش کو قبول نہ کر سکا۔ کیوں کہ اس میں میرے لیے ذاتی شہرت کا موقع تو بہت تھا، مگر میرا اصل مقصد اس سے حاصل نہیں ہو رہا تھا۔ اور اس کی وجہ اُن کی یہ شرط تھی کہ اس عربی الرسالہ میں ۵۰ فیصد مضامین الرسالہ والے ہوں گے اور بقیہ ۵۰ فیصد مضامین عرب اہل قلم کے ہوں گے۔ یہ میرے نزدیک فکری رُکون (بنی اسرائیل ۷۴) کے ہم معنی تھا۔ اس لیے میں اس کو قبول نہ کر سکا۔ کیوں کہ میں جانتا تھا کہ عرب اہل قلم

عام طور پر سیاسی یا منفی انداز میں لکھتے ہیں۔

۵۰ فیصد کی اس تقسیم کے بعد الرسالہ کا نقشہ کیا ہوتا، اس کی ایک مثال مسلمانوں کے موجودہ پرچے ہیں۔ جن میں ہمیشہ دعوت کے ساتھ غیر دعوت کا عنصر بھی پایا جاتا ہے۔ ریاض کے ہفت روزہ الدعوة (۱۶ جنوری ۱۹۸۹) میں ڈاکٹر عبد الحلیم عو لیس کا ایک مضمون ہے، جس میں دعوت کو "المفتاح العظیم" بتایا گیا ہے۔ اور کہا گیا ہے کہ مسلمان داعی بن کر دوسری قوموں کے اوپر فتح حاصل کریں (صفحہ ۵۰) دوسری طرف اسی عربی پرچے میں ۶ صفحات کا ایک اور مضمون ہے جس کا عنوان ہے: الأقليات المسلمة تواجه خطر الذوبان (یعنی مسلم اقلیت کے لیے اکثریت میں جذب ہونے کا خطرہ)

یہ خطرہ کس کی طرف سے ہے۔ یہ اُنھیں غیر مسلم قوموں کی طرف سے ہے جن کے اوپر دعوت کا کام کرنا ہے۔ دوسرے لفظوں میں وہ لوگ جن کو مدعو کہا جاتا ہے۔ گویا ایک ہی پرچے میں ایک طرف مسلمانوں کو داعی بننے پر ابھارا جا رہا ہے اور اسی پرچے میں دوسری طرف کہا جا رہا ہے کہ تمہارا مدعو تمہارے لیے خطرہ ہے۔ یہ بات داعیانہ نفسیات کے سراسر خلاف جو لوگ اس طرح کی منفی نفسیات میں مبتلا ہوں، وہ کبھی دعوت کا کام نہیں کر سکتے۔ (صفحہ ۲۵- ۲۶)

الرسالہ مشن کے سامنے جو نشانہ تھا اس میں ایک اہم پہلو یہ تھا— مغرب کے خلاف مسلمانوں کے منفی ذہن کو ختم کرنا۔ یہ مہم خدا کی توفیق سے مسلسل جاری رہی یہاں تک کہ اب اس کے اثرات مختلف صورتوں میں نمایاں ہو رہے ہیں۔ مثال کے طور پر ایسی دینی درس گاہ کا قیام (حیدر آباد) جس کا ذریعۂ تعلیم انگریزی ہو، یہ براہ راست طور پر الرسالہ مشن کا ایک نتیجہ ہے، وغیرہ۔ موجودہ زمانے کے مسلمان عام طور پر مغربی قوموں کو اپنا دشمن سمجھنے لگے۔ اس کے نتیجے میں مسلمانوں کی رائے اہلِ مغرب کے معاملے میں منفی ہوگئی۔ وہ ان سے استفادہ کرنے کے قابل نہ

اس کا سبب مغربی قوموں کا مسلم دنیا پر غلبہ تھا۔ مگر مسلم رہنما یہ سمجھنے سے قاصر رہے کہ یہ غلبہ کسی سازش یا ظلم کا نتیجہ نہیں، وہ فطرت کے اُس قانون کا نتیجہ ہے جس کو قرآن میں ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے: وأما ما ينفع الناس فيمكث في الأرض:

While that which is for the good of mankind remains on earth (13:17)

مغربی قومیں نو آبادیاتی دور کے زمانے میں مسلم ملکوں پر چھا گئیں ۔ ایسا اس لیے ہوا کہ یہ لوگ عملی اور فکری اعتبار سے ایسی چیزیں لائے تھے جو فکری اور عملی اعتبار سے مفید تھیں، اس لیے لوگوں نے نہایت آسانی کے ساتھ اُن کے غلبے کو قبول کر لیا۔ یہ عین وہی معاملہ تھا جو اس سے پہلے خود مسلمانوں کے ساتھ پیش آ چکا تھا۔ اسلام کے ابتدائی دور میں اہل اسلام دنیا کے بڑے حصے پر غالب آئے۔ غلبہ کسی سازش یا ظلم کا نتیجہ نہ تھا بلکہ یہ اس لیے تھا کہ اُس زمانے میں مسلمان ایک صحت مند تہذیب لے کر ابھرے تھے۔ ان کے ذریعہ لوگوں کو مساوات اور فکری آزادی جیسی صالح قدریں مل گئی تھیں۔ اسی کے ساتھ یہ ہوا کہ مسلمان اُس وقت کی دنیا کے لیے جب نافع بنے تو عین فطری قانون کے مطابق، وہ دنیا کے اوپر حاکم بھی بن گئے۔

اس معاملے میں جدید دور کے مسلمانوں کو اس غیر حقیقت پسندانہ نقطۂ نظر سے بہت نقصان وہ مغربی قوموں سے نفرت کرنے لگے۔ اس کے نتیجے میں وہ انگریزی زبان اور جدید سائنس کے حصول میں دوسری قوموں سے پیچھے ہو گئے۔ اس بنا پر وہ مغربی قوموں سے فائدہ نہ اٹھا سکے۔ قومیں جن علوم کو لے کر ابھری تھیں وہ علوم اسلام کے لیے بے حد مفید تھے۔ یہ گویا دورِ جدید کا علم کلام تھا ۔ لیکن مغرب کے خلاف تعصب کی بنا پر مسلمانوں نے اس حقیقت کو نہیں سمجھا اور اس کو اپنے حق میں استعمال کرنے میں ناکام رہے۔

الرسالة مشن کے سامنے اوّل دن سے یہ نشانہ تھا کہ مغرب کے خلاف اس غیر فطری تعصب کو ختم کیا جائے تا کہ مسلمان جدید قوتوں کو اسلام کے حق میں استعمال کرنے کے قابل ہو سکیں۔ یہ کام بہت مشکل تھا، مگر اب خدا کے فضل سے پوری دنیا کے مسلمانوں میں ایک نیا رُجحان اُبھرا ہے۔

انھوں نے جدید چیزوں کو اسلام کے حق میں استعمال کرنا شروع کر دیا ہے۔ مثال کے طور پر میری کتاب ’’علم جدید کا چیلنج‘‘، پہلی بار جب ١٩٦٦ میں شائع ہوئی تو وہ اسلام اور سائنس کے موضوع پر پورے عالم اسلام کی پہلی کتاب تھی۔ جب کہ آج اس موضوع پر سیکڑوں کتابیں چھپ چکی ہیں۔ اُن میں سے اکثر غیر معیاری ہیں۔

٢٠٠١ میں الرسالہ مشن ایک نئے دور میں داخل ہوا۔ اس کے نتیجے میں یہ ہوا کہ میں نے جنوری ٢٠٠١ میں اپنے کچھ ساتھیوں کو لے کر سنٹر فار پیس اینڈ اسپرچوئلٹی (Center for Peace and Spirituality) CPS اس ادارے کا خاص مقصد اسلام کا عمومی تعارف تھا۔

CPS کا مقصد Peace اور Spirituality کو فروغ دینا ہے۔ یہ کام بہت پہلے سے کیا جا رہا مگر جنوری ٢٠٠٥ میں اس کو ایک مستقل نام کے ساتھ شروع کیا گیا۔

Peace اور Spirituality دونوں ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں۔ دراصل یہ دونوں ایک ہی حقیقت کے دو نام ہیں۔ داخلی انسانی سطح پر جس چیز کو Spirituality کہا جاتا ہے اسی کے خارجی اظہار کا نام Peace ہے۔ عام طور پر مانا جاتا ہے کہ Peace اور Spirituality صحت مند سماج اور بیٹر ہیومن لائف (better human life) بنانے کے لیے ضروری ہیں۔ مگر عام طور پر اس مقصد کو حاصل کرنے کے لیے یہ کیا جاتا ہے کہ crowd کو address کیا جاتا ہے۔ مگر اس عمل کا starting point کبھی crowd نہیں بن سکتا۔ روحانی بیداری کے مقصد کو حاصل کرنے کی ایک ہی صورت ہے۔ کہ individual مائنڈ کو address کیا جائے۔ اس معاملے میں پہلا کام یہ ہے کہ انفرادی ذہن کی تشکیل نو کر کے افراد کی ایک ٹیم بنائی جائے۔ پھر افراد کی اس ٹیم کو سماج کی نئی تشکیل و تنظیم کے لیے استعمال کیا جائے۔

CPS اسی نظریہ کے تحت قائم کیا گیا ہے۔ اس مقصد کے لیے تعلیم یافتہ افراد کو تیار کیا جا رہا ہے تا کہ یہ تربیت یافتہ افراد سوسائٹی کے مختلف طبقات تک پہنچیں اور اس طرح کسی بڑے حقیقی انقلاب کا

اس مقصد کے لیے CPS کے تحت، دہلی میں اسپر یچول کلاس قائم کیا گیا جو خدا کے فضل سے غیر متوقع حد تک کامیاب رہا۔

اس کے آغاز کی کہانی بہت سبق آموز ہے۔ دہلی کے کچھ ہندو نو جوان (رجت ملہوترا، پر یاملک وغیرہ) یہ لوگ انگریزی تعلیم یافتہ تھے اور کئی سال سے سچائی کی تلاش میں سرگرداں تھے۔ پہلے وہ مختلف فلسفوں اور مختلف مذہبوں کا مطالعہ کرتے رہے۔ آخر میں وہ اسلام کے مطالعے کی طرف راغب ہوئے۔ کسی نے اُن کو مشورہ دیا کہ تم دہلی میں جماعت اسلامی کے مرکز میں جاؤ۔ وہاں تم کو اسلام پر انگریزی لٹریچر پڑھنے کے لیے ملے گا۔ چنانچہ وہ جماعت اسلامی کے امیر ڈاکٹر عبدالحق انصاری سے ملے، اور اُن سے اسلام پر گفتگو کی۔ ڈاکٹر انصاری نے ان کو مولانا ابو الاعلیٰ مودودی کی ایک درجن سے زیادہ کتابوں کے انگریزی ترجمے دیے ۔

ان انگریزی کتابوں کے پڑھنے کے بعد یہ ہندو نو جوان دوبارہ ڈاکٹر انصاری سے ملے۔ نے ڈاکٹر انصاری سے کہا کہ آپ کی دی ہوئی کتابیں ہم نے پڑھ لیں، مگر یہ کتابیں ہمارے مائنڈ کو ایڈریس نہیں کرتی ہیں۔ یہ کتابیں مسلمانوں کو خطاب کرتی ہیں، ہمارے جیسے لوگ جو سچائی کے متلاشی ہیں، ان کے لیے یہ کتابیں مفید نہیں۔

یہ گفتگو جماعت اسلامی کے مرکز میں امیر جماعت کے آفس میں ہوئی۔ اُس وقت جماعت اسلامی کے مرکزی سیکرٹری وہاں موجود تھے۔ انھوں نے ہندو نو جوانوں کی یہ ساری باتیں سنیں اور پھر اُن سے کہا کہ آپ کے مائنڈ کو ایڈریس کرنے والا مسلم دنیا میں صرف ایک ہی آدمی ہے۔ اس کے بعد انھوں نے میرا نام بتایا۔ چنانچہ یہ ہندو نو جوان مجھ سے ملے۔ انھوں نے میری کتابیں پڑھیں اور ہمارے اسپر یچول کلاس سے مستقل طور پر وابستہ ہو گئے۔

اسپر یچول کلاس کے بارے میں کچھ باتیں ماہنامہ الرسالہ میں چھپتی رہی ہیں۔ یہ اسپر یچول کلاس حقیقتاً اسلامی کلاس ہے۔ میرے اندازے کے مطابق، جدید دور میں اس قسم کی کلاس پہلی بار قائم ہوئی۔ میں جانتا ہوں کہ ساری مسلم دنیا (بشمول عرب) میں مختلف ناموں کے ساتھ حلقے قائم ہوتے رہے

مگر یہ تمام حلقے دو قسم کے موضوعات کی بنیاد پر قائم ہوئے رواجی موضوعات، یا قومی مثلاً عرب دنیا میں اسرائیل کا مسئلہ پیدا ہوا تو جگہ جگہ ایسے حلقے قائم ہو گئے جہاں لوگ جمع ہو کر اسرائیل کے مسئلے پر گفتگو کرتے تھے۔ اسی طرح پاکستان میں جب سیکولر مسلمان پاکستان کے حاکم بن گئے تو وہاں کے اسلام پسند لوگ مختلف ناموں کے تحت اکٹھا ہو کر ان کے خلاف سیاسی مذاکرے

اسپرچول کلاس کا مقصد اس کے برعکس یہ تھا کہ آج کا تعلیم یافتہ طبقہ، ہند اور مسلمان دونوں جس فکری مستوی (intellectual level) پر اسلام کو سمجھنا چاہتا ہے، اس فکری مستوی پر اسلام کو اُس کے لیے قابل فہم بنانا۔ جو لوگ اسپرچول کلاس میں برابر شریک ہوتے ہیں اُن کا کہنا ہے کہ میری فکر کو انھوں نے میری تحریروں سے اتنا نہیں سمجھا تھا، جتنا کہ اسپرچول کلاس میں میری باتیں سُن کر سمجھا۔ اسپرچول کلاس وہی ہے جس کو روایتی الفاظ میں ”صحبت‘‘ کہا جاتا ہے۔ صحبت کی صورت میں مسائل کی وضاحت جس طرح ہوتی ہے، تحریر کے ذریعے اُس طرح ممکن نہیں۔

اسپرچول کلاس کے تمام ممبران انگریزی خواں لوگ تھے۔ میرا تجربہ ہے کہ جو لوگ انگریزی کی اچھی تعلیم پائے ہوئے ہوتے ہیں، کم از کم میرے لیے اُن کے سامنے اسلام کی وضاحت زیادہ آسان جو لوگ روایتی انداز میں اسلام کو سمجھتے ہیں یا روایتی انداز میں کلام کرتے ہیں۔ اُن کا معاملہ اس سے مختلف ہو سکتا ہے۔ لیکن میں چوں کہ اسلام کو جدید تقاضوں کی روشنی میں سمجھنے کی کوشش کرتا ہوں اس لیے میرا ایک خاص اسلوب بن گیا ہے۔ میرے تجربے کے مطابق، یہ اسلوب جدید تعلیم یافتہ لوگوں کے لیے زیادہ قابل فہم ہوتا ہے۔

اسپرچول کلاس کا طریقہ شروع ہی سے یہ رکھا گیا کہ اُس کا ہر ممبر اپنے ساتھ ڈائری رکھتا ہے اور تمام باتوں کو نوٹ کرتا ہے۔ تمام لوگ اپنی ڈائریاں انگریزی میں لکھتے ہیں۔ اس طرح ڈائریوں کا ایک بہت بڑا ذخیرہ تیار ہو گیا ہے۔ آئندہ کسی وقت مرتب کر کے اُس کو کتاب کی صورت میں شائع کیا جا سکتا ہے۔

مئی ۲۰۰۵ سے اس میں یہ اضافہ ہوا کہ ٹیم کے ایک ممبر نے بطور خود یہ کیا کہ وہ اپنے ساتھ کمپیوٹر (لیپ ٹاپ) لاتے ہیں اور جب میں کسی موضوع پر بولتا ہوں تو ساتھ ساتھ وہ اس کو انگریزی میں ٹائپ کرتے جاتے ہیں۔ اس طرح کچھ لوگ بدستور کلاس کی باتوں کو ہاتھ سے لکھتے ہیں، اور ایک صاحب اس کو کمپیوٹر پر ریکارڈ کرتے ہیں۔ اسی کے ساتھ ٹیم کے ایک ممبر نے یہ کام شروع کیا ہے کہ وہ لوگوں کی پچھلی تمام ڈائریوں کو پڑھ کر اُس کو ایڈٹ کر رہے ہیں اور پھر اُس کو کمپیوٹر پر ٹائپ کر رہے ہیں۔ اسپرچول کلاس کے دوران ایک اور تجربہ یہ ہوا کہ یہ بات سمجھ میں آئی کہ تزکیہ (البقرہ ۱۲۹) کیا جب لوگ اس ہفتہ واری کلاس میں آئے تو مجھ سے گفتگو کے دوران یہ معلوم ہوا کہ ہر آدمی ایک کنڈیشنڈ مائنڈ (conditioned mind) ہے اور وہ اُسی میں جی رہا ہے۔ ہر آدمی اپنے گھر، اپنے ماحول اور اپنے اختلاط کے دوران جو کچھ دیکھتا اور سنتا ہے اُس سے مسلسل طور پر اُس کا ذہن بنتا رہتا ہے۔ جب انسان پیدا ہوتا ہے تو وہ اپنی فطری حالت پر ہوتا ہے۔ لیکن دھیرے دھیرے وہ ایک ایسا انسان بن جاتا ہے جو مکمل طور پر ایک کنڈیشنڈ انسان ہوتا ہے۔ اب ضرورت ہوتی ہے کہ اُس پڑی کنڈیشننگ (de-conditioning) کا عمل کیا جائے۔

تزکیہ دراصل اسی ڈی کنڈیشننگ کا نام ہے۔ تزکیہ کے لفظی معنی ہیں: پاک کرنا روایتی طور پر اس کو تزکیہ قلب کے معنی میں لیا جاتا ہے مگر حقیقت یہ ہے کہ اس سے مراد تزکیہ ذہن ہے۔ آدمی کا ذہن ہی اُس کے تمام افعال کا مرکز ہے۔ ذہنی سطح پر بگڑی ہوئی سوچ کو دوبارہ صحیح سوچ بنانا، اسی کا نام تزکیہ ہے اور اسی کے ذریعے فکری اور عملی اعتبار سے وہ شخصیت بنتی ہے جس کوروحانی شخصیت یا ربانی شخصیت کہا جاتا ہے۔

میرا تجربہ ہے کہ لوگ عام طور پر کنفیوژن میں جیتے ہیں۔ مثلاً ایک صاحب ہمارے اسپرچول کلاس میں آئے ۔ وہ ایک انٹرنیشنل امریکن کمپنی میں منیجر ہیں ۔ یہاں ، امریکی اصول کے مطابق ، ہائر اینڈ فائَر (hire and fire) کا اصول رائج ہے۔ انھوں نے کہا کہ میں مسلسل تناؤ میں رہتا ہوں ۔ ہر وقت جاب کھونے کا اندیشہ (fear of losing job) میرے دماغ پر چھایا

میں نے نصیحت کے طور پر اُن کی ڈائری میں یہ الفاظ لکھے:

One can take away your job. But no one has the power to take away your destiny. تزکیہ کو عام طور پر تزکیۂ قلب کے ہم معنی سمجھا جاتا ہے اور روایتی تصور کے مطابق، تزکیۂ قلب کا ذریعہ صوفیانہ اور ادود و وظائف ہیں۔ جب کوئی شخص ان اوراد و وظائف میں زیادہ مشغول ہوتا ہے تو اس کے دل میں ایک کیفیت پیدا ہوتی ہے، اسی کیفیت کو عام طور پر تزکیہ سمجھا جاتا ہے۔ نزدیک یہ ایک بے اصل بات ہے۔ یہ قلبی کیفیت جو پیدا ہوتی ہے وہ دراصل وَجْد (ecstacy) ہے۔ اور وجد کا کوئی بھی تعلق تزکیۂ رُوحانی سے نہیں۔

اصل یہ ہے کہ اس معاملے میں انسانی فکر کے دو دَور ہیں۔ قبل سائنس دَور، اور بعد سائنس قبل سائنس دَور میں یہ سمجھا جاتا تھا کہ قلب جذباتِ انسانی کا مرکز ہے۔ اس لیے صوفیانے تزکیۂ روحانی کے لیے قلب کو مرکز بنایا۔ اور سالکینِ طریقت کے لیے مبنی بر قلب وظائف تجویز کیے۔ وظائف میں اشتعال سے چوں کہ سالکین کو وجد کی سی ایک کیفیت محسوس ہوتی تھی۔ ان لوگوں نے اسی وجد کو غلط طور پر معرفت سمجھ لیا، حالاں کہ معرفت ایک شعوری حالت ہے، جب کہ وَجْد صرف ایک مجہول احساس کا نام ہے۔ اس غلط فہمی کی بنا پر سمجھ لیا گیا کہ یہ طریقہ حصولِ تزکیہ کے لیے مفید ہے۔ مگر وجد کی کیفیت سرتا سرا یک غیر متعلق کیفیت ہے جو ہندو طریقے پر میڈی ٹیشن (meditation) کے ذریعے بھی حاصل ہوتی ہے۔

بعد سائنس دَور میں یہ نظریہ متروک ہو چکا ہے۔ اب انسان کے علم میں یہ بات آ چکی ہے کہ فکر و جذبات اور احساس کا مرکز تمام تر ذہن (mind) ہے۔ اس لیے تزکیہ کا صحیح طریقہ یہ ہے کہ ذہن کی تفکیری اصلاح کی جائے ۔ یہی تزکیہ کا اصل طریقہ ہے۔ اسپرچول کلاس میں اسی طریقِ تزکیہ کو اختیار کیا گیا ہے۔ ایک صوفی سے پوچھا گیا کہ تصوف کیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ تصوف کا مطلب تصور ہے۔ میرے نزدیک قرآن کے الفاظ میں اس کا جواب یہ ہے کہ تصوف کا مطلب توسُّم (الحجر ۷۵) ہے۔

تو سم کا مطلب ہے، مادی تجربات کو معرفت میں ڈھال لینا:

Translating material events into spiritual experience. روایتی طور پر یہ سمجھا جاتا ہے کہ معرفت کا ذریعہ صحبت ہے۔ یعنی کسی بزرگ کے پاس بیٹھنے سے پر اسرار طور پر آدمی کے اندر ربانی معرفت پیدا ہو جاتی ہے۔ گویا کہ حصول معرفت کا ذریعہ صرف کسی بزرگ کی صحبت ہے نہ کہ تدبر و تفکر اور ذاتی محنت۔ یہ نظریہ مزاجِ اسلام کے خلاف ہے۔ کے مطابق، ہر آدمی اس دنیا میں حالت امتحان میں ہے۔ اس دنیا کے لیے خدائی قانون یہ ہے کہ: ليس للإنسان إلا ما سعى (النجم ۳۹) ایسی حالت میں یہ ماننا کہ ذاتی عمل کے بغیر صرف کسی صحبت سے روحانیت یا ربانیت حاصل ہوسکتی ہے، ایک متضاد نظریہ ہے۔ کیوں کہ یہ نظریہ اُس حکمت کی نفی کر رہا ہے جس کو امتحان کہا جاتا ہے۔

قرآن میں ارشاد ہوا ہے کہ اے لوگو، ربانی بنو (كونوا ربانيين ، آل عمران ۵۹) ربی کے لفظی معنی ہیں: رب والا۔ ربانی اسی کا مبالغہ ہے۔ یعنی بہت زیادہ رب والا۔ ربی یا ربانی کو دوسرے لفظوں میں یہ کہا جاسکتا ہے کہ اس سے مُراد ہے: خدا رخی سوچ (God oriented thinking) یا خدا رُخی زندگی (God oriented life)۔ یعنی انسان کی وہ حالت جب کہ اس کی سوچ کا مرکز خدا بن جائے، جب کہ اس کے جذبات و احساسات پر تمام تر خدا کا غلبہ ہو جائے، جب کہ خدا کی یاد اس کی ہستی میں پوری طرح سما جائے۔

یہی وہ چیز ہے جس کو روحانیت (spirituality) کہا جاتا ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ دوسرے اکثر شعبوں کی طرح، روحانیت کے دو دور ہیں — قبل سائنس دور (pre-scientific era) اور بعد سائنس دور (post-scientific era)۔ قبل سائنس دور میں یہ سمجھا جاتا تھا کہ جذبات و احساسات کا مرکز قلب (heart) ہے۔ چنانچہ اُس زمانے میں رُوحانیت کے حصول کا ذریعہ یہ سمجھا جاتا تھا کہ قلب پر فوکس ڈال کر اس کی اصلاح کی کوشش کی جائے۔ سادھوؤں کا میڈیٹیشن (meditation) اور صوفیوں کا مُر اقبہ اسی طرزِ فکر کا نتیجہ ہے۔

مگر بعد سائنس دور میں یہ نظریہ بے بنیاد ثابت ہو گیا۔ اب متفقہ طور پر یہ مان لیا گیا ہے کہ قلب صرف گردش خون (sirculation of blood) کا ذریعہ ہے۔ سوچ اور احساسات کا مرکز تمام تر انسان کا دماغ ہے۔ سرجری کی ترقی کے بعد یہ کیا گیا کہ آپریشن کر کے انسان کے قلب کو اس کے سینے سے نکال لیا گیا اور اس کی جگہ پیس میکر(pace maker) لگا دیا گیا جو مصنوعی طور پر خون کو پمپ کرنے کا کام کر رہا تھا۔

آپریشن کے بعد اُس انسان کا سینہ قلب سے بالکل خالی ہو چکا تھا۔ اس کے باوجود اس کی سوچ اور اس کے احساسات ٹھیک ویسے ہی باقی رہے جیسا کہ وہ اُس وقت تھے جب کہ فطری قلب اس کے سینے میں موجود تھا۔ اس طرح کے آپریشن کے بعد یہ ثابت ہوا کہ فکر اور احساس کا مرکز مکمل طور پر دماغ ہے نہ کہ قلب۔

اکثر لوگ کہتے ہیں کہ قرآن وحدیث میں بھی قلب کا ذکر اس طرح کیا گیا ہے گویا کہ دماغ کے علاوہ قلب بھی سوچ اور جذبات کا مرکز ہے۔ مگر یہ بات درست نہیں۔ قرآن میں ایسے مواقع پر قلب کا ذکر اس کے ادبی استعمال کے اعتبار سے ہے نہ کہ اس کے سائنسی مفہوم کے اعتبار سے۔ یہاں قابلِ ذکر بات یہ ہے کہ قرآن میں سوچ کے عمل کے لیے صرف قلب کا حوالہ نہیں دیا گیا ہے بلکہ عقل اور لبّ کا حوالہ بھی دیا گیا ہے۔ یہ دونوں لفظ قرآن میں تقریباً ۶۵ بار استعمال ہوئے ہیں۔ اس کے علاوہ بعض الفاظ بھی استعمال ہوئے ہیں جو بالواسطہ طور پر دماغی عمل سے تعلق رکھتے ہیں۔ توَسُّم اور تفکّر وغیرہ۔

اس کے علاوہ قرآن میں جس مفہوم کے لیے قلب کا لفظ آیا ہے ٹھیک اُسی مفہوم کے لیے متعدد آیتوں میں سَمْع اور بَصَر کے الفاظ بھی آئے ہیں۔ مثلاً: لہم قلوب لا یفقھون بھا، ولھم أعین لا یبصرون بھا، ولھم اذان لا یسمعون بھا (الاعراف ۱۷۹)

اگر اس طرح کی آیتوں کی بنیاد پر یہ مانا جائے کہ سوچ کے عمل کا تعلق قلب سے ہے تو یہ بھی ماننا پڑے گا کہ آنکھ اور کان کا تعلق بھی سوچ سے ہے۔ کیوں کہ ان آیتوں میں دیکھنے اور سننے کے جس عمل کا

ذکر ہے اس سے مراد سادہ طور پر کیمرہ یا ٹیپ رکارڈر کی طرح دیکھنا اور سننا نہیں ہے بلکہ اس سے مراد وہ دیکھنا اور سننا ہے جس میں سوچ بھی شامل ہو۔ حقیقت یہ ہے کہ قرآن میں جہاں عقل اور لب کا حوالہ ہے وہاں اُس سے براہِ راست دماغی عمل مراد ہے اور جہاں آنکھ، کان اور دل کے الفاظ آئے ہیں وہاں یہ الفاظ اپنے معروف ادبی مفہوم میں استعمال ہوئے ہیں۔ اس طرح بعد سائنس دور میں تصوف یا رُوحانیت کا علم پوری طرح بدل گیا ہے۔ اب رُوحانیت کا تعلق قلبی وظائف سے نہیں بلکہ اس کا تعلق ذہنی ارتقا کے ایک خاص مرحلے سے ہے۔

اسپرچول کلاس میں میں نے اسی اصول پر لوگوں کا تزکیہ کیا اور ان کے اندر روحانیت لانے کی خدا کے فضل سے نتیجہ صد فی صد کامیاب رہا۔ ہمارے کلاس میں ایسے کئی افراد شریک ہوئے جنہوں نے بتایا کہ وہ برسہا برس تک ہندو گروؤں اور مسلم صوفیوں کے یہاں روحانیت کے حصول کی کوشش کرتے رہے مگر انہیں روحانیت نہیں ملی۔ جب کہ ہمارے کلاس میں اُن کو اپنی مطلوب رُوحانیت حاصل ہوگئی۔

الرسالہ مشن میرے لیے زندگی اور موت کا مسئلہ تھا۔ لمبی تحقیق اور مطالعے کے بعد اسلام کو میں نے گویا از سر نو دریافت کیا۔ مگر یہ دریافت میرے لیے کوئی آسان کام نہ تھی۔ حقیقت یہ ہے کہ اس دریافت تک پہنچتے پہنچتے میں اپنا سب کچھ کھو چکا تھا۔ اپنے خیال کے مطابق، میرے پاس فکرِ صحیح کا سرمایہ تھا مگر اس فکر کے مطابق عمل کرنے کے لیے میرے پاس اُن چیزوں میں سے کوئی چیز موجود نہ تھی جو کسی نئے مشن کو کامیابی کے ساتھ چلانے کی ضرورت ہوتی ہے۔

اُس زمانے میں میری جو نفسیات تھی اُس کا اندازہ میری کتاب’’ الاسلام‘‘ کے ابتدائی صفحے سے کیا جا سکتا ہے۔ یہ صفحہ میں نے ستمبر ۱۹۷۵ میں لکھا تھا۔ اُس وقت ایسا محسوس ہوتا تھا کہ میں اس کتاب کو لکھ کر مَر جاؤں گا اور شاید میری زندگی میں اس کے چھپنے کی نوبت نہیں آئے گی۔ ان تمہیدی سطروں میں میں نے ایک ناول کی کہانی نقل کی تھی۔ یہ ایک انسان کی کہانی تھی جو سچائی کی تلاش میں تھا، اور آخر میں عین اُس وقت مر گیا جب کہ اُس نے فکری طور پر سچائی کو دریافت کر لیا

اس کہانی کو نقل کرنے کے بعد میں نے لکھا تھا :

اس کہاں اس رائے کے بدلے میں لاتا۔

"یہ کتاب میری طویل تلاش کا جواب ہے۔ میں شاید نظریاتی چٹان کی سیڑھیاں کاٹ چکا تھا کہ میرے سامنے دوسرا پہاڑ آ کر کھڑا ہوگیا۔ اب ضرورت تھی کہ دریافت کردہ حقیقت کی روشنی میں اسلام کی مہم کو عملی طور پر چلایا جائے۔ مگر مجھے محسوس ہوتا ہے کہ میری طاقت ختم ہوگئی۔ شدید جدوجہد نے مجھے قبل از وقت بوڑھا بنا دیا۔ " نظریاتی سیڑھیاں‘‘ کاٹنے میں میں نے اپنی عمر تمام کردی۔ اب ’’عملی سیڑھیاں‘‘ کس طرح کاٹوں۔ تاہم میرے اطمینان کے لیے کافی ہے کہ میں نے سچائی کو کم از کم فکری طور پر دریافت کر لیا۔ اب شاید میں یہ کہتے ہوئے مر سکتا ہوں کہ میرے بعد آنے والے کو پچھلی سیڑھیاں نہیں بنانی پڑیں گی۔ ‘‘ (صفحہ ۵) تاہم خدا کی مدد شامل ہوئی اور میری دریافت ایک مشن بن کر ہر طرف پھیل گئی۔ مسلسل پھیلتی جارہی ہے۔ مخالفتوں کے طوفان کے باوجود یہ سفر پوری طرح جاری ہے۔ بظاہر اس کے لیے مقدر ہو چکا ہے کہ وہ اسی طرح جاری رہے یہاں تک کہ وہ اپنی منزل تک پہنچ جائے۔ آخر میں میں اپنے ایک احساس کا ذکر کروں گا۔ یہ احساس صحیح ہے یا غلط ، اس کا فیصلہ صرف خدا تاہم میں اس میں کوئی حرج نہیں سمجھتا کہ میں اپنے اس احساس کو یہاں درج کروں۔ ایک مشہور روایت میں آیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پہلے اہل کتاب ۷۲ فرقوں میں بٹ گئے اور امت مسلمہ ۷۳ فرقوں میں بٹ جائے ان میں سے ۷۲ فرقے آگ والے ہیں۔ صرف ایک جنت والا ہے۔ یہ ایک فرقہ "الجماعت" ہے (ابو داؤد) "الجماعت" سے کیا مراد ہے۔ اس کی تشریح ترمذی کی ایک روایت سے ہوتی ہے۔ صحابہ نے پوچھا: اے خدا کے رسول ! یہ الجماعت کون لوگ ہیں۔ آپ نے جواب دیا: جو اس پر ہو جس پر میں اور میرے اصحاب ہیں (من کان علی ما أنا

میں مولانا وحید الدین خاں کی عصری اسلوب میں فکر انگیز اسلامی کتابیں اور الرسالہ حسب ذیل پتہ پر دستیاب ہیں:

یہ عجیب بات ہے کہ موجودہ زمانے میں مسلمانوں کے اندر سیکڑوں تحریکیں اٹھیں ، مگر غالباً الرسالة مشن ہی واحد مشن ہے جس کے بارے میں سب سے زیادہ یہ الزام عائد کیا گیا کہ وہ "اکابر" پر تنقید کرتا ہے اور اس کی وجہ سے اسلاف سے بے اعتمادی پیدا ہوتی ہے۔ دوسری طرف ہمارے کسی ناقد نے یہ نہیں کہا کہ ہم قرآن وحدیث سے ہٹے ہوئے ہیں ، یا ہماری تحریروں کے پڑھنے سے نعوذ باللہ رسول اور اصحاب رسول سے بے اعتمادی پیدا ہوتی ہے۔ یہ کوئی سادہ بات نہیں۔ الرسالة مشن صرف قرآن وسنت اور اسوہ صحابہ کو حق کا معیار سمجھتا ہے۔ بالفاظ دیگر ، گویا خود ہمارے ناقدین کی شہادت کے مطابق ، وہ "ما انا علیہ واصحابی" کا مصداق ہے۔

اس حقیقت کو سامنے رکھیے اور اصل معاملے پر غور کیجیے تو معلوم ہوگا کہ یہ حضرات خود اپنی زبان سے یہ اعلان کر رہے ہیں کہ الرسالہ مشن ”ما أنا عليه وأصحابي“ کے اصول پر قائم ہے۔ مسلمانوں کے دوسرے مشن اپنے مفروضہ اکابر کے دین پر قائم ہیں۔ اس معاملے کو منطقی حد تک لے جائے بغیر میں کہوں گا کہ ہمارے ناقدین ہم کو ایک ایسا سرٹیفکٹ دے رہے ہیں جس سے بڑا کوئی وہ اس کے بارے میں کہہ دیں سرٹیفکیٹ بلاشبہ اس دنیا میں نہیں ہو سکتا۔

Printed page