Al-Risala · November 2006

زندگی کا مقصد

Al-Risala, November 2006, pp. 5–13

By Maulana Wahiduddin Khan

۱۱ مارچ ۲۰۰۶ کو شام کی فلائٹ سے میں حیدر آباد سے دہلی آ رہا تھا۔ ایس ٹیم کے کئی اور افراد شامل تھے۔ اس جہاز میں ایک خاتون نیہا بٹوارا (Neha Batwara) بھی سفر کر رہی تھیں۔ ہماری ٹیم کے لوگ جہاز کے اندر مسافروں کے درمیان دعوہ ورک کر رہے تھے۔ اس سلسلے میں انھوں نے مز نہا سے بھی بات کی اور انھیں دعوتی پمفلٹ دیے ۔ یہ خاتون دہلی ائر پورٹ پر اتر کر اپنے وطن آلور چلی گئیں۔ بعد کو حیدر آباد سے ان کا ایک خط مورخہ ۲۸ مارچ بذریعہ ای میل موصول ہوا۔ وہ خط حسب ذیل تھا:

یہ خط سادہ طور پر صرف ایک خاتون خط نہیں ہے، بلکہ وہ ہر روح کی پکار ہے۔ یہ خط گویا ہر عورت اور مرد کے دل کی ترجمانی ہے۔ ہر انسان ایک با مقصد زندگی (purposeful life) کی تلاش یہ ہر انسان کی فطرت کی آواز ہے۔ لیکن لوگ یہ چاہتے ہیں کہ یہ با مقصد زندگی ان کو پوری طرح موت سے پہلے کے دورِ حیات میں مل جائے ۔ موت کے بعد کے دورِ حیات کا نہ اُن کو شعور ہے اور نہ وہ اس کا انتظار کرنے کے لیے تیار ہیں۔

اس سلسلے میں بنیادی سوال یہ ہے کہ آدمی اس با مقصد زندگی کو کہاں حاصل کرنا چاہتا ہے۔ بنائی ہوئی دنیا میں یا خدا کی بنائی ہوئی دنیا میں۔ ظاہر ہے کہ یہ مقصد اس کو خدا کی بنائی ہوئی دنیا میں حاصل کرنا ہے۔ کیوں کہ خود اپنی بنائی ہوئی دنیا اُس کے لیے سرے سے موجود ہی نہیں۔ ایسی حالت میں یہ بالکل فطری بات ہے کہ آدمی سب سے پہلے یہ جانے کہ خدا کی بنائی ہوئی دنیا کے قوانین کیا ہیں اور اس کے بنانے والے نے کس تخلیقی منصوبے کے تحت اس کو بنایا ہے۔ اس کی مطابقت کے بغیر وہ کسی بھی حال میں اپنا مقصد حاصل نہیں کر سکتا۔

اگر آپ کے پاس ایک اچھی کار ہو اور اس کو آپ سڑک پر دوڑانا چاہیں تو آپ کو سب سے پہلے یہ جاننا ہوگا کہ جس ملک میں آپ اپنی گاڑی دوڑانا چاہتے ہیں وہاں لفت ہینڈ ڈرائیو (left-hand drive) کا اصول ہے یا رائٹ ہینڈ ڈرائیو (right-hand drive) کا۔ کامیاب سفر کے لیے اس بات کو جاننا اگر آپ ایسا کریں کہ لفٹ ہینڈ ڈرائیو کے ملک میں اپنی گاڑی دائیں طرف دوڑانے لگیں، یا رائٹ ہینڈ ڈرائیو کے ملک میں اپنی گاڑی بائیں طرف دوڑانے لگیں تو دونوں حالتوں میں آپ کا کامیاب سفر سے محروم رہ جائیں گے۔

یہی معاملہ زندگی کے وسیع تر سفر کا بھی ہے۔ انسان اپنی زندگی کا وسیع تر سفر کسی خلا میں یا خود اپنی بنائی ہوئی دنیا میں نہیں کرتا۔ وہ اپنا یہ سفر خدا کی بنائی ہوئی دنیا میں کرتا ہے۔ اس لیے ہر عورت اور مرد کے لیے ضروری ہے کہ وہ خدا کے تخلیقی منصوبے کو سمجھے اور اس کے مطابق اپنی زندگی کی تشکیل ایسا نہ کرنے کی صورت میں وہ اپنے آپ کو نا کامی سے نہیں بچا سکتا۔

خود انسان کا اپنا تجربہ اس معاملے کو سمجھنے کے لیے کافی ہے۔ ہر انسان کا یہ مسئلہ ہے کہ اس کو پیاس لگتی ہے۔ وہ اپنی پیاس بجھانا چاہتا ہے۔ مگر یہ ایک معلوم بات ہے کہ ہر انسان اپنی پیاس بجھانے کے لیے پانی کو استعمال کرنے پر مجبور ہے۔ پانی کے سوا کسی اور چیز سے وہ اپنی ضرورت پوری نہیں اسی طرح انسان کو بھوک لگتی ہے۔ بھوک کے معاملے میں بھی انسان یہی کرتا ہے کہ وہ فطرت کی فراہم کردہ غذا کے ذریعے اپنی بھوک مٹائے۔ ہر انسان کو سانس لینے کے لیے آکسیجن کی ضرورت اس کے بغیر وہ زندہ نہیں رہ سکتا۔ ہر انسان آکسیجن لینے کے لیے اُسی نظام کو استعمال کرتا ہے جو اس کے باہر فطرت نے قائم کیا ہے۔ یہی تمام دوسری ضرورتوں کا معاملہ ہے۔

ٹھیک یہی معاملہ مقصدِ حیات کا بھی ہے۔ مقصدِ حیات کے معاملے میں بھی انسان کو اپنے خالق کے تخلیقی نقشہ (creation plan) کو جاننا ہے۔ اس معاملے میں کوئی دوسرا متبادل، انسان کے

قرآن خالقِ فطرت کی کتاب ہے۔ قرآن میں اس سوال کا جواب اس کی سورہ نمبر ۱۰۳ میں دیا گیا ہے۔ قرآن کا یہ جواب اپنے مفہوم کے اعتبار سے یہ ہے:

History is a witness that man is in loss, except those who follow the course of life set by the Creator. اس اعتبار سے دیکھا جائے تو معلوم ہوگا کہ خالق نے انسان کی زندگی کو دو دوروں میں تقسیم کیا قبل از موت دور، اور بعد از موت دور۔ موت سے پہلے کا دَور عمل کرنے کا دَور ہے اور موت کے بعد کا دور عمل کا انجام پانے کا دور۔ جو کچھ موت کے بعد ملنے والا ہے وہ موت سے پہلے نہیں مل جو کچھ موت سے پہلے کرنا ہے اس کو کرنے کا موقع موت کے بعد باقی نہیں رہے گا۔ انسان کا مطالعہ بتاتا ہے کہ ہر انسان لامحدود خواہشوں (unlimited desires) کے ساتھ پیدا ہوتا ہے۔ یہ ڈیزائر ہر ایک کو بہت محبوب ہوتی ہیں۔ مگر یہ بھی ایک واقعہ ہے کہ پوری انسانی تاریخ میں کوئی ایک شخص بھی اپنی ان خواہشوں کی تکمیل نہ کر سکا۔ مختلف انسانوں نے اپنی خواہشوں کی تکمیل

کے لیے ساری عمر محنت کیا۔ بظاہر انھوں نے بڑی بڑی کامیابی حاصل کی۔ مگر ہر ایک اس حسرت کے ساتھ مرا کہ وہ اپنی خواہشوں کی تکمیل نہ کر سکا۔ آج کی دنیا میں وہ جس خوشی کو پانا چاہتا تھا اس کو پانے میں وہ ناکام رہا۔

دنیا کا مطالعہ بتاتا ہے کہ یہاں جوڑاا (pair) کا اصول قائم ہے۔ یہاں ہر چیز اپنا جوڑا ہر چیز اپنے جوڑے کے ساتھ مل کر اپنے وجود کی تکمیل کرتی ہے۔ یہ اصول عالمی سطح پر زمین سے لے کر اسپیس تک ہر جگہ یہی نظام رائج ہے۔ نگیٹیو پارٹیکل کا جوڑ آپازیٹیو پارٹیکل، نباتات میں میل سیکس اور فی میل سیکس، حیوانات میں مونث حیوان اور مذکر حیوان، انسان میں عورت اور مرد، وغیرہ۔

جوڑ یا زوجین کا نظام تمام مخلوق میں عالمی سطح پر قائم ہے۔ اس وسیع اور کامل نظام میں صرف ایک استثناء ہے اور وہ انسانی خواہشات کا ہے۔ ہر انسان خواہشات کا گہرا احساس لے کر پیدا ہوتا لیکن ہر انسان اپنی ان خواہشات کی تکمیل کیے بغیر مر جاتا ہے۔ دنیا میں خواہش ہے مگر اس کا جوڑا، تکمیل خواہش یہاں موجود نہیں۔

یہ سوال اس دنیا میں آنے والے ہر عورت اور مرد کا سوال ہے۔ ہر پیدا ہونے والا اس سوال کا جواب معلوم کرنا چاہتا ہے مگر اس سے پہلے کہ وہ اپنے سوال کا تشفی بخش جواب پائے وہ حسرت کے ساتھ اس دنیا سے چلا جاتا ہے۔

امریکی مشنری بلی گراہم (Billy Graham) نے لکھا ہے کہ ایک بار اس کے پاس امریکا کے ایک عمر رسیدہ دولت مند کا ارجنٹ مسیح آیا۔ بلی گراہہم اپنے پروگرام کو ملتوی کر کے فورا روانہ ہو گیے۔ امریکی دولت مند کے گھر پہنچا تو اس کو ایک کمرے میں لے جایا گیا۔ وہاں اس کی ملاقات امریکی دولت مند سے ہوئی۔ امریکی دولت مند نے کسی تمہید کے بغیر کہا:

You see, I am an old man. Life has lost all meaning. I am going to take a fateful leap into the unknown. Young man can you give me a ray of hope.

بلی گراہم کے پاس اس سوال کا کوئی تشفی بخش جواب نہ تھا۔ امریکی دولت مند جواب سے محرومی کا احساس لے کر مر گیا۔ خود بلی گراہم کا یہ حال ہوا کہ تازہ اطلاع کے مطابق، وہ شدید حادثے کا شکار ہو کر معذوری کی حالت میں بستر پر پڑا ہوا ہے، اور اپنے آخری انجام کے طور پر موت کا انتظار کر رہا ہے۔

یہی معاملہ اس دنیا میں ہر عورت اور مرد کا ہے۔ ہر ایک اپنی زندگی کا مقصد جاننا چاہتا ہے۔ ایک، ایک پر مسرت زندگی کی تلاش میں ہے۔ ہر ایک یہ چاہتا ہے کہ اس کو ایسی زندگی ملے جس میں اس کو پوری طرح فل فلمینٹ (fulfillment) حاصل ہو۔ مگر ہر ایک کا انجام صرف ناکامی پر ختم ہو رہا واقعات بتاتے ہیں کہ ہر عورت اور مرد نے یہ سمجھا کہ دنیا کے مادی ساز و سامان ہی اصل ہیں۔ ایک نے مادی ساز و سامان اکٹھا کر کے اس کے ذریعے فل فلمینٹ کی زندگی حاصل کرنے کی کوشش کی۔ مگر کسی استثنا کے بغیر ایک شخص کو بھی مطلوب فل فلمینٹ حاصل نہ ہو سکا۔

ایسی حالت میں اصل مسئلہ یہ نہیں ہے کہ اس ناکام تجربے کو دہرایا جاتا رہے۔ معاملے میں اصل مسئلہ نظرثانی (reassessment) کا ہے۔ اب اصل کام یہ ہے کہ سنجیدگی کے ساتھ یہ سوچا جائے کہ دنیا کی قابل حصول مادی چیزوں میں تو ثابت شدہ طور پر فل فلمینٹ کا سامان موجود ایسی حالت میں پھر یہ سامان کہاں ہے۔ جب انسانی خواہش کا تسلسل جاری ہے تو یہ ماننا ہو گا کہ وہ ایک حقیقی چیز ہے، اور جب وہ ایک حقیقی چیز ہے تو یقیناً اس کی تکمیل کا سامان بھی کائنات میں

اس معاملے کو سفر کی مثال سے سمجھا جا سکتا ہے۔ کوئی شخص جب سفر کرتا ہے، خواہ وہ ٹرین سے سفر کرے یا ہوائی جہاز سے، اس کے سفر کے دو مرحلے ہوتے ہیں۔ ایک، وہ جب کہ وہ حالتِ سفر میں دوسرا وہ جب کہ وہ اپنی منزل پر پہنچ جاتا ہے۔ کامیاب سفر کے لیے ضروری ہے کہ مسافر دونوں حالتوں کے فرق کو سمجھے۔ جو مسافر اس فرق کو نہ جانے وہ ذہنی تناؤ کا شکار ہو جائے گا اور غیر ضروری پریشانی میں مبتلا ہو کر اپنی عقل کھو بیٹھے گا۔

صحیح مسافر وہ ہے جو سفر کو سفر سمجھے، وہ سفر کو منزل کی حیثیت نہ دے۔ یہ ایک فطری بات ہے کہ سفر کے دوران وہ سہولتیں حاصل نہیں ہوتیں جو منزل پر پہنچ کر حاصل ہوتی ہیں۔ لیکن ہر مسافر اس کو گوارا کرتا ہے۔ کیوں کہ اس کو یقین ہوتا ہے کہ سفر کی حالت ایک وقتی حالت ہے۔ آخر کار اس کا سفر ختم ہوگا اور وہ اپنی مطلوب منزل پر پہنچ جائے گا۔ منزل پر پہنچنے کے بعد اس کو وہ سب کچھ مل جائے گا جس کو وہ چاہتا تھا لیکن سفر کے دوران وہ اُن کو حاصل نہ کر سکا۔

ہماری موجودہ زندگی بے حد مختصر مدت کے لیے ہوتی ہے۔ اس کا مختصر مدت کے لیے ہونا خود اس بات کا ثبوت ہے کہ وہ دورانِ سفر کی حالت ہے، وہ منزل پر پہنچنے سے پہلے کا لمحہ ہے۔ اس بنا پر یہ ممکن نہیں کہ موجودہ مختصر زندگی میں ہم وہ تمام چیزیں پالیں جن کو ہم پانا چاہتے ہیں۔ یہ چیزیں بلاشبہ ہم کو ملیں گی لیکن وہ منزل پر پہنچ کر ملیں گی، سفر کے درمیانی مرحلے میں وہ ہرگز ہم کو ملنے والی نہیں۔ جیسا کہ معلوم ہے، ہماری زندگی دو مرحلوں میں تقسیم ہے۔ موت سے پہلے کا مرحلہ اور موت کے بعد کا مرحلہ۔ موت سے پہلے کا مرحلہ گویا حالتِ سفر کا مرحلہ ہے، اور موت کے بعد کا مرحلہ گویا منزل پر پہنچنے کا مرحلہ۔ یہی وہ حقیقت ہے جس کو جاننا ہر انسان کے لیے ضروری ہے۔ یہی وہ حقیقت ہے جو ہر انسان کی زندگی کو بامعنی بناتی ہے، جو ہر عورت اور مرد کو اس مقصد سے متعارف کرتی ہے جو اس کی زندگی کو پوری طرح بامعنیٰ بنادے جو اس کو اطمینان کا سرمایہ عطا کرے۔

زندگی کی یہ توجیہہ اس سوال سے جڑی ہوئی ہے کہ موت کے بعد دوبارہ انسان زندہ ہوتا ہے۔ کیا موت کے بعد بھی اسی طرح زندگی ہے جس طرح موت سے پہلے ہم زندگی کا تجربہ کر رہے ہیں۔ اس سوال کا جواب اثبات میں ہے۔ اس سوال کا جواب ہم عین اُسی سائنسی طریقے کے ذریعے جان سکتے ہیں جس سائنسی طریقے سے دوسری حقیقتوں کو جانا جاتا ہے۔

حقیقتوں کو جاننے کے معاملے میں سائنٹفک متھڈ کیا ہے۔ وہ یہ نہیں ہے کہ جس بات کو جاننا ہے وہ اپنی کامل صورت میں سائنس داں کے سامنے آجائے۔ اگر یہ شرط ہو تو ساری حقیقتیں سائنسی طور پر غیر معلوم رہ جائیں۔ علم کی ترقی رُک جائے۔ حقائق کی نسبت سے انسان ہمیشہ کے لیے اندھیرے میں

کیوں کہ کوئی بھی حقیقت اس طرح علم میں نہیں آتی کہ وہ پہاڑ کی طرح مشہود چیز کے طور پر

اس کے بجائے جو ہوتا ہے وہ یہ ہے کہ مطالعے کے دوران سائنس داں کے سامنے ایک سُراغ (clue) آتا ہے۔ اس سُراغ پر غور کر کے وہ ایک ایسی حقیقت تک پہنچتا ہے جو پہلے اس کو معلوم نہ تھی۔ اس دنیا میں ہر حقیقت سُراغ کی سطح پر دریافت ہوتی ہے۔ اس دنیا میں سُراغ ہی تمام حقیقتوں کی دریافت کی کنجی ہے۔

مثلاً سائنس میں اس کو بطور حقیقت مان لیا گیا ہے کہ تیرہ بلین سال پہلے بگ بیگ کا واقعہ اسی طرح سائنس میں یہ مان لیا گیا ہے کہ زمین پر حیاتیاتی ارتقا کا واقعہ ہوا۔ سائنس میں یہ مان لیا گیا ہے کہ ہماری کائنات ایک پھیلتی ہوئی کائنات (expanding universe)

اس قسم کی حقیقتیں جو آج مسلم حقیقت بن چکی ہیں وہ اس طرح حقیقت نہیں بنیں کہ انسان نے اس کو مشاہداتی سطح پر دیکھ لیا۔ اس کے بجائے جو کچھ ہوا وہ صرف یہ تھا کہ ایک سُراغ انسان کے علم پھر اس سُراغ پر غور کر کے انسانی علم ایک بڑی حقیقت تک پہنچا۔ یہ بڑی حقیقت اگرچہ دکھائی نہیں دے رہی تھی مگر وہ موجود تھی۔ اس کی موجودگی کو بطور ایک واقعہ کے تسلیم کر لیا گیا۔ اگر چہ اس سلسلے میں سُراغ کے سوا کوئی اور چیز انسان کے مشاہدے میں نہیں آئی تھی۔

یہی معاملہ موت کے بعد زندگی کا یا اگلے دَورِ حیات کا ہے۔ اگلے دَورِ حیات کے بارے میں بھی واضح سُراغ (clue) موجود ہیں۔ سُراغ پر سنجیدگی کے ساتھ غور کیا جائے تو وہ ہمیں اس یقین تک پہنچاتے ہیں کہ موت کے بعد بھی زندگی ہے۔ موت کے بعد بھی اسی طرح ایک اور مرحلہ حیات ہے جو لازمی طور پر ہر ایک کے سامنے پیش آئے گا۔

وہ سُراغ کیا ہے۔ مثلاً انسان کا جسم بے شمار خلیوں (cells) پر مبنی ہے۔ یہ خلیے ہر وقت ٹوٹتے دوسری طرف ہمارا نظامِ ہضم یہ کام کرتا ہے کہ جو کچھ ہم کھاتے ہیں وہ خلیوں کی صورت میں ہمارے جسم کو ملتا رہتا ہے۔ یہ عمل موت تک جاری رہتا ہے۔ خلیوں کے ٹوٹنے اور بننے کا یہ سلسلہ مسلسل جاری رہتا ہے مگر پورا جسم قائم رہتا ہے۔ موت انسان کے ساتھ یہ کرتی ہے کہ وہ خلیوں کے ٹوٹنے کا عمل جاری رکھتی ہے مگر نئے خلیے بنانے کا عمل بند کر دیتی ہے۔ جس کی وجہ سے جسم کے اجزا بکھر جاتے ہیں۔ یہ ایک بہت بڑا سُراغ ہے جو ایک دوسری دنیا کی موجودگی کو ثابت کرتا ہے۔

اختیار کر لیتا ہے۔ ہمارا نظامِ ہضم گویا خلیہ ساز فیکٹری ہے۔ اس نظام کے تحت یہ ہوتا ہے کہ عملاً تقریباً ہر دس سال میں ہمارا پورا جسم بدل جاتا ہے۔ نئے خلیوں کے ساتھ مکمل طور پر ایک نیا جسم وجود میں آ جاتا ہے۔ گویا کہ ہمارے جسم پر بار بار’’موت‘‘ طاری رہتی ہے۔ اس کے باوجود ہم دیکھتے ہیں کہ انسان کا ذہنی وجود نہیں مرا۔ یہ ایک معلوم حقیقت ہے کہ ذہنی وجود ہی انسان کا اصل وجود ہے۔ وجود بظاہر جسمانی موت کے باوجود یکساں طور پر باقی رہتا ہے۔ یہ ایک سراغ ہے جو بتاتا ہے کہ انسان اپنی اصل کے اعتبار سے ایک ابدی مخلوق ہے۔ اس کے ابدی وجود کا تھوڑا سا حصہ قبل از موت مرحلۂ حیات میں ہے، اور اس کا بقیہ پورا حصہ بعد از موت مرحلۂ حیات میں۔

اسی طرح اس معاملے کا ایک سراغ یہ ہے کہ انسان کے اندر استثنائی طور پر عدل (justice) کا تصور پایا جاتا ہے۔ انسان اپنے فطری ذہن کے تحت، یہ چاہتا ہے کہ دنیا میں عدل قائم ہو۔ عمل کرنے والوں کو اچھا انجام ملے اور بُرا عمل کرنے والوں کو بُرا انجام ملے۔ اس سراغ کو سامنے رکھ کر سوچا جائے تو انسانی ذہن اس نتیجے تک پہنچتا ہے کہ موجودہ مرحلۂ حیات چوں کہ اپنی مدت کے اعتبار سے نہایت نا کافی ہے اس لیے بعد کے مرحلۂ حیات میں عدل کے تقاضے کی تکمیل ہو۔ بعد کے مرحلۂ حیات میں ہر انسان کو اس کے کیے کے مطابق، جزا یا سزا ملے۔

اسی طرح اس معاملے کا ایک سراغ یہ ہے کہ انسان پیدائشی طور پر معیاری دنیا (perfect world) چاہتا ہے۔ مگر موجودہ دنیا کی محدودیت (limitations) کی بنا پر یہاں مطلوب معیاری دنیا بن نہیں پاتی۔ اس سراغ پر غور کرتے ہوئے انسانی ذہن اس دریافت تک پہنچتا ہے کہ جو معیاری دنیا قبل از موت مرحلۂ حیات میں محدود حالات کی بنا پر حاصل نہ ہو سکی وہ بعد از موت مرحلۂ حیات میں اپنی مطلوب معیاری صورت میں حاصل ہوگی۔

اسی طرح اس معاملے میں ایک سراغ یہ ہے کہ انسان استثنائی طور پر ایک ایسی مخلوق ہے جو کل (tomorrow) کا تصور رکھتا ہے۔ کسی بھی دوسرے حیوان یا غیر حیوان کے اندر کل کا تصور موجود نہیں۔ اس سراغ کو لے کر غور کیا جائے تو یہ حقیقت واضح ہوتی ہے کہ موجودہ محدود حالات میں آدمی اپنی جس

مطلوب دنیا کو نہیں پاتا اس کو وہ موت کے بعد آنے والے لامحدود مرحلۂ حیات میں پالے گا۔ یہ دنیا وہ ہوگی جہاں آدمی اپنے لیے پوری طرح فل فلمینٹ کا تجربہ کر سکے گا۔

موت کے بعد معیاری دنیا ویسا ہی ایک ثابت شدہ واقعہ ہے جیسا کہ دوسرے ثابت شدہ تاہم مستقبل کی اس معیاری دنیا میں ہر ایک کو خود بخود جگہ نہیں مل جائے گی بلکہ صرف وہ عورت اور مرد اس معیاری دنیا میں جگہ پائیں گے جو موت کے پہلے کی اس دنیا میں اس کا استحقاق ثابت کر سکیں ۔ یہ فطرت کا قانون ہے کہ ہر انعام مستحقین کو ملتا ہے۔ غیر مستحقین کے لیے کبھی کوئی بڑا انعام مقدر نہیں ہوتا۔

سوال یہ ہے کہ کسی شخص کے لیے اپنے آپ کو اس معیاری دنیا کا مستحق بنانے کا فارمولا کیا وہ فارمولا صرف ایک ہے، اور وہ ہے اپنے روح کی تطهیر (purification of soul)۔ جو آدمی مستقبل کی اس معیاری دنیا میں اپنے لیے جگہ حاصل کرنا چاہتا ہو اس کو آج کی اس دنیا میں یہ ثبوت دینا ہے کہ اس نے دکھائی دینے والی دنیا (seen world) میں نہ دکھائی دینے والی دنیا (unseen world) کو اپنی بصیرت سے جانا۔ اس نے کنفیوژن کے جنگل میں سچائی کو دریافت کیا۔ اس نے منفی تجربات کے ماحول میں اپنے آپ کو مثبت رویّے پر قائم رکھا۔ اس نے اپنے آپ کو حیوانی سطح سے اوپر اٹھایا اور انسانیت کی اعلیٰ سطح پر کھڑا کیا۔ اس نے اپنے آپ کو بے اعترافی، بددیانتی، سرکشی، خود غرضی، خواہش پرستی اور انانیت جیسی پست صفات سے بچایا۔ جو پورے دل اور جان کے ساتھ جنت کا طالب بنا۔ خلاصہ یہ کہ جس نے خدا رُخی زندگی (God-oriented life) کو پوری طرح اختیار کیا۔

یہ صفات رکھنے والے عورت اور مرد خلاصہ انسانیت ہیں۔ یہی وہ لوگ ہیں جو مستقبل کی معیاری دنیا میں بسائے جانے کے لیے منتخب کیے جائیں گے۔ جو لوگ اس معیار پر پورے نہ اتریں ان کو رد کر کے کائنات کوڑا خانے میں ڈال دیا جائے گا۔ جہاں وہ ہمیشہ کے لیے حسرت کی زندگی گزاریں وہ کبھی اس ذلت اور حسرت کی زندگی سے نجات نہ پا سکیں گے۔

Printed page