Al-Risala · November 2006

قانون حیات

Al-Risala, November 2006, p. 14

By Maulana Wahiduddin Khan

قرآن کی سورہ نمبر دو میں زندگی کا ایک قانون ان الفاظ میں بتایا گیا ہے: كم من فئة قليلة غلبت فئة كثيرة باذن الله والله مع الصابرين۔ یعنی کتنے ہی چھوٹے گروہ بڑے گروہ پر غالب آئے ہیں، اللہ کے اذن سے، اور اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے۔ قرآن کی اس آیت میں اذن سے مراد فطرت کا قانون (law of nature) ہے۔ خالق فطرت نے قائم کیا ہے۔ اس لیے اس کی حیثیت ایک حتمی قانون کی ہے۔ اس کو بدلنا کسی کے لیے ممکن یہ قانون اُسی طرح عمل کرتا ہے جس طرح رات کے بعد دن کا آنا، اور دن کے بعد رات کا آنا۔ فطرت کا یہ قانون تاریخ میں بار بار واقع ہوا ہے۔ بار بار ایسا ہوا ہے کہ ایک قلیل گروہ ایک کثیر گروہ پر غالب آیا ہے۔ مثلاً دورِ اول میں مکہ کے مسلمان جو مقابلہً قلیل تعداد میں تھے وہ اپنے حریف پر غالب آئے جو مقابلہً ان سے بہت زیادہ تھے۔ اِسی طرح موجودہ زمانے میں امریکا میں وہاں کے تارکین وطن (emigrants) وہاں کے مقامی باشندوں کے مقابلے میں زیادہ ترقی کر رہے ہیں۔ حالاں کہ تارکین وطن کم ہیں اور مقامی باشندے تعداد میں ان سے زیادہ ہیں، وغیرہ۔ اس تاریخی ظاہرہ (phenomenon) پر موجودہ زمانے میں کافی مطالعہ کیا گیا ہے، اور واقعات کو لے کر اصول اخذ کیے گئے ہیں۔ اس موضوع پر چھپنے والی کتابوں میں سے ایک کتاب وہ ہے جو برطانی مورخ ٹائن بی (وفات : ۱۹۵۲) نے طویل مطالعے کے بعد تیار کی ہے۔ اس کا نام تاریخ کا مطالعہ ہے:

Printed page