قرآن اور امنِ عالم
Al-Risala, November 2006, pp. 17–20
By Maulana Wahiduddin Khan
امن کی تعریف، عدم جنگ (absence of war) سے کی جاتی ہے۔ مگر یہ امن کی منفی حقیقت یہ ہے کہ امن ایک مثبت قدر کا نام ہے۔ ہر قسم کی تعمیری سرگرمی کے لیے ضروری ہے کہ سماج میں امن کی حالت قائم ہو۔ امن کے بغیر کسی صحت مند سماج کا قیام ممکن نہیں۔ امن کا تصور دنیا میں ہمیشہ پایا جاتا رہا ہے۔ اس شعبہ مطالعہ کے لیے ایک مخصوص اصطلاح بھی وضع کی گئی ہے، جس کو پیسفزم (Pacifism) کہا جاتا ہے۔ پیسفزم کے موضوع پر کثیر تعداد میں کتابیں لکھی گئی ہیں۔ حتی کہ اس موضوع پر ایک مستقل انسائیکلو پیڈیا چھپی ہے، جس کا نام یہ ہے: An Encyclopaedia of Pacifism (1937)
تاہم قدیم زمانے میں امن کا تصور یہ تھا کہ وہ ایک ایسی حالت ہے جس کو کوئی حکومت اپنی طاقت کے زور پر قائم کرتی ہے۔ چنانچہ رومن امپائر کے عہد میں پیکس رومانا (Pax Romana) کی اصطلاح استعمال کی گئی۔ اس کا مطلب یہ تھا کہ رومی اقتدار کے تحت قائم کیا ہوا امن۔ میں جب امریکا کو سپر پاور کی حیثیت حاصل ہوئی تو پیکس امریکا نا (Pax Americana) کا لفظ بولا یعنی امریکا کے صنعتی دبدبے کے تحت قائم کیا جانے والا امن۔ امن کے معاملے میں اسلام نے جو فارمولا دیا ہے اس کو اسی طرح پیکس اسلامیکا (Pax Islamica) کہا جا سکتا ہے۔ مہاتما گاندھی کو اس باب میں ایک خصوصی اہمیت حاصل ہے۔ کیوں کہ انھوں نے ہتھیار کے استعمال کے بغیر انڈیا کو سیاسی آزادی دلائی۔ چنانچہ اس موضوع کو لے کر کئی کتابیں لکھی گئی ہیں۔ Mahatma Gandhi's Ideas, by C.F. Andrews. Gandhi's Notions of Satyagraha, by Hannah Arendt. مگر اس معاملے میں گاندھی کا کارنامہ ایک ادھوری نوعیت کا کارنامہ ہے۔ انگریزوں کے خلاف آزادی کی جدوجہد میں ہتھیار کا استعمال نہیں کیا۔ مگر انھوں نے دوسرا کام یہ کیا کہ
عوامی مظاہروں اور سول نافرمانی (civil disobedience) جیسے انتہا پسندانہ طریقوں کو اپنے مقصد کے لیے بھر پور طور پر استعمال کیا۔ اس طریق کار کا منفی نتیجہ یہ ہوا کہ ہندوستان سے انگریزوں کا سیاسی اقتدار تو ختم ہوا لیکن اسی کے ساتھ ملک میں نزاع کا دور دورہ ہو گیا۔ قانون شکنی کا مزاج عام ہو گیا۔ اسکولوں اور کالجوں میں تعلیم کی روایات ٹوٹ گئیں ، وغیرہ۔ چنانچہ ۱۹۴۷ میں جو آزاد ہندوستان بنا، وہ ایک ایسا ملک تھا جو امریکی پروفیسر گال بر یتھ کے الفاظ میں حقیقی جمہوریت سے زیادہ ایک فنکشننگ انارکی (functioning anarchy) کے ہم معنی تھا۔
اصل یہ ہے کہ امن کے قیام کے لیے سب سے پہلے امن کا ایک قابل عمل فارمولا درکار ہے۔ ایک ایسا فارمولا جو لوگوں کی آزادی کو منسوخ کیے بغیر زیر عمل لایا جا سکے ۔ جو موجودہ روایات کو توڑے بغیر امن کی حالت قائم کرے ۔ جس کے ذریعے سماج میں کوئی نیا بگاڑ لائے بغیر امن کا حصول ممکن ہو سکے۔ امن کے لیے اس قسم کا فارمولا پہلی بار قرآن میں پیش کیا گیا، اور پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو زیر عمل لا کر اس کا ایک باقاعدہ نمونہ تاریخ میں قائم کر دیا۔
پیکس رومانا، اور پیکس امریکانا کو اگر سیاسی امن کہا جائے تو قرآن کے اصول امن کو اصلاحی امن کا نام دینا درست ہوگا۔ قرآن کا امن فارمولا اس بات کو ممکن بناتا ہے کہ جبر اور بگاڑ جیسی کوئی خرابی پیدا کیے بغیر امن کی حالت قائم کی جاسکے ، یعنی وہ حالت جس میں قسم کی تعمیری سرگرمیاں قابل عمل ہو جائیں۔ قرآن کے اس امن فارمولے کو بتانے کے لیے میں نے اپنی کتاب اسلام ری ڈسکورڈ (Islam Rediscovered) میں ایک اصطلاح استعمال کی ہے۔ یہ اصطلاح پازیٹیو اسٹیٹس کو ازم (positive statusquoism) ہے۔ یعنی حالت موجودہ سے ٹکراؤ نہ کرنا، اور اس کے ہوتے ہوئے عین اُسی وقت جوامکانات (opportunities) پائے جارہے ہیں، ان کو اپنے حق میں استعمال کرنا۔ کامیاب فارمولا ہے جس کو قرآن میں انّ مع العسر یسرا کے الفاظ میں بیان کیا گیا ہے۔ کے ساتھ ہمیشہ مواقع بھی موجود رہتے ہیں، اس لیے مسائل کو نظر انداز کرو اور مواقع کو استعمال کرو: Ignore the problems, avail the opportunities.
پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم انسانی تاریخ کے پہلے شخص ہیں جنھوں نے حقیقی معنوں میں امن کا سماج قائم کیا۔ اس سماج کے قیام میں پوری طرح مذکورہ قرآنی فارمولے کو استعمال کیا گیا تھا۔ اسلام کی زندگی گویا کہ امن کے اس قرآنی فارمولے کی ایک عملی تفسیر ہے۔ آپ کی زندگی کے مطالعے سے ہم جان سکتے ہیں کہ یہ قرآنی فارمولا کس طرح زیر عمل لایا جاسکتا ہے۔
جیسا کہ معلوم ہے، پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے قدیم مکہ میں ۶۱۰ عیسوی میں اپنی دعوت توحید کا آغاز کیا۔ اُس وقت مکہ میں آپ کے لیے ایک سنگین مسئلہ تھا۔ آپ کا مشن یہ تھا کہ آپ کعبہ کو دوبارہ توحید کے عالمی مرکز کی حیثیت سے بحال کریں۔ مگر عملی صورت حال یہ تھی کہ کعبہ میں تین سو ساٹھ بُت رکھے ہوئے تھے۔ اگر آپ ایسا کرتے کہ ”بت شکنی“ سے اپنے کام کا آغاز کرتے تو اس کا انجام یہ ہوتا کہ آپ کی بُت شکنی عملاً امن شکنی کے ہم معنی بن جاتی۔ اس قسم کی کوشش کے نتیجے میں جو چیز ظہور میں آتی وہ سماجی فساد ہوتا نہ کہ سماجی امن۔ آپ نے قرآنی حکمت کے مطابق، اس معاملے میں ڈی لنکنگ پالیسی (de-linking policy) اختیار کی۔ یعنی بُت کی موجودگی کے مسئلے کو بر وقت نظر انداز کرنا، اور بُتوں کے باوجود آپ کے لیے وہاں کام کے جو مواقع موجود ہیں، اُن کو استعمال کرنا۔ کعبہ کے تین سو ساٹھ بت دراصل مختلف عرب قبائل میں پوجے جانے والے بت تھے۔
چنانچہ ان قبائل کے افراد اپنے بتوں کی زیارت کے لیے برابر وہاں آتے رہتے تھے۔ اسی طرح خود اہلِ مکہ کے لیے بھی کعبہ ایک مرکزِ اجتماع بنا ہوا تھا۔ جہاں وہ روزانہ اکٹھا ہوتے اور اپنے رواج کے مطابق، وہاں اپنے مذہبی مراسم ادا کرتے۔ اس طرح کعبہ فطری طور پر ایک مقامِ اجتماع بن گیا۔ کعبہ میں رکھے ہوئے بُت بظاہر پیغمبر اسلام کے لیے ایک مسئلہ تھے، لیکن کعبہ کے صحن میں لوگوں کے اجتماع نے اس مقام کو گویا کہ عربوں کی نیشنل اسمبلی کا درجہ دے دیا تھا۔ آپ نے کعبہ کے اس دوگانہ پہلو کو سمجھا، اور بصیرتِ قرآنی سے کام لیتے ہوئے یہ کیا کہ آپ نے بُتوں کی موجودگی کو وقتی طور پر نظر انداز کیا، اور انسانوں کی موجودگی کو اپنی دعوت کے لیے مقامِ خطاب کے طور پر استعمال کیا۔ چنانچہ آپ پر امن طور پر وہاں جاتے اور لوگوں کو قرآن کے حصے پڑھ کر سناتے۔ اس طرح قرآن کا
پیغام کسی ٹکراؤ کے بغیر خاموشی کے ساتھ عرب قبائل میں پہنچنے لگا۔
پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم تیرہ سال تک پُرا من پیغام رسانی کا یہ مشن چلاتے رہے۔ نے دیکھا کہ لوگ آپ کے کلام سے متاثر ہو کر آپ کے دین میں داخل ہو رہے ہیں، اس لیے وہ آپ کے مخالف ہو گئے۔ یہ مخالفت اتنی زیادہ بڑھی کہ انھوں نے یہ فیصلہ کیا کہ سب مل کر آپ کو قتل کر ڈالیں، اور اس طرح آپ کے موحدانہ مشن کو ختم کر دیں۔ یہ ایک سنگین صورت تھی۔ آپ نے پیشگی طور پر اس کا اندازہ کر لیا اور مکہ میں قیام کے زمانے ہی میں اپنے دو ساتھیوں کو مکہ سے تین سومیل دور واقعہ شہر مدینہ بھیج دیا۔ یہ لوگ وہاں جا کر توحید کی پُر امن تبلیغ کرنے لگے۔ اُن کا طریقہ یہ تھا کہ وہ لوگوں کو قرآن اس لیے اُن کو مقری کہا جانے لگا، یعنی پڑھ پڑھ کر سنانے والا۔ اس کوشش کا نتیجہ یہ ہوا کہ مدینہ کے لوگ تیزی سے اسلام قبول کرنے لگے۔ یہاں تک کہ مدینہ کے ہر گھر میں اسلام داخل ہو گیا۔ اس تجربے سے اندازہ ہوا کہ مدینہ کے حالات مکہ کے حالات سے مختلف ہیں۔ چنانچہ پیغمبر اسلام نے فیصلہ کیا کہ وہ مکہ والوں سے متشددانہ ٹکراؤ کی نوبت نہ آنے دیں۔ اس کے بعد آپ ایک طرفہ فیصلے کے تحت، مکہ کو چھوڑ کر مدینہ چلے گئے۔ اس واقع کو اسلام کی تاریخ میں ہجرت کہا جاتا ہے۔ ہجرت کا مطلب ہے— تشدد کے مقام کو چھوڑ کر ایسی جگہ چلے جانا جہاں پُر امن طور پر کام کرنے کے مواقع پائے جاتے ہوں۔ پیغمبر اسلام نے پُر امن عمل کا یہی طریقہ اپنی پوری زندگی میں اختیار کیا۔ ہجرت کے بعد قریش نے آپ کے خلاف جنگی کارروائی شروع کی تو آپ ہر قیمت پر اس سے اعراض کرتے رہے۔ صرف اُس وقت محدود طور پر دفاعی جنگ کی نوبت آئی جب کہ فریق مخالف کے جارحانہ اقدام نے آپ کے لیے کوئی دوسرا راستہ نہیں چھوڑ اتھا۔ آخر میں آپ نے خود اپنی طرف سے مخالف قبیلہ قریش سے امن کی بات چیت شروع کی۔ وہ لوگ ضد پر اتر آئے تو آپ نے اُن کی شرطوں کو یک طرفہ طور پر منظور کرتے ہوئے اُن سے نا جنگ معاہدہ (no war pact) کر لیا۔ اس معاہدے کا خلاصہ یہ تھا کہ — دونوں فریق اپنے اپنے دائرے میں امن پر قائم رہیں گے اور دوسرے کے خلاف وہ کوئی متشددانہ کارروائی نہیں کریں گے— اس معاملے کی تفصیل راقم الحروف کی کتاب 'امن عالم' میں دیکھی جا سکتی ہے۔