Al-Risala · November 2006

مسلمان مسئلہ کیوں بن گئے

Al-Risala, November 2006, pp. 23–27

By Maulana Wahiduddin Khan

پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی جو حدیثیں محفوظ حالت میں ہم تک پہنچی ہیں اُن میں سے کچھ حدیثیں وہ ہیں جن میں آپ نے اپنی امت کو مستقبل کے کچھ فتنوں سے پیشگی طور پر خبردار کیا ہے۔ قسم کی حدیثوں میں سے ایک حدیث وہ ہے جس میں آپ نے فرمایا: واذا وضع السيف فى امتی لم يرفع منها إلى يوم القيامة (ابوداؤد، كتاب الفتن، الترمذى، كتاب الفتن، ابن ماجه، كتاب الفتن ، مسند احمد) یعنی میری امت کے اندر جب تلوار داخل ہوگی تو اس کے بعد وہ قیامت تک اُس سے اٹھائی نہ جائے گی۔

سیف (تلوار) تشدد کی علامت ہے۔ اس قولِ رسول کا مطلب یہ ہے کہ امت مسلمہ کے اندر جب ایک بار متشددانہ طریقہ داخل کر دیا جائے تو پھر وہ نسل در نسل جاری رہے گا۔ حتی کہ اگر اس رجحان کو بدلنے کی خصوصی کوشش نہ کی گئی تو عین ممکن ہے کہ وہ برابر امت کے اندر جاری رہے، یہاں تک کہ مسلمانوں کی تاریخ کو دیکھا جائے تو پیغمبر اسلام کی پیشین گوئی بالکل لفظی طور پر درست ثابت ہوتی ہے۔

جیسا کہ معلوم ہے، خلیفہ ثالث عثمان بن عفان کے آخری زمانہ میں سیف، بالفاظ دیگر، متشددانہ طریق کار امت مسلمہ کے اندر داخل ہوا، اس کے بعد پھر وہ کبھی ختم نہ ہوسکا۔ اس وقت سے لے کر آج تک پوری امت کا یہ حال ہے کہ اُس کے کچھ افراد اگر عملی تشدد میں مشغول ہیں تو اس کے کچھ افراد فکری تشدد میں۔ کچھ لوگ اگر اپنے مفروضہ دشمنوں کے خلاف گن اٹھائے ہوئے ہیں تو دوسرے لوگ براہ راست یا بالواسطہ طور پر اس کی تصدیق اور تبرير کرنے میں مشغول ہیں۔ اصل یہ ہے کہ چودہ سو سال پہلے جب پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت ہوئی، اُس وقت عرب میں اور ساری دنیا میں مذہبی ایذا رسانی (religious persecution) کا زمانہ تھا۔ کے لوگ جب بھی دیکھتے کہ کوئی فرد یا گروہ اُن سے الگ کوئی مذہب اختیار کر رہا ہے تو وہ اُس کے سخت

مخالف بن جاتے۔ مذہبی رواداری (religious tolerance) جو موجودہ زمانے میں دکھائی دیتی ہے، اس زمانہ میں اس کا سرے سے کہیں وجود نہ تھا۔

یہی زمانی رکاوٹ ہے جس کا سامنا پیغمبرِ اسلام اور آپ کے ساتھیوں کو پیش آیا۔ لوگ پیغمبر اور آپ کے اصحاب کے ساتھ جارحیت کی حد تک نارواداری کا معاملہ کرنے لگے۔ یہاں تک کہ آپ کو اور آپ کے اصحاب کو اپنے وطن مکہ سے نکل جانے پر مجبور کر دیا۔ اس وقت قرآن میں یہ حکم دیا گیا کہ : وقاتلوهم حتى لا تكون فتنة ويكون الدين لله (البقرہ ۱۹۳)

اس آیت میں فتنہ سے مراد یہی مذہبی ایذارسانی (religious persecution) ہے۔ مطلب یہ ہے کہ جو لوگ مذہب کے جائز معاملہ میں تمھارے خلاف تشدد کر رہے ہیں اور جارحیت کی حد تک جا کر تمھارے خلاف رکاوٹیں کھڑی کر رہے ہیں، اُن سے دفاعی جنگ لڑو، یہاں تک کہ مذہبی جبر (فتنہ) کی حالت ختم ہو جائے اور مذہبی آزادی کی حالت قائم ہو جائے۔ مذہبی جبر یا مذہبی ایذارسانی اپنے آپ میں ایک جارحانہ فعل ہے، اور دوسری جارحیت کی طرح، اس جارحیت کے خلاف جو جنگ کی جائے وہ بھی دفاعی جنگ ہے۔

پیغمبرِ اسلام اور آپ کے اصحاب نے یہی مدافعانہ جنگ کی۔ یہ گویا ایک قسم کا وقتی آپریشن تھا۔ یہ آپریشن بہترین تربیت یافتہ انسانوں کے ذریعہ کیا گیا، اور یہ آپریشن اصحاب رسول کی اگلی ہی نسل میں تقریباً مکمل ہو گیا۔

جیسا کہ معلوم ہے، یہ آپریشن ہجرتِ مدینہ کے بعد شروع ہوا، پہلے عرب میں اور اس کے بعد ایرانی سلطنت اور بازنطینی سلطنت کے دائرہ میں ۔ یہ آپریشن پیغمبر اسلام کے زمانہ میں شروع ہوا اور خلیفہ ثانی عمر فاروق کے زمانہ میں وہ اپنی آخری تکمیل تک پہنچ گیا۔ یہ پورا کام خدا کی خصوصی مدد یہی وجہ ہے کہ اتنا بڑا آپریشن صرف پچیس سال کے مختصر عرصہ میں مکمل ہو گیا۔ قتالِ فتنہ کی آیت کا یہ مفہوم دوسرے نصوص کے علاوہ، عبداللہ بن عمر کی تشریح سے ثابت ہے، جو صحیح البخاری میں ایک سے زیادہ مقامات پر آئی ہے۔

خلافت راشدہ کے بعد جب بنوامیہ کی سلطنت شروع ہوئی تو عبداللہ بن زبیر نے اس کے خلاف خروج کیا۔ اس کے نتیجہ میں عبداللہ بن زبیر اور بنوامیہ کے گورنر حجاج بن یوسف کے درمیان جنگ پیش آئی۔ عبداللہ بن عمر ایک سینئر صحابی کی حیثیت سے مکہ میں موجود تھے، مگر اُنھوں نے اس جنگ میں شرکت نہیں کی۔ عبداللہ بن زبیر کے کچھ ساتھی عبداللہ بن عمر کے پاس گئے اور اس جنگ میں انھیں شرکت کی دعوت دی۔ اُن لوگوں نے قرآن کی آیت قتال فتنه (الانفال ۳۹) کا حوالہ دے کر کہا کہ ہماری یہ جنگ قرآن کے اس حکم کے تحت ہے۔ حضرت عبداللہ بن عمر نے کہا کہ تم لوگ غلط کہتے ہو۔ فتنہ کے خلاف جنگ سے مراد مذہبی تشدد کے خلاف جنگ تھی۔ ہم نے لڑ کر اس فتنہ کو ختم کر دیا۔ اب تم لڑ رہے ہو تا کہ جو فتنہ ختم ہو چکا ہے وہ دوبارہ نئے نام کے ساتھ لوٹ آئے (فتح الباری، جلد ۸ ، صفحہ ۱۶۰،۳۲)

تاہم حضرت عبداللہ بن عمر کے اس احتجاج کے باوجود امت کے اندر تشدد کا طریقہ جاری رہا، یہاں تک کہ وہ امت کی پوری تاریخ پر پھیل گیا۔ قتال فتنہ کے حکم سے مراد دراصل یہ تھا کہ مذہبی تشدد کے دور کو ختم کر کے مذہبی آزادی کا دور لایا جائے ۔ مگر بعد کے دور میں اُس کو سیاسی معنی میں لے لیا گیا۔ اب اس کا مطلب یہ ہو گیا کہ دوسری قوموں کے اقتدار کو ختم کر کے مسلمانوں کا اقتدار دنیا میں قائم کیا یہ قرآنی حکم کے معاملے میں ایک انحراف تھا، تاہم یہ انحراف عمل میں آیا، حتیٰ کہ وہ پوری مسلم تاریخ پر چھا گیا۔

سیاسی حوصلہ مندوں کو یہ نظریہ بہت موافق نظر آتا تھا۔ چنانچہ اُنھوں نے بہت جلد پورے زور کے ساتھ اس کو پکڑ لیا۔ یہ رجحان اتنا زیادہ بڑھا کہ اسلام عملاً کشور کشائی اور ملک گیری کا ایک مذہب بن گیا اور اسی کے ساتھ تشدد کا بھی ۔ کیوں کہ کشور کشائی اور ملک گیری کی مہم تشدد کے بغیر چلائی نہیں سیاسی حوصلہ مندوں کے اس عمل میں چند چیزوں سے خصوصی نظریاتی مدد ملی۔ اس طرح اُنھیں اپنی عملی سیاست کے لیے نظریاتی جواز بھی حاصل ہو گیا۔

ایک یہ کہ قدیم زمانہ کے رواج کے مطابق، اسلام کی تاریخ سیاسی نمونہ پر لکھی گئی ۔

عباسیہ سے لے کر بعد کے زمانہ تک جتنی بھی تاریخیں لکھی

غیرمسلمعلاقےگوایامکانیطورپرمسلمانوںسحالتجنگ(potentially at war)میںہیں،اس

علاقے ایک ہی قسم سے تعلق رکھتے تھے۔ یہ سب کے سب دار الدعوہ تھے۔ ہجرت کے بعد مدینہ میں اسلام کا اقتدار قائم ہو گیا تو اس کے بعد مدینہ دار الاسلام بن گیا اور دوسرے علاقے، بشمول مکہ، دار الدعوہ کی حیثیت سے قائم رہے۔ اسی طرح عرب کے باہر کے ملکوں کی حیثیت بھی دار الدعوہ کی تھی۔ اس لئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان ملکوں کے حکمرانوں کو دعوتی مکاتیب روانہ کئے ۔

بلاد کی اس تقسیم کا مطلب یہ نہیں ہے کہ دار الاسلام کے علاوہ جو علاقے ہیں ان کو بھی سیاسی معنوں میں دار الاسلام بنانے کی کوشش کی جائے۔ اس قسم کا نظریہ سرا سر بے بنیاد ہے۔ دیگر علاقوں کے لیے اہل اسلام کی ذمہ داری صرف دعوت ہے، اول بھی اور آخر بھی۔ پر امن دعوت کے سوا کسی بھی قسم کی دوسری کارروائی اہل اسلام کے لیے جائز نہیں۔

فقہ کی کتابوں میں، اور دوسرے موضوعات کی کتابوں میں عام طور پر بلاد الكفر اور بلاد الكفار کے الفاظ استعمال کئے جاتے ہیں۔ یہ اسلوب یقینی طور پر درست نہیں۔ غیر مسلم ملکوں کا ذکر ان کے اپنے معروف نام کے ساتھ کیا جانا چاہئے نہ کہ بلاد الكفر یا بلاد الكفار کے الفاظ میں۔ اس طرح کے معاملات میں ہمیں خود ساختہ طریقہ اپنانے کے بجائے انٹرنیشنل آداب کو اپنانا چاہئے۔ اس سلسلہ میں بنیادی بات یہ ہے کہ اسلام دین فطرت ہے۔ ہر انسان کی جو فطرت ہے وہی خود اسلام بھی ہے۔ اعتبار سے یہ کہنا درست ہوگا کہ ہر انسان امکانی طور پر مسلم ہے:

Printed page