Al-Risala · November 2006

Every human being is potentially Muslim.

Al-Risala, November 2006, pp. 27–31

By Maulana Wahiduddin Khan

ایسی حالت میں ہمارا نقطہ نظر دوسرے انسانوں کے بارے میں وہی ہونا چاہئے جو خود مسلمانوں کے بارے میں ہوتا ہے۔ کیوں کہ یہ سارے انسان امکانی طور پر مسلم ہی ہیں۔ پوری تاریخ اس حقیقت کی گواہی دیتی ہے۔

اسی طرح دشمن اور دوست کی تقسیم بھی عمومی طور پر درست نہیں۔ ایک گروہ اگر یکطرفہ طور پر اہل اسلام پر حملہ کر دے تو ایسی حالت میں اہل اسلام وقتی طور پر دفاع کی ذمہ داری کو پورا کریں گے۔

بظاہر زیادتیوں کے باوجود، کسی گروہ کو مستقل طور پر دشمن سمجھ لینا درست نہیں۔ قرآن کے مطابق، اہل اسلام کو چاہیے کہ وہ اپنے دشمن کو بھی امکانی طور پر اپنا دوست سمجھیں، وہ یکطرفہ حسنِ اخلاق کے ذریعہ اپنے دشمن کو اپنا دوست بنانے کی کوشش کریں (حم السجدہ ۳۴)

ہجرت کے بعد مدینہ جب دار الاسلام بن گیا تو اس کا مطلب یہ نہیں تھا کہ مکہ دار الکفر یا دار الحرب ہو گیا۔ بلکہ صحیح یہ ہے کہ ہجرت کے بعد مدینہ اگر بالفعل دار الاسلام تھا تو مکہ بالقوہ دار الاسلام، جیسا کہ بعد کی تاریخ سے ثابت ہوا۔ بلاد کی تقسیم کے بارے میں یہی صحیح اسلامی نقطۂ نظر ہے۔ یہاں یہ بات واضح رہے کہ بلاد کی یہ تقسیم مکمل طور پر غیر سیاسی معنوں میں ہے نہ کہ سیاسی دوسرے اسباب کے علاوہ یہ دو اسباب، فقہ اور تاریخ، گویا اس مسلم سیاست کے لیے نظریاتی تائید کے ہم معنی بن گئے۔

انیسویں صدی کے آخر میں قدیم طرز کی مسلم سلطنتوں کا دور ختم ہو گیا۔ حالات کی اس تبدیلی کے بعد، مسلم دنیا میں یہ ذہن پیدا ہونا چاہیے تھا، انھیں اب نئے حالات کے مطابق، از سر نو اپنی تیاری کرنا ہے، مگر عملاً ایسا نہیں ہوا۔ عین اُس وقت مسلمانوں میں وہ گروہ پیدا ہوا جس کو عام طور پر انقلابی مفکرین کہا جاتا ہے۔ ان لوگوں نے قدیم جارحانہ سیاست کے حق میں ایک اور نظریاتی تائید فراہم یہ اسلام کی سیاسی تشریح تھی۔ ان لوگوں نے قرآنی آیتوں کی نام نہاد انقلابی تشریح کر کے بتایا کہ اسلام کا مقصد ساری دنیا میں اسلام کی حکومت قائم کرنا ہے۔ کسی مسلمان کا اسلام اُس وقت تک مکمل ہی نہیں، جب تک وہ ایسا نہ کرے کہ یا تو اسلام کی حکومت بالفعل قائم کر دے یا اسی راہ میں وہ اپنے آپ کو قربان کر دے۔

اس جدید تشریح نے مذکورہ قسم کی غلطی کو عملی انحراف سے بڑھا کر عقیدہ کا درجہ دے دیا اور اس طرح سیاسی تشدد کو یہ حیثیت دے دی کہ وہ کسی مسلمان کے لیے جنت کا سب سے زیادہ یقینی ٹکٹ ہے، اسلام کے نام پر تشدد کرنے والے مرد اور عورت سیدھے جنت میں پہنچ جائیں گے۔ فارسی کی ایک مثل ہے کہ پدرم سلطان بود۔ میرا باپ بادشاہ تھا۔ مذکور تفصیلات کو سامنے رکھا

جائے تو یہ کہنا بالکل درست ہوگا کہ مسلمانوں کی ہزار سال کی تاریخ کا خلاصہ دو جملوں میں یہ ہے کہ دور بادشاہت میں مسلمان اس احساس میں جی رہے تھے کہ پدرم سلطان است، اور دور بادشاہت کے خاتمہ کے بعد اب وہ اس احساس میں جی رہے ہیں کہ پدرم سلطان بود۔ یہی وجہ ہے کہ پہلے دور میں وہ دوسری قوموں سے اس لیے لڑ رہے تھے کہ وہ ان کی حاکمانہ حیثیت کو تسلیم کریں، اور اب اس لیے لڑ رہے ہیں کہ وہ اُن کی کھوئی ہوئی حاکمانہ حیثیت کو اُن سے واپس لیں۔ یہی دو جملوں میں ہزار سالہ مسلم تاریخ کا خلاصہ ہے۔

اصل یہ ہے کہ جب فتنہ کا خاتمہ ہوا، دوسرے لفظوں میں یہ کہ جب مذہبی تشدد کا دور ختم ہوا اور مذہبی آزادی کا دور شروع ہوا تو اب ضرورت تھی کہ امن کے نظریہ پر اسلام کی پرامن آئیالوجی کو واضح کیا جائے۔ یہ بتایا جائے کہ اسلام کا تشدد سے کوئی تعلق نہیں۔ اسلام کا اصل کنسرن صرف مذہبی آزادی کی حالت کا قائم ہونا ہے، اور وہ اب پوری طرح قائم ہو چکی ہے۔ اس لیے اب کرنے کا کام یہ ہے کہ مذہبی آزادی کو استعمال کر کے دعوت و تعمیر کے کام کی پرامن منصوبہ بندی کی جائے، مگر عملاً ایسا نہیں ہوا۔

میرے علم کے مطابق، خلافت راشدہ کے بعد صرف دو مسلم شخصیتیں ہیں جنھوں نے اس راز کو سمجھا اور اس کا اعلان کیا۔ ایک، عبداللہ بن عمر صحابی، اور دوسرے، عمر بن عبدالعزیز تابعی۔ مگر یہ نظریہ عمومی قبولیت حاصل نہ کر سکا۔ وہ ایک انفرادی اظہار خیال بن کر رہ گیا۔

حضرت عبداللہ بن عمر نے ابن زبیر کے زمانہ میں جو بات کہی تھی، اس کا مطلب یہ تھا کہ قرآن میں فتنہ سے مراد مذہبی تشدد تھا، وہ اب ختم ہو گیا۔ اس لیے اب کسی اور چیز کو فتنہ بتا کر اس کے خلاف لڑائی چھیڑنا عملاً فتنہ کو نئے عنوان سے واپس لانے کا سبب بن جائے گا۔ یعنی آپ غیر اسلامی سیاست کو ختم کرنے کے نام پر حکمراں سے جنگ چھیڑیں گے۔ چونکہ آپ کی یہ جنگ اسلام کے نام پر ہوگی اس لیے حاکم آپ کی تشریح کے مطابق، اسلام کو اپنا حریف سمجھ لے گا اور غیر ضروری طور پر یہ کرے گا کہ جو لوگ اسلام کے نام پر تحریک اٹھائیں، اُنھیں اپنے لیے سیاسی خطرہ سمجھ کر وہ انھیں کچل دے۔

فتنے کی حالت نئے عنوان کے ساتھ دوبارہ تاریخ میں واپس آجائے۔

حضرت عمر بن عبدالعزیز کو پانچواں خلیفہ راشد کہا جاتا ہے۔ اُن کے زمانے میں عمومی طور پر امن کی حالت قائم ہوگئی تھی۔ چنانچہ غیر مسلم قومیں کثرت سے اسلام میں داخل ہونے لگیں۔ اُن کے ایک گورنر نے کہا کہ اسلام کی یہ توسیع اگر اسی طرح جاری رہی تو خراج کی رقم بہت کم ہو جائے گی اور ہمارا بیت المال خالی ہو جائے گا۔ حضرت عمر بن عبدالعزیز نے جواب دیا: ويســــحك ان محمداً بعث هادياً ولم يبعث جابياً۔

اس سلسلہ میں سب سے زیادہ تباہ کن کردار موجودہ زمانہ کے نام نہاد انقلابی مفکرین نے ادا کیا اُنھوں نے اسلام کی خود ساختہ تشریح کر کے مسلمانوں کو بتایا کہ اسلام ایک مکمل سیاسی نظام ہے۔ اور اس مکمل سیاسی نظام کو عملاً نافذ کیے بغیر اُن کے اسلام کی تکمیل نہیں ہوگی۔ یہ غلط تشریح بعض اسباب سے ساری دنیا میں پھیل گئی۔ اب مسلمانوں کا حال یہ ہے کہ وہ مجنونانہ طور پر ساری دنیا سے لڑنے کے لیے کھڑے ہو گئے ہیں۔ اُن کے درمیان ایسے انتہا پسند علماء پیدا ہو گئے ہیں جو اس معاملہ میں خود کش بم باری کو استشہاد (طلب شہادت) قرار دے رہے ہیں۔ وہ کہہ رہے ہیں کہ مفروضہ دشمن کو مارنے کے لیے تم خودکش بم باری کی حد تک جا سکتے ہو اور اس طرح اپنی جنت کو یقینی بنا سکتے ہو۔ قرآن میں جہاد کا لفظ پر امن جد و جہد کے معنی میں ہے۔ بعض اوقات جہاد کے لفظ کو توسعی معنی میں قتال یا پر تشدد طریق کار کے لیے استعمال کیا گیا۔ مگر بعد کے زمانہ میں جہاد کو عملاً قتال کا ہم معنی بنا دیا گیا اور اُس کو عملی طور پر پر تشدد طریق کار کے معنی میں استعمال کیا جانے لگا، جو کہ بلا شبہہ غلط تھا۔

صوفیا اسلام کے اسی پر امن طریق کار کے نمائندے تھے۔ اُنھوں نے ساری دنیا میں بڑے بڑے دعوتی کام کئے ۔ مگر پوری تاریخ میں جہاد (بمعنی قتال) کا تصور اتنا غالب تھا کہ صوفیاء کے طریقہ کو فراریت (escapism) کے ہم معنی سمجھا گیا۔ صوفیاء کے لیے یہ ممکن نہ ہوا کہ وہ پر امن طریق کار کو ایک مکمل آئیڈیا لوجی کے طور پر مدلّل اور مفصل کر کے پیش کریں۔ اس لیے علمی اعتبار سے صوفیاء

فراریت کے درجہ میں رہے، وہ اسلام کی مین اسٹریم کے نمائندہ نہ بن سکے۔ قرآن کے مطابق، یہ کہنا صحیح ہوگا کہ قتال سے مراد متشددانہ طریقہ کار ہے اور جہاد سے مراد پر امن طریقہ کار۔ مگر عملاً یہ ہوا کہ جہاد کو قتال کے معنی میں استعمال کیا جانے لگا۔ اس طرح جہاد کے حوالہ سے پرامن طریقہ کار کا تصور تاریخ سے عملی طور پر حذف ہو گیا۔

موجودہ دنیا مسابقت کے اصول پر چل رہی ہے۔ یہاں ہمیشہ ایک اور دوسرے کے درمیان نزاع کی صورت پیدا ہوتی ہے۔ ایسی صورت میں آدمی کے لیے صرف دو ممکن انتخاب ہے۔ حالت موجودہ (status quo) کو مان لینا۔ اور دوسرے، اگر وہ ماننا نہیں چاہتا تو دوسری صورت یہ ہے کہ مکمل طور پر پرامن دائرہ میں رہتے ہوئے اپنی جدوجہد کو جاری کرنا۔ ان دو کے سوا جو صورت ہے وہ صرف مزید تباہی کی صورتیں ہیں، وہ یقینی طور پر کامیابی کی صورت نہیں۔ آج سب سے زیادہ ضروری یہ ہے کہ جہاد بالقرآن کے اصول کو عام کیا جائے۔ یعنی اسلام کو ایک پرامن آئیڈیالوجی کے طور پر دنیا کے سامنے لایا جائے۔ مسلمانوں کو بتایا جائے کہ اسلام کا نشانہ اقتدار نہیں ہے، بلکہ دعوت ہے۔ اسلام میں دشمن سے لڑنا نہیں ہے بلکہ دشمن کو اپنا دوست بنانا ہے۔ اس مقصد کا تقاضا ہے کہ ایک طرف صبر کے ذریعہ مسلمانوں اور غیرمسلموں، بالفاظ دیگر، داعی اور مدعو کے درمیان معتدل فضا قائم کی جائے۔ اور دوسری طرف پرامن دعوتی عمل کو لوگوں کے درمیان مؤثر طور پر چلایا جائے۔

ممبئی میں مولانا وحید الدین خاں کی عصری اسلوب میں فکر انگیز اسلامی کتابیں اور ماہنامہ الرسالہ حسب ذیل پتہ پر دستیاب ہیں۔ ٹیلی فون پر آرڈر دے کر بھی کتابیں منگوائی جاسکتی ہیں : ICRA (Islamic Centre for Research & Awareness)

3, Shantaram Patil Bldg. behind Firdaus Mithaiwala, Near Andheri Station (W), Mumbai-400058 Tel. 26285223, Mob. 9821197534

Printed page