ایک عظیم ایمانی صفت
Al-Risala, November 2006, pp. 32–34
By Maulana Wahiduddin Khan
ایمان کیا ہے، ایمان نام ہے خدا کو اس کی عظمتوں کے ساتھ دریافت کرنے کا۔ عظمتوں کو دریافت کرنا، دوسرے اعتبار سے خود اپنے بے عظمت ہونے کو دریافت کرنا ہے۔ دریافت آدمی کے اندر کامل تواضع (modesty) کی صفت پیدا کرتی ہے۔
تواضع کے فائدوں میں سے ایک فائدہ یہ ہے کہ وہ آدمی کو پورے معنوں میں علم کا طالب بنا اس دنیا میں سب سے بڑا جاننے والا وہ ہے جو اس احساس میں جینے لگے کہ میں نہیں جانتا۔ تواضع آدمی کے اندر یہی صفت پیدا کرتی ہے۔ تواضع آدمی کو اس قابل بنا دیتی ہے کہ اس کا علمی سفر کسی رکاوٹ کے بغیر جاری رہے۔ اس کے اندر ذہنی ارتقا کا عمل (process) کبھی ختم نہ ہو۔ خلیفۂ ثانی عمر فاروق کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ ہر ایک سے علم حاصل کرتے تھے(کان يتعلم من كل احد ) دوسرے لفظوں میں یہ کہ عمر فاروق کے اندر اضافہ علم کا عمل (learning process) مسلسل جاری رہتا تھا، وہ کبھی بند نہیں ہوتا تھا۔ ایسا کیوں ہوتا تھا۔ اس کا ایک عام طریقہ یہ تھا کہ عمر فاروق جب کسی سے ملتے تو اپنی بات سنانے سے زیادہ وہ اس کی بات سننے کی کوشش کرتے تھے۔ وہ ہر ایک سے سوال کر کے اس کے تجربات اور معلومات سے فائدہ اٹھاتے تھے۔
یہ اضافہ علم صرف اس لیے ممکن ہوتا تھا کہ وہ ایک بے حد متواضع آدمی تھے۔ وہ اپنی بڑائی میں جینے کے بجائے حق کی بڑائی میں جیتے تھے۔ اس نفسیات نے ان کو ابدی طور پر ایک طالب (seeker) بنا دیا تھا۔
حضرت عمر فاروق کے بارے میں روایات میں آیا ہے کہ کبھی ایسا ہوتا تھا کہ کسی وجہ سے ان کے کسی فیصلہ میں غلطی ہو جاتی تھی تو خواہ وہ غلطی کتنی ہی چھوٹی ہو وہ فوراً اس کو قبول کر لیتے اور کھلے طور پر انتہائی شدت کے ساتھ یہ کہہ پڑتے کہ ـــ لولا فلان لهلک عمر
(اگر فلاں شخص نہ ہوتا تو عمر ہلاک ہو جاتا)
اپنی غلطی کا اعتراف، مومن کے لئے عبادت کا درجہ رکھتا ہے۔ مومنانہ مزاج یہ ہے کہ کوئی چھوٹی غلطی ہو تب بھی وہ انتہائی الفاظ میں اس کا اعتراف کرے۔ مومن اعتراف خطا کو عبادت سمجھتا ہے، اس لیے وہ اس سلسلہ میں کسی ادنیٰ کی کو بھی گوارہ کرنے کے لیے تیار نہیں ہوتا۔ واحد چیز جو غلطی کے اعتراف میں رکاوٹ بنتی ہے وہ کبر ہے۔ مومن کبر خفی اور کبر جلی دونوں سے پاک ہوتا ہے۔ اس لیے کوئی بھی چیز اس کے لیے اپنی غلطی کے اعتراف میں رکاوٹ نہیں مومن کا ذہن یہ ہوتا ہے کہ اپنی غلطی کا فوراً اعتراف کرو، خواہ اس کے نتیجہ میں تم دوسروں کی نظر میں چھوٹے بن جاؤ۔
عمر فاروق کے اسوہ سے مزید یہ معلوم ہوتا ہے کہ اس معاملہ میں مومن کی حساسیت اتنی زیادہ بڑھی ہوئی ہوتی ہے کہ غلطی تو درکنار وہ شبہ غلطی پر بھی تڑپ اٹھتا ہے اور کھلے لفظوں میں اپنی کوتاہی کا اعتراف کرلیتا ہے۔
اس کی ایک مثال یہ ہے کہ عمر فاروق کی خلافت کے زمانہ میں لوگ نکاح میں عورتوں کے مہر زیادہ باندھنے لگے۔ عمر فاروق نے ایک بار اپنے خطبہ میں لوگوں کے سامنے کہا کہ زیادہ مہر باندھنا اسلامی طریقہ کے خلاف ہے۔ تم لوگ ایسا نہ کرو۔ اگر کوئی شخص زیادہ مہر باندھے گا تو میں فاضل رقم ضبط کرکے اس کو بیت المال میں داخل کردوں گا۔ اس پر ایک بوڑھی عورت اٹھی اور اس نے کہا کہ اے عمر، تم کو ایسا کہنے کا کیا حق ہے، جب کہ خدا نے فرمایا ہے کہ اگر تم ایک بیوی کی جگہ دوسری بیوی بدلنا چاہو اور تم اس کو بہت سا مال دے چکے ہو تو تم اس میں سے کچھ واپس نہ لو۔ (وإن أردتم استبدال زوج مكان زوج واتيتم إحداهن قنطاراً فلا تأخذوا منه شيئا، النساء ٢٠)
بوڑھی خاتون کا یہ حوالہ خالص منطقی اعتبار سے درست نہ تھا۔ کیوں اس آیت میں قنطار (مال کثیر) سے مراد مہر کے علاوہ مال ہے نہ کہ بوقت نکاح دی ہوئی مہر۔ مگر حضرت عمر کی حساسیت نے اس پہلو کو نظر انداز کر دیا۔ یہ اگر چہ ان کی غلطی نہ تھی بلکہ یہ ایک شبہ غلطی کا معاملہ تھا۔ اس کے باوجود اپنی
متواضعانہ نفسیات کی بنا پر وہ منبر سے اتر پڑے اور کہا: کل الناس أفقه منك يا عمر حتى العجائز (تمام لوگ ، اے عمر ، تجھ سے زیادہ جانتے ہیں حتی کہ بوڑھیاں بھی)۔ ایک دوسری روایت میں یہ الفاظ آئے ہیں : أصابت امرأة وأخطأ رجل (ایک عورت نے صحیح کہا اور عمر نے غلطی کی)۔ مومن کے لیے اپنی غلطی کا اعتراف دراصل اعلیٰ ترین عبادت کے ہم معنی ہوتا ہے۔ وہ اپنے کو خطا وار مان کر خدا کے بے خطا ہونے کا اقرار کرتا ہے۔ وہ اپنے کو چھوٹا بتا کر اس حقیقت کا اعلان کرتا ہے کہ بڑائی تو صرف ایک خدا کا حق ہے ، کسی انسان کے لیے کوئی بڑائی نہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ اس قسم کا کوئی موقع مومن کے لیے ایک نادر موقع ہوتا ہے ، جب کہ وہ اپنی عبودیت کا ثبوت دے کر خدا کی قربت حاصل کرے۔ یہ مومن کے لیے ایک ایسے عمل کا موقع ہے جس سے زیادہ اور قیمتی موقع کوئی نہیں۔
معمولی حالات میں اپنی عبودیت کا اظہار بھی اگرچہ ایک اجر کا کام ہے ، مگر وہ موقع جب کہ عبودیت کا اعتراف اپنی انا کو کچلنے کی قیمت پر ہو ، وہ ایک ایسا انوکھا عمل ہے جس سے بڑا عمل اس زمین پر بیت المال ہے؟ آپ کے پو چھنے کی یہ کیفیت ہے ، اور آسمان کے اندر کوئی نہیں۔