Al-Risala · November 2006

Go ahead and conqure the people of the world.

Al-Risala, November 2006, pp. 35–36

By Maulana Wahiduddin Khan

اس پر غور کرتے ہوئے میری سمجھ میں آیا کہ اس فرق کا سبب یہ ہے کہ آج مذہب کے نام سے لوگوں کو صرف اس کی ایک کم تر صورت (reduced form) لوگوں کے سامنے ہے۔ متل،اً مسٹر لکشمی مثل ، اسٹیل کو ایک عالمی انڈسٹری کا موضوع سمجھتے ہیں۔ جب کہ مذہب کا تصور ان کے ذہن میں یہ ہے کہ کچھ توہماتی عقائد کو مان لیا جائے ، اور کچھ بے روح رسموں کو وقتی طور پر ادا کر لیا جائے۔ کے کم تر مذہب کے لیے کسی کے دل میں یہ جذبہ نہیں ابھر سکتا کہ وہ اس کو لے کر اٹھے اور عالمی سطح پر کوئی فاتحانہ کارنامہ انجام دے سکے۔

اس معاملے میں مسلمانوں کا حال بھی دوسروں سے کچھ مختلف نہیں۔ مسلمان جس اسلام کو

اعتقادی طور پر مانتے ہیں وہ مکمل طور پر ایک محفوظ دین ہے۔ وہ تمام انسانوں کے دلوں کی آواز ہے۔ ہر انسان کی روحانی تلاش کا جواب ہے۔ وہ انسان کے لیے جنت کا دروازہ کھولنے والا ہے۔ ذہنی انقلاب کا پورا سامان موجود ہے۔ اسلام کی یہی خصوصیات ہیں جس کی بنا پر پیغمبرِ اسلام نے ساتویں صدی عیسوی میں اپنے عرب مخاطبین سے کہا تھا:

كلمة واحدة تعطونيها تملكون بها العرب وتدين لكم بها العجم (البداية والنهاية، جلد ۲ ، صفحہ ۱۲۳) یعنی میں تم سے صرف ایک بات کا مطالبہ کرتا ہوں، اگر تم اس کو مان لو تو تم سارے عرب کے مالک بن جاؤ گے اور عجم تمھاری اطاعت کریں گے۔

مگر آج کے مسلمان ایسا نہیں کہہ سکتے۔ اور اگر بالفرض وہ ان الفاظ کو دہرائیں تو سننے والا اس کو کوئی اہمیت نہیں دے گا۔ کیوں کہ آج اسلام کے نام سے جو مذہب لوگوں کے سامنے ہے وہ اُسی طرح ایک بگڑا ہوا مذہب ہے جس طرح دوسرے اہل مذاہب نے اپنے مذہب کو بگاڑ رکھا ہے۔ کے پاس عملاً جو اسلام ہے، وہ اسلام ایک کم تر فارم (reduced form) ہے۔ یہ کم تر درجے کا اسلام نہ تو خود مسلمانوں میں کوئی جوشِ عمل پیدا کر سکتا ہے، اور نہ اس قابل ہے کہ اس کو اہل دنیا کے سامنے پیش کیا جائے اور وہ اس سے متاثر ہو کر اس کو اپنا دین بنا لیں ۔

Printed page