How to Realize God
Al-Risala, November 2006, pp. 40–42
By Maulana Wahiduddin Khan
تقریر کے بعد سوال اور جواب کا پروگرام تھا۔ اس پروگرام میں سی پی ایس کی ٹیم کے افراد نے بھی شرکت کی، اور
طلباء کے درمیان دعوہ بروشر تقسیم کیے ۔ طلباء نے اس کو شوق کے ساتھ لیا اور اپنی دل چسپی کا اظہار کیا۔ گلوبل ایکسپوزیشن اینڈ منیجمنٹ سروس پرائیویٹ لمیٹڈ (نیپال) گذشتہ ۹ برس سے نیپال کی راجدھانی کاٹھمنڈو میں 'نیپال بک فئر‘‘ کا اہتمام کر رہا ہے۔ ۲ جون تا ۱۰ جون ۲۰۰۶ء اس کا دسواں بک فئر تھا۔ اس دسویں بک فئر میں پہلی بار گڈ ورڈ بکس نئی دہلی (Goodwood Books) کی طرف سے وہاں اسلامی بک اسٹال لگایا گیا۔ لوگوں نے کافی دلچسپی لی۔ اور قرآن کے نسخے اور دیگر اسلامی کتابیں خریدیں۔ اسلام کے بارے میں معلومات حاصل کرنے والوں کو صدر اسلامی مرکز کی دعوتی کتابیں اور سی پی ایس انٹرنیشنل کے بروشر دیے گئے۔ نیپال کے وزیر تعلیم نے بھی اس بک اسٹال کا معائنہ کیا، اور بک فئر میں اسلامی کتابوں کی موجودگی پر اپنی خوشی کا اظہار کیا۔ قرآن (انگریزی) کا ایک نسخہ اور سی پی ایس کے بروشر اور کچھ مزید دعوتی کتابیں دی گئیں، جن کو انھوں نے ادب اور احترام کے ساتھ قبول کیا۔
این ڈی ٹی وی (نئی دہلی) کے اسٹوڈیو میں ۱۵ جون ۲۰۰۶ کو لائیو ٹیلی کاسٹ کے تحت ایک انٹرویو نشر اس کے اینکر مسٹر پنکج تھے، اور جواب دینے والوں میں صدر اسلامی مرکز اور مسٹر پر بھاش جوشی۔ موضوع یہ تھا کہ عبادت گاہوں میں کیا خواتین جا سکتی ہیں۔ اس کے علاوہ یہ کہ خواتین کا درجہ عمومی طور پر اسلام میں کیا ہے۔ اور حدیث کی روشنی میں اس کا جواب دیا گیا۔
انگریزی روزنامہ دکن ہیرالڈ (Deccan Herald) کے چیف کرسپانڈنٹ مسٹر او۔ دہلی) نے ۱۹ جون ۲۰۰۶ کو صدر اسلامی مرکز کا تفصیلی انٹرویو ریکارڈ کیا۔ وہ ایک کتاب لکھ رہے ہیں جس کا موضوع دوستی (friendship) ہے۔ وہ اس کتاب میں یہ ثابت کرنا چاہتے ہیں کہ تمام مذاہب کی تعلیم ایک ہے، اس لیے تمام مذاہب کے درمیان دوستی عین فطری ہے۔ جواب میں ایک بات یہ کہی گئی کہ مذاہب میں یکسانیت یا عدم یکسانیت فلسفہ مذہب کا موضوع ہے، دوستی کے مسئلے سے اس کا کوئی تعلق نہیں ہے۔ آپ دیکھتے ہیں کہ مختلف مذاہب کے لوگ ہی ایک دوسرے سے نہیں لڑتے، بلکہ خود ایک مذہب کے لوگ آپس میں لڑتے ہیں۔ مثال کے طور پر مہابھارت کی لڑائی میں دونوں فریق ہندو تھے، اس کے باوجود وہ آپس میں لڑے۔ اسی طرح پاکستان اور بنگلہ دیش دونوں کا مذہب ایک ہے لیکن ۱۹۷۱ میں دونوں کے درمیان سخت لڑائی ہوئی ۔ اس لیے دوستی کا صحیح فارمولا یہ نہیں ہے کہ مذہبوں کے درمیان مین کارڈ (main card) ایک بتایا جائے، بلکہ اس کا فارمولا باہمی احترام ہے یعنی: Follow one and respect all. دہلی کے ہندی روزنامہ ہندوستان کے نمائندہ مسٹر فضل غفران نے ۲۰ جون ۲۰۰۶ کو اپنے اخبار کے لیے صدر اسلامی مرکز کا ایک تفصیلی انٹرویو لیا۔ اس انٹرویو کا موضوع مسلم سماج اور مسلم مسائل ‘‘ تھا۔ اس سلسلے میں قرآن اور حدیث کی روشنی میں ان کے سوالات کی وضاحت کی گئی۔
۹- سائی انٹرنیشنل سنٹر (نئی دہلی) میں ۲۸ جون ۲۰۰۶ء کو ایک اجتماع ہوا۔ اس میں کیندریہ ودیالیہ کے تمام اسکولوں کے پرنسپل شریک ہوئے۔ اس کی دعوت پر صدر اسلامی مرکز نے اس میں شرکت کی۔ وہاں انھوں نے ’’بیسک ہیومن ویلوز اِن اسلام‘ کے موضوع پرایک تقریر کی۔ آخر میں سوال اور جواب ہوا۔ یہ پروگرام ایک گھنٹہ رہا۔ نے سوال کیا کہ آپ جو افراد تیار کر رہے ہیں وہ کس طرح کے لوگ ہیں۔ وہاں ہماری ٹیم کچھ لوگ موجود تھے۔ فرمائش پر مسٹر رجت ملہوترا اور سعدیہ خان نے اس سلسلے میں اپنا تجربہ بتایا۔ اس کے علاوہ لوگوں کے درمیان سی پی ایس کے دعوہ پمفلٹ اور برو شر تقسیم کیے گئے۔
۱۰- سنٹر فار کلچر رسور سز اینڈ ٹریننگ (CCRT) کے تحت نئی دہلی میں ایک پینل ڈسکشن ہوا۔ یونی سیف بلڈنگ (UNICEF) کے ہال میں ۳ جولائی ۲۰۰۶ کو ہوا۔ امریکا کے پروفیسروں کی ایک ٹیم انڈیا آئی انھیں کی درخواست پر یہ پروگرام منعقد کیا گیا۔ صدر اسلامی مرکز نے ان کی دعوت پر اس میں شرکت کی۔ انھوں نے اسلام اور ہندوستان کے موضوع پر ایک تقریر کی اور سوالات کے جوابات دئے۔ یہ پورا پروگرام انگریزی زبان میں ہوا۔
۱۱- نیوورلڈ موومنٹ (نئی دہلی) کے زیر اہتمام ۴ جولائی ۲۰۰۲ء کو انڈیا انٹرنیشنل سنٹر میں ایک سیمنار ہوا۔ اس کے صدر سوامی اوم پورن سوتنتر تھے۔ اس میں دہلی اور دہلی کے باہر کے اعلیٰ تعلیم یافتہ افراد شریک تھے۔ موضوع یہ تھا: