Al-Risala · November 2006

Spiritual Model of Integrated Development

Al-Risala, November 2006, pp. 42–44

By Maulana Wahiduddin Khan

حدیث رسول کی روشنی میں انھوں نے بتایا کہ اختلاف زندگی کی ایک حقیقت ہے اس لئے صحیح طریقہ یہ ہے کہ امن کے اصول پر قائم رہتے ہوئے زندگی کا نقشہ بنایا جائے۔

۱۲- ۱۱ جولائی ۲۰۰۶ کوای ٹی وی (نئی دہلی) کی ٹیم نے صدر اسلامی مرکز کی گفتگو کی ویڈیو ریکارڈنگ کی۔ سوالات کا تعلق، پاپولیشن ڈے سے تھا۔ جواب کے دوران بتایا گیا کہ پاپولیشن کنٹرول کا تعلق، فتاویٰ سے نہیں ہے۔ اس کا تعلق نیشنل پالیسی سے ہے۔ اس معاملے میں حکومت جو پالیسی بنائے گی وہی مسلمانوں کی پالیسی بھی ہوگی۔ کی پالیسی اس سے الگ نہ ہوگی۔

۱۳- ترکی کا ایک ادارہ ہے اس کا نام یہ ہے:

Inter-civilizational Inter-cultural Dialogue for Understanding and Peace

اس کی شاخ انڈیا میں انسل بھون (نئی دہلی) میں قائم ہے۔ اس کے پریزیڈنٹ مسٹر بلند (Bulent Cantmur) ۱۱ جولائی ۲۰۰۶ کو اپنی ٹی وی ٹیم کے ساتھ مرکز میں آئے۔ اور صدر اسلامی مرکز سے تفصیلی انٹرویو کی ویڈیو ریکارڈنگ سوالات کا تعلق، عالمی اسلامی تحریکیں، عالمی امن، مختلف مذاہب کے درمیان ہم آہنگی وغیرہ سے تھا۔ موضوعات پر تقریباً ڈیڑھ گھنٹے تک گفتگو ہوتی رہی۔ پورا پروگرام انگریزی زبان میں تھا۔ ایک سوال کے جواب میں بتایا گیا کہ موجودہ زمانے کے مسلمانوں کو جاننا چاہیے کہ موجودہ زمانے کا سکولر نظام، عین وہی چیز ہے جو پیغمبرِ اسلام کے زمانے میں معاہدۂ حدیبیہ کی شکل میں پیش آیا تھا۔ یعنی ٹکراؤ کو اوائڈ کر کے مواقع کو استعمال کرنا۔ ٹی ٹی وی (نوئیڈا) کے اسپیشل کرسپانڈنٹ مسٹر آشیش جوشی نے ۱۸ جولائی ۲۰۰۶ کو صدر اسلامی مرکز کا ایک ویڈیو انٹرویو ریکارڈ کیا۔ سوال کا تعلق، اس مسئلے سے تھا کہ کیا اردو تعلیم مسلمانوں کے مسئلے کا حل ہے۔ جواب میں بتایا گیا کہ نہیں۔ اردو اب مسلمانوں کی کلچرل زبان بن چکی ہے۔ مسلم کلچر کے تحفظ کے لیے بلاشبہ اس کی لیکن تعلیم کا اصل مقصد یہ ہے کہ لوگوں کے اندر وقت کا شعور پیدا ہو۔ وہ وسیع تر ذہن کے ساتھ اپنے معاملات کو سمجھیں اور اس کی مؤثر منصوبہ بندی کریں۔ اس مقصد کے لیے ماڈرن ایجوکیشن کی ضرورت ہے۔ ایجوکیشن کے بغیر مسلمان کوئی بڑی کامیابی حاصل نہیں کر سکتے۔

جن مت ٹی وی (نئی دہلی) کے کرسپانڈنٹ مسٹر مجیب امام نے ۱۹ جولائی ۲۰۰۶ کو اپنے ٹی وی کے لیے صدر اسلامی مرکز کا ویڈیو انٹرویو ریکارڈ کیا۔ سوالات کا تعلق اردو اسکول سے تھا۔ ایک سوال یہ تھا کہ مرکزی گورنمنٹ نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ جس ایریا میں مسلمان بارہ فیصد ہیں وہاں اردو میڈیم اسکول کھولے جائیں۔ مسلمانوں کا اپیزمنٹ (appeasement) ہے۔ جواب میں بتایا گیا کہ اپیزمنٹ ایک سیاسی اصطلاح ہے۔ زبان میں بولنا ہمارا طریقہ نہیں۔ البتہ یہ بات صحیح ہے کہ مسلمانوں کی ترقی کے لیے اصل ضرورت یہ ہے کہ ان کو ماڈرن ایجوکیشن میں لایا جائے ۔ جس میں وہ پچھڑ گئے ہیں۔

نئی دہلی کے انگریزی ماہ نامہ لائف پازیٹیو (Life Positive) کی نمائندہ مز جمنا (Jamuna Rangachari) نے ۲۸ جولائی صدر اسلامی مرکز کا ایک تفصیلی انٹرویو لیا۔ ان کے سوالات کا تعلق، زیادہ تر، اسلام اور اسلامی تعلیمات سے تھا۔ جو باتیں بتائی گئیں ان میں سے ایک یہ تھی کہ اسلام کی ابتدائی تین جنریشن صحیح اسلامی طریقے پر رہے گی۔ ان تین جنریشن کو قرونِ ثلاثہ یا قرون مشہود لہا بالخیر کہا جاتا ہے۔ پیغمبرِ اسلام نے فرمایا کہ ان تین کے بعد مسلمانوں میں بگاڑ آجائے گا جو قیامت تک جاری رہے گا۔ آج اسلام کے بارے میں جو غلط فہمیاں پھیلی ہوئی ہیں وہ وہی ہیں جن کا تعلق ابتدائی تین نسلوں کے بعد سے ہے۔ اگر آپ کو یہ سمجھنا ہے کہ اسلام کیا ہے، تو آپ ابتدائی تین نسلوں کو دیکھیے۔ یعنی دورِ رسالت، دور صحابہ، دور تابعین۔ بعد کے زمانے کو لے کر اسلام کے بارے میں رائے بنانا درست نہیں۔

مولانا وحیدالدین خاں کے دعوتی لکچرز، روزانہ زی جاگرن ٹی وی چینل (Zee Jagaran) پر دیکھیں! Programme: Good Life Time: 7:20 am زی جاگرن کے علاوہ، زی نیا چینل اور زی پربھات پر بھی یہ پروگرام دیکھا جا سکتا ہے۔ نوٹ: اگر آپ کے یہاں زی جا گرن چینل نہیں آرہا ہے تو آپ اپنے لیبل آپریٹر کود درج ذیل تفصیلات دے کر مذکورہ چینل جاری کروائیں:

Printed page