Al-Risala · December 2006

The Historical Role of Islam

Al-Risala, December 2006, pp. 2–7

By Maulana Wahiduddin Khan

اس کتاب میں مصنف نے اسلام کے اس تاریخی پہلو کا اعتراف کرتے ہوئے لکھا ہے کہ— اسلام کی توسیع تمام معجزات میں سب سے بڑا معجزاتی واقعہ ہے:

The expansion of Islam is the most miraculous of all miracles (p. 4)

یہ ایک تاریخی حقیقت ہے کہ آغاز کے بعد اسلام اور اہل اسلام کو بہت کم مدت میں عالمی غلبہ حاصل ہو گیا۔ یہ غلبہ تقریباً ایک ہزار سال تک جاری رہا۔ اس واقعے کو بیان کرتے ہوئے ایک شاعر نے بجاطور پر کہا ہے:

ہمیں چھائے ہوئے تھے شرق سے تا غرب دنیا میں نہ تھا پلہ کسی ملت کا دنیا میں گراں ہم سے اسلام کی یہ توسیع رومن ایمپائر اور برٹش ایمپائر کی طرح محض ایک سیاسی توسیع نہ تھی، توسیع کا یہ معاملہ مکمل طور پر ایک خدائی معاملہ تھا، وہ ایک خدائی منصوبے کے تحت پیش آیا۔ چنانچہ وہ اس خدائی منصوبے کی تکمیل تک باقی رہا، اور جب یہ منصوبہ مکمل ہو گیا اور اس کی براہِ راست ضرورت نہ رہی تو مسلمانوں کا پورا سیاسی محل تاش کے پتوں کی طرح بکھر گیا۔

اس معاملے کو سمجھنے کے لیے قرآن کی اس آیت پر غور کیجئے: إنا نحن نزلنا الذكر و إنا له لحافظون (الحجر ۹) یعنی وہ خدا ہے جس نے اس قرآن کو اتارا اور خدا ہی یقینی طور پر اس کی حفاظت کرے گا۔

اس قرآنی آیت کا پس منظر یہ ہے کہ انسانوں کی رہنمائی کے لیے خدا نے اپنے پیغمبروں کے ذریعے بار بار اپنا کلام اتارا، مگر یہ خدائی کلام تاریخ میں محفوظ نہ رہ سکا۔ خدا نے پیغمبر آخر الزماں کے ذریعے انسان کی اس محرومی کو ختم کرنا چاہا اور یہ فیصلہ فرمایا کہ قرآن آخری خدائی کلام کے طور پر محفوظ ہو جائے تا کہ اس کے بعد دوبارہ کوئی پیغمبر اور کوئی کتاب بھیجنے کی ضرورت پیش نہ آئے۔ سنت اللہ کے مطابق، یہ کام معجزاتی طور پر نہیں کیا جا سکتا تھا۔ چنانچہ اس مقصد کے لیے ملک عرب میں ایک لمبی منصوبہ بندی کی گئی۔ اس منصوبے کا آغاز اُس وقت ہوا جب کہ چار ہزار سال پہلے ہاجرہ کو اپنے چھوٹے بچے اسماعیل کے ساتھ مکہ کے صحرا میں آباد کر دیا گیا۔ اُس کے بعد ڈھائی ہزار سالہ تاریخی عمل کے نتیجے میں وہ ٹیم بنی جس کو ایک مستشرق اسکالر نے ہیروؤں کی قوم (a nation of heroes) پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم اس گروہ کے اندر پیدا ہوئے۔ آپ پر قرآن اتارا گیا۔ قرآن کی بنیاد پر تحریک چلائی۔ اس قرآنی تحریک کی بنیاد پر انسانوں کی ایک جماعت بنی، پھر ایک غیر معمولی جدوجہد کے ذریعے اسلامی اقتدار کا وہ نظام بنا جس کو خلافت کا نظام کہا جاتا ہے۔ زمین کے تقریباً تمام حصے براہ راست یا بالواسطہ طور پر خلافت کے اس نظام کے زیر اثر خلافت کا یہ تصور خود قرآن سے اخذ کیا گیا تھا، کیوں کہ قرآن میں بتایا گیا ہے کہ جو لوگ ایمان اور عمل صالح کی صفات سے متصف ہوں گے، ان کو خدا زمین میں خلافت عطا فرمائے گا (النور ۵۵) اب فطری طور پر ایسا ہوا کہ قرآن کا تصور اس نظام خلافت کی اساس بن گیا۔ یہ قرآن سے اخذ کردہ تصور، نظام خلافت کے قیام کے لیے وجہ جواز فراہم کرتا تھا۔ یہ قرآن کا تصور تھا جس پر عقیدہ رکھنے والوں کی حمایت، یا مین ڈیٹ (mandate) کے ذریعے کوئی خلیفہ اقتدار کی سیٹ پر بیٹھتا تھا۔ اسی کی ایک علامت وہ چیز تھی جس کو بیعت کہا جاتا ہے۔

قرآن کی اس حیثیت کا نتیجہ یہ ہوا کہ قرآن کے اندر ایک سیاسی اہمیت، یا سیاسی قدر (political value) پیدا ہوئی۔ اب قرآن، خلافت کے تصور کے تحت قائم شدہ سیاسی ادارے کا اپنا انٹرسٹ بن گیا۔ اب خود سیاسی اقتدار کے لیے ضروری ہو گیا کہ وہ قرآن کا سرپرست بن کر اس کی

مسلسل حفاظت کرتا رہے۔ قرآن کے محفوظیت ، سیاسی ادارے محفوظیت تھی اور قرآن کا غیر محفوظ ہونا یہ معنی رکھتا تھا کہ خود سیاسی ادارہ بھی غیر محفوظ ہو جائے۔

قدیم زمانے کے سماج میں صرف سیاسی ادارہ ہی واحد طاقت ور ادارہ ہوا کرتا تھا۔ میں کوئی بھی دوسرا ادارہ نہیں ہوتا تھا جو کوئی مؤثر سماجی رول ادا کرنے کی پوزیشن میں ہو۔ قرآن سے پہلے جو کتابیں آئیں وہ قدیم روایتی دور میں آئیں۔ ان کتابوں میں سے کسی کتاب کی حمایت میں سیاسی ادارے کا زور شامل نہ ہو سکا۔ عالم اسباب کے لحاظ سے یہی سبب تھا جس کی بنا پر قدیم کتابیں محفوظ نہ رہ سکیں۔ قرآن کے ساتھ استثنائی طور پر ایسا ہوا کہ اس کی حفاظت کے لیے مسلسل طور پر سیاسی ادارے کی طاقت حاصل رہی۔ عالم اسباب کے اعتبار سے یہی سب سے بڑی وجہ ہے جس کی بنا پر قرآن استثنائی طور پر ایک محفوظ کتاب بن گیا۔ اسی کا ایک مظہر یہ تھا کہ حکمراں طبقے کے افراد بھی قرآن کو حفظ کرنے اور قرآن کی کتابت کرنے کو اپنے لیے فخر کی چیز سمجھتے تھے۔

قرآن کی حفاظت کا یہ سیاسی انتظام آغازِ اسلام کے بعد تقریباً ایک ہزار سال تک جاری رہا۔ یہ نظام صرف اُس وقت ختم ہوا جب کہ دنیا میں پرنٹنگ پریس کا زمانہ آگیا۔ پرنٹنگ پریس کی ایجاد نے قرآن کی حفاظت کے لیے سیاسی اقتدار کی اہمیت ختم کر دی۔ پرنٹنگ پریس کی ایجاد سے پہلے یہ ہوتا تھا کہ قرآن کا ہر نسخہ الگ الگ تیار کرنا پڑتا تھا، مگر پرنٹنگ پریس نے اس بات کو ممکن بنا دیا کہ قرآن کی ایک کاپی نہایت صحیح طور پر لکھ کر تیار کی جائے اور پھر چھاپ کر اس سے ملین اور بلین کی کاپیاں تیار کر لی اس زمانی تغیر نے قرآن کی حفاظت کو سیاسی دائرے سے نکال کر صنعتی دور میں پہنچا دیا۔ تبدیلی کے بعد یہ ناممکن ہو گیا کہ کوئی مخالف قوت، قرآن کو ایک غیر محفوظ کتاب بنا سکے۔ پرنٹنگ پریس کے ظہور کے ساتھ نو آبادیاتی دَور (colonialism) کا بھی ظہور ہوا۔ آبادیاتی دَور نے خلافت، یا مسلمانوں کی سیاسی بالادستی کا خاتمہ کر دیا۔ انیسویں صدی عیسوی میں خلافت کا محل تاش کے پتوں کی طرح بکھر گیا۔ اس کے بعد سے مسلمان تمام دنیا میں کسی نہ کسی عنوان سے احیاء خلافت کے لیے لڑ رہے ہیں، مگر انھیں اس معاملے میں ایک فیصد کے بقدر بھی کامیابی حاصل نہیں ہوئی۔

اس کا سبب کیا ہے۔ راقم الحروف کے تجزیے کے مطابق، نظامِ خلافت کا انہدام اتفاقی نہیں تھا، اور نہ وہ کسی کی سازش کے تحت انجام پایا۔ یہ واقعہ مکمل طور پر خدا کی منصوبہ بندی کے تحت تھا۔ کے ہزار سالہ سیاسی اقتدار کا اصل مقصد صرف ایک تھا، اور وہ ہے قرآن کی حفاظت۔ بقیہ چیزیں جو اس مدت میں مسلمانوں کو حاصل ہوئیں، وہ اپنی نوعیت کے اعتبار سے ضمنی تھیں۔ قرآن کی حفاظت جب تک سیاسی اقتدار پر منحصر تھی، اُس وقت تک مسلمانوں کو سیاسی اقتدار حاصل رہا، اور جب اِس حفاظت کی ذمّے داری پرنٹنگ پریس نے لے لی تو اب سیاسی اقتدار نے اپنی اہمیت کھودی۔ چنانچہ خدا نے اُس سے اپنی مدد واپس لے لی۔ یہی اصل سبب ہے جس کی بنا پر مسلمانوں کا سیاسی اقتدار اپنی قدیم شکل میں باقی نہ رہا۔ خلافت کے سیاسی اقتدار کے ٹوٹنے کا ایک اور پہلو بھی تھا۔ اصل یہ ہے کہ آغازِ اسلام کے بعد ہزار سال تک جو سیاسی اقتدار قائم تھا، وہ روایتی دور میں قائم ہوا تھا۔ اس روایتی دور کی نسبت سے اسلامی فکر اور اسلامی عمل کا ایک ماڈل بن گیا تھا۔ اس ماڈل کی تشکیل روایتی ماحول میں ہوئی تھی۔ حقیقت کے اعتبار سے یہ ایک عارضی ماڈل تھا، مگر وہ لمبی مدت تک باقی رہا۔ اس بنا پر شعوری یا غیر شعوری طور پر عوام اور خواص دونوں نے یہ سمجھ لیا کہ یہی ماڈل اسلام کا حقیقی ماڈل ہے۔ حالاں کہ اس کے حق میں قرآن اور حدیث میں کوئی بنیاد موجود نہ تھی۔

مغربی نوآبادیات کا دَور اپنے ساتھ سائنسی انقلاب کا دَور لے آیا تھا۔ جدید سائنسی حالات نے قدیم روایتی نظام کو آج کے لیے مکمل طور پر غیر متعلق (irrelevant) بنا دیا تھا۔ دَور (pre-scientific era) میں بننے والا ماڈل اب ما بعد سائنس دَور (post-scientific era) میں کار آمد نہیں رہا تھا۔ ضرورت تھی کہ اب اس کی نئی تشکیل کی جائے اور روایتی فریم ورک میں بننے والے ماڈل کی جگہ سائنسی فریم ورک میں نیا ماڈل بنایا جائے۔

قُرونِ وسطیٰ کے مسلمان اپنے عمل سے ثابت کر رہے تھے کہ وہ تشکیلِ نو کے اس کام کے لیے بالکل نااہل ہیں۔ اِس طرح مسلمان عملاً اسلام کی راہ میں ایک رُکاوٹ بن گئے۔ وہ اسلام کو دَورِ جدید میں داخل کرنے کے لیے نااہل ثابت ہوئے۔

یہی وہ موقع تھا جب کہ خدا نے انیسویں صدی عیسوی میں مغربی قوموں کو یہ موقع دیا کہ وہ روایتی دور میں بنے ہوئے مسلمانوں کے قدیم ڈھانچے کو توڑ دیں اور اسلامی فکر اور اسلامی عمل کا نیا ڈھانچہ بنانے کی راہ ہموار کریں۔

مگر پچھلے دو سو سال کی تاریخ بتاتی ہے کہ مسلمان اس منصوبہ الہی کو سمجھ نہ سکے۔ تمام طاقت پچھلے دو سو سال سے اس بے نتیجہ کام میں لگی ہوئی ہے کہ وہ قدیم کھنڈر کی اینٹوں کو اکٹھا کر کے دوبارہ قدیم روایتی انداز کا ڈھانچہ کھڑا کریں، مگر ایسا کرنا غیر مفید بھی ہے اور غیر ممکن بھی۔ لیے وہ کبھی واقعہ بننے والا نہیں۔ پچھلے دو سو سال کی ناکام کوشش اس کے ثبوت کے لیے کافی ہے۔ مسلمان پچھلے دو سو سال سے سیاسی اقتدار کی بازیابی کے لیے لڑ رہے ہیں، مگر وہ اپنے اس مقصد میں کامیاب نہ ہو سکے۔ یہ اس بات کا اشارہ ہے کہ اسلام میں سیاسی اقتدار کی وہ اہمیت ہی نہیں جو مسلم رہنماؤں نے بطور خود سمجھ لیا تھا۔ قدیم زمانے میں مسلمانوں کو طویل مدت تک سیاسی اقتدار اس لیے ملا کیوں کہ قدیم زمانے میں آخری کلام الہی (قرآن) کی کامل حفاظت کے لیے سیاسی اقتدار کی حمایت ضروری تھی۔ پرنٹنگ پریس کی ایجاد کے بعد خود پرنٹنگ پریس قرآن کی حفاظت کا ضامن بن گیا، اس کے بعد سیاسی اقتدار کی حیثیت اس پہلو سے ایک اضافی (relative) چیز بن گئی۔ اس بنا پر یہ ہوا کہ سیاسی اقتدار کے حق میں خدا کی خصوصی حمایت باقی نہ رہی۔

اب سیاسی اقتدار کا معاملہ اُسی طرح صرف مسابقت کا معاملہ ہے، جس طرح اقتصادیات کا معاملہ مسابقت کا معاملہ۔ تاریخ میں اس تبدیلی کے بعد اب ایسا ہونے والا نہیں کہ سیاسی اقتدار کے قیام و بقا کے لیے مسلمانوں کو خصوصی خدائی مدد ملے۔ اب اس پہلو سے مسلمانوں کا معاملہ دوسری قوموں جیسا ہے۔ اب مسلمانوں کا معاملہ بھی دوسری قوموں کی طرح اسباب وعلل کے تحت ہے۔ قوم بھی اسباب وعلل کے اعتبار سے اپنے کو اہل ثابت کرے گی وہی سیاسی اقتدار کی مالک ہوگی۔ اب قانون فطرت کے تحت، مسلمانوں کو یہ کرنا چاہیے کہ وہ اقتدار کی لڑائی لڑنا چھوڑ دیں، وہ اُس نے امکان سے فائدہ اٹھائیں جس کو موجودہ زمانے میں اداراتی دور (institutionalization)

کہا جاتا ہے۔ یہ نیا امکان قدیم دور سے بھی زیادہ بڑا ہے۔ مسلمانوں کو چاہیے کہ پہلے جس طرح سیاسی اقتدار کو قائم کرنے کے لیے وہ اپنی ساری طاقت لگا دیتے تھے، اُسی طرح اب وہ مختلف غیر سیاسی شعبوں میں ادارہ بنانے میں اپنی ساری طاقت لگا دیں ۔ مثلاً تعلیم، دعوت، سماجیات، صحافت، پبلشنگ ، صنعت اور تجارت، وغیرہ۔ موجودہ زمانے کے مسلمان اگر اس جدید تقاضے کو سمجھیں اور اداراتی تنظیم کے میدان میں پر امن طور پر سرگرم ہو جائیں تو وہ غیر سیاسی میدان میں زیادہ بڑے پیمانے پر اُس مقصد کو حاصل کر لیں گے، جس کو وہ سیاسی میدان میں صرف نا کام طور پر حاصل کرنے کی کوشش کر رہے تھے اور جس میں ہ، اس راہ میں، میدانِ سیاست | روپورٹاس انھیں یک طرفہ تباہی کے سوا اور کچھ حاصل نہ ہو سکا۔ آیات قرآنی کا تذکیری مطالعہ مولانا وحید الدین خاں مولانا وحید الدین خاں دین و شریعت دین اسلام کا ایک فکری مطالعہ مولانا وحید الدین خاں کامیاب زندگی کی تعمیر کے لئے گائیڈ بک مولانا وحید الدین خاں بسم الله الرحمن الرحيم مولانا وحید الدین خاں تاریخ دعوت حق اہمیت ، ضرورت اور تقاضے مولانا وحیدالدین خاں

Printed page