Al-Risala · December 2006

انسان کی دریافت

Al-Risala, December 2006, pp. 8–9

By Maulana Wahiduddin Khan

اک فلسفہ، نہ کہانی نہ کوئی افسانہ! یہ اس کائنات کے تاریک خانوں میں بھٹکتی تاریخ ایک فلسفی نے کہا ہے کہ انسان کی تاریخ اندھیرے میں بھٹکنے کی تاریخ ہے۔ یہ تبصرہ بالکل یہ ایک حقیقت ہے کہ انسان پوری تاریخ کے اندھیروں میں بھٹکتا رہا ہے۔ انسان کی اِس بے خبری کو تین عنوان کے تحت بیان کیا جاسکتا ہے۔

آئیڈیل ازم (Idealism)

یوٹیلیٹرین ازم (Utilitarianism)

آئیڈیل ازم میں آئیڈیل ازم کا لفظ اس کے سکہ بند معنی میں استعمال نہیں کیا یہاں میں نے آئیڈیل ازم کا لفظ اس کے کلاسکل معنی میں استعمال نہیں کیا ہے، بلکہ اس کے لغوی معنی میں اس کو استعمال کیا ہے۔ انسان کا مطالعہ بتاتا ہے کہ ہر انسان پیدائشی طور پر اپنے اندر آئیڈیل کا ایک تصور لیے ہوئے ہے، ہر انسان اس آئیڈیل کو پانا چاہتا ہے۔ اس معاملے میں عوام اور خواص کا کوئی فرق نہیں۔ عوام کی اکثریت اپنی غفلت کی بنا پر آئیڈیل کی تلاش کے بارے میں شعوری طور پر باخبر نہیں ہوگی، تاہم غیر شعوری طور پر اس کا کیس پوری طرح یہی ہے۔ البتہ خواص، یعنی فلسفی اور مفکر اور ر فارمر سب کے سب اس میں مبتلا رہے ہیں۔

مگر دوسری طرف تاریخ یہ بتاتی ہے کہ تمام لوگ، بلا استثناء آئیڈیل کے بارے میں اپنی تلاش میں ناکام رہے۔ آئیڈیل سماج، آئیڈیل اسٹیٹ، آئیڈیل ادارہ، آئیڈیل نظام، یہی ہر ایک کا محبوب نشانہ رہا ہے۔ مگر واقعات بتاتے ہیں کہ ہر ایک اپنے نشانے کو پورا کرنے میں ناکام رہا، اور آخر کار وہ مایوسی کے عالم میں مرگیا۔

قدیم یونان کا مشہور فلسفی افلاطون (Plato) ۴۲۷ قبل مسیح میں پیدا ہوا، اور ۳۴۷ قبل مسیح میں اس کی وفات ہوئی۔ اس نے سُقراط (Socrates) سے تعلیم و تربیت حاصل کی تھی۔ فلسفی ارسطو (Aristotle) اس کا شاگرد تھا۔ افلاطون کو اپنے زمانے میں اتنا بڑا درجہ ملا کہ وہ اس ارسطو (Aristotle) کا نظریہ ہے کہ وہ روپ

زمانے کی شاہی خاندان کا معلم بن گیا۔ لیکن اس کی سوانح عمری میں ہمیں یہ الفاظ لکھے ہوئے ملتے ہیں کہ ــــ وہ ایک مایوس انسان کی طرح مرا:

Printed page