He died as a disappointed person.
Al-Risala, December 2006, pp. 9–11
By Maulana Wahiduddin Khan
ایسا کیوں ہوا۔ اس کا سبب یہ تھا کہ افلاطون نے یونان میں آئیڈیل اسٹیٹ قائم کرنے کو اپنا اس نے اس موضوع پر کتاب لکھی۔ اس نے وقت کے شاہی خاندان کے اپنے آئیڈیل نظریے کے مطابق تعلیم و تربیت کی۔ اُس کے نزدیک اس کا آئیڈیل اسٹیٹ اتنا کامل تھا کہ اس نے اس موضوع پر اپنی کتاب میں سزا (punishment) کا قانون شامل نہیں کیا۔
مگر عملاً یہ ہوا کہ اس کا آئیڈیل اسٹیٹ سرے سے قائم ہی نہ ہو سکا، نہ کسی شہر میں اور نہ پورے آخر کار وہ سخت مایوسی میں مبتلا ہوا، اور اسی مایوسی کے عالم میں حسرت کے ساتھ مر گیا۔ یہی انجام، بلا استثناء ہر فلسفی اور ہر مفکر اور ہر رفارمر کا ہوا ہے۔ ہر ایک نے اپنے ذہن میں ایک آئیڈیل دنیا بنانے کا خواب دیکھا۔ مگر کوئی بھی شخص اپنی آئیڈیل دنیا نہ بنا سکا ۔ آپ کسی بھی مشہور آدمی کی سوانح عمری پڑھیے تو آخر میں ہر ایک کے بارے میں یہ لکھا ہوا ملے گا کہ وہ اپنے نشانے کو پانے میں ناکام رہا اور آخر کار مایوسی کے عامل میں مرگیا۔ روسو، مارکس، ڈارون، جان آسٹن، لارڈ کرزن، وغیرہ ہر ایک کا خاتمہ محرومی کے احساس کے ساتھ ہوا۔
انسان کی اس عمومی ناکامی کا سبب یہ تھا کہ ہر ایک نے یہ غلطی کی کہ اس نے خدا کی تخلیقی اسکیم (creation plan) کو سمجھے بغیر خود اپنے ذہن سے اپنا ایک آئیڈیل نقشہ بنایا اور وہ اس کو حاصل کرنے کے لیے دوڑ پڑا۔ حالاں کہ خالق کے تخلیقی پلان کو سمجھے بغیر اس قسم کی کوشش سراسر عبث تھی۔ کبھی اس دنیا میں کامیاب نہیں ہوسکتی۔ اسی ناکام تجربے کی بنا پر لوگوں میں عمومی طور پر وہ تصور رائج ہو گیا جس کو ایک جملے میں اس طرح بیان کیا جاتا ہے کہ ــــ آئیڈیل کبھی حاصل نہیں ہوسکتا: Ideal can’t be achieved. مگر حقیقت واقعہ کے اعتبار سے یہ قول درست نہیں۔ انسان کے دماغ میں جو آئیڈیل بسا ہوا
ہے وہ یقینی طور پر قابلِ حصول ہے، مگر موت سے پہلے کی دنیا میں نہیں بلکہ موت کے بعد کی دنیا میں۔ خالق کے تخلیقی پلان کے مطابق، یہ آئیڈیل دنیا جنت ہے، اور وہ مستحق افراد کو صرف موت کے بعد کی زندگی میں حاصل ہوگی۔ انسان کی غلطی یہ ہے کہ وہ آئیڈیل دنیا کو موت سے پہلے کی زندگی میں پانا چاہتا حالاں کہ خدا کے تخلیقی منصوبے کے مطابق، یہ آئیڈیل دنیا صرف موت کے بعد کی زندگی میں حاصل ہونے والی ہے۔
خدا کے تخلیقی پلان سے اس بے خبری کا نتیجہ یہ ہوا کہ ہر انسان کا یہ کیس بن گیا کہ وہ امید کے ساتھ اپنی زندگی کا آغاز کرے اور محرومی کا احساس لے کر مر جائے۔ حالاں کہ اگر وہ خدا کے تخلیقی پلان کو جانے اور اس کے مطابق عمل کرے تو اس کے لیے موت سے قبل کی زندگی میں بھی امید ہے اور موت کے بعد کی زندگی میں بھی امید۔ ایسا آدمی فطری طور پر کبھی ذہنی تناؤ (tension) میں مبتلا نہیں ہوگا اور وہ اس المیے سے بھی بچ جائے گا کہ محرومی کے احساس پر اس کا خاتمہ ہو۔ تاریخ میں بہت سے مفکر اور رفارمر گزرے ہیں جو یہ چاہتے تھے کہ موجودہ دنیا میں آئیڈیل اسٹیٹ، آئیڈیل نظام، آئیڈیل سماج، آئیڈیل ادارہ بنے، مگر بلا استثنا ہر ایک اپنے مقصد میں ناکام رہا۔ اس کا سبب یہ ہے کہ موت سے پہلے کی یہ موجودہ دنیا اس مقصد کے لیے بنائی ہی نہیں گئی۔ اصل یہ ہے کہ خالق نے اپنے تخلیقی نقشے کے مطابق، ہر انسان کو مکمل آزادی دی ہے۔ میں ایسا کوئی میکانزم نہیں جو لوگوں کو مجبور کرے کہ وہ اپنی آزادی کا غلط استعمال نہ کریں۔ تاریخ میں ہمیشہ یہ ہوتا رہا کہ افراد نے اپنی آزادی کا غلط استعمال کر کے پورے نظام کو غلط رُخ پر ڈال دیا اور ابتدائی مُصلح کے پورے نقشے کو تباہ کر ڈالا۔
فلسفی افلاطون نے اپنے زمانے کے بادشاہ سکندرِ اعظم (Alexander the Great) کو شہزادگی کے زمانے میں تربیت دے کر تیار کیا کہ وہ افلاطون کے آئیڈیل اسٹیٹ کو قائم کرے۔ سکندرِ اعظم جب بڑا ہوا تو اس نے افلاطون کی تعلیم کو چھوڑ کر اپنی پسند کا راستہ اختیار کر لیا۔ کارل مارکس (وفات ۱۸۸۳) کے اقتصادی نظریات کی بنیاد پر کمیونسٹ پارٹی بنی۔ لینن اور اسٹالن کی
قیادت کے تحت، کمیونسٹ پارٹی کی حکومت بھی زمین کے بڑے رقبے پر قائم ہوگئی۔ لیکن یہ حکومت مکمل طور پر ناکام رہی۔ کمیونسٹ لیڈر ٹراٹسکی (Trotsky leon) نے کمیونسٹ نظام کی اس ناکامی کو خود کمیونسٹ لیڈروں کی غداری کا نتیجہ قرار دیا ہے۔ اس موضوع پر ٹراٹسکی نے ایک کتاب شائع کی جس کا ٹائٹل یہ تھا: