Al-Risala · December 2006

Revolution — Betrayed

Al-Risala, December 2006, pp. 11–15

By Maulana Wahiduddin Khan

جرمن سائنس داں آئن سٹائن (Albert Einstein) نے جوهری توانائی (atomic energy) کو دریافت کیا۔ اس دریافت میں عظیم مثبت فائدہ چھپا ہوا تھا، لیکن پولٹکل لیڈروں نے جوهری توانائی کی دریافت کو لے کر ایٹم بم بنا ڈالا اور ساری دنیا میں جنگی تیاری کا جنون پیدا کر دیا۔

انڈیا کے لیڈر مہاتما گاندھی نے زبردست جدوجہد کے ذریعے انڈیا کو انگریزوں سے آزاد ان کا نظریہ یہ تھا کہ آزادی کے بعد انڈیا میں ایسا سماج بنایا جائے گا جو انسانی خدمت اور سیوا پر اس مقصد کے لیے انھوں نے ایک ماڈل بستی کے طور پر مہاراشٹر میں سیوا گرام بنایا۔ آزادی کے بعد مہاتما گاندھی کے تمام ساتھی، سیوا کے نظریے کو چھوڑ کر سیاسی اقتدار حاصل کرنے کی طرف دوڑ پڑے۔ انھوں نے گاندھی کی نصیحتوں کو مکمل طور پر نظر انداز کر دیا۔ چنانچہ اس منظر کو دیکھ کر مہاتما گاندھی نے کہا— اب میری کون سنے گا اس قسم کے واقعات تمام مصلحین کے ساتھ پیش آئے۔ ان تمام واقعات کا مشترک سبب یہ تھا کہ انسان نے اپنی آزادی کا غلط استعمال کرکے ہر اصلاحی اسکیم کو تہہ و بالا کر دیا۔ تاریخ بتاتی ہے کہ کبھی بھی کوئی اصلاحی اسکیم اپنے مطلوب معیاری معنوں کامیاب نہ ہوسکی۔

انسان کا دوسرا المیہ یہ ہے کہ قانون فطرت کے تحت، ہر انسان کنڈیشننگ کا کیس ہے۔ اس بنا پر ہر انسان درست سوچ (rightthinking) سے محروم رہتا ہے۔ وہ کنڈیشنڈ شخصیت کے ساتھ جیتا ہے اور کنڈیشنڈ شخصیت کے ساتھ ہی مرجاتا ہے۔ اپنی عدم واقفیت کی بنا پر اس کو کبھی اس کی ضرورت محسوس نہیں ہوتی کہ وہ اپنے کنڈیشنڈ مائنڈ کی ڈی کنڈیشننگ کرے۔ ہر آدمی اپنی سوچ اور

اپنے جذبات کے اعتبار سے ماحول کی پیداوار ہوتا ہے، مگر اپنی بے خبر کی بنا پر وہ اسی مصنوعی شخصیت کو اصل شخصیت سمجھ لیتا ہے۔

بیسویں صدی کے آغاز میں پہلی بار انسان نے کنڈیشننگ کے اس معاملے کو جانا۔ پروفیسر جے بی واٹسن (John Broadus Watson) نے لمبی تحقیق کے بعد ۱۹۲۵ میں اپنی کتاب بیہویرازم (Behaviourism) شائع کی۔ اسی کتاب کے نام پر نفسیات میں بیہویرسٹ اسکول (Behaviourist School) قائم ہوا، جو اتنا عام ہوا کہ عرصے تک دنیا کی تمام یونیورسٹیوں میں وہ علم النفس کے نصاب کے طور پر پڑھایا جاتا رہا۔

لیکن پروفیسر واٹسن کی یہ دریافت صرف ایک ادھوری دریافت تھی۔ اس دریافت کے مطابق، کنڈیشنڈ انسان ہی اصل انسان تھا۔ اس نفسیاتی اسکول میں یہ مان لیا گیا کہ جو چیز انسان کی شخصیت کی تشکیل کرتی ہے وہ اس کا پیدائشی نیچر نہیں ہے، بلکہ وہ بعد از پیدائش اس کے ماحول کا نرچر (nurture) ہے، مگر اصل حقیقت یہ ہے کہ کنڈیشننگ کا یہ معاملہ انسان کے لیے ایک امتحان ہے۔ ہر انسان کو اپنی تعمیر شخصیت کے لیے یہ کرنا ہے کہ وہ اپنے کنڈیشنڈ مائنڈ کی ڈی کنڈیشننگ کرے۔ قدرت نے پیاز کی صورت میں اس معاملے کا ایک نمونہ انسان کے لیے رکھ دیا ہے۔ جیسا کہ معلوم ہے، پیاز میں ایک کے بعد ایک پرتیں (layers) ہوتی ہیں۔ ان پرتوں کو ہٹایا جائے تو آخر کار اس کا اصل مغز سامنے آ جائے گا۔ ایسا ہی معاملہ انسان کا ہے۔ انسان کی اصل شخصیت وہ ہے جو فطرت کی طرف سے اس کو پیدائشی طور پر ملتی ہے، پھر خارجی ماحول سے اس کے اوپر کنڈیشننگ کی پرت چڑھتی رہتی ہے۔ چاہیے کہ باشعور ہونے کے بعد اپنی ڈی کنڈیشننگ کرکے وہ ان خارجی پرتوں کو ہٹائے، یہاں تک کہ فطری انسان سامنے آ جائے۔

ہر انسان پیدائشی طور پر مسٹر نیچر ہے، لیکن ماحول کے اثر سے وہ مسٹر کنڈیشنڈ بن جاتا ہے۔ خدا کے تخلیقی نظام کے تحت ہوتا ہے۔ انسان کو خدا نے شعور اور آزادی کی صلاحیت بخشی ہے۔ سے یہ مطلوب ہے کہ وہ اپنے شعوری فیصلے کے تحت، اپنی ڈی کنڈیشننگ کرے۔ وہ اپنے آپ کو

دوبارہ انسان فطری (Mr. Nature) بنائے۔ یہی انسان کا امتحان ہے، اور اس امتحان میں کامیاب ہونے والوں ہی کے لیے خدا نے اپنے ابدی انعامات کا اعلان کیا ہے۔

یہ ایک حقیقت ہے کہ ہر انسان کی کنڈیشننگ ہوتی ہے، مگر پوری معلوم تاریخ میں ڈی کنڈیشننگ کا نظریہ کبھی موجود نہیں رہا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ قانون فطرت کے تحت، ہر زمانے میں لوگوں کی کنڈیشننگ ہوتی رہی، لیکن عدم واقفیت کی بنا پر وہ اپنی ڈی کنڈیشننگ نہ کر سکے۔ حالت میں محفوظ طور پر کہا جا سکتا ہے کہ پوری تاریخ ایسے افراد سے خالی ہے جو اپنی ڈی کنڈیشننگ کر کے اپنے آپ کو مسٹر نیچر بنا سکے ہوں۔ دوسرے لفظوں میں یہ کہ تاریخ کے تمام مفکرین اور فلاسفہ اپنے اصلاحی یا فکری کردار کو ادا کرنے کے لیے نااہل تھے۔ وہ اس مقصد کے لیے تیار ذہن (prepared mind) کی حیثیت نہیں رکھتے تھے۔

تمام فکری نظاموں میں اسلام اس معاملے میں ایک استثنا کی حیثیت رکھتا ہے۔ تعلیمات میں سے ایک بنیادی تعلیم وہ ہے جس کو تزکیہ (purification) کہا جاتا ہے۔ پر اسرار چیز کا نام نہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ تزکیہ اُسی عمل کا نام ہے جس کے لیے ہم نے ڈی کنڈیشننگ کا لفظ استعمال کیا ہے۔ تزکیہ سے مراد یہ ہے کہ آدمی اپنا محاسبہ (introspection) کرے ۔ وہ اپنی فکری اور نظریاتی غلطیوں کو ڈھونڈ کر نکالے اور ان کی اصلاح کرے۔ یہ عمل تمام تر ایک ذہنی عمل ہے۔ بے لاگ طور پر اپنے اوپر نظر ثانی کرتا ہے۔ یہ عمل مسلسل طور پر ساری عمر جاری رہتا ہے۔ آدمی تزکیہ کے عمل کے ذریعے اپنی اصلاح کرتا رہتا ہے، یہاں تک کہ وہ ایک مزکّی اور مطہّر شخصیت (purified personality) بن جاتا ہے۔

موجودہ زمانے میں ڈی کنڈیشننگ (de-conditioning) کے لفظ کو ڈی اسٹریٹنگ (de-stressing) کے ہم معنی لفظ کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔ اس استعمال کے اعتبار سے ڈی کنڈیشننگ کا مطلب ہوتا ہے— ذہنی تناؤ کو ختم کرنا۔

مگر میرے نزدیک یہ ڈی کنڈیشنگ کے لفظ کا نادرست استعمال ہے۔ میرے نزدیک ڈی

کنڈیشننگ سے مراد یہ ہے کہ پروفیسر واٹسن کے تصور کے مطابق، کنڈیشننگ کے ساتھ برعکس عمل کیا جس کنڈیشننگ کو پروفیسر واٹسن نے حتمی سمجھ لیا تھا، اس کو حتمی نہ سمجھتے ہوئے فکری عمل کے ذریعے اس کو ختم کرنے کی کوشش کی جائے، اسی کا نام ڈی کنڈیشننگ ہے۔ میرے علم کے مطابق، مفکرین نے اگرچہ ڈی کنڈیشننگ کو اس مخصوص معنی میں استعمال نہیں کیا ہے، لیکن میرے نزدیک ڈی کنڈیشننگ کا صحیح ترین مفہوم یہی ہے۔

اس موضوع پر ایک بار میری گفتگو ایک کمیونسٹ پروفیسر سے ہو رہی تھی۔ انھوںنے کہا کہ ڈی کنڈیشننگ کو ہم بھی مانتے ہیں، مگر ہم اس کو ڈی کلاسنگ(de-classing) کہتے ہیں۔ میں نے کہا کہ ڈی کنڈیشننگ ، اور ڈی کلاسنگ دونوں بالکل الگ الگ اصطلاحیں ہیں۔ ڈی کلاسنگ ایک سماجی اس کا مطلب ہے بے طبقاتی سماج (classless society) بنانا۔ کنڈیشننگ مکمل طور پر ایک نفسیاتی اصطلاح ہے۔ اس کا مطلب ہے ذہن کی فکری آلودگی کو دور کر کے ذہن کو دوبارہ خالص فطری حالت پر لے جانا۔

اس معاملے میں تیسری چیز وہ ہے جس کو افادی نظریہ(Utilitarianism) کہا جاتا ہے۔ انسان ہمیشہ سے مادی مفادات کا طالب رہا ہے۔ مگر موجودہ زمانے میں اس تصور نے باقاعدہ فلسفے کی حیثیت اختیار کر لی ہے۔ اسی فلسفے کو یوٹیریرین ازم کہا جاتا ہے۔ اس افادی فلسفے کو پہلے برطانوی فلسفی بنتھم (Jeremy Bentham) نے پیش کیا تھا۔ بنتھم ۱۷۴۸ء میں انگلینڈ میں پیدا ہوا، اور ۱۸۳۲ء میں اس کی اس کے بعد اس افادی فلسفے کو انیسویں صدی کے مشہور فلسفی جان اسٹوارت مل (John Stuart Mill) نے، اور دوسرے فلسفیوں نے آگے بڑھایا، یہاں تک کہ عملاً یہ فلسفہ جدید دنیا کا سب سے بڑا فلسفہ بن گیا۔ آج شعوری یا غیر شعوری طور پر تمام انسان اسی فلسفے کے تحت سوچتے ہیں اور عمل کرتے ہیں۔

یوٹیلیریرین اسکول میں بہت سے نام شمار کیے جاتے ہیں، اور ان کے درمیان بعض ظاہری اختلافات بھی ہیں، مگر عملاً یہی فلسفہ آج کی دنیا کا سب سے بڑا فلسفہ ہے۔ شعوری یا غیر شعوری طور پر

آج تمام دنیا کے لوگ اس فلسفے کو قبول کیے ہوئے ہیں ۔ وہ چیز جس کو مادّیت (materialism) کہا جاتا ہے، وہ دراصل یوٹیلیٹرین ازم ہی کا دوسرا نام ہے۔

یوٹیلیٹرین اسکول، یا میڑ یلسٹ اسکول کے مطابق، موجودہ دنیا ہی وہ جگہ ہے جہاں آدمی اپنی تمناؤں اور خواہشوں کو پورا کر سکتا ہے۔ ویبسٹر کے مطابق، اس نظریے کی سادہ تعریف یہ ہے: The doctrine that the worth or value of anything is determined solely by its utility. یوٹیلیٹرین ازم کا نظریہ کوئی نیا نظریہ نہیں ہے۔ اپنی حقیقت کے اعتبار سے یہ وہی چیز ہے جس کو عوامی زبان میں اس طرح بیان کیا جاتا ہے کہ ـــ کھاؤ، پیواور خوش رہو:

Printed page