Al-Risala · December 2006

Eat, drink and be merry.

Al-Risala, December 2006, pp. 15–18

By Maulana Wahiduddin Khan

یہ تصور دنیا کی ہر زبان میں پایا جاتا ہے۔ اسی تصور کو ہندوستان کے شہنشاہ بابر (وفات ۱۵۳۰) نے اپنے یک شعر میں اس طرح بیان کیا تھا:

بابر به عیش کوش که عالم دوباره نیست !

مگر پوری تاریخ کا تجربہ بتاتا ہے کہ یہ نشانہ قابل حصول نہیں ۔ جیسا کہ معلوم ہے، ہر آدمی سو سال سے کم مدت کے لیے موجودہ دنیا میں جینے کا موقع پاتا ہے۔ اس محدود مدت میں اس کے لیے ممکن نہیں ہوتا کہ وہ اپنی آرزوؤں کے مطابق، یہاں اپنی مطلوب دنیا بنا سکے، ایسی آرزوئیں جو کہ اپنی نوعیت کے اعتبار سے لامحدود حیثیت رکھتی ہیں۔ طرح طرح کی رکاوٹیں اس کا راستہ روک دیتی ہیں۔ اور بیماری اور دوسرے ناموافق اسباب اس کے لیے اپنے منصوبے کی تکمیل میں فیصلہ کن رکاوٹ بن جاتے ہیں اور اگر بالفرض کوئی شخص اپنی خواہشوں کا ایک محل بنالے، تب بھی بہت جلد ایسا ہوتا ہے کہ اس کی مرضی کے بغیر موت آتی ہے اور ایک طرفہ فیصلے کے تحت، اس کی خواہشوں کے محل کو ڈھا دیتی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ نظریہ فطرت کے قانون کے خلاف ہے۔ فطرت کے مقرر نقشے کے مطابق، انسان کی زندگی دو دور میں تقسیم ہے ـــ موت سے پہلے، اور موت کے بعد۔ موت سے پہلے کا زمانہ

عمل کرنے کا زمانہ ہے اور موت کے بعد کا زمانہ اپنے عمل کے مطابق ، اس کا انجام پانے کا زمانہ۔ ایسا ہی ہے جیسے کہ امتحان ہال، کسی اسٹوڈنٹ کے لیے ٹسٹ دینے کی جگہ ہے، اور امتحان ہال کے باہر کی دنیا جاب (job) حاصل کرنے کی دنیا۔ جو لوگ موت سے قبل کی دنیا میں اپنی تمناؤں کا محل بنانا چاہتے ہیں وہ اُس طالب علم کی مانند ہیں جو امتحان ہال کے اندر اپنے لیے جاب تلاش کرنے لگے، حالاں کہ ایسا ہونا بھی ممکن نہیں۔

پہلی عالمی جنگ جب ہوئی تو اُس وقت انگریز، انڈیا کے اوپر حکومت کر رہے تھے۔ جنگ کے بعد انھوں نے نئی دہلی کے علاقے میں ایک شان دار دنیا تعمیر کی۔ اس میں وہ وسیع محل بھی شامل تھا جس کا نام اُس وقت’’ وائس رگل لاج‘‘ رکھا گیا تھا، اور اب اس کو’’ راشٹر پتی بھون‘‘ کہا جاتا انگریزوں کا خیال تھا کہ وہ اس شان دار دنیا میں ابدی طور پر عیش زندگی گزار سکیں گے، مگر ایسا نہ دوسری عالمی جنگ نے ان کے سنہرے خواب کو درہم برہم کر دیا۔ پہلی عالمی جنگ کے بعد ایک فرانسیسی مدبر نئی دہلی آیا تھا۔ اس نے انگریزوں کی بنائی ہوئی اس خوش نما دنیا کو دیکھا تو اس نے کہا کہ ــــ انھوں نے کیسی شاندار دنیا بنائی، صرف اس لیے کہ ایک دن وہ اس کو چھوڑ دیں: What a magnificent world they built to leave. انگریزوں سے پہلے دہلی میں مغل خاندان کا راج تھا۔ ۱۸۵۷ء میں ان کی حکومت ختم ہوگئی۔ دہلی میں ان کی چھوڑی ہوئی شان دار عمارت’’ لال قلعہ‘‘ کی شکل میں موجود ہے۔ لال قلعہ کے ایک حصے میں میوزیم ہے۔ اس میوزیم میں جو چیزیں موجود ہیں، اُن میں سے ایک وہ ٹوٹا ہوا پتھر ہے جس کے اوپر یہ فارسی شعر کندہ ہے ــــ آسمان کے نیچے ان کی سلطنت ہمیشہ باقی رہے: ہمیشہ باد به زیر سپہرِ قُلُموں!

اس ٹُوٹے ہوئے پتھر کے ساتھ جو تشریحی عبارت لکھی ہوئی ہے، اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ یہ پتھر ایک قدیم محل میں نصب تھا۔ وہ محل اب بالکل مٹ چکا ہے۔ اس کا یہ پتھر یادگار کے طور پر لال قلعہ کے میوزیم میں رکھ دیا گیا ہے۔

یہی معاملہ پوری تاریخ میں تمام انسانوں کا ہوا ہے۔ ہر چھوٹے بڑے انسان نے اپنی آرزوؤں کی تکمیل کے لیے اپنا محل بنانے کی کوشش کی، مگر کسی کے لیے بھی اس کا محل آرزوؤں کی تکمیل کا محل نہ بن سکا۔ یہ تاریخی تجربہ بتاتا ہے کہ یوٹیلیٹرین ازم کا نظریہ ایک غیر فطری اور غیر واقعہی نظریہ ہے۔ یہ ایک ناممکن کو حاصل کرنے کی کوشش ہے، جو موجودہ دنیا میں کبھی کسی کے لیے واقع نہیں بنی اور نہ آئندہ وہ کسی کے لیے واقعہ بن سکتی ہے۔

اصل یہ ہے کہ یوٹیلیٹرین ازم کا نظریہ خدا کے تخلیقی نقشے کے خلاف ہے۔ خدا نے انسان کو ابدی مخلوق کی حیثیت سے پیدا کیا۔ پھر اس کی مدتِ حیات (life span) کو اس نے دو مختلف حصوں میں اس کا مختصر حصہ، قبل از موت دنیا میں رکھا گیا اور اس کا بقیہ تمام حصہ، بعد از موت کی زندگی میں رکھ دیا گیا ہے۔ قبل از موت کا عرصہ حیات ٹسٹ کے لیے ہے اور بعد از موت کا عرصہ حیات اپنی کارکردگی کے مطابق، انعام پانے کے لیے۔

یہ ٹسٹ کیا ہے۔ یہ ٹسٹ بنیادی طور پر یہ ہے کہ آدمی اختیار کے باوجود اپنے کو بے اختیار بنا لے، وہ آزادی کے باوجود اپنی آزادی کا غلط استعمال نہ کرے۔ وہ سب کچھ کرنے کی طاقت رکھنے کے باوجود خدا کی مرضی کے خلاف کچھ نہ کرے۔

دنیا میں انسان کو اگرچہ کامل آزادی دی گئی ہے، لیکن اسی کے ساتھ وہ ایک کمزور مخلوق کی حیثیت رکھتا ہے۔ مثلاً وہ حادثے کا شکار ہوتا ہے، وہ بیمار ہوتا ہے، وہ بوڑھا ہوتا ہے، وہ لامحدود طور پر اپنی خواہشوں کو پورا نہیں کر پاتا۔ طرح طرح کے ناموافق حالات اس کے لیے رکاوٹ بن جاتے ہیں، یہاں تک کہ آخر کار وہ بے بسی کے ساتھ مر جاتا ہے۔ یہی تمام انسانوں کی کہانی ہے۔ خواہ وہ کوئی بھی ہو، بیک وقت کمزوری اور آزادی دونوں کا مجموعہ بنا رہتا ہے۔ کوئی بھی ایسا نہیں کر پاتا کہ وہ اپنی آزادی سے اپنی کمزوری کو جدا کر سکے۔

جنت نہ صرف ابدی ہوگی بلکہ وہ ایک ایسی کامل جگہ ہوگی جہاں ہر قسم کی محدودیت (limitations) کو ختم کر دیا گیا ہوگا، جہاں آدمی نہ صرف آزاد ہو بلکہ وہ اپنی ہر قسم کی آرزوؤں کو پورا

کرنے کے مواقع بھی رکھتا ہو۔ قرآن میں بتایا گیا ہے کہ اہل جنت کو جنت میں عظیم اقتدار حاصل ہوگا (great kingdom) (الدھر ۲۰) اسلامی تصور کے مطابق، جنت مکمل طور پر فساد سے ایسی حالت میں یہ بات بالکل واضح ہے کہ جنت میں کوئی ایسا شخص جگہ نہیں پا سکتا جو اپنے اقتدار کو فساد کے لیے استعمال کرے۔ حقیقت یہ ہے کہ جنت کے اس ماحول میں صرف اُن لوگوں کو داخل کیا جائے گا جو موت سے پہلے کے عرصۂ حیات میں یہ ثابت کر چکے ہوں کہ وہ اتنے زیادہ باشعور ہیں کہ کوئی بڑی سے بڑی چیز بھی انھیں اِس پر آمادہ نہیں کر سکتی کہ وہ اپنے اقتدار کو کسی معمولی درجے میں بھی فساد کے لیے استعمال کر سکتے ہیں۔

قرآن میں بتایا گیا ہے کہ ہر انسان کے ساتھ دو فرشتے ہر لمحہ موجود رہتے ہیں جو اس کی زندگی کے ہر واقعے کو ریکارڈ کرتے ہیں، خواہ وہ نیت ہو، یا قول، یا عمل ۔ اس معاملے کو اس طرح کہا جاسکتا ہے کہ فرشتے ہر لمحہ انسان کی نگرانی کر رہے ہیں۔ اگر وہ صحیح کام کرتا ہے تو وہ اپنے رجسٹر پر اس کا حوالہ دیتے ہوئے لکھ دیتے ہیں کہ یہ شخص جنت کا مستحق ہے:

اس کے برعکس، اگر وہ دیکھتے ہیں کہ آدمی غلط کام کر رہا ہے تو وہ اپنے رجسٹر میں یہ اندراج اس کے بر عکس روایت میں یہ آتا ہے کہ | وہ اب تک ہو رہا ہے، آپ کر لیتے ہیں کہ ـــــ یہ شخص جنت میں داخلے کا استحقاق نہیں رکھتا:

یہی تمام انسانوں کی کہانی ہے ۔ ہر عورت اور مرد کا معاملہ اسی قانون الہی کے تحت ہے۔ کامیاب انسان وہ ہے جو اس حقیقت کو ہر وقت اپنے سامنے رکھے اور دنیا میں انتہائی محتاط زندگی اس کے برعکس ، وہ لوگ ناکام ہیں جو اس حقیقت کو بھلا کر زندگی گزاریں اور نتیجہ ابدی تباہی میں مبتلا ہو کر رہ جائیں۔

Printed page