Al-Risala · December 2006

مذہب اور سائنس

Al-Risala, December 2006, pp. 19–24

By Maulana Wahiduddin Khan

مذہب کیا ہے۔ مذہب زندگی کی سائنس ہے۔ اس کے مقابلے میں معروف سائنس، طبیعیات کی سائنس ہے۔ جیسا کہ معلوم ہے، طبیعیات کی سائنس یا فزیکل سائنس میں پچھلے پانچ سو سال کے اندر، بہت ترقی ہوئی ہے، جب کہ اس مدت میں مذہب میں کوئی ترقی نہ ہوسکی۔

مثلاً پانچ سوسال پہلے انسان سادہ قسم کی اونٹ گاڑی یا گھوڑا گاڑی پر سفر کرتا تھا، مگر پچھلے کئی سو سال کی مسلسل ترقی کے نتیجے میں اب انسان، سواری کے میدان میں بہت زیادہ ترقی کر چکا بائسکل، اسٹیم شپ، موٹر کار، ہوائی جہاز، وغیرہ ، اس ترقی کے نمونے ہیں۔ اس کے مقابلے میں مذہب کا معاملہ بالکل مختلف ہے۔ مذہب پر جمود کا عالم طاری ہے۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ مذہب، پانچ سو سال پہلے جہاں تھا وہیں وہ آج بھی پایا جاتا ہے۔ مذہب میں کوئی حقیقی ترقی دکھائی نہیں دیتی۔ یہ حالت ہر مذہب کی ہے۔ اس معاملے میں کسی مذہب کا کوئی استثنا طبیعیاتی ترقیوں کے سیلاب میں مذہب ایک غیر ترقی یافتہ ڈسپلن بنا ہوا ہے۔ اس کا سبب یہ ہے کہ طبیعیات کی دنیا میں پچھلے پانچ سو سال سے انکوائری (inquiry) کا عمل ہر چیز کی تحقیق ہورہی ہے۔ ہر چیز کھلے ڈائلاگ کا موضوع بنی ہوئی ہے۔ اس کے نتیجے میں طبیعیات کے شعبوں میں ردّوقبول کا عمل جاری ہے۔ مثلاً پہلے یہ سمجھا جاتا تھا کہ زمین مرکز میں ہے اور سورج اس کے گرد گھوم رہا ہے، مگر مشاہدہ اور تحقیق کے ذریعے معلوم ہوا کہ ایسا نہیں، بلکہ سورج درمیان میں ہے اور زمین اور دوسرے سیارے وسیع خلا میں اس کے گرد گھوم رہے ہیں۔ جب یہ نئی دریافت ہوئی تو اس کے فوراً بعد علمائے فلکیات نے قدیم روایتی نظریے کو ترک کر کے جدید سائنسی نظریے کو اختیار کر لیا۔

یہی انکوائری کا عمل ترقی کا اصل سبب ہے۔ لیکن مذہب کے میدان میں انکوائری کا عمل جاری نہ اس کا نقصان یہ ہوا کہ مذہب کی دنیا میں جمود آ گیا۔ مذہب کا عمل ایک مقام پر رُک کر رہ گیا۔

موجودہ زمانے میں مذہب کو ٹریڈیشن (tradition) کہا جاتا ہے۔ مثلاً مذہب یہودیت کو یہودی ٹریڈیشن، مذہب عیسائیت کو عیسائی ٹریڈیشن اور مذہب اسلام کو اسلامی ٹریڈیشن، وغیرہ۔ اس لیے ہوا کہ مذہب کو ایک جامد روایت مان لیا گیا، ایک ایسی روایت جو نسل در نسل ایک ہی حالت پر چلی جارہی ہے، حالاں کہ سائنس میں ایسا نہیں ہوا۔ سائنس کی دنیا میں ایسا نہیں ہوا کہ برٹش سائنس کو برٹش ٹریڈیشن، جرمن سائنس کو جرمن ٹریڈیشن اور امریکن سائنس کو امریکن ٹریڈیشن کہا جانے لگے۔ حقیقت یہ ہے کہ جس طرح معروف سائنس ایک سائنس ہے، اسی طرح مذہب بھی ایک مذہب کی ترقی کے لیے ضروری ہے کہ مذہب میں بھی آزادانہ انکوائری اور کھلا ڈائلاگ اُسی طرح جاری کیا جائے جس طرح وہ سائنس میں عملاً جاری ہے۔ اس طرح کی انکوائری یا ڈائلاگ جاری نہ ہونے کی وجہ سے ایسا ہوا کہ مذہب میں قدیم زمانے میں کم تر واقفیت کی بنا پر جو باتیں مان لی گئیں، وہی بدستور آج تک جاری ہیں۔ ضرورت تھی کہ بعد کی تحقیقات کو لیتے ہوئے قدیم بے اصل نظریات کو ترک کر دیا جائے اور ان کی جگہ اُن باتوں کو مان لیا جائے جو بعد کی تحقیقات سے انسان کے علم میں آچکی ہیں۔

مذاہب کے حلقے میں باشعور لوگوں کے اندر خود بھی اس کا احساس پایا جاتا ہے۔ چنانچہ ان کے درمیان بار بار اس قسم کی تحریکیں اٹھتی رہی ہیں، اگرچہ موافق فضا نہ ہونے کی وجہ سے یہ تحریکیں زیادہ کامیاب نہ ہو سکیں۔ مثلاً ہندو ازم میں آریہ سماج کی تحریک، جو مورتی پوجا کے خلاف اُٹھی۔ اس کا دعویٰ ہے کہ مورتی پوجا ویدوں میں نہیں ہے، یہ بعد کا اضافہ ہے۔ اسی طرح بھکتی موومنٹ، جو ہندو ازم میں بڑھی ہوئی ریچول ازم (Ritualism) کے خلاف اُٹھی۔ اُس نے رسمی اعمال کے بجائے ڈووشن (devotion) پر زور دیا۔ اسی طرح بُدھازم میں، نیوبدھازم (neobuddhism) کی تحریک۔ کا مقصد یہ ہے کہ بعد کو پیدا ہونے والے رسم و رواج سے پاک کر کے بُدھازم کو ابتدائی دور کے بدھ ازم کی طرف واپس لے جانا۔

یہی معاملہ مسیحیت کا ہے۔ ۳۲۵ء میں ہونے والی نیقیان کونسل (Nicaea Council) کے

بعدِ مسیحیت میں کافی تبدیلی آئی۔ اب مسیحی تعلیمات کے بجائے چرچ کی روایات، مسیحیت کا ماخذ بن اس کے بعد مسیحی حلقے میں سولھویں صدی میں رفارمیشن (Reformation) کی تحریک اٹھی جو گویا چرچ سے بائبل کی طرف واپسی کی تحریک تھی، مگر وہ زیادہ کامیاب نہ ہوسکی۔ اس طرح، ڈی ہیلی نائزیشن (Dehellenization) کی تحریک، جو انیسویں صدی کے آخر میں اٹھی۔ اس کا مقصد یہ تھا کہ یونانی اور رومی اثرات سے مسیحیت کو پاک کیا جائے، اگرچہ یہ تحریک زیادہ کامیاب نہ ہوسکی۔ اس معاملے میں اسلام کا معاملہ مختلف ہے۔ دوسرے مذاہب کے برعکس، اسلام میں اصل متن کامل طور پر محفوظ ہے۔ یہاں جو بگاڑ آتا ہے وہ مسلم قوم میں آتا ہے نہ کہ خود اسلام میں۔ اس لیے اسلام میں رفارمیشن جیسی تحریک کی ضرورت نہیں۔ البتہ اسلام میں احیاء (Revivalism) کی ضرورت ہوتی ہے، تا کہ مسلم اضافوں سے پاک کرکے اسلام کو اس کی اصل صورت میں سامنے لایا جائے۔ مثلاً مانزم (monism) کے عقیدے کو لیجیے، جس کو ادویت واد، یا وحدت الوجود کہا جاتا ہے۔ یعنی حقیقت کو ایک سنگل وحدت کے روپ میں دیکھنا۔ پانچ ہزار سال پہلے یونانی فلسفیوں نے آئ بٹی کرائسس کے سوال پر غور کرنا شروع کیا۔ انھوں نے یہ فرض کیا کہ انسان ایک کُلی حقیقت کا حصہ ہے۔ وہ صرف اس لیے اُس سے الگ ہوا ہے کہ ایک دن دوبارہ وہ اس سے مل جائے ۔ انسان ایک الگ وجود کی حیثیت سے اپنی شناخت نہیں پا رہا تھا، لیکن جب اس نے یہ مان لیا کہ وہ ایک عظیم تر حقیقت کُلّی کا ذاتی جُزو ہے، تو اس نے گویا اپنی شناخت پالی۔ کائنات کے اندر اس کو اپنی پہچان معلوم ہوگئی ۔ بہت بڑے پیمانے پر پھیلا۔

مگر اب یہ ثابت ہو چکا ہے کہ مانزم کا نظریہ صرف ایک فلسفیانہ تخیل تھا، اس سے زیادہ اور بیسویں صدی میں فلکیاتی سائنس میں جو تحقیق ہوئی ہے، اس نے اس مفروضے کو بے بنیاد ثابت کر دیا ہے۔ بگ بینگ(Big (Big Bang) کا نظریہ جو سائنسی حلقے میں اب ایک مسلمہ بن چکا ہے، وہ ثابت کرتا ہے کہ خالق اور مخلوق دونوں ایک نہیں ہو سکتے۔ خالق بلاشبہ تخلیق سے الگ ہے، اسی لیے وہ تخلیق کا واقعہ ظہور میں لاسکتا ہے۔ اگر خالق خود تخلیق کا حصہ ہو تو تخلیق کا واقعہ کبھی

وجود ہی میں نہ آئے اور تخلیق ہمیشہ کے لیے غیر موجود بنی رہے۔

بگ بینگ کا نظریہ یہ بتاتا ہے کہ تیرہ بلین سال پہلے پوری کائنات ایک واحد سپرايٹم کی صورت میں تھی۔ پھر خارجی مداخلت کے ذریعے اس کے اندر انفجار (explosion) ہوا۔ اس انفجار کے بعد سپرايٹم کے ذرّات خلا میں پھیل گئے اور موجودہ دنیا وجود میں آئی۔ سپرايٹم کے اندر یہ انفجار، داخلی سبب کے ذریعے نہیں ہوا، بلکہ وہ واضح طور پر ایک خارجی مداخلت کار (intervener) کے ذریعے اور جب یہ مان لیا جائے کہ زیر مداخلت (entervened) سپرايٹم الگ تھا اور مداخلت کار (intervener) الگ، تو اپنے آپ ادویت وادیامانزم کا نظریہ ختم ہو جاتا ہے۔ قدیم زمانے میں انسان نے چاند کو چمکتا ہوا دیکھا تو اس نے فرض کر لیا کہ چاند ایک دیوتا اس طرح چاند کو ایک آسمانی دیوتا مان لیا گیا اور اس کی پرستش کی جانے لگی۔ بعد کو جب مزید تحقیق کی گئی تو معلوم ہوا کہ چاند کوئی روشن وجود نہیں۔ وہ سورج کی روشنی پڑنے سے چمکتا ہے۔ بعد کو جب خلائی سفر میں ترقی ہوئی تو انسان چاند کی طرف پرواز کرنے کا منصوبہ بنانے لگا۔ یہاں تک کہ امریکی خلا باز نیل آرم سٹرانگ (Neil Armstrong) ۲۱ جولائی ۱۹۶۹ کو چاند کی سطح پر اتر گیا ۔ انسان تھا جو چاند کی سطح پر اترا۔

اس براہ راست مشاہدے کے بعد معلوم ہوا کہ چاند صرف ایک خشک چٹان ہے، وہ نہ تو روشن ہے اور نہ گول، اور نہ اس کے اندر کوئی امتیازی صفت ہے۔ اس دریافت نے چاند کے تقدس کا نظریہ علمی طور پر ختم کر دیا۔ ضرورت تھی کہ اس کے بعد چاند کو دیوتا سمجھنے کے عقیدے کو مکمل طور پر ترک کر دیا جائے، لیکن ابھی تک ایسا نہ ہو سکا۔

یہی معاملہ آواگون (cycle of life) کے نظریے کا ہے۔ یہ نظریہ اس تصور پر قائم ہے کہ آدمی اپنے پچھلے جنم کے اعمال کے مطابق، دوبارہ زمین پر پیدا ہوتا ہے اور پھر اپنے کَرم کی سزا بھگت کر مر جاتا ہے، تاکہ اسی طرح دوبارہ پیدا ہواور اپنے کرم کا نتیجہ بھگتے۔ یہ سلسلہ ۸۰ لاکھ سال سے بھی زیادہ مدت تک بار بار جاری رہتا ہے، یہاں تک کہ وہ نِروان (نجات) کے درجے تک پہنچ جاتا ہے۔

یہ عقیدہ ہزاروں سال پہلے ایک فلسفیانہ نکتے کے طور پر لوگوں کے سامنے آیا۔ فلسفی نے دیکھا کہ لوگ پیدا ہوتے ہیں تو اُن میں سے کوئی امیر ہوتا ہے اور کوئی غریب، کوئی محروم ہوتا ہے اور کوئی پائے ہوئے ہوتا ہے۔ اس معاملے کو اس نے انسان کے ''کرم‘‘ سے جوڑ کر آواگون کا فلسفہ بنا لیا۔ دھیرے یہ فلسفیانہ نکتہ ایک باقاعدہ مذہبی عقیدہ بن گیا اور کروڑوں لوگ اس کو درست سمجھنے لگے۔ مگر موجودہ زمانے میں جو تحقیقات ہوئی ہیں، انھوں نے بتایا ہے کہ محروم اور غیر محروم (haves and have nots) کا فرق انسانی عمل (کرم) کا نتیجہ نہیں ہے، بلکہ وہ ایک قانونِ فطرت فطرت کے نظام میں عدم مساوات (inequality) کا طریقہ رکھا گیا ہے۔ اس کی وجہ سے انسانی سماج میں چیلنج اور کامپیٹیشن کا ماحول قائم ہوتا ہے۔ تمام ترقیاں اس چیلنج اور کامپیٹیشن کی وجہ سے وجود میں آئی ہیں۔ (ملاحظہ ہو ہو—آرنلڈ ٹائن بی کی ضخیم کتاب : دی اسٹڈی آف ہسٹری) اس کا مطلب یہ ہے کہ انسانوں کے درمیان امیر اور غریب، پس ماندہ اور ترقی یافتہ کا فرق کوئی برائی کی بات نہیں، بلکہ وہ ایک مطلوب فطری نظام ہے، وہ تمام انسانی ترقی کا ضامن ہے۔ کے سامنے آنے کے بعد ضرورت ہے کہ آواگون کے مفروضے کو مکمل طور پر ترک کر دیا جائے۔ مان لیا جائے کہ آواگون کا نظریہ محض ایک فلسفیانہ لطیفہ (joke) تھا، نہ کہ کوئی حقیقی نظریہ۔ اسی طرح روحانیت کے میدان میں ہزاروں سال سے یہ سمجھا جاتا رہا ہے کہ انسان کا دل (heart) روحانی معرفت کا خزانہ ہے۔ دل کا مراقبہ (meditation) کر کے اس روحانی خزانے کو حاصل کیا جا سکتا ہے۔ یہ نظریہ اتنا پھیلا کہ تمام روحانی اسکول نے اس کو اختیار کر لیا۔ زمانے میں انسانی جسم پر جو تحقیقات ہوئی ہیں، اُن سے یقینی طور پر ثابت ہو جاتا ہے کہ دل کسی بھی قسم کے معارف کا خزانہ نہیں، وہ صرف گردشِ خون (ciration of blood) کا ذریعہ ہے۔ جذبات دونوں کا مرکز یکساں طور پر انسان کا ذہن (mind) ہے۔ اب اہل علم کے درمیان اس معاملے میں کوئی اختلاف نہیں۔

اس تحقیق کے بعد اب ضروری ہو گیا ہے کہ اس پورے معاملے پر نظرثانی کی جائے، اور پھر مبنی

بر قلب روحانیت (heart-based spirituality) کے نظریے کو مکمل طور پر ترک کر دیا جائے اور اس کے بجائے مبنی بر ذہن روحانیت (mind-based spirituality) کے نظریے کو اختیار کر لیا جائے۔ قدیم زمانے میں مذہب کو ایک مقدس چیز سمجھا جاتا تھا۔ اس بنا پر مذہب کا تنقیدی جائزہ ایک امر ممنوع بنا ہوا تھا، مگر موجودہ زمانے میں سائنسی انقلاب کے اثر سے یہ ہوا کہ جس طرح دوسرے تمام شعبوں کا تنقیدی جائزہ لیا جا رہا تھا، اسی طرح مذہب کا بھی تنقیدی جائزہ لیا جانے لگا۔ اس شعبہ تحقیق کو اب تاریخی انتقاد (historical criticism) کہا جاتا ہے۔ اس تحقیق و تنقید کے بعد یہ ثابت ہوا ہے کہ تمام مذاہب بعد کی تبدیلیوں کے نتیجے میں اب غیر تاریخی بن چکے ہیں، ہر مذہب گویا کہ ایک میتھا لوجی جس کے پیچھے کوئی تاریخی سند (historical credibility) موجود نہیں۔

مذاہب کے اس عموم میں صرف ایک استثنا ہے، اور وہ مذہب اسلام کا ہے۔ جائزے سے یہ ثابت ہوا ہے کہ تمام مذاہب میں صرف اسلام ایک ایسا مذہب ہے جس کو پورے معنوں میں تاریخی مذہب کہا جا سکتا ہے۔ ایسی حالت میں علم کا تقاضا ہے کہ دوسرے مذاہب کو قابل احترام اثاثہ سمجھتے ہوئے یہ مان لیا جائے کہ عملی طور پر صرف اسلام قابل اعتبار مذہب ہے، الہامی سچائی کو جاننے کے لیے اسلام ہی واحد مستند ذریعے کی حیثیت رکھتا ہے۔

مسیحی پوپ (Pope Benedict XVI) نے ۱۲ ستمبر ۲۰۰۶ کو ویسٹ جرمنی کی یونیورسٹی ریجنس برگ (Regensburg) میں ایک لکچر دیا۔ یہ لکچر سات صفحات پر مشتمل تھا۔ سات صفحے کے اس لکچر کا عنوان یہ تھا:

Printed page