Al-Risala · December 2006

Faith and Reason

Al-Risala, December 2006, pp. 24–25

By Maulana Wahiduddin Khan

مسیحی پوپ نے اپنے اس لکچر میں چودھویں صدی عیسوی کے بازنطینی کنگ، مینوئیل دوم (Manual II) کے ایک قول کو نقل کیا تھا۔ وہ قول یہ تھا: مجھے محمد کی لائی ہوئی کوئی ایسی بات بتاؤ جو نئی ہو: Show me just what Muhammad brought that was new. بازنطینی کنگ کی یہ بات پوپ نے کسی تنقید کے بغیر نقل کی ہے۔ مگر بلا شبہ یہ ایک ایسی بات

ہے جو خلاف واقعہ بھی ہے اور غیر سنجیدہ بھی۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ دعویٰ نہ تھا کہ وہ کوئی نئی چیز لائے ہیں، یا انھوں نے کوئی نیا مذہب پیش کیا ہے۔ انھوں نے جو کیا وہ صرف یہ تھا کہ پچھلے مذاہب، جو ملاوٹ کا شکار ہو گئے تھے اور اس بنا پر اصل خدائی مذہب ان کے یہاں گم ہو کر رہ گیا تھا، پیغمبر اسلام نے اس کی تصحیح کی۔ انھوں نے خدا کی مدد سے خدا کے دین کا اصل ورژن (version) دنیا کے سامنے یہی پیغمبر اسلام کا اصل کنٹری بیوشن ہے۔ یہ کنٹری بیوشن اتنا بڑا ہے کہ اس سے بڑا اور کوئی کنٹری بیوشن نہیں ہو سکتا۔

خدا نے پچھلے زمانوں میں بہت سے پیغمبر بھیجے ۔ یہ تمام پیغمبر ایک ہی خدائی دین کو لے کر آئے، لیکن قدیم زمانے میں کسی متن (text) کو اس کی اصل صورت میں محفوظ رکھنے کا کوئی باقاعدہ نظم اس لیے پچھلے پیغمبروں کا لایا ہوا دین ، تبدیلی اور ملاوٹ کا شکار ہو گیا۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے خدا کی وحی کے مطابق ، خدا کے اصل دین کو جانا اور اس کو اس کی اصل صورت میں محفوظ کر دیا۔ خدائی مذہب کا محفوظ متن نہ ہونے کی وجہ سے انسان گمراہی کی حالت میں پڑا ہوا تھا۔ کے باوجود اس کو سچائی نہیں ملتی تھی۔ پیغمبر اسلام کی لائی ہوئی ہدایت الہی نے تاریخ بشری کے اس خلا کو پر کر دیا۔ اب یہ ممکن ہو گیا کہ کوئی متلاشی روح جب حق کی دریافت کرنا چاہے تو وہ اس کو یقین کے ساتھ دریافت کر سکے۔ یہ ایک عظیم خدائی تحفہ ہے جو پیغمبر اسلام کے ذریعے انسانیت کو ملا۔ اوکھلا (نئی دہلی) میں مولا نا وحید الدین خاں کی عصری اسلوب میں فکر انگیز اسلامی کتابیں اور ماہنامہ الرسالہ کے علاوہ دیگر اسلامی کتابیں حسب ذیل پتے پر دستیاب ہیں:

Shop No. 5 (Upper Basement), Near Qabrastan D-54, Chaudhury Complex, Batla House, Okhla, New Delhi-110025

Printed page