Al-Risala · December 2006

نقطۂ آغاز

Al-Risala, December 2006, pp. 26–30

By Maulana Wahiduddin Khan

ایک سفر میں میری ملاقات ایک عرب شیخ سے ہوئی۔ گفتگو کے دوران انھوں نے کہا کہ موجودہ زمانے میں اسلام کا کام کرنے کے لیے سب سے پہلا سوال یہ ہے کہ : من أين نبدأ (عمل کا آغاز کہاں سے کیا جائے)۔

یہ سوال مجھ سے کئی بار کیا گیا ہے۔ اس سوال کا جواب پانے کے لیے میں نے تقابلی مطالعے کا طریقہ اختیار کیا۔ میں نے سوچا کہ اصحابِ رسول نے کبھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ایسا سوال نہیں اول دن سے انھیں معلوم تھا کہ ان کو کیا کرنا ہے اور آخر وقت تک وہ اس پر یقین کے ساتھ کار موجودہ زمانے میں پورا قرآن ہمارے سامنے موجود ہے اس کے باوجود کیوں لوگ یہ سوال کرتے ہیں کہ عمل کا آغاز کہاں سے کیا جائے۔

غور کرتے ہوئے میری سمجھ میں آیا کہ دورِ اول میں قرآن کی خود ترتیبِ نزول ہی یہ بتانے کے لیے کافی تھی کہ کہاں سے شروع کرنا ہے اور پھر کیا کام کرتے ہوئے آگے بڑھنا ہے۔ میں صورتِ حال یہ ہے کہ تئیس سال میں نجماً نجماً اترنے والا قرآن ایک کامل مجموعے کی شکل میں ہمارے سامنے موجود ہے۔ ایسی حالت میں یہ ضروری ہو گیا ہے کہ ہم خود دریافت کریں کہ اپنے زمانے میں ہم کو اپنے عمل کا آغاز کس طرح کرنا چاہیے۔ گویا کہ دورِ اول میں بغیر تحقیق کیے ہوئے ہر قدم پر ہم کو فطری طور پر بتایا جا رہا تھا کہ اب ہمیں کیا کرنا ہے، جب کہ آج یہ صورتِ حال ہے کہ تقریباً ساڑھے چھ ہزار آیتوں کے مجموعے میں ہم کو خود یہ دریافت کرنا ہے کہ ان آیتوں میں نقطۂ آغاز کی آیت کون سی دوسرے لفظوں میں یہ کہ بعد کے زمانے میں طالبِ حق کو بہت سے انتخابات (options) میں سے کسی ایک انتخاب (option) کو ڈھونڈھ کر نکالنا ہے، جب کہ دورِ اول میں ایک کے سوا کوئی اور انتخاب سرے سے موجود ہی نہ ہوتا تھا۔

یہی مسئلہ ہے جس کی بنا پر ہم یہ دیکھتے ہیں کہ بہت سے مسلم گروہ ہیں اور ہر ایک قرآن کے

حوالے سے اپنی تحریک چلا رہا ہے، مگر سب ایک دوسرے سے مختلف ہیں۔ کسی کے نزدیک احیاء اسلام کے عمل کا آغاز یہ ہے کہ فضائل کی کہانیاں سنا کر لوگوں کو نمازی بنایا جائے۔ کوئی سمجھتا ہے کہ اقتدار حاصل کر کے اسلامی قوانین کو نافذ کیا جائے۔ کسی کا خیال ہے کہ قومی فخر کا احساس پیدا کر کے مسلمانوں کو بیدار کیا جائے۔ کسی کا ماننا یہ ہے کہ قرآن کی آیتوں اور سورتوں کے اندر چھپے ہوئے نظم کو کھولا کسی کا کہنا یہ ہے کہ جغرافی تقسیم کر کے مسلمانوں کا علیحدہ پاکٹ بنایا جائے، اس طرح مسلمان خیر امت کا کردار ادا کرنے کے قابل ہو جائیں گے۔ کچھ لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ عشق رسول کی دھوم مچائی جائے اور پھر سارا مسئلہ اپنے آپ حل ہو جائے گا۔ اسی طرح کچھ لوگ مسائل اسلام اور مظاہر اسلام کو اصل سمجھ کر اس کی دھوم مچائے ہوئے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ یہی نجات کا واحد ذریعہ ہے۔ کچھ اور لوگ ہیں جو حصول برکت کو سب سے زیادہ اہم چیز سمجھتے ہیں اور اسی کو تمام سعادتوں کا سر چشمہ سمجھتے ہیں۔ کمیونٹی ورک یا ملی خدمت کو اصل کام سمجھے ہوئے ہیں اور اس کو نجات کا ذریعہ قرار دیتے ہیں۔ شوکت اسلام کے نام پر تقریر اور تحریر کی سرگرمیاں جاری کیے ہوئے ہیں اور اس کو دنیا اور آخرت کی کامیابی کا ذریعہ سمجھتے ہیں۔ کچھ لوگ جہاد کی آیت کا حوالہ دیتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ جہادی سرگرمیاں جاری کرنا ہی اسلام کا سب سے زیادہ مطلوب کام ہے، وغیرہ۔

حدیث میں پیشین گوئی کی گئی ہے کہ بعد کے زمانے میں امت مسلمہ میں تہتر فرقے ہو جائیں گے (ابوداؤد، کتاب السنة) میرا خیال ہے کہ یہ تہتر فرقے، دراصل وہ تہتر گروہ ہوں گے جو قرآن کی تہتر آیتوں سے اپنے لیے الگ الگ نقطہ آغاز دریافت کریں گے اور پھر امت واحدہ کو امت متفرقہ میں تبدیل کر دیں گے۔ یہ ایک واقعہ ہے کہ نقطۂ آغاز کا فرق پورے معاملے میں فرق پیدا کر دیتا ہے۔ اس مسئلے کا حل یہ ہے کہ ترتیب کار کے سوال کا جواب اصحاب رسول کی تاریخ میں تلاش پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے عملی طور پر اپنے اصحاب کو کیا نقطۂ آغاز دیا اور کس رخ پر انھیں چلایا، یہی اس مسئلے کا واحد حل ہے۔ نقطۂ آغاز یا ترتیب کار کا سوال ایک عملی سوال ہے، اور اس کو عملی تاریخ ہی کے ذریعے معلوم کیا جا سکتا ہے۔

حدیث میں آیا ہے کہ : اِنّ اللہ یبعث لہذہ الأُمّة علی رأس کلّ مائة سنة من یجدّد لھا دینھا (ابوداؤد، کتاب الملاحم) اور دوسری طرف حدیث میں یہ خبر دی گئی ہے کہ خیر القرون قرنی، ثم الذین یلونھم، ثم الذین یلونھم ( صحیح البخاری )۔ اس دوسری حدیث کے مطابق، ابتدائی تین زمانوں (عہد رسالت، عہد صحابہ، عہد تابعین) کو قرونِ مشہود لھا بالخیر کہا گیا ہے۔ اس قسم کی حدیثوں پر غور کرتے ہوئے میری سمجھ میں آتا ہے کہ پہلے دور سے مراد وہ دور ہے جب کہ صحیح نقطۂ آغاز لے کر کام کیا گیا اور اس کے مطابق، ایک نسل تیار ہوئی۔ فطرت کے قانون کے مطابق، دوسری نسل پہلی نسل سے گہرے طور پر متاثر ہوتی ہے۔ یہ تیسری نسل تک کم وبیش باقی رہتا اس کے بعد حالات بدل جاتے ہیں اور ضرورت ہوتی ہے کہ صحیح نقطۂ آغاز سے کام شروع کر کے دوبارہ پہلے گروہ کے مانند ایک گروہ بنایا جائے۔

اس سلسلے میں حدیث میں ’سو سال‘ کا ذکر کیا گیا ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ سو سال سے مراد مذکورہ تین نسلوں کا زمانہ ہے۔ سو سال کے اندر تربیت یافتہ تین نسلوں کا خاتمہ ہو جاتا ہے۔ اس کے بعد ضرورت ہوتی ہے کہ دوبارہ پہلے کی طرح ایک تربیت یافتہ نسل بنائی جائے۔ تربیت یافتہ نسل بنانے کے اسی کام کو حدیث میں ’تجدید‘ کہا گیا ہے۔ حدیث کے مطابق ، تجدید کا یہ کام بار بار سو سالہ وقفے کے ساتھ جاری رہے گا، یہاں تک کہ قیامت آ جائے۔

احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ آخری زمانے میں امت مسلمہ میں ایک شخص پیدا ہو گا جس کو المہدی کا نام دیا گیا ہے۔ المہدی کوئی سیاسی لیڈر نہیں ہوگا۔ وہ حکومت قائم کرنے کے لیے نہیں اٹھے گا، بلکہ اس کا کام یہ ہوگا کہ دورِ آخر کے زیادہ بدلے ہوئے حالات میں از سرِ نو صحیح نقطۂ آغاز کو دریافت کرے اور اس کے مطابق، اصلاح اور دعوت کا عمل جاری کر کے اسلام کو دوبارہ اس کی اصل صورت میں قائم کردے۔

صحیح نقطۂ آغاز سے مراد صحیح ترتیب کار ہے۔ صحابہ کے حالات کا مطالعہ کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ ان کی زندگی کا آغاز سچائی کی تلاش سے ہوا۔ ابتداءً وہ سچائی کی تلاش میں سرگرداں ہوئے۔

کے بعد یہ ہوا کہ ان کو سچائی کی ڈسکوری ہوئی۔ اس کے بعد ان کی زندگی میں ایک اور عمل جاری ہوا جس کو قرآن میں تزکیہ کہا گیا ہے۔ تزکیہ سے مراد کوئی پر اسرار چیز نہیں۔ اس کا مطلب ہے ذہن کی ڈی کنڈیشننگ (de-conditioning)، ذہن کی ری انجینئرنگ (re-engineering)، اور وہ چیز جس کو تزکیہ نفس (purification of soul) کہا جاتا ہے۔

اسی کے ساتھ ہر صحابی کی زندگی میں دعوت کا عمل شامل ہو گیا۔ معرفت اور دعوت دونوں باہم اس طرح جڑے ہوئے ہیں کہ ان کو ایک دوسرے سے الگ نہیں کیا جا سکتا۔ معرفت اور دعوت دونوں اپنی حقیقت کے اعتبار سے وہی کام ہیں جو دورِ اول میں پیش آئے تھے، لیکن جدید سائنسی دور میں جو نئے فکری مواقع ظہور میں آئے ہیں وہ بھی حسب امکان اس کا حصہ بنتے چلے جائیں گے۔ گویا کہ موجود زمانے میں حق کی اعلیٰ معرفت کسی کو سائنسی فریم ورک میں حاصل ہوگی، اور اسی طرح دعوت کا کام بھی سائنسی فریم ورک کے مطابق انجام پائے گا۔ سائنسی فریم ورک سے مراد عین وہی چیز ہے جس کو قرآن میں لسان قوم، یعنی لسان عصر کہا گیا ہے (ابراہیم (۴)۔ اپنی نوعیت کے اعتبار سے یہ قدیم اور جدید کا امتزاج نہیں ہوگا بلکہ وہ قدیم کا صرف ایک نیا اظہار ہوگا، اس سے زیادہ اور کچھ نہیں۔ یہ ایک نفسیاتی حقیقت ہے کہ جب کوئی آدمی ایک بڑی سچائی کو دریافت کرے تو فوراً وہ چاہتا ہے کہ دوسروں کو وہ اس سچائی میں حصے دار بنائے۔ عین فطری تقاضے کے طور پر اس کے اندر یہ تڑپ جاگ اٹھتی ہے کہ وہ چیز جو اس نے اپنے نسخہ نجات کے طور پر دریافت کی ہے، اس سے کوئی بھی عورت اور مرد محروم نہ رہے، اس طرح دعوت، معرفت کے ساتھ جڑی ہوئی ہے۔ گویا کہ دعوت، معرفت ہی کی توسیعی صورت ہے۔ جہاں معرفت ہوگی وہاں دعوت ضرور ہوگی۔ اگر کوئی شخص حصول معرفت کا دعویٰ کرے، لیکن اس کی زندگی میں دعوت شامل نہ ہو تو یقینی طور پر یہ سمجھا جائے گا کہ وہ ابھی تک معرفت سے آشنا نہیں ہوا۔

حقیقت اپنی ذات میں ایک نا قابل تقسیم اکائی ہے۔ حقیقت کے مختلف مظاہر ہو سکتے ہیں، لیکن خود حقیقت ہمیشہ ایک ہی رہتی ہے۔ یہی معاملہ معرفت حق کا ہے۔ جب ایک آدمی کو لمبی مدت تک سنجیدہ

تلاش کے بعد سچائی کی دریافت ہوتی ہے تو وہ یونانی فلسفی ارشیمیدس (Archimedes) کی طرح چیخ کر بھاگتا ہے تاکہ وہ لوگوں کو بتائے کہ اس کی دریافت کے مطابق سچائی کیا ہے۔ یہ ایک نفسیاتی حقیقت ہے کہ معرفت اور دعوت دونوں ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں۔ معرفت اپنے داخل کے اعتبار سے معرفت ہے، اور اپنے خارج کے اعتبار سے دعوت۔ دین کا نقطۂ آغاز دریافت کرنے کا تعلق، بیک وقت دو چیزوں سے ہے۔ ایک، خود اپنی دینی زندگی کی تعمیر اور دوسرے، قرآن کو صحیح طور پر سمجھنا۔

نقطۂ آغاز جاننے کی اہمیت اتنی زیادہ ہے کہ جب تک آدمی کو نقطۂ آغاز معلوم نہ ہو، اُس وقت تک وہ بظاہر جاننے کے باوجود کچھ بھی جاننے سے محروم رہے گا، وہ بے یقینی اور کنفیوژن میں جئے گا، وہ بے نتیجہ کام اور نتیجے والے کام میں فرق نہ کر سکے گا، اس کی روح سچے یقین سے محروم رہے گی، وہ فارم والے دین کو جانے گا لیکن حقیقت والے دین کو وہ نہ جان سکے گا، دین اس کے لیے ایک قسم کا خارجی کلچر ہو گا نہ کہ وہ گہری حقیقت جو اس کی زندگی کا جز بن جائے، وہ سطح کی کچھ باتوں کو جانے گا، لیکن وہ گہری باتوں کو جاننے سے بے خبر رہے گا۔

یہی معاملہ قرآن فہمی کا ہے۔ وہ قرآن کے مرکزی تصور کو نہ جان سکے گا، اور جو آدمی قرآن کے مرکزی تصور سے بے خبر ہو اس کو اعلیٰ سطح پر قرآن کی بصیرت بھی حاصل نہ ہوگی۔ بظاہر وہ قرآن کو پڑھے گا، لیکن وہ اس کی گہرائی میں نہ اتر سکے گا، وہ گہرے معنوں میں قرآن کی تفسیر و تشریح نہ کر سکے گا۔ ممبئی میں مولانا وحید الدین خاں کی عصری اسلوب میں فکر انگیز اسلامی کتابیں اور ماہنامہ الرسالہ کے علاوہ دیگر اسلامی کتابیں حسب ذیل پتے پر دستیاب ہیں: 11, Mohd Ali Building, Mohd Ali Road Bhendi Bazar, Mumbai - 400 003 Tel. 23463046, Mob: 98928 90030

Printed page