رمضان اور جنگ
Al-Risala, December 2006, pp. 31–33
By Maulana Wahiduddin Khan
کچھ لوگوں کا یہ کہنا ہے کہ رمضان کا مہینہ شہر الفرقان ہے، یعنی یہ مہینہ فتح کا مہینہ ہے۔ نزدیک رمضان کے مہینے میں اگر جہاد (بمعنی قتال) کیا جائے تو فتح یقینی ہو جاتی ہے۔ برسوں میں کچھ لوگوں نے اس خیال کو لے کر رمضان کے مہینے میں اپنے مفروضہ دشمن کے خلاف جنگ لیکن یہ جنگ یک طرفہ طور پر ’’مجاہدین‘‘ کی تباہی پر ختم ہوئی۔ عجیب بات ہے کہ اس معکوس تجربے کے باوجود لوگوں کے نظریے میں فرق نہیں آیا۔ وہ اب بھی رمضان کے مہینے میں جنگ کی باتیں کر رہے ہیں۔
رمضان کے مہینے کو فتح کا مہینہ سمجھنے کا ماخذ کیا ہے۔ اس کا ماخذ یہ ہے کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں جنگ بدر پیش آئی۔ یہ جنگ ۱۷ رمضان ۲ ہجری کو ہوئی ۔ اس جنگ میں رسول اور اصحاب رسول کو فتح حاصل ہوئی۔ اس لیے یہ سمجھ لیا گیا کہ رمضان کا مہینہ فتح کا مہینہ ہے، مگر یہ ایک بے اصل بات ہے۔ بدر کی لڑائی کا رمضان کے مہینے میں پیش آنا، پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کا اپنا انتخاب (choice) نہ تھا۔ بدر کی جنگ ایک دفاعی جنگ تھی۔ وہ رمضان کے مہینے میں اس لیے پیش آئی کہ فریق مخالف کا لشکر اسی مہینے میں اقدام کر کے مدینے کے قریب بدر کے مقام پر پہنچا۔ مخالف کی طرف سے یک طرفہ اقدام تھا اور اس مسلح اقدام کی بنا پر بدر کی دفاعی جنگ پیش آئی۔ اس کا ایک ثبوت یہ ہے کہ اسلام کی ابتدائی تاریخ میں بدر کی لڑائی کے علاوہ بھی کچھ اور لڑائیاں پیش آئیں ۔ مثلاً غزوہ اُحد اور غزوہ حنین ۔ مگر یہ دوسری لڑائیاں رمضان کے مہینے میں نہیں ہوئیں۔ احد کی لڑائی مدینہ کے پاس ۶ شوال ۳ ہجری میں پیش آئی، اور حنین کی لڑائی ۱۱ شوال ۸ ہجری میں ہوئی۔ اگر ایسا ہوتا کہ بدر کی لڑائی کا رمضان کے مہینے میں پیش آنا، پیغمبر اسلام کا اپنا انتخاب ہوتا تو احد اور حنین کی لڑائیاں بھی رمضان کے مہینے میں پیش آتیں ۔ مگر جب ایسا نہیں ہوا تو یہ اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ رمضان کے مہینے کا کوئی تعلق قتال اور جنگ سے نہیں۔
حقیقت یہ ہے کہ جنگ کبھی بھی اہل اسلام کا اپنا انتخاب (choice) نہیں ہوتا۔ جب بھی کوئی جنگ پیش آتی ہے تو وہ فریق مخالف کے مسلح اقدام کے نتیجے میں صرف دفاعی طور پر پیش اور یہ واضح بات ہے کہ اقدام کرنے والے کے لیے تو تاریخ کا تعین اس کا اپنا انتخاب ہوتا ہے، مگر دفاع کرنے والے کے لیے تاریخ کا تعین اس کا اپنا انتخاب (choice) نہیں ہوسکتا۔ حدیث میں آیا ہے کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: لا تتمنّوا لقاء العدو وسئلوا الله العافية (صحیح البخاری) یعنی تم لوگ دشمن سے مد بھیڑ کی تمنا نہ کرو اور اللہ سے عافیت اس حدیثِ رسول سے جنگ کے بارے میں اسلام کا بنیادی اصول معلوم ہوتا ہے۔ اسلام میں امن کی حیثیت عموم (rule) کی ہے اور جنگ کی حیثیت استثنا (exception) کی۔ میں جنگ ایک مجبورانہ فعل ہے نہ کہ اختیارانہ فعل۔ اسلام میں جنگ کی صورت حال خود اسلام کی طرف سے پیدا نہیں کی جاتی۔ یہ دراصل فریق مخالف ہے جو جنگ کی صورت حال پیدا کر کے اہل اسلام کو دفاعی طور پر مسلح ٹکراؤ کے لیے مجبور کرتا ہے۔
جہاں تک رمضان کے مہینے کی بات ہے تو حدیث میں رمضان کو شهر الصبر (البيهقی) کہا گیا ہے، یعنی صبر کا مہینہ۔ رمضان کا مہینہ اس بات کی تربیت کا مہینہ ہے کہ لوگ اپنے آپ پر کنٹرول کر کے رہنا سیکھیں۔ وہ اپنی خواہشوں پر لگام لگائیں۔ وہ اشتعال کے باوجود مشتعل نہ ہوں۔ وہ بھوک اور پیاس کی شدت برداشت کر کے اپنے اندر روحانیت پیدا کریں۔ ذکر اور تلاوت اور نماز کی کثرت سے وہ خدا کی قربت حاصل کرنے کی کوشش کریں۔ رمضان کے مہینے کا مقصد یہ ہے کہ آدمی اپنے آپ کو آخری حد تک خدا سے قریب کرے۔ اور یہ قربت اُسی وقت ممکن ہے جب کہ آدمی اپنے آپ کو انسانوں کی دنیا سے دور لے جائے اور اپنے آپ کو خدا کی دنیا سے قریب کرے۔ ان حقیقتوں کو سامنے رکھا جائے تو یہ کہنا صحیح ہوگا کہ رمضان کا مہینہ امن کا مہینہ ہے، وہ جنگ کا رمضان کا مہینہ اپنی داخلی فطرت کو جگانے کا مہینہ ہے، وہ خارجی نزاعات میں سرگرم ہونے کا مہینہ نہیں۔ رمضان کا مہینہ خدا کی یاد میں گم ہونے کا مہینہ ہے، وہ انسانوں سے الجھنے اور خون بہانے
کا مہینہ نہیں۔ حدیث میں آتا ہے کہ جب رمضان کا مہینہ آیا اور رمضان کا نیا چاند آسمان پر دکھائی دیا تو پیغمبرِ اسلام کی زبان سے یہ الفاظ نکلے: اللّهم أهله علينا بالأمن والإيمان، والسلامة والاسلام (الترمذی: کتاب الدعوات، الدارمی: کتاب الصوم، مسند احمد) یعنی اے خدا، تو رمضان کے چاند کو ہمارے اوپر امن اور ایمان کے ساتھ اور سلامتی اور اسلام کے ساتھ ظاہر فرما۔ اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے رمضان کے مہینے کا استقبال اس احساس کے ساتھ فرمایا کہ وہ اہلِ اسلام کے لیے امن اور سلامتی کا پیغام لے کر آئے اور اہلِ اسلام کے درمیان امن اور سلامتی کا ماحول بنائے۔ پیغمبرِ اسلام کے یہ الفاظ اس بات کا قطعی ثبوت ہیں کہ رمضان کے مہینے کا کوئی تعلق قتال اور جنگ سے نہیں، بلکہ وہ اس لیے ہے کہ لوگوں کے اندر امن کے جذبات پیدا کرے اور سماج میں امن کو فروغ دے۔
قرآن میں روزے کا حکم دیتے ہوئے اس کا یہ فائدہ بتایا گیا ہے کہ: لعلکم تتقون (البقرہ: ۱۸۳) یعنی رمضان کے مہینے کا روزہ اس لیے فرض کیا گیا ہے تا کہ لوگوں کے اندر تقویٰ پیدا ہو، لوگ متقیانہ زندگی گزارنا سیکھیں، وہ برائیوں سے بچ کر زندگی گزارنے کی تربیت حاصل کریں۔ تقویٰ کیا ہے۔ اس کی وضاحت ایک حدیث سے ہوتی ہے۔ خلیفۂ ثانی عمر فاروق نے ایک سینئر صحابی ابی بن کعب سے پوچھا کہ تقویٰ کیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ اے امیر المؤمنین، کیا آپ کسی ایسے راستے سے گزرے ہیں جہاں دونوں طرف کانٹے دار جھاڑیاں ہوں۔ انھوں نے کہا کہ ہاں۔ ابی بن کعب نے پوچھا کہ اُس وقت آپ نے کیا کیا۔ انھوں نے کہا کہ میں نے اپنے کپڑے سمیٹ لیے اور بچتا ہوا اُس سے گزر گیا۔ ابی بن کعب نے کہا: ذلک التّقویٰ ۔ یعنی اسی روش کا نام تقویٰ (القرطبی، جلد اول، صفحہ ۱۶۲)
رمضان کا مہینہ تقویٰ کا مہینہ ہے۔ اب مذکورہ قولِ صحابی کی روشنی میں اس معاملے کی وضاحت کی جائے تو یہ کہنا صحیح ہوگا کہ رمضان کا مہینہ کانٹوں سے نہ الجھنے کا مہینہ ہے۔ ایسی حالت میں کتنا عجیب ہوگا کہ رمضان کے مہینے کو کانٹوں سے الجھنے کا مہینہ بنا دیا جائے۔