احساسِ محرومی کیوں
Al-Risala, December 2006, pp. 34–42
By Maulana Wahiduddin Khan
ایک آدمی کا قصہ ہے۔ وہ غریب گھر میں پیدا ہوا۔ سفر کرنے کے لیے اس کے پاس اپنے دو پیروں کے سوا کچھ اور نہ تھا۔ اس کو کہیں جانا ہوتا تو وہ پیدل سفر کر کے جاتا۔ وہ دیکھتا تھا کہ دوسرے لوگ سواریوں پر چل رہے ہیں۔ وہ اکثر سوچتا کہ کاش میرے پاس ایک بائسکل ہوتی تو میں بھی سواری پر چلنے کے قابل ہو جاتا۔
اس نے پیسہ اکٹھا کر کے اپنے لیے ایک بائسکل خریدی۔ اب وہ بائسکل پر سفر کرنے لگا۔ کہانی یہاں ختم نہیں ہوئی۔ وہ دیکھتا کہ دوسرے بہت سے لوگ ہیں جن کے پاس سفر کرنے کے لیے موٹر سائیکل ہے۔ اس نے سوچا کہ کاش، میرے پاس بھی موٹر سائیکل ہوتی تو سفر کرنا زیادہ آسان اس نے دوبارہ کوشش کی۔ آخر کار اس کے پاس دو پہیوں والا اسکوٹر ہو گیا۔ شروع کے چند دن اس کے لیے بہت خوشی کے دن تھے۔ لیکن جلد ہی اس کے دل میں ایک اور خواہش جاگ اٹھی۔ اس نے سوچا کہ دوسرے کئی لوگ ہیں جن کے پاس سفر کرنے کے لیے موٹر کار ہے، لیکن میرے پاس نہیں۔ اب اس نے ایک نئی کوشش شروع کردی۔ ایک عرصے کے بعد اس کی یہ کوشش کامیاب ہوئی، یہاں تک کہ اس نے ایک چھوٹی موٹر کار خرید لی۔
مگر اب بھی اس کی خواہشوں کی حد نہیں آئی۔ اب وہ بڑی موٹر کار کی تمنا کرنے لگا۔ آخر کار وہ دن آيا جب کہ اس کے گھر کے سامنے ایک بڑی کار آکر کھڑی ہو گئی۔ اسی کے ساتھ اس کا کاروبار بھی یہاں تک کہ اس نے دوسری کار اور تیسری کار بھی خرید لی، مگر اب وہ بوڑھا ہو چکا تھا۔ آخر کار وہ بیمار ہو کر بستر پر پڑ گیا اور پھر اپنی طبعی عمر کو پہنچ کر مر گیا۔ موت سے ایک دن پہلے اس کا ایک دوست اس سے ملا۔ وہ دیر تک اس کے پاس رہا۔ کے دوران دوست نے اس سے کہا کہ تم ایک غریب خاندان میں پیدا ہوئے۔ پھر تم نے کاروبار کیا۔ تمھارا کاروبار ترقی کرتا گیا، یہاں تک کہ آج تمھارے پاس مادی اعتبار سے بہت سی چیزیں ہیں۔
تم یہ کہہ سکتے ہو کہ دنیا میں میری سب خواہشیں پوری ہوگئیں۔ بسترِ مرگ پر لیٹے ہوئے آدمی نے کہا کہ سچ تو یہ ہے کہ اب میں ایک محرومِ تمنا آدمی کی حیثیت سے مر رہا ہوں: Now I am dying as a case of unfulfilled desires. یہ کہانی صرف ایک انسان کی کہانی نہیں ، بلکہ وہ ہر انسان کی کہانی ہے۔ ہر آدمی کا یہ حال ہے کہ وہ اپنی پوری عمر اس کوشش میں گذار دیتا ہے کہ اس کے دل میں جو خواہشیں چھپی ہوئی ہیں وہ پوری مگر ہر انسان اس احساس کے ساتھ مر جاتا ہے کہ اس کی خواہشیں پوری نہیں ہوئیں۔ میں کسی بھی عورت یا مرد کا کوئی استثناء نہیں۔
دوسری طرف حیوانات کو دیکھیے ۔ حیوانات بھی انسانوں کی طرح ہوتے ہیں۔ وہ بھی کچھ دن جیتے ہیں اور پھر مر جاتے ہیں، لیکن کوئی بھی حیوان اس دنیا میں احساسِ محرومی کے ساتھ نہیں مرتا۔ پیدا ہو کر کچھ دن جیتا ہے اور پھر اس طرح مر جاتا ہے کہ اس کو اپنی زندگی کے بارے میں کسی بھی قسم کا غم یا افسوس نہیں ہوتا۔
انسان اور حیوان میں یہ فرق کیوں ہے۔ اس کا سبب دونوں کے ذہنوں کے فرق میں پایا جاتا حیوان کا ذہن ، انسان کے ذہن سے مکمل طور پر مختلف ہوتا ہے۔ حیوان خواہ کوئی بھی ہو، اس کا ذہن حال رُخی ذہن (present-oriented mind) ہوتا ہے۔ اس بنا پر حیوان کو جو کچھ مل جائے اُسی کو وہ کافی سمجھتا ہے۔ ہر حیوان صرف آج میں جیتا ہے۔ حیوان کے ذہن میں کل یا مستقبل کا کوئی اس لیے حیوان کو ملے ہوئے سے زیادہ کی کوئی فکر بھی نہیں۔
اس کے مقابلے میں انسان کا ذہن مستقبل رُخی ذہن (future-oriented mind) ہے۔ وہ آج پر قانع نہیں ہوتا ، بلکہ وہ کل کے بارے میں بھی فکر مند رہتا ہے۔ اور وہ حال کے ساتھ مستقبل تک کامیاب رہنا چاہتا ہے۔ چوں کہ موجودہ دنیا میں انسان کو یہ طویل کامیابی حاصل نہیں ہوتی ، اس لیے ہر انسان کا مقدر بن گیا ہے کہ وہ احساسِ محرومی کے ساتھ دنیا سے چلا جائے۔ تاہم یہ مسئلہ حقیقی نہیں، وہ صرف بے خبری کا نتیجہ ہے۔ اصل حقیقت یہ ہے کہ ہر انسان کا عرصہ
حیات (life span) ابد تک پھیلا ہوا ہے۔ جب آدمی مرتا ہے تو وہ ختم نہیں ہوتا، بلکہ وہ اگلے مرحلہ حیات میں داخل ہو جاتا ہے۔ خالق کے کریشن پلان (creation plan) کے مطابق، موت سے قبل کی زندگی ٹیسٹ دینے کی زندگی ہے، اور موت کے بعد کی زندگی ٹیسٹ کے مطابق، اپنا انجام پانے کی انسان کا ذہنی تناؤ، یا اس کا احساس محرومی صرف اس لیے ہے کہ وہ خالق کے تخلیقی نقشے کو سمجھ کر اپنی رائے نہیں بناتا۔ وہ ایسا کرتا ہے کہ جو کچھ خالق نے اس کے لیے بعد از موت مرحلہ حیات میں مقدر کیا ہے، اس کو وہ قبل از موت مرحلہ حیات میں پالینا چاہتا ہے۔
اس مسئلے کا حل صرف ایک ہے، اور وہ یہ کہ آدمی حقیقت واقعہ کو سمجھے۔ وہ ایسا نہ کرے کہ جو کچھ اس کو کل ملنے والا ہے، وہ اس کو آج ہی پالینا چاہے۔ جو آدمی درخت لگانے کے دن پھل کا طالب بن جائے اس کے حصے میں صرف مایوسی آئے گی۔ اس کے برعکس، جو آدمی درخت کی تکمیل پر اس کا پھل لینے پر راضی ہو جائے، اس کے لیے نہ کوئی تناؤ ہے اور نہ کوئی افسوس۔
ذہنی تناؤ دراصل چاہنے اور پانے کے درمیان فرق کا نتیجہ ہوتا ہے۔ اس فرق کو مٹا دیجیے اور پھر ذہنی تناؤ کا مسئلہ بھی ختم ہو جائے گا۔
عورت معمارِ انسانیت مولانا وحیدالدین خاں امن عالم مولانا وحیدالدین خان سیرت رسول ﷺ مولانا وحیدالدین خاں
بی بی سی (لندن) کے نمائندہ مسٹر صلاح الدین زین نے ۴ اگست ۲۰۰۶ کوصدر اسلام مرکز کا ایک انٹرویو ریکارڈ کیا۔ سوالات کا تعلق ، اس مسئلے سے تھا کہ اسلام میں انٹر کاسٹ شادی کے بارے میں کیا حکم ہے۔ کے دوران بتایا گیا کہ یہ شرعی مسئلہ نہیں ہے بلکہ سماجی مسئلہ ہے۔ اسلام میں مذہبی بنیاد پر کوئی کاسٹ سسٹم نہیں ہے۔ ایک کاسٹ اور دوسری کاسٹ کے درمیان شادی بالکل جائز ہے۔ فقہ حنفی میں کفؤ کی بنیاد پر جو مسئلہ ہے وہ بھی کوئی شرعی مسئلہ نہیں ہے بلکہ وہ سماجی ضرورت کے تحت بنا ہے۔ انڈیا کے مشہور عالم مولا نا مفتی کفایت اللہ صاحب کُفو کے مسئلہ کے سخت مخالف تھے۔
اٹلی (روم) سے ۵۵ عورتوں اور مردوں کی ایک ٹیم نئی دہلی آئی۔ دوسری مصروفیات کے علاوہ انھوں نے کناٹ پلیس (نئی دہلی) میں ۵ اگست ۲۰۰۶ کو ایک خصوصی اجتماع کیا۔ یہ اجتماع پارک ہوٹل کے ہال میں ہوا۔ کی دعوت پر صدر اسلامی مرکز نے اس میں شرکت کی۔ اور تقریباً ایک گھنٹہ امن اور اسلام کے موضوع پر خطاب کیا۔ کے بعد آدھ گھنٹہ سوال اور جواب کا پروگرام تھا۔ اس خطاب میں اسلام کا تعارف پیش کیا گیا۔ سوال جواب کے دوران، اسلام کے مختلف پہلوؤں کی وضاحت کی گئی۔ تقریر کے بعد ان لوگوں نے خود سے یہ کیا کہ ترانے کے انداز میں ان کے لیڈر مسٹر ماریہ یہ کہتے۔ بسم اللہ الرحمن الرحیم، اللہ، اللہ، اور لا الہ الا اللہ اور مجمع میں بیٹھے ہوئی تمام اطالوی عورت اور مرد اس کو بلند آواز سے دہراتے ۔ یہ پورا پروگرام انگریزی زبان میں تھا۔ اور پورے پروگرام کی ویڈیو ریکارڈنگ کی گئی۔ اس کا کیسٹ ہمارے دفتر میں موجود ہے۔ ان لوگوں نے اسلام کی تمام تعلیمات سے اتفاق ظاہر کرتے ہوئے آخر میں یہ سوال کیا کہ اسلام جب اتنا پر امن اور فطری صداقتوں کا حامل مذہب ہے تو پھر مسلمان اسلامی تعلیمات کے برعکس کیوں ہیں۔ جواب میں بتایا گیا کہ اسلام اور مسلمانوں میں فرق ہے۔ اسلام کو جاننے کے لیے قرآن اور حدیث کا مطالعہ کرنا چاہیے نہ کہ موجودہ مسلم کمیونٹی کا۔
نئی دہلی میں مقیم ریٹائرڈ جنرل ڈاکٹر چھبر نے اپنے طور پر اسلامی مرکز کی کتابیں پاکستان کے کچھ لوگوں کو ان میں سے ایک، جماعت اسلامی پاکستان کے امیر قاضی حسین احمد صاحب تھے۔ قاضی موصوف کو یہ کتابیں مل گئیں ۔ اس کے بعد انھوں نے جنرل چھبر کے نام اپنے خط مورخہ ۵ اگست ۲۰۰۶ میں اس کو اکنا لیج کرتے ہوئے یہ الفاظ لکھے ہیں:
Kindly convey my heartly gratitude to Maulana Wahiduddin Khan sahib for sending his scholarly piece "Mutala-e-Seerat" to me, Indeed, this book is an invaluable addition to my reading shelf. جرمنی سے ایک خط اسلامی مرکز کے دفتر میں آیا ہے۔ وہ یہاں نقل کیا جاتا ہے۔
I wrote you few years back and I wanted to translate the book “Moral Vision of Islam” in German. Today I found someone who wants to publish the book “Islam and Peace”. Could you kindly send me a detailed biodata of Maulana Wahiduddin Khan, so I can pass it to the publishers. The link, which says something about Maulana Wahiduddin Khan cannot be opened. Please could you pass this on, after asking Maulana Sahib, whether he wants me to translate his book “Islam and Peace” in German. Few years ago he gave me the authority to translate his book “Vison of Islam”. I would be very thankful, if you could answer me as quick as possible. 8, August 2006 (Samina Khan (Germany)
دہلی میں دور درشن پر ایک اردو چینل کا افتتاح کیا گیا ہے۔ ۱۶ اگست ۲۰۰۶ کو اس کا پہلا پروگرام ریکارڈ یہ ریکارڈنگ خان پور مارکیٹ کے ایک اسٹوڈیو میں ہوئی۔ اس میں تین افراد کو بلایا گیا تھا۔ میرے سوا، مولانا جلال الدین عمری اور تیسرے ایک ہندو تھے جن کا نام موہن جی داس تھا۔ یہ ایک پینل ڈسکشن تھا جس کا عنوان یہ تھا: مسلمان اور دہشت گردی۔ اینکر کا فریضہ ماجد دیوبندی صاحب نے ادا کیا۔ میں نے جو کچھ کہا اس کا خلاصہ یہ تھا کہ مسلمانوں کی ایک حقیقی امیج ہے، اور دوسری میڈیا امیج۔ یہ مسلمانوں کی میڈیا امیج ہے کہ وہ دہشت گرد ہوتے ہیں۔ حقیقی امیج ایسی نہیں۔ کچھ لوگ تشدد کا طریقہ ضرور اختیار کرتے ہیں لیکن بقیہ مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ کھلے طور پر ان کی تاکہ تشدد کا فعل صرف چند مسلمانوں کا فعل سمجھا جائے نہ کہ پوری مسلم کمیونٹی کا۔ بی بی سی لندن کے نمائندہ مسٹر شکیل اختر نے ۲۲ اگست ۲۰۰۶ کو صدر اسلامی مرکز کا انٹرویو کا رڈ کیا۔ سوالات کا تعلق زیادہ تر مسلم مسائل سے تھا۔ جوابات کا خلاصہ یہ تھا کہ مسلمانوں کے مسائل کی جڑ ان کی اپنی نااہل اور نااہل قیادت مسلمانوں کے اوپر اس لیے مسلط ہوئی کہ مسلمان تعلیم میں پچھڑ گئے۔ اس لیے وہ صحیح اور غلط میں فرق کرنے کی پوزیشن میں نہیں تھے۔ وہ جذباتی نعروں کے پیچھے دوڑتے رہے۔ اس مسئلے کا واحد حل یہ ہے کہ مسلمانوں کو تعلیم میں آگے بڑھایا جائے، خاص طور پر جدید تعلیم میں۔
سائی انٹرنیشنل سنٹر (نئی دہلی) میں ۲۳ اگست ۲۰۰۶ کو ایک پروگرام ہوا۔ اس میں مختلف اسکولوں کے پرنسپل شریک ہوئے۔ اس موقع پر صدر اسلامی مرکز کو خطاب کی دعوت دی گئی۔ خطاب کا موضوع یہ تھا: Basic Human Values in Islam اس موضوع پر پہلے ۴۵ منٹ کا خطاب ہوا۔ اس کے بعد ۱۵ منٹ تک سوال وجواب ہوا۔ پروگرام کے آخر میں لوگوں کو اسلامی کتابیں تقسیم کی گئیں۔ اور یہ بتایا گیا کہ ویب سائٹ کے علاوہ آپ لوگ زی جاگرن ٹی وی پر روزانہ
صبح کو سات بج کر بیس منٹ پر صدر اسلامی مرکز کی تقریر سن سکتے ہیں۔
نئی دہلی کے ہندی روز نامہ راشٹریہ سہارا کے نمائندہ مسٹر رمیش شرما نے صدر اسلامی مرکز کا انٹرویو لیا۔ تفصیلی انٹرویو ۲۵ اگست ۲۰۰۶ کو ٹیلی فون پر ریکارڈ کیا گیا۔ سوالات کا تعلق زیادہ تروندے ماترم کے مسئلے سے تھا۔ چوں کہ مختلف تنظیموں نے یہ اعلان کیا ہے کہ ۷ ستمبر ۲۰۰۶ کو پورے ملک میں وندے ماترم گایا جائے، اور ہر فرقے کے لوگ اس میں شریک ہوں۔ ۷ ستمبر ۲۰۰۶ کو اس نظم کی اشاعت پر سوسال پورے ہو جائیں گے۔ خلاصہ یہ تھا کہ اس معاملے میں ہندو اور مسلمان دونوں غلو کا شکار ہو رہے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ وندے ماترم گانے کا نہ کوئی فائدہ ہے اور نہ کوئی نقصان۔ اس کے مؤیدین یہ کہتے ہیں کہ وندے ماترم دیش بھکتی کی اسپرٹ جگانے کے لیے سوال یہ ہے کہ وندے ماترم ایک سوسال سے برابر گایا جارہا ہے۔ ریڈیو، ٹیلی ویژن، اسکول اور جلسے ہر جگہ مگر نتیجہ برعکس ہے۔ اس مدت میں دیش بھکتی تو نہیں بڑھی، البتہ دولت بھگتی خطرناک حد تک بڑھ گئی ہے۔ حالت میں ۷ ستمبر کا دن اس معاملے پر ری اسیس منٹ (reassessment) کے طور پر منایا جانا چاہیے نہ کہ خوشی کے
نئی دہلی کے بہائی ہاؤس آف ورشپ (لوٹس ٹیمپل میں ۲۷ اگست ۲۰۰۶ کو ایک اجتماع ہوا جس میں مختلف مذہبوں کے نمائندے شریک ہوئے۔ اس کا موضوع یہ تھا:
Human being: The Living Dwelling Place of the Divine اس کی دعوت پر اسلام کے نمائندہ کی حیثیت سے صدر اسلامی مرکز نے اس میں شرکت کی۔ انھوں نے اسلامی تعلیمات کی روشنی میں اس موضوع پر خطاب کیا۔ ایک بات انھوں نے یہ کہی کہ مذاہب کے درمیان جھگڑا زیادہ تر کٹر پن کی وجہ سے ہوتا ہے۔ اس کو اسلام میں غلو کہا گیا ہے۔ غلو کا مطلب ہے انتہا پسندی (extremism)۔ دوردرشن (نئی دہلی) کے اسٹوڈیو میں ۲۹ اگست ۲۰۰۶ کو ایک خصوصی پروگرام تھا۔ اس میں کئی لوگوں کو شرکت کی دعوت دی گئی تھی۔ اس کا موضوع کمیونل ہارمنی تھا_ صدر اسلامی مرکز نے بھی اس کی دعوت پر اس پروگرام میں شرکت کی۔ انھوں نے اسلامی تعلیمات کی روشنی میں بتایا کہ ہندوستان میں فرقہ وارانہ ہم آہنگی کیسے لائی جاسکتی ان میں سے ایک بات یہ تھی کہ کسی بھی سماج میں اختلاف کا پیدا ہونا بالکل فطری ہے۔ اس لیے لوگوں کو چاہیے کہ وہ اختلاف سے ٹکرانے کے بجائے اس کو نظر انداز کریں۔ وہ ڈفرنس مینجمنٹ کے اصول پر اس مسئلے کو حل کریں۔ بھی حال میں احتجاج اور مظاہرہ اور تشدد کا طریقہ نہ اختیار کریں۔ اس پروگرام میں سوامی اگنی ویش، تارا بھٹا چاریہ، پروفیسر کمار، وغیرہ شریک ہوئے۔
جن مت ٹی وی (نئی دہلی) کی نمائندہ مزور مانی (Jyoti Virmani) نے ۳۰ اگست ۲۰۰۶ کو صدر اسلامی مرکز کا انٹرویو لیا۔ انٹرویو اس سوال پر تھا کہ انشورنس کروانا، مسلمان کے لیے جائز ہے کہ نہیں۔ جواب میں بتایا
گیا کہ ہر چیز کو جائز اور ناجائز کا مسئلہ بنانا، یہ خود اسلامی تعلیم کے خلاف ہے۔ سب سے پہلے حالات کو دیکھا جاتا حالات کے مطابق، جو چیز قابل عمل ہو اس پر فتویٰ دیا جاتا ہے۔ جو چیز قابل عمل نہ ہو اس پر فتویٰ دینا یہ خود اسلام کے خلاف ہے۔ کیوں کہ ایسا فتویٰ اپنے نتیجے کے اعتبار سے کوئی اصلاح کی بات نہیں ہے بلکہ وہ اسلام کی تصغیر کے ہم معنی ہے۔
بی بی سی لندن کے نمائندہ مسٹر صلاح الدین نے ۳۱ اگست ۲۰۰۶ کو ٹیلی فون پر صدر اسلامی مرکز کا انٹرویو ریکارڈ کیا۔ انٹرویو کا موضوع حج سبسڈی تھا۔ جواب میں بتایا گیا کہ حج سبسڈی، جو گورنمنٹ کی طرف سے دی جاتی ہے وہ بالکل جائز ہے، اس میں ناجائز کی کوئی بات نہیں ہے۔ تمام مسلم ملکوں میں یہ طریقہ رائج ہے۔ حالاں کہ مسلم رہنما ہر مسلم ملک کے بارے میں کہتے ہیں کہ وہاں کے حکمران اسلامی اصولوں پر حکومت کا نظام نہیں چلاتے ۔ اپنے دنیوی حقوق کے معاملے میں جمہوریت کا حوالہ دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ ہندوستان کی حکومت اُسی طرح ہماری حکومت ہے جس طرح وہ ملک کے دوسرے باشندوں کی حکومت ہے۔ ایسی حالت میں حج سبسڈی کے بارے میں مسلم ممالک اور ہندوستان کے درمیان فرق کرنے کی کوئی وجہ نہیں۔
جَین ٹی وی (نئی دہلی) کی ٹیم نے ۳ ستمبر ۲۰۰۶ کی شام کو صدر اسلامی مرکز کا انٹرویو ریکارڈ کیا۔ سوالات کا تعلق، وندے ماترم سے تھا۔ ایک سوال کے جواب میں کہا گیا کہ اس اشو پر شور و غل کرنا اور اس کو شرعی مسئلہ بنانا درست نہیں۔ ڈاکٹر محمد اقبال نے اپنی ایک نظم میں برہمن کو خطاب کرتے ہوئے کہا تھا: پتھر کی مورتی میں سمجھا ہے تو خدا ہے خاک وطن کا مجھ کو ہر ذرہ دیوتا ہے جب مسلمانوں سے کہا جاتا ہے کہ اقبال کا یہ شعر بھی اتنا ہی قابل اعتراض ہے جتنا کہ وندے ماترم، تو مسلمان کہتے ہیں کہ اقبال نے جو کہا تھا وہ تو شعر و شاعری کی بات ہے۔ مگر سوال یہ ہے کہ بنکم چندر چٹرجی نے اپنے ناول آنند مٹھ میں وندے ماترم کی شکل میں جو گیت شامل کیا وہ بھی تو ناول اور شعر و شاعری کی بات ہے۔ ایسی حالت میں مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ یا تو دونوں کے خلاف ہنگامہ کریں یا دونوں کو نظر انداز کر دیں۔ شانتی گری آشرم (نئی دہلی) کا سالانہ فنکشن ۳ ستمبر ۲۰۰۶ کو تھا۔ شانتی گری آشرم کا مرکز کیرلا (تری وندرم) میں ہے۔ اس کے فاؤنڈر گرونا کر اگروہیں۔ وہ ایک مسلم صوفی قریشیہ فقیر کے شاگرد مانے جاتے ہیں۔ اس کی دعوت پر صدر اسلامی مرکز نے اس میں شرکت کی۔ یہاں کئی ممتاز افراد کی تقریریں ہوئیں۔ صدر اسلامی مرکز نے اپنی تقریر میں قرآن اور حدیث کی روشنی میں بتایا کہ امن اور انسانیت کے بارے میں اسلام کی تعلیمات کیا ہیں۔ موقع پر تعلیم یافتہ افراد بڑی تعداد میں شریک تھے۔ ان لوگوں کے درمیان اسلامک لٹریچر اور دعوہ بروشر تقسیم کیا گیا۔ لوگوں سے اسلام کے موضوع پر گفتگو ہوئی۔
بی بی سی کے نمائندہ مسٹر عبد الباقی مرزا نے ۳ ستمبر ۲۰۰۶ کی شام کو ایک انٹرویو ریکارڈ کیا۔ یہ انٹرویو کار
پر سفر کے دوران ریکارڈ کیا گیا۔ سوالات کا تعلق، وندے ماترم سے تھا۔ جواب میں ایک بات یہ کہی گئی کہ وندے ماترم نہ گیتا میں آیا ہے اور نہ ویدوں میں۔ وہ صرف بنکم چندر چٹرجی کے ناول ’آنند مٹھ‘ میں آیا ہے۔ اس لیے وہ کوئی مذہبی نہیں یہ ایک پولیٹکل اشو ہے۔ ایسی حالت میں وندے ماترم پڑھنے کو مذہبی اہمیت دے کر اس کے خلاف ہنگامہ کرنا
۵ ستمبر ۲۰۰۶ کو دوردرشن (اردو) کی ٹیم نے صدر اسلامی مرکز کے تفصیلی انٹرویو کی ویڈیو ریکارڈنگ کی۔ یہ انٹرویو تقریباً ڈیڑھ گھنٹے تک جاری رہا۔ انٹرویور مسٹر تحسین منور تھے۔ یہ پورا انٹرویو نظام الدین ویسٹ کے پارک میں ریکارڈ کیا گیا۔ سوالات کا تعلق، اسلام کے مختلف پہلوؤں سے تھا۔ ایک سوال کے جواب میں کہا گیا کہ اسلام اور دور جدید میں کوئی ٹکراؤ نہیں ہے۔ اسلام ایک ابدی مذہب ہے۔ ضرورت صرف یہ ہے کہ اسلام کی تعلیمات کو عصری اسلوب میں بیان کیا جائے۔
ہندی اخبار کے نمائندہ مسٹر کرشن موہن مشرانے ۷ ستمبر ۲۰۰۶ کو صدر اسلامی مرکز کا انٹرویو لیا۔ کے سوالات کا تعلق، وندے ماترم سے تھا۔ ایک سوال کے جواب میں کہا گیا کہ وندے ماترم کو پڑھانے پر اس لیے زور دیا جاتا ہے کہ اس سے ملک میں دیش بھکتی آئے گی۔ مگر سو برس سے وندے ماترم پڑھا جا رہا ہے، مگر اب تک ملک میں دیش بھکتی کو فروغ حاصل نہ ہو سکا۔ ایسی حالت میں ضرورت ہے کہ اس معاملے پر نظرثانی کی جائے، نہ کہ اس کو پڑھانے کی دھوم مچائی جائے۔
این ڈی ٹی وی (نئی دہلی) نے ۱۴ ستمبر ۲۰۰۶ کو ٹیلی فون پر صدر اسلامی مرکز کا انٹرویو لیا۔ یہ انٹرویو اسی دن صبح ۹ بجے کے لائیو ٹیلی کاسٹ میں نشر کیا گیا۔ آج ہی ۱۴ ستمبر کے اخباروں میں یہ خبر آئی ہے کہ مسیحی پوپ نے اپنی تقریر میں کہا کہ اسلام کے پیغمبر نے یہ تعلیم دی ہے کہ اسلام کو تلوار کے ذریعے پھیلاؤ۔ اس سلسلے میں بتایا گیا کہ یہ بات بالکل غلط ہے۔ اسلام میں تلوار کا استعمال صرف وقتی اور استثنائی طور پر دفاع کے لیے کیا گیا۔ اسلام کی اشاعت کے لیے کبھی تلوار کا استعمال نہیں کیا گیا۔ حضرت مسیح نے کہا تھا کہ: ’’یہ نہ سمجھو کہ میں زمین پر صلح کرانے آیا ہوں۔ نہیں، بلکہ تلوار چلوانے آیا ہوں‘‘۔ (متی: ۳۵) حضرت مسیح کے اس قول کا یہ مطلب نہیں ہے کہ وہ تلوار کا مذہب لے کر آئے تھے۔ اسی طرح پیغمبر اسلام بھی تلوار کا مذہب لے کر نہیں آئے، بلکہ وہ امن کا مذہب لے کر آئے۔ این ڈی ٹی وی (نئی دہلی) کی ٹیم ۱۴ ستمبر ۲۰۰۶ کو اسلامی مرکز کے دفتر میں آئی اور صدر اسلامی مرکز کا انٹرویور مسٹر شارق تھے۔ یہ انٹرویو پوپ کے اُس بیان سے متعلق تھا جو ۱۴ ستمبر کے اخبارات میں چھپا ہے۔ اس سلسلے میں بتایا گیا کہ پوپ کا بیان ایک کنفیوژن پر مبنی ہے۔ قرآن میں قتال کی بات ضرور کی گئی ہے مگر وہ صرف دفاع کے لیے ہے۔ پوپ نے یہ کیا کہ قتال کی بات کو اسلام کی تبلیغ سے جوڑ دیا۔
بی بی سی لندن (اردو سروس) کے نمائندہ مسٹر ثقلین امام نے ۱۵ ستمبر ۲۰۰۶ کو ٹیلی فون پر صدر اسلامی مرکز
سوالات کا تعلق زیادہ تر مسیحی پوپ کے اُس بیان سے تھا، جو ۱۳ ستمبر ۲۰۰۶ کو مختلف اخباروں میں شائع جواب میں بتایا گیا کہ اسلام کوئی نیا مذہب نہیں، وہ پچھلے مذاہب کا محفوظ ایڈیشن ہے۔ اسلام میں یہ اصول نہیں ہے کہ تلوار کے ذریعے اسلام کو پھیلایا جائے، بلکہ اسلام کا اصول یہ ہے کہ لا إكراه في الدين (البقرہ ۲۵۶) اسلام میں تلوار کا استعمال صرف دفاع کے لیے ہے، کسی اور مقصد کے لیے نہیں۔
این ڈی ٹی وی (نئی دہلی) نے ’مقابلہ‘ چینل پر ۱۵ ستمبر ۲۰۰۶ کو صدر اسلامی مرکز کا انٹرویو لیا۔ انٹرویو ٹیلی کاسٹ تھا۔ ان کا موونگ اسٹوڈیو دفتر کے سامنے روڈ پر آیا اور اس طرح انٹرویو لیا۔ انٹرویو کا موضوع مسیحی پوپ کا بیان تھا جو ۱۴ ستمبر ۲۰۰۶ کو میڈیا میں آیا ہے۔ جوابات کا خلاصہ یہ تھا کہ پوپ کا بیان ایک فکری چیلنج ہے، وہ کوئی مسلح حملہ نہیں۔ اس لیے اس کا جواب بھی فکری سطح پر دینا چاہیے۔ سڑکوں پر مظاہرہ کرنا، یا تشددانہ ردِ عمل ظاہر کرنا اس کا جواب نہیں۔
ہندی روزنامہ دینک جاگرن (نئی دہلی) کے نمائندہ نے ۱۵ ستمبر ۲۰۰۶ کو ٹیلی فون پر صدر اسلامی مرکز کا انٹرویو لیا۔ سوالات کا تعلق مسیحی پوپ کے حالیہ بیان سے تھا۔ جواب میں بتایا گیا کہ اس قسم کی باتوں کے جواب میں یہ کہا جاتا ہے کہ یہ زمانہ آزادیٔ تقریر کا زمانہ ہے۔ یہ بات اپنی جگہ درست ہے، لیکن اسی کے ساتھ یہ بھی ایک واقعہ ہے کہ یہ زمانہ سائنٹفک استدلال کا زمانہ ہے۔ پوپ، یا اس قسم کے لوگ اپنی آزادیٔ رائے کے حق کو تو استعمال کرتے ہیں، لیکن وہ اس بات کو بھول جاتے ہیں کہ یہ زمانہ سائنٹفک استدلال کا زمانہ ہے۔ علمی دلیل کے بغیر رائے کا اظہار، زمانے کی اسپرٹ کے سراسر خلاف ہے۔
ہندی روزنامہ دینک بھاسکرن کے نمائندہ مسٹر دویدی نے ۱۵ ستمبر ۲۰۰۶ کو صدر اسلامی مرکز کا انٹرویو ٹیلی فون پر ریکارڈ کیا۔ سوالات کا تعلق، پوپ کے حالیہ بیان سے تھا۔ جواب کے تحت بتایا گیا کہ پوپ نے یہ بات اپنی ایک تقریر میں کہی، جس کا عنوان تھا— فیتھ اینڈ ریزن: