Faith and Reason
Al-Risala, December 2006, pp. 42–44
By Maulana Wahiduddin Khan
یہ عجیب بات ہے کہ انھوں نے اپنے سات صفحے کے لکچر میں یہ کہا کہ مذہب کی تعلیمات کو عقلی دلائل کی روشنی میں بیان کرنا چاہیے، لیکن خود انھوں نے اسلام پر جو منفی ریمارک دیا اس کی کوئی علمی دلیل اپنے طویل لکچر میں انھوں نے پیش نہیں کی۔
انگریزی روزنامہ دکن، ہیرالڈ کی نمائندہ مرشو بھا کھر جی نے ۱۶ ستمبر ۲۰۰۶ کو صدر اسلامی مرکز کا انٹرویو لیا۔ یہ انٹرویو ٹیلی فون پر ریکارڈ کیا گیا۔ سوالات کا تعلق، زیادہ تر اس سے تھا کہ پوپ بینڈ کٹ نے اپنے بیان پر معافی مانگ لی ہے۔ اس کے بعد اس معاملے میں مسلمانوں کا رویہ کیا ہونا چاہیے۔ جواب میں بتایا گیا کہ مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ اب پوپ کے خلاف اپنی احتجاجی مہم کو ختم کردیں۔ البتہ یہ کام بدستور باقی ہے کہ پوپ نے اسلام کی نسبت
سے جو سوالات اٹھائے ہیں ان کی مدلل وضاحت کی جائے۔ مثلاً یہ کہ تشدد کا کوئی تعلق، اسلام سے نہیں۔ تشددانہ تحریک چلاتا ہے وہ اسلام سے انحراف کر کے ایسا کر رہا ہے۔
زی نیوز (نئی دہلی) کی ٹیم نے ۱۶ ستمبر ۲۰۰۶ کو صدر اسلامی مرکز کا ویڈیو یا نٹرویو ریکارڈ کیا۔ تعلق پوپ بینڈکٹ کے حالیہ بیان سے تھا جس میں انھوں نے کہا تھا کہ اسلام کا کوئی مثبت کنٹری بیوشن انسانی تاریخ اس کے جواب میں یہ بتایا گیا کہ پوپ کا یہ دعویٰ بالکل بے اصل ہے۔ اپنے سات صفحے کے پیپر میں انھوں نے اس کی کوئی دلیل نہیں دی۔ ان کا ایک دعویٰ یہ تھا کہ اسلام تلوار کے ذریعے پھیلایا گیا۔ بتایا گیا کہ اصل واقعہ اس کے برعکس ہے۔ اسلام اپنی نظریاتی طاقت سے پھیلا، نہ کہ تلوار کی طاقت سے۔ خود مغربی مصنفین نے اس کا اعتراف مثلاً ٹامس کارلائل، اورٹی ڈبلو آرنلڈ، وغیرہ۔ اس کے انٹرویو ر مسٹر راجیو (Rajeev Ranjan) تھے۔ اسٹار نیوز (نئی دہلی) کی ٹیم نے ۱۶ ستمبر ۲۰۰۶ کو صدر اسلامی مرکز کا انٹرویو لیا۔ سوال کا تعلق، زیادہ تر اس مسئلے سے تھا کہ مسیحی پوپ نے اسلام کے خلاف جو ریمارک دیا تھا اس پر اس نے غیر مشروط معافی مانگ لی ہے۔ ایسی حالت میں اب اس معاملے میں مسلمانوں کی پوزیشن کیا ہونی چاہیے۔ جواب میں بتایا گیا کہ اسلام کا طریقہ یہ ہے کہ معافی کو فوراً قبول کر لیا جائے اور معاملے کو بالکل ختم کر دیا جائے۔
اسٹار نیوز (نئی دہلی) کی ٹیم نے ۱۶ ستمبر ۲۰۰۶ کو صدر اسلامی مرکز کا ویڈیو یا نٹرویو ریکارڈ کیا۔ مسٹر رائے (Amritanshu Rai) تھے۔ سوالات کا تعلق اس مسئلے سے تھا کہ شریعت میں فتویٰ کیا ہے۔ خلاصہ یہ تھا کہ فتویٰ کا مطلب ایک مفتی کی ذاتی رائے ہے۔ کوئی مفتی اپنی ذاتی رائے اُس وقت دیتا ہے جب کہ کوئی شخص خود اپنے ذاتی معاملے سے متعلق، مفتی کی رائے جاننا چاہے۔ یہ طریقہ، فتویٰ کا غلط استعمال ہے کہ مسئلہ کسی اور کا ہو اور سوال کوئی اور شخص کرے۔ اسی طرح یہ بھی فتویٰ کا غلط استعمال ہے کہ مفتی اپنی حد سے باہر جا کر ایسے مسئلے میں فتوے جاری کرے، جس کا تعلق، عدالت اور حکومت سے ہو۔
دہلی کے ٹی وی چینل ۷ نے ۱۶ ستمبر ۲۰۰۶ کو صدر اسلامی مرکز کا انٹرویو لیا۔ انٹرویو ر مسٹر جتارتھ سوالات کا تعلق مسیحی پوپ کے حالیہ بیان سے تھا۔ جوابات کے تحت جو بات کہی گئی ان میں سے ایک بات یہ تھی کہ پوپ کے اس بیان کے خلاف ویسا سخت ردِعمل ہونے والا نہیں ہے جو ڈنمارک کے کارٹون کے خلاف ہوا ۱۵ ستمبر کو جمعہ کے عبادتی اجتماع کی وجہ سے وقتی طور پر کچھ مظاہرہ ہو گیا، لیکن الگ سے اس اشو پر کچھ ہونے والا نہیں۔ الامین پبلک اسکول (کوچن) کے تحت، ۱۶ ستمبر ۲۰۰۶ کو ایک انٹراسکول اسلامک کوئز (InterSchool Islamic Quiz) منعقد کیا گیا۔ اسکول کی فرمائش پر ان کو گولڈ ورڈ کی اسلامی کتابیں بھیجی گئیں۔ جو وہاں کامیاب طلبا کو بطور انعام دی گئیں۔ اس سلسلے میں اسکول کی طرف سے ایک خط موصول ہوا ہے جو یہاں نقل کیا
We are gald to inform you that the Inter-School Religious Quiz, which was held on 16th Sept. 2006, was a grand success with three senior students from around 30 schools participating from various districts of Kerala. Al-Ameen Public School, Edappally, sponsored the individual trophies and the trophy for the winning schools along with cash prizes. Apart from these above prizes, all participants were given gift hampers consisting of the Quran with Malayalam translation, Islamic Books, World Atlas and Parker Pen. Escorting teachers of the various schools were given a set of Further an Islamic Quiz Competition was also held for the parents and escorting teachers of various schools and prizes were distributed for the winners. We take this opportunity to thank your good self for your wholehearted contribution for this noble cause without which we would not have been able to make this programme a grand May Allah Almighty reward you and give the best in this life and (Mrs. Fahmida Fiaz)
Religious Quiz Coordinator (Mrs. Jayaprabha Pradeep)