سچائی ۔ ایک مطالعہ
Al-Risala, January 2006, pp. 5–8
By Maulana Wahiduddin Khan
کہا جاتا ہے کہ سچائی مطلق چیز نہیں۔ ہر آدمی کی سچائی الگ الگ ہے۔ جو چیز کسی ایک کے لیے سچائی ہو وہی دوسرے کے لیے سچائی نہیں ہوسکتی۔ دوسرے لفظوں میں یہ کہ سچائی ایک ریلیٹیو (relative) چیز ہے، وہ کوئی ریل (real) چیز نہیں۔ اس بات کو ایک فلسفی نے ان الفاظ میں بیان کیا ہے: There is no full stop in truth, but only commas. کچھ لوگ اس طرح سوچتے ہیں۔ مگر یہ ایک ایسی سوچ ہے جو بداہتاً ہی غلط ہے۔ اس قسم کے مفروضے کے پیچھے کوئی لاجک یا کوئی ریشنل گراؤنڈ نہیں اس دنیا میں آدمی جن چیزوں کو بھی مانتا ہے اُن کو وہ مطلق مفہوم میں مانتا ہے۔ یہی انسان کی اگر انسان کسی چیز کو اس کے مطلق مفہوم میں دریافت نہ کرے تو وہ مسلسل اُس وقت تک اپنی تلاش جاری رکھتا ہے جب تک وہ اُس چیز کو اُس کی مطلق صورت میں دریافت نہ کر لے۔ مثال کے طور پر قدیم زمانے میں انسان سورج اور شمسی نظام کے بارے میں بہت کم جانتا تھا۔ وہ ہزاروں سال تک اُس کی کھوج میں لگا رہا۔ یہاں تک کہ انسان نے سورج اور اس کے تابع سیاروں کے پورے نظام کو دریافت کر لیا۔ جب تک انسان اس دریافت تک نہیں پہنچا تھا وہ برابر اس کی تلاش میں لگا رہا۔
یہی معاملہ علم کے دوسرے شعبوں کا ہے۔ ہزاروں سال سے انسان علم کے مختلف شعبوں میں بحث وتحقیق میں مشغول رہا ہے اور بدستور مشغول ہے۔ وہ اُس وقت تک اپنی تحقیق جاری رکھتا ہے جب تک اُس کی اصل حقیقت کو معلوم نہ کر لے۔ گویا انسان کے نزدیک ہر چیز کی ایک مطلق صورت ہے۔ ستاروں سے لے کر ایٹم تک کسی چیز کا اس میں استثناء نہیں۔
گویا انسانی ذہن کے مطابق ، ہر چیز اپنی ایک مطلق صورت رکھتی ہے۔ یہی وہ یقین ہے جس کی بنا پر ہزاروں سال سے تحقیق اور جستجو کا عمل جاری ہے۔ اگر انسان یہ مان لے کہ چیزوں کا کوئی مطلق
فارم نہیں تو اچانک تمام سائنسی سرگرمیاں ٹھپ ہو جائیں گی۔ علم کا سفر ہمیشہ کے لیے رک جائے گا۔ یہی اصول ذاتی معاملات کا ہے۔ انسان اپنے آپ کو مطلق سمجھتا ہے۔ اگر وہ ایسا نہ سمجھے تو وہ ایک دن بھی زندہ نہ رہ سکے۔ انسان اپنی ماں، اپنی بیوی، اپنی اولاد کو مطلق سمجھتا ہے۔ اسی تصور پر خاندان کا نظام قائم ہے۔ اگر ایسا نہ ہو تو انسانی زندگی کا سارا نظام بکھر کر رہ جائے۔ اسی طرح انسان اپنی پراپرٹی، مثلاً گھر اور کار اور بزنس اور بینک بیلنس کو مطلق سمجھتا ہے۔ اگر وہ ایسا نہ سمجھے تو اس کی معاشی زندگی کبھی تشکیل نہ پا سکے گی۔
ایسی حالت میں یہ ماننا کہ سچائی مطلق نہیں، گویا یہ ماننا ہے کہ سچائی کی حیثیت ایک استثناء کی گویا کہ سچائی مطلق دنیا میں ایک غیر مطلق (non-absolute) کی حیثیت رکھتی ہے۔ مگر اس قسم کے عقیدے کے لیے کوئی منطقی بنیاد موجود نہیں۔ یہ بات نا قابل فہم ہے کہ اس وسیع دنیا میں دوسری تمام چیزیں تو مطلق ہوں، مگر سچائی استثنائی طور پر مطلق نہ ہو۔ یہ ایک منطقی تضاد ہے اور اس قسم کا منطقی تضاد عقل و فہم والے انسان کے لیے قابل قبول نہیں ہو سکتا۔
یہ کوئی سادہ بات نہیں۔ غور کیجیے تو انسان ایک دہرا وجود ہے۔ جسم اور روح۔ سچائی کے سوا جتنی چیزیں ہیں وہ سب کی سب انسان کی جسمانی ضرورت سے تعلق رکھتی ہیں۔ سچائی واحد چیز ہے جو انسان کو اپنی روحانی ضرورت کے طور پر مطلوب ہے۔ اب یہ نا قابل فہم ہے کہ جسم کی ضرورت پوری کرنے کے لیے جو چیزیں اس دنیا میں ہیں وہ تو سب کی سب مطلق ہوں۔ مگر سچائی، جو انسان کی روحانی ضرورت کو پورا کرتی ہے وہ مطلق نہ ہو۔
اس تقسیم کو ماننے کے لیے یہ ماننا پڑے گا کہ اس دنیا میں ایک بہت بڑا تضاد ہے۔ ضرورتوں کا سامان مطلق حیثیت سے موجود ہے۔ مگر روحانی ضرورت کا سامان استثنائی طور پر ایک ایسی چیز ہے جس کی تکمیل کا سامان مطلق حیثیت سے دنیا میں موجود ہی نہیں۔
ایک فلسفی جو سچائی کو مانتا تھا، اُس نے اپنے نقطۂ نظر کے حق میں دلائل پیش کرتے ہوئے کہا کہ سچائی انسان کی سب سے بڑی ضرورت ہے۔ سچائی کے بغیر انسان سر تا سر نامکمل ہے۔ سچائی انسان کی
اتنی بڑی ضرورت ہے کہ اگر وہ مطلق نہ ہو تو ہم کو مفروضہ طور پر یہ یقین کرنا پڑے گا کہ سچائی مطلق ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ سچائی کو مطلق نہ ماننا ایک ذہنی خودکشی ہے۔ جو لوگ ایسا کہتے ہیں وہ اپنے اس قول میں سنجیدہ نہیں ہوتے۔ اگر وہ سنجیدہ ہوں تو کبھی وہ ایسا لفظ اپنے منہ سے نہ نکالیں ۔ سچائی کو مطلق نہ ماننا ایسا ہی ہے جیسے کوئی شخص یہ کہے کہ میں اپنی ماں کو مطلق مفہوم میں اپنی ماں دوسرے لفظوں میں یہ کہ ہوسکتا ہے کہ وہ میری ماں ہو، اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ وہ میری ماں ظاہر ہے کہ کوئی بھی سنجیدہ انسان غیر مطلقیت (non-absolution) کے اس نظریے کا تحمل نہیں ٹھیک اسی طرح کوئی سنجیدہ انسان اس کا بھی تحمل نہیں کر سکتا کہ وہ کہے کہ سچائی میرے نزدیک کوئی مطلق چیز نہیں۔ سچائی تو صرف ایک ریلیٹیو چیز ہے۔ یعنی A بھی سچائی ہو سکتی ہے اور B بھی اور اسی طرح C اور D بھی۔ یہاں تک کہ Z تک ہر چیز سچائی ہو سکتی ہے۔
یہاں تک کہ یہ بھی ممکن ہے کہ A سے Z تک کوئی بھی سچائی نہ ہو۔ بلکہ سچائی ان کے سوا کوئی اور ہو، یا سچائی ، سرے سے کوئی چیز ہی نہ ہو۔ یہ بلاشبہ ایک ایساذہنی تعیش (intellectual luxury) ہے جس کا کوئی سنجیدہ انسان کبھی تحمل نہیں کر سکتا۔
سنجیدہ طور پر کوئی شخص یہ تو کہہ سکتا ہے کہ میں نے ابھی سچائی کو نہیں پایا۔ میں ابھی صرف متلاشی مگر کوئی شخص سنجیدہ طور پر یہ نہیں کہہ سکتا کہ سچائی کوئی مطلق چیز ہی نہیں۔ انسان جس کائنات میں رہتا ہے وہاں ہر چیز مطلق ہے۔ یعنی ایک اسٹار اسٹار ہے وہ کوئی ہاتھی اسی طرح ایک ہاتھی ہاتھی ہے وہ کوئی اسٹار نہیں۔ اسی طرح ہر چیز معلوم طور پر ایک مطلق چیز کی حیثیت رکھتی ہے۔ اور اگر کوئی چیز مطلق حیثیت سے معلوم نہ ہوئی ہو تو انسان لگا تار اس کوشش میں رہتا ہے کہ وہ اس کو مطلق حیثیت میں دریافت کرلے۔
یہی معاملہ خود انسان کی شخصیت کا ہے۔ انسان اپنی فطرت کے اعتبار سے مطلق پسند انسان وہ یقین میں جینا چاہتا ہے۔ وہ چاہتا ہے کہ جب وہ ایک عورت کو ماں کی حیثیت سے جانے تو وہ مطلق طور پر اس کے ماں ہونے پر یقین کر سکے۔ اسی طرح جب وہ ایک پراپرٹی کو اپنی پراپرٹی کی
حیثیت سے جانے تو وہ مطلق مفہوم میں یقین کر سکے کہ وہ اسی کی پراپرٹی ہے۔ اگر ایسا نہ ہو تو انسان ہر چیز کے بارے میں غیر یقینیت (uncertainty) میں مبتلا رہے گا۔ اور یہ ایک حقیقت ہے کہ انسان غیر یقینیت میں نہیں جی سکتا۔ یہ حقائق واضح طور پر بتاتے ہیں کہ مطلق کا تصور انسانی فطرت کے عین اس کے برعکس یہ سمجھنا فطری تقاضے کے خلاف ہے کہ اس دنیا میں کوئی چیز مطلق نہیں۔ سچائی کو مطلق نہ سمجھنا گویا یہ کہنا ہے کہ میں کسی چیز کے سچا ہونے پر یقین نہیں رکھتا۔ اس قسم کے کسی تصور کو لے کر کوئی آدمی صرف متششک (sceptic) بن سکتا ہے، اور متششک بننا کسی بھی انسان کے لیے قابل عمل پوزیشن نہیں۔