Japanese are potentially Muslims.
Al-Risala, February 2006, pp. 37–38
By Maulana Wahiduddin Khan
میں سمجھتا ہوں کہ یہی بات ان تمام لوگوں پر صادق آتی ہے جن کو عام طور پر کافر کہا جاتا ہے۔ میرے نزدیک لوگوں کو مسلم اور کافر میں تقسیم کرنا درست نہیں۔ میرے نزدیک زیادہ صحیح تقسیم یہ ہے کہ لوگوں کو مسلم اور متلاشیٔ حق میں تقسیم کیا جائے۔ کیوں کہ پیدائش کے اعتبار سے ہر شخص ایک ہی فطرت پر پیدا کیا گیا ہے (الروم: ۳۰) اس حیثیت سے یہ کہنا صحیح ہوگا کہ تمام انسان امکانی طور پر مسلم ہیں: Every human being is potentially Muslim. انسان کے بارے میں یہی نقطۂ نظر داعیانہ نقطۂ نظر ہے۔ داعی ہر ایک کے بارے میں یہی پر امید احساس رکھتا ہے۔ یہی پر امید احساس داعی کی اصل طاقت ہے۔ اگر ایسا نہ ہو تو داعی کبھی معتدل
طور پر دعوت کے بارے میں اپنی ذمّے داری کو انجام نہیں دے سکتا۔
اس معاملے میں میرا تجربہ بھی یہی ہے۔ میں نے زیادہ تر اپنا کام غیر مسلموں اور جدید تعلیم یافتہ مسلمانوں میں کیا ہے، تحریر کے ذریعے بھی اور تقرير و گفتگو کے ذریعے بھی۔ اس لحاظ سے میں یہ کہہ سکتا ہوں کہ میں نے ان دونوں طبقے کے لوگوں کا ذاتی تجربہ کیا ہے۔ میرا یہ تجربہ ہندوستان کے لوگوں کی نسبت سے بھی ہے اور دوسرے ملکوں کی نسبت سے بھی۔ میں نے یہ تجربہ اہل مشرق کے درمیان بھی کیا ہے اور اہل مغرب کے درمیان بھی۔
میں اپنے اس تجربے کی روشنی میں کہہ سکتا ہوں کہ بلاشبہ یہ بات درست ہے کہ وہ لوگ جن کو غیر مسلم کہا جاتا ہے، وہ درحقیقت متلاشی حق ہیں۔ ان میں سے ہر ایک اپنے موجودہ عقیدے پر غیر ان میں سے ہر ایک نئی زیادہ قابل یقین سچائی کو جاننا چاہتا ہے۔ البتہ ان لوگوں کا ذہنی شاکلہ، قدیم انسانی شاکلے سے مختلف ہے۔ اگر ان کے اپنے شاکلے کے مطابق، انھیں اسلام کا پیغام پہنچایا جائے تو ان میں سے بہت سے لوگ یقیناً اس پیغام کو اپنے دل کی آواز پائیں گے۔ جہاں تک جدید تعلیم یافتہ مسلمانوں کا تعلق ہے، ان کا کیس بھی یہی ہے۔ یہ لوگ ذہنی انحراف میں مبتلا نہیں ہیں بلکہ وہ ذہنی عدم اطمینان کی حالت میں مبتلا ہیں۔ اگر ان کے اپنے ذہنی شاکلے کے مطابق، انھیں حق کا پیغام پہنچایا جائے تو یقینی طور پر کہا جا سکتا ہے کہ وہ اس کو اپنے لیے حق کی ری ڈسکوری سمجھیں گے اور کھلے دل کے ساتھ اس کو قبول کر لیں گے۔