Al-Risala · February 2006

دعوتِ سفر

Al-Risala, February 2006, pp. 39–45

By Maulana Wahiduddin Khan

میں ایک پیدائشی داعی ہوں۔ دعوت ہمیشہ سے میرا نشانہ رہا ہے۔ ۱۹۵۰ میں جب کہ ابھی میں پختہ عمر کو نہیں پہنچا تھا، میں نے قرآن کے ایک لفظ کو لے کر من أنصارى إلى الله کے نام سے ایک پھر اس کام کے لیے ادارۂ اشاعتِ اسلام کا نام اختیار کیا۔ اُس وقت میں اپنی فیملی کے ساتھ اعظم گڑھ میں رہتا تھا۔ اُس زمانے میں میں نے کئی چھوٹی کتابیں شائع کی تھیں۔ ان میں سے ایک کتاب کا نام یہ تھا: نئے عہد کے دروازے پر (On the Threshold of a New Era)۔ میرا دعوتی سفر مختلف صورتوں میں مسلسل جاری رہا۔ یہاں تک کہ ۱۹۶۷ میں میں نے دہلی سے ماہنامہ الرسالہ جاری کیا اور اسلامک سنٹر قائم کرکے اس کے تحت دعوتی کتابوں کی اشاعت شروع اب خدا کے فضل سے ان دعوتی کتابوں کی تعداد دو سو سے زیادہ ہو چکی ہے۔ یہ کتابیں مختلف ملکی اور عالمی زبانوں میں شائع ہوئی ہیں۔ وہ جدید وسائلِ ابلاغ کے تحت ساری دنیا میں پھیل رہی ہیں۔ لمبے مطالعے اور تجربے کے بعد میں نے یہ سمجھا ہے کہ دعوتِ حق کا صحیح طریقہ وہ ہے جو انفرادی اپروچ کی بنیاد پر قائم ہوتا ہے۔ یعنی ایک ایک فرد کو بدلنا، ایک ایک ذہن کے اوپر ڈی کنڈیشنگ اور ری انجینئرنگ کا عمل کرنا۔ میرے مطالعے کے مطابق، یہی پیغمبروں کا طریقہ ہے۔ اس طریق کار کے دو مستند تاریخی نمونے ہیں۔ ایک مسیحی ماڈل اور دوسرے کو محمدی ماڈل کہا جا سکتا ہے۔ کسی تحریک کے دو طریقے ہوتے ہیں۔ ایک ہے عوام کو خطاب کرنا، اور دوسرا ہے افراد کو عوام سے خطاب کرنے کے لیے تحریک کو ایک عوامی اشو لینا پڑتا ہے، یعنی ایسا ایشو جس کے بارے میں پہلے سے عوام کے اندر شدید جذبات موجود ہوں۔ مثلاً برصغیر ہند میں ۱۹۴۷ سے پہلے مہاتما گاندھی کا بیرونی راج کے خلاف عوام کو پکارنا۔ یا محمد علی جناح کا ہندو خطرے کے خلاف مسلمانوں کو موبیلائز کرنا۔

اس طرح کی عوامی تحریک میں یہ ہوتا ہے کہ بہت جلد لیڈر کے گرد لوگوں کی بھیڑ اکٹھا ہو جاتی

مگر ایسی کسی تحریک کا کوئی مثبت نتیجہ نہیں نکلتا۔ ایسی تحریک تخریبِ غیر کے لیے تو مفید ہوتی ہے مگر وہ تعمیرِ خویش کے لیے بالکل مفید نہیں ہوتی۔

تحریک کا دوسرا طریقہ وہ ہے جو انفرادی اپروچ کی بنیاد پر قائم ہوتا ہے۔ اس دوسرے طریقے میں سارا فوکس فرد کی اصلاح پر دیا جاتا ہے۔ اس کا نشانہ افراد سے چل کر عوام تک پہنچنا ہوتا ہے، نہ کہ عوام کی بھیڑ اکٹھا کر کے افراد کو اپنے قبضے میں لینا۔

کسی مشن کے لیے کام کرنے کے دو طریقے ہیں۔ ایک وہ جس کو سیاسی ماڈل کہا جا سکتا ہے اور دوسرا وہ جس کو روحانی ماڈل کہا جا سکتا ہے۔ دونوں ہی کا مائنس پوائنٹ اور پلس پوائنٹ ہے۔ سیاسی ماڈل میںکراؤڈکو ایڈریس کیا جاتا ہے۔ اس میں ہمیشہ کسی ایسے منفی اشو کو لیا جاتا ہے جو کیوں کہ کوئی خارجی اشوہی کراؤڈ کا اشو بن سکتا ہے۔ سیاسی ماڈل کا پلس پوائنٹ یہ ہے کہ اس میں بہت جلد لوگوں کی بھیڑ اکٹھا ہو جاتی ہے۔ لیکن سیاسی ماڈل کا مائنس پوائنٹ یہ ہے کہ اس میں individual ذہن ایڈریس نہیں ہوتا۔ اس لیے اس میں فرد کی تعمیر ممکن نہیں ہوتی۔ کمیاتی اعتبار سے مشن بہت بڑا دکھائی دیتا ہے لیکن کیفیاتی اعتبار سے وہ بالکل nill ہوتا ہے۔ اس کے مقابلے میں دوسرا ماڈل روحانی ماڈل ہے۔ روحانی ماڈل میں فرد کے ذہن کو ایڈریس کرنے کی کوشش کی جاتی ہے نہ کہ کسی کراؤڈ کو۔ اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ روحانی ماڈل کے تحت بھیڑ اکٹھا البتہ اس میں فرد کی تعمیر گہرائی کے ساتھ ہوتی ہے۔ مشن سے وابستہ ایک ایک فرد prepared mind اور purified soul بن جاتا ہے۔ روحانی ماڈل، کوانٹی کے اعتبار سے بظاہر کم دکھائی دیتا ہے۔ مگر کوالٹی کے اعتبار سے وہ بہت عظیم ہوتا ہے۔ یہ کہنا صحیح ہوگا کہ سیاسی ماڈل صرف تخریبی واقعہ وجود میں لاتا ہے۔ جب کہ روحانی ماڈل تعمیری واقعے کو وجود میں لانے کا سبب بنتا ہے۔ الرسالہ مشن میں سیاسی ماڈل کو اختیار نہیں کیا گیا ہے، بلکہ اس میں روحانی ماڈل کو اختیار کیا گیا ہے۔ میں ساری کوشش اس بات کی کی گئی ہے کہ ایک ایک فرد کا ذہن بنایا جائے۔ تیار افراد کی ایک ٹیم بنائی جائے_ ایسے افراد جن میں سے ہر شخص ایک طرف سنجیدہ ہو اور دوسری طرف وہ آرٹ آف تھنکنگ کو

بخوبی طور پر جانتا ہو۔ الرسالہ مشن کا فطری کورس یہ ہے کہ افراد کی ایک مضبوط ٹیم بنے اور پھر یہ مشن کے پیغام کو وسیع تر انسانیت تک پہنچادے۔

مشہور سیرت نگار محمد بن اسحاق (وفات: ۷۸ھ) نے ایک روایت نقل کی ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عمرہ حدیبیہ (۶۲۳ء) کی ادائیگی کے بعد، اپنے منتخب اصحاب کو آپ نے فرمایا کہ: ’’اللہ نے مجھے سارے عالم کے لیے رحمت بنا کر بھیجا ہے، پس تم میرے بارے میں اختلاف نہ کرو، جیسا کہ حواریوں نے عیسیٰ بن مریم سے اختلاف کیا۔ آپ کے اصحاب نے پوچھا کہ اے خدا کے رسول! حواریوں نے کس طرح اختلاف کیا تھا؟ آپ نے فرمایا کہ: عیسیٰ بن مریم نے اُنھیں اس چیز کی طرف بلایا جس کی طرف میں نے تمہیں بلایا ہے۔ پس جس کو اُنھوں نے قریب کے علاقے کی طرف بھیجا تو وہ اس پر راضی ہو گیا اور اس کو مان لیا۔ اور جس کو اُنھوں نے دور کے علاقے کی طرف بھیجا تو وہ اس کو پسند نہیں آیا اور اُس نے گرانی محسوس کی۔ عیسیٰ بن مریم نے اللہ سے اس کی تو جن لوگوں کو ناگواری ہوئی اُن کا حال یہ ہوا کہ اُن میں سے ہر ایک اس قوم کی زبان بولنے لگا جس کی طرف اس کو جانے کے لیے کہا گیا تھا۔ پس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اصحاب میں سے کچھ قاصد بھیجے اور ان کو بادشاہوں کے نام مکتوب لکھ کر دیا۔ اس میں ان بادشاہوں کو اسلام کی طرف بلایا گیا تھا۔ (سیرۃ النبی لابن ہشام، الجز ء الرابع، ۷۸۲-۲۷۹) مذکورہ روایت میں حضرت مسیح کے جس واقعے کا ذکر ہے، اُس کا ذکر قرآن میں بھی اجمالی طور پر آیا ہے۔ اس کا ترجمہ یہ ہے:

’’اے ایمان والو! تم اللہ کے مددگار بنو، جیسا کہ عیسیٰ بن مریم نے حواریوں سے کہا: کون اللہ کے واسطے میر امددگار ہوتا ہے۔ حواریوں نے کہا: ہم ہیں اللہ کے مددگار۔ پس بنی اسرائیل میں سے کچھ لوگ ایمان لائے اور کچھ نے انکار کیا۔ پھر ہم نے ایمان لانے والوں کی، ان کے دشمنوں کے مقابلے میں مدد کی۔ پس وہ غالب ہو گئے۔

جیسا کہ تاریخ سے معلوم ہوتا ہے، رسول اللہ ﷺ نے صلح حدیبیہ کے بعد اطراف عرب کے تقریباً

ایک درج جن حکمرانوں کو دعوتی خطوط لکھے اور اُنھیں اپنے سفیروں کے ساتھ متعلقہ حکمرانوں کی طرف روانہ ان حکمرانوں میں سے کچھ نے آپ کے مکتوب کا مثبت جواب دیا اور کچھ نے ان کو پڑھنے کے بعد منفی رویہ اختیار کیا۔ اس کی تفصیل سیرت کی کتابوں میں موجود ہے (ملاحظہ ہو، سیرت ابن کثیر، جلد ۳) اس روایت سے دعوتی تحریک کا پیغمبرانہ ماڈل معلوم ہوتا ہے۔ یعنی دعوتی مہم کا تین مرحلوں سے گزر کر اپنی تکمیلی منزل تک پہنچنا۔

کسی بندہ خدا پر حقیقت کا کھلنا، اس کا سچائی کو مکمل طور پر دریافت کرنا۔ اس طرح ایک عارف یا باخبر انسان کا وجود میں آنا۔

پھر یہ انسان دوسرے کاموں کے علاوہ یہ کرتا ہے کہ وہ غیر معمولی جدوجہد کے ذریعے افراد کی ایک ٹیم بناتا ہے۔ یہ وہ افراد ہوتے ہیں جو حقیقت کا شعوری ادراک رکھتے ہیں۔ ان کے اندر مشنری اسپرٹ کمال درجے میں موجود ہوتی ہے۔ وہ گویا عارفین حق کا منتخب گروہ ہوتا ہے۔ اس کے بعد یہ ٹیم اس پیغام کو لے کر آگے بڑھتی ہے اور کمیونیکیشن کے ذرائع کو استعمال کرتے ہوئے اُس کو تمام انسانوں تک پہنچادیتی ہے۔

سہ گانہ مرحلے کی یہی ترتیب فطری ترتیب ہے۔ مسیحی ماڈل اور محمدی ماڈل دونوں اسی کی تائید حضرت مسیح کے زمانے میں اسی ترتیب سے کام ہوا۔ اور پیغمبر آخرالزمان صلی اللہ علیہ وسلم کے معاملے میں بھی یہی تاریخ دہرائی گئی۔ یعنی ایک فرد سے کام کا آغاز ، اور پھر ایک ٹیم کا بننا، اس کے بعد دعوت کی عمومی توسیع ۔ یہ ترتیب دعوتی کام کی فطری ترتیب ہے۔ اس لیے یہی ترتیب بعد کے زمانے میں بھی اس کام کے لیے باقی رہے گی۔

الرسالہ مشن کے مستقبل کے بارے میں میں اکثر سوچتا تھا۔ ۱۲ مئی ۲۰۰۵ کی صبح کو میں اس موضوع پر غور وفکر کر رہا تھا کہ اچانک مجھ پر یہ بات منکشف ہوئی کہ یہ دعوتی مشن بھی اسی فطری ترتیب کے ساتھ آگے بڑھ رہا ہے۔ یہ عمل فطرت کے زیر اثر پہلے سے جاری تھا۔ مگر مئی ۲۰۰۵ میں اس واقعے کو میں نے شعوری طور پر دریافت کیا۔

جیسا کہ عرض کیا گیا، میں نے اپنا دعوتی مشن ۱۹۵۰ء میں شروع کیا تھا، اس کے بعد وہ مختلف مراحل سے گذرتا رہا۔ تحریر و تقریر کے ایک مسلسل عمل کی صورت میں وہ برابر جاری رہا۔ یہاں تک کہ اس تحریک کی پشت پر ایک طاقت ور لٹریچر تیار ہوگیا۔ یہ لٹریچر اسلام کے تمام پہلوؤں کو عصری اسلوب میں بیان کرنے والا تھا۔

اس کے بعد تیسرا تاریخ ساز واقعہ یہ ہوا کہ جنوری ۲۰۰۱ء میں ہمارے دہلی کے دفتر میں اسپرچول کلاس کے نام سے ہفتہ وار اجتماع کا سلسلہ قائم ہوا۔ ان ہفتہ وار اجتماعات کے دوران خدا کی غیر معمولی نصرت ظاہر ہوئی۔ چند سال کی مدت میں اعلیٰ تعلیم یافتہ افراد کی ایک مضبوط ٹیم ان میں سے ہر شخص دعوتی اسپرٹ سے بھرا ہوا تھا اور عمل کا بے پناہ جذبہ اپنے اندر

۲۰۰۵ء میں یہ تاریخ یہاں تک پہنچ چکی ہے۔ اس کے بعد جو کچھ ہونا چاہیے اس کا عمل بھی خدا کی خصوصی نصرت سے شروع ہو چکا ہے۔ یعنی دعوت حق کی اشاعت و توسیع۔ مجھے یقین ہے کہ یہ عمل رکنے والا نہیں۔ خدا کی نصرت اس بات کی ضامن ہے کہ یہ عمل رُکے کے بغیر مسلسل جاری رہے یہاں تک کہ وہ اپنی منزل تک پہنچ جائے۔

مذکورہ حدیث پر غور کیجئے تو اس معاملے کا ایک عملی پہلو سامنے آتا ہے۔ وہ یہ کہ جب مذکورہ تقسیم کے مطابق، ایک ٹیم وجود میں آجائے تو اس کے بعد دعوت کی توسیع واشاعت ایک یقینی امر بن جاتی اس کے بعد ممکن طور پر صرف ایک چیز ہے جو اس عمل کی تکمیل میں رکاوٹ بن سکے، اور وہ حدیث کے الفاظ میں اختلاف کا معاملہ ہے۔ باہمی اختلاف ایسی بری چیز ہے جو پورے نقشے کو تباہ کر سکتا ہے۔ ٹیم بن جانے کے بعد باہمی اختلاف کے سوا کوئی بھی چیز نہیں جو اس دعوتی سیلاب کو اس کی منزل تک پہنچنے سے روک سکے۔

یہاں اس امر کی وضاحت ضروری ہے کہ فکر کا اختلاف ایک فطری امر ہے۔ ہر انسانی مجموعے میں یہ ہوتا ہے کہ اس کے افراد کے درمیان فکری اختلافات ظہور میں آتے ہیں۔ اس لیے اصل مسئلہ

فکری اختلاف کا نہیں ہے، بلکہ اصل مسئلہ یہ ہے کہ لوگ اُس فن کو نہ جانتے ہوں، جس کو ’’آرٹ آف ڈفرنس مینجمنٹ‘‘ کہا جا سکتا ہے۔

اصل یہ ہے کہ کسی بھی ٹیم میں رائے کا اختلاف پیدا ہونا لازم ہے۔ البتہ ٹیم کے افراد کو ذہنی طور پر اتنا زیادہ پختہ ہونا چاہیے کہ وہ رائے کے اختلاف اور عملی ٹکراؤ میں فرق کرنا جانیں۔ کے باوجود متحد ہو کر اپنا کام جاری رکھیں۔ رائے کا اختلاف ایک صحت مند علامت ہے۔ کیوں کہ وہ ڈائیلاگ کا سبب بنتا ہے اور ڈائیلاگ فکری ارتقاء کا ذریعہ ہے۔

الرسالہ مشن کے تحت جو پر امن دعوت کا کام کرنا ہے وہ بنیادی طور پر اشاعتِ کتب کا کام یہ کام سب سے پہلے انگریزی کتابوں کی اشاعت سے ہوگا۔ کیوں کہ آج دنیا کی آبادی کا ۶۰ فیصد حصہ انگریزی زبان بولتا اور سمجھتا ہے۔ اس کے بعد حالات کے مطابق، یہ کام دوسری زبانوں تک اس اشاعتی کام کے بنیادی طور پر چندا اجزاء ہیں:

قرآن کا صحیح انگریزی ترجمہ کم قیمت پر ساری دنیا میں پھیلانا (قرآن کا یہ انگریزی ترجمہ خدا کے فضل سے الرسالہ مشن کے تحت زیر تیاری ہے)۔

الرسالہ مشن کی مطبوعہ کتابوں کو زیادہ سے زیادہ پھیلانا۔ مثلاً: God Arises، تذکیر القرآن، مطالعہ سیرت، مطالعہ حدیث، وغیرہ۔

چھوٹے چھوٹے دعوتی پمفلٹ، مثلاً ان سرچ آف گاڈ، کریشن پلان آف گاڈ وغیرہ جو کئی درجن کی تعداد میں چھپ چکے ہیں، ان کو زیادہ سے زیادہ پھیلانا، یہاں تک کہ وہ تمام تعلیم یافتہ انسانوں تک پہنچ جائیں۔

الرسالہ مشن مکمل طور پر ایک غیر سیاسی مشن ہے۔ اس کا مقصد کوئی اقتدار قائم کرنا نہیں ہے بلکہ صرف خدا کے پیغام کو پر امن انداز میں اور فکری طور پر تمام انسانوں تک پہنچانا ہے اور لوگوں کو خدا کے کریشن پلان سے دلائل کی زبان میں باخبر کرنا ہے۔ تاکہ لوگ حقیقت کو سمجھیں اور صحیح رخ پر اپنے مستقبل کا نقشہ بنائیں۔ دعوت الی اللہ کا یہ فکری مشن خدا کا سب سے زیادہ

مطلوب مشن ہے۔ اس مشن میں خدا کی نصرت ہمیشہ یقینی ہوتی ہے۔

مجھے یقین ہے کہ خدا کی نصرت کا وعدہ اس مشن پر پورا ہوگا۔ اور وہ وقت آئے گا جب کہ تمام انسانوں تک خدا کا وہ پیغام پہنچ جائے گا جس کے پہنچنے کا ساری کائنات کو انتظار ہے۔ دعوت الی اللہ کے کام سے زیادہ بڑا کوئی اور کام نہیں، اور خدا کی مدد حاصل کرنے کے لیے دعوت الی اللہ سے زیادہ اور کوئی یقینی ضمانت نہیں۔ یہ خدا کا ابدی قانون ہے۔ اور وہ وقت دور نہیں جب کہ خدا کا یہ وعدہ اپنی کامل صورت میں پورا ہو جائے۔

میں نے اپنی کتاب پیغمبر انقلاب میں لکھا تھا کہ اسلام کے دور اول میں جو لوگ توحید کا انقلاب لائے وہ ایسے لوگ تھے جن پر پچھلی ڈھائی ہزار سالہ تاریخ منتہی ہوئی تھی۔ اب دوبارہ اسی طرح ایک نیا عصابة (گروہ) درکار ہے جس پر پچھلی ہزار سالہ تاریخ منتہی ہوئی ہو۔ جو اپنے شعور کے اعتبار سے پچھلی ہزار سالہ تاریخ کا وارث ہو۔ جو اپنے کردار کے اعتبار سے ان امکانات کو واقعہ بنانے کا اٹل ارادہ اپنے اندر لیے ہوئے ہو، جو سنجیدہ فیصلے کی اس حد پر پہنچا ہوا ہو جہاں پہنچ کر آدمی اس قابل ہو جاتا ہے کہ وہ اپنے مقصد سے پوری طرح وابستہ رہے۔ کوئی بھی خارجی واقعہ اس کو اس کے نشانے سے ہٹانے والا ثابت نہ ہو۔ یہی وہ لوگ ہیں جو خدا کے کاگ میں اپنا کاگ ملائیں گے اور بالآخر یقینی کامیابی کی منزل تک پہنچیں گے۔

میری دعا ہے کہ الرسالہ مشن سے وابستہ ہونے والے لوگ اس کا مصداق ثابت ہوں۔

Printed page