Al-Risala · March 2006

US and Middle East.

Al-Risala, March 2006, pp. 4–13

By Maulana Wahiduddin Khan

اس میں بتایا گیا تھا کہ امریکا کی یہ کوشش کہ وہ ویسٹرن اسٹائل ڈیموکریسی کو مڈل ایسٹ اور ساؤتھ ایشیا میں ایکسپورٹ کرے، اُسی طرح نا کام ہو گئی جس طرح اس سے پہلے سوویت یونین کی طرف سے سوشلزم کو باہر کی دنیا میں ایکسپورٹ کرنے کی کوشش نا کام ہو گئی تھی ۔

ہوئے مضمون نگار (Yevgeny Satanovsky) نے لکھا تھا کہ: اس کا سبب یہ ہے کہ امریکہ کے سیاسی حوصلوں کے مقابلے میں اس کی فوجی طاقت بہت محدود ہے:

The problem is that the US pursues global interests but its military and economic resources are not unlimited. (p. 6)

یہ بات بالکل درست ہے۔ یہ ایک واقعہ ہے کہ امریکہ کا عالمی توسیع کا منصوبہ ناکام ہو چکا اور اس کا سبب یہ ہے کہ امریکہ کے توضیعی عزائم تو لامحدود تھے مگر اس کے مقابلے میں اس کی طاقت بہت محدود تھی۔ یہ اصول ہر ایک پر صادق آتا ہے، اس میں سپر پاور اور غیر سپر پاور کے درمیان کوئی فرق نہیں۔ خواہ فرد کا معاملہ ہو یا حکومت کا، دونوں ہی کے لیے کامیابی کا اصول صرف حوصلے اور امکان کے درمیان درست تناسب کو دریافت کرنا۔ اسی حکمت کا نام منصوبہ بندی یا پلاننگ ہے۔

انڈین ایئر لائنز کا فلائٹ میگزین (Swagat) کے شمارہ جولائی میں ایک مضمون کشمیر اور کشمریت کے بارے میں تھا۔ لکھنے والے کا نام پوجا رتنا کر (Pooja Ratnakar) تھا۔ نے کشمریت پر گفتگو کرتے ہوئے بتایا تھا کہ کشمریت تین چیزوں کا نام ہے—بودھ رحم دلی، ہندو رواداری اور زندگی کے بارے میں مسلم ذوق اور زندہ دلی:

It has been a mix of Budhist compassion, Hindu tolerance and Muslim zest for life. (p. 88)

اس اقتباس میں کشمریت سے مراد عملی طور پر اسلام ہے۔ یہ بڑی عجیب بات ہے کہ بدھازم اور ہندو ازم کی ایبی (تصویر) تو لوگوں کی نظر میں یہ ہو کہ بدھازم رحم دلی کا مذہب ہے اور ہندو ازم رواداری کا اس کے برعکس اسلام کی تصویر لوگوں کی نظر میں یہ ہو کہ اسلام محض ذوق وشوق کا مذہب ہے۔ اسلام کی یہ تصویر قرآن وحدیث کو پڑھنے سے نہیں بنی، بلکہ وہ کشمیر یوں کو دیکھنے سے بنی ہے۔ کشمیریوں کے درمیان ایک طرف تو اسلامی نظام اور نظامِ مصطفیٰ کی دھوم لوگوں نے دیکھی۔ طرف کشمیریوں کا حال یہ ہے کہ ہر چیز میں ان کے یہاں ظاہری نمائش نظر آتی ہے۔ لذتی کھانوں سے

لے کر شادی کی دھوم، اور گھر کی رسموں سے لے کر کلچرل سرگرمیوں تک ہر جگہ وہی منظر دکھائی دیتا ہے، جس کو مضمون نگار نے ذوق اور زندہ دلی (zest) سے تعبیر کیا ہے۔

کشمیر کی اس غیر موافق صورت حال کے باوجود کیوں ایسا ہوا کہ کشمیر کے خود ساختہ رہنماؤں نے کشمیر میں اسلامی نظام کا نعرہ بلند کیا، اور نظامِ مصطفیٰ قائم کرنے کے نام پر ہنگامہ کھڑا کیا۔ سبب ایک غلط مفروضہ تھا جو تقربیاً تمام مسلم علاقوں میں پایا جاتا ہے۔ مثلاً پاکستان، افغانستان، ایران، مصر اور سوڈان وغیرہ۔

ہر جگہ نام نہاد اسلام پسندوں نے کہا کہ ان ملکوں کی عظیم اکثریت مسلمان ہے اس لیے یہاں اسلامی نظام قائم ہونا چاہیے۔ یہ ایک بے اصل بات ہے۔ اسلامی نظام کسی علاقے میں اس لیے نہیں قائم ہو سکتا کہ وہاں پیدائشی مسلمانوں کی اکثریت ہو۔ اسلامی نظام وہاں قائم ہوگا جہاں اسلامی کردار رکھنے والوں کی اکثریت ہو۔ یہی وہ بھیانک غلط فہمی تھی جس نے موجودہ زمانے میں اسلام کے نام پر اٹھائی جانے والی بڑی بڑی تحریکوں کو عملاً ناکام بنا دیا۔

اس بھیانک غلط فہمی کا سبب یہ ہے کہ لوگوں نے یہ سمجھ لیا کہ مسلم وہ ہے جو کلمہ گو ہو۔ مسلم وہ ہے جو عارفِ کلمہ نہ ہو کہ صرف قائلِ کلمہ۔ اسلام کا آغاز کسی شخص کی زندگی میں اُس وقت ہوتا ہے جب کہ وہ اسلام کو بطورِ سچائی کے دریافت کرے۔ محض مسلم خاندان میں پیدا ہونا یا کلمے کو صحیح تلفظ کے ساتھ زبان سے بول دینا، یہ مسلم ہونے کے لیے کافی نہیں۔

اس بھیانک غلط فہمی کا دوسرا نقصان یہ ہے کہ مسلمانوں کے درمیان جو بھی تحریک اٹھتی ہے وہ عملی اقدام سے اپنے کام کا آغاز کرتی ہے۔ حالاں کہ تحریک کا صحیح آغاز یہ ہے کہ افراد کے اندر فکری انقلاب پیدا کرنے سے اس کا آغاز کیا جائے۔ فکری تبدیلی سے آغاز ہی کا نام آغاز ہے، موجودہ حالت میں عملی اقدام سے آغاز کا نام آغاز ہی نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ موجودہ زمانے میں بہت سی تحریکیں بظاہر عملی دھوم دھام سے شروع ہوئیں مگر وہ جلد ہی بے نتیجہ طور پر ختم ہو گئیں۔

قرآن میں ارشاد ہوا ہے: یا ایہا الذین آمنوا آمنوا (النساء ۱۳۶) اس آیت کا مطلب

یہ ہے کہ وہ پیدائشی مسلمان جو کلمہ گوئی کی بنا پر اپنے آپ کو مسلمان سمجھتے ہیں، ان کو چاہیے کہ وہ دوبارہ اسلام کی معرفت حاصل کریں اور شعوری معنوں میں حقیقی مومن بنیں۔

قرآن سے معلوم ہوتا ہے کہ آخرت کی نجات گروہ ہی بنیاد پر نہیں ہوگی۔ چنانچہ قرآن میں مسلمانوں کو دوسروں کے ساتھ یکساں درجے میں شامل کرتے ہوئے چار مذہبی گروہوں کا ذکر ہے۔ یہودی گروہ، مسیحی گروہ، اور صابی گروہ۔ ان تمام مذہبی گروہوں کو ایک ساتھ بریکٹ کر کے ارشاد ہوا ہے کہ ان گروہوں میں سے جو افراد ایسا کریں کہ وہ حقیقی معنوں میں ایمان اور عمل صالح کا ثبوت دیں، وہ اپنے اندر باشعوری ایمان پیدا کریں اور عملی اعتبار سے خدا پرستانہ زندگی اختیار کریں تو ایسے افراد خدا کی پکڑ سے محفوظ رہیں گے اور ان کو ابدی جنتوں میں داخل کیا جائے گا۔ گویا کہ خواہ مسلمانوں کا نسلی گروہ ہو یا دوسرے مذہبوں سے منسوب گروہ، ہر ایک کو یہ کرنا ہے کہ وہ سچے خدائی مذہب کو از سر نو دریافت اس ری ڈسکوری کے بغیر مسلم گروہ سمیت کسی کا مذہب بھی قابل اعتبار نہیں۔ سفر سے تین دن پہلے ۱۷ جولائی ۲۰۰۵ کو اتوار کا اسپر پچول کلاس سی ۔ نظام الدین ویسٹ مارکیٹ میں تھا۔ یہاں بلڈنگ کے ایک پورے فلور کو خالی کر کے اس کو ایک ہال کی صورت میں از سر نو بنایا گیا ہے۔ یہ فلور اب انشاء اللہ اسی خاص مقصد کے لیے استعمال ہوگا۔ اسپر پچول کلاس میں عورت اور مرد دونوں ایک ہال میں بیٹھے ہوئے تھے۔ آج کی ملاقات میں اس پر ایک صاحب نے اعتراض کیا کہ وہاں عورت اور مرد دونوں ایک ہال میں بیٹھے ہوئے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ عورتوں کے لیے ایک علیحدہ کمرہ مخصوص ہونا چاہیے تھا۔ یہ صاحب خود بھی ۱۷ جولائی کے اس پروگرام میں شریک تھے۔

میں نے کہا کہ معاملے کو دیکھنے کے دو مختلف زاویے ہیں۔ ایک ہے فقہی زاویہ اور دوسرا ہے فقہی نقطہ نظر سے آپ کی بات درست ہو سکتی ہے مگر دعوتی مصلحت کے اعتبار سے دیکھیے تو یہاں جو ہو رہا ہے وہی آپ کو درست نظر آئے گا۔ آپ چوں کہ دعوتی کام نہیں کر رہے ہیں اس لیے آپ اس قسم کی رائے کا اظہار کر رہے ہیں۔ اگر آپ اعلیٰ تعلیم یافتہ طبقے میں دعوتی کام کریں تو آپ کی

سمجھ میں آئے گا کہ یہاں جو ہو رہا ہے عملی طور پر وہی درست ہے۔ یہ دراصل تالیف قلب کا مسئلہ ہے اور تالیف قلب کی اہمیت کو صرف داعی انسان سمجھ سکتا ہے۔

تالیف قلب کی اہمیت اسلام میں بہت زیادہ ہے۔ اسی لیے زکوٰۃ کی آٹھ مدوں میں سے ایک مد تالیف قلب کی ہے۔ تالیف قلب سے مراد وہی چیز ہے جس کو دل جوئی کہا جاتا ہے۔ اس کا مقصد یہ ہے کہ لوگوں کے دلوں کو نرم کیا جائے تاکہ وہ کھلے ذہن کے ساتھ اسلام پر غور و فکر کر سکیں۔ تالیف قلب ایک دعوتی ضرورت ہے۔ اس کا مقصد دعوت کے موافق ماحول بنانا ہے۔ مختلف صورتیں ہیں۔ مثلاً لوگوں کے لیے کوئی مفید رفاہی کام کرنا، لوگوں کے مزاجی بگاڑ کی بنا پر ان کی رعایت کرنا، داعی اور مدعو کے درمیان حالات کو معتدل بنانا، لوگوں کو کسی نوعیت کا مادی فائدہ پہنچانا تاکہ وہ اس سے متاثر ہو کر اسلام پر غور و فکر کر سکیں۔ خلاصہ یہ کہ بزنس میں جس چیز کو کسٹمر فرینڈلی سلوک کہا جاتا ہے اسی کو مدعو فرینڈلی کے طور پر استعمال کرنے کا نام تالیف قلب ہے۔ جس جہاز سے میں نے دہلی سے بنگلور کا سفر کیا وہ پوری طرح بھرا ہوا تھا۔ اس کے بیشتر مسافر غالباً تاجر تھے۔ یہ اس بات کی ایک علامت ہے کہ پچھلے کچھ برسوں کے دوران دہلی اور بنگلور کے درمیان کاروبار بہت بڑھ گیا ہے۔ جہاز میں کئی لوگ بزنس کے موضوع پر بات کرتے ہوئے نظر آئے۔ ضرورت کے تحت سفر ہو تو جہاز میں عورت اور بچے دکھائی دیتے ہیں۔ اس کے برعکس جب سفر کرنے والے تاجر ہوں تو ہر ایک کے ہاتھ میں موبائل نظر آتا ہے۔ پرواز کے دوران موبائل کے استعمال کی اس لیے پرواز شروع کرنے سے پہلے اور پرواز کے خاتمے پر بیشتر لوگ اپنے موبائل میں مشغول نظر آتے ہیں۔ موجودہ زمانے میں بزنس کا نہایت گہرا تعلق کمیونیکیشن سے ہو گیا ہے۔ موبائل اسی کمیونیکیشن کا ایک ذریعہ ہے۔

ہوائی جہاز بنگلور ایر پورٹ پہنچا تو یہاں پٹا رتھی کی کانفرنس کے دو آدمی میری رہنمائی کے لیے موجود تھے۔ ایر پورٹ سے پٹا رتھی کا سفر کار سے تقریباً چار گھنٹے کا ہوتا ہے۔ ایر پورٹ پر حلقہ الرسالہ کے کچھ لوگ بھی موجود تھے۔ یہ طے ہوا کہ پہلے شہر میں مسٹر اعجاز کے مکان پر جائیں۔

وہاں ظہر کی نماز ادا کریں اور پھر آگے کے لیے روانہ ہوں ۔ چنانچہ ایسا ہی کیا گیا۔ مسٹر اعجاز اور ان کی اہلیہ سارہ فاطمہ نے بنگلور میں ایک ادارہ الفلاح کے نام سے قائم کیا ہے۔ مسٹر اعجاز احمد کے مکان پر کچھ لوگ اکٹھا ہو گئے تھے۔ یہاں ان سے اسلامی موضوعات پر باتیں ایک سوال یہ تھا کہ غیر مسلموں میں اسلام کا پیغام کیسے پہنچایا جائے ۔ میں نے کہا کہ سب سے پہلا کام یہ ہے کہ ان لوگوں کو غیر مسلم یا کافر کہنا چھوڑ دیا جائے۔ حتی کہ دل سے بھی انہیں ایسا نہ سمجھا جائے ۔ ان کو صرف انسان سمجھا جائے ۔ جب تک ایسا نہیں ہوگا ان کے لیے آپ کے دل میں سچی خیرخواہی پیدا نہیں ہوگی ، اور سچی خیرخواہی کے بغیر دعوتی کام کا آغاز ہی نہیں ہو سکتا۔ میں نے کہا کہ ایک بزنس مین لوگوں کو صرف کسٹمر کے روپ میں دیکھتا ہے، وہ ان کو مسلم اور کافر، یا اپنی قوم اور غیر قوم کے الفاظ میں نہیں بانٹتا ، وہ سب کو یکساں طور پر انسان کے روپ میں دیکھتا ہے۔ اسی طرح داعی وہ ہے جو انسان کو اپنے اور غیر، یا دوست اور دشمن میں تقسیم نہ کرے بلکہ سب کے لیے شفقت کا وہی جذبہ رکھے جو ایک ماں کے دل میں اپنی اولاد کے لیے ہوتا ہے۔ رسول اللہ نے عرب میں دعوتی کام شروع کیا تو آپ نے یہ نہیں فرمایا کہ اے کا فرو، بلکہ یہ فرمایا کہ اے انسانو۔ پیغمبر لوگوں کی ہدایت کا حریص ہوتا ہے۔ یہی پیغمبر کا سب سے بڑا دعوتی سرمایہ ہے۔ قرآن کو پڑھیں تو اس میں اس قسم کی کوئی چیز نہیں ملے جس کو آج کل پروگرام کہا جاتا ہے۔ مگر رسول اور اصحاب رسول کے دل میں لوگوں کی ہدایت کے لیے بے پناہ شفقت اور خیرخواہی موجود تھی۔ ان کے لیے دعوتی کام کا سب سے بڑا رہنما بن گیا۔ حقیقت یہ ہے کہ داعی ایک پروگرام ساز انسان وہ ہر موقع کے لیے خود ہی پروگرام وضع کر لیتا ہے۔

ایک سوال کے جواب میں میں نے کہا کہ آج کل دعوت کے نام پر بہت سے کام کیے جا رہے ہیں مگر میرے علم کے مطابق یہ سب مطلوب دعوتی کام نہیں۔ ان کاموں میں سے کوئی ڈبیٹ ہے، کوئی اصلاح ہے، کوئی کمیونٹی ورک ہے اور کوئی قومی یا سیاسی کام ہے۔ بذاتِ خود یہ سب کام مفید ہو سکتے ہیں، مگر ان کاموں کو دعوت الی اللہ کا کام نہیں کہا جا سکتا۔

۲۰ جولائی کو چند گھنٹے مسٹر اعجاز کے مکان پر گذار کر دو بجے بنگور سے پٹا پڑتھی کے لیے روانگی سڑک اچھی تھی۔ بارش کی وجہ سے سڑک کے دونوں طرف دور تک ہریا لی دکھائی دے رہی تھی۔ یہ پورا سفر اسی ماحول میں ہوا۔ سبزہ نہ صرف زمین کا حسن ہے بلکہ وہ زمین کا ایک زندگی بخش عنصر ہے۔ زمیں پر خالق نے ہمارے لیے جو لائف سپورٹ سسٹم قائم کیا ہے اس میں سر سبز درختوں کا کردار بے حد اہم ہے۔ درختوں کا منظر خدا کی صفت رحمت کا مشاہدہ کراتا ہے، درخت نہیں تو زندگی بھی نہیں۔ موجودہ زمانے میں کمیونیکیشن کے ذرائع کی بنا پر سفر نے ایک نئی صورت اختیار کر لی ہے۔ دہلی کے ایر پورٹ پر ہم کو کانفرنس والوں کا ٹیلی فون ملا، جس میں انھوں نے نام کے ساتھ بتا دیا کہ کون لوگ ہماری رہنمائی کے لیے بنگلور ایر پورٹ پر موجود ہوں گے۔ اسی طرح جب میں بنگور سے بذریعہ کار آگے جا رہا تھا تو موبائل کے ذریعے مسلسل کانفرنس کے دفتر (پٹا پڑتھی) سے ربط قائم تھا۔ کانفرنس کے ذمے داروں کو پیشگی طور پر معلوم تھا کہ اب ہماری گاڑی کس مقام سے گذر رہی ہے۔ بنگلور اور پٹا پڑتھی کے درمیان ہم لوگ کچھ دیر کے لیے ٹھہرے ۔ یہ چک بالا پور تھا۔ صاف ستھرا ریسٹوران موجود تھا، جس میں کھانے پینے کے سامان کے علاوہ دوسری انسانی ضروریات کا بھی انتظام کیا گیا تھا۔ اس قسم کا ریسٹوران بھی دور جدید کی ایک دین ہے۔ قدیم زمانے میں اس قسم کے عوامی ریسٹوران کا تصور موجود نہ تھا۔ اس قسم کی سہولت صرف بڑے دولت مندوں کے لیے ممکن جن کے بارے میں شاعر نے کہا تھا:

منعم بہ کوہ و دشت و بیاباں غریب نیست ہر جا کہ رفت خیمہ زد و بارگاہ ساخت ۲۰ جولائی ۲۰۰۵ کی شام کو ہم لوگ پٹا پڑتھی پہنچے۔ پٹا پڑتھی آندھرا پردیش کا ایک گاؤں تھا۔ سائی بابا اسی گاؤں میں پیدا ہوئے۔ اب اس گاؤں کو ترقی دے کر ایک شہر کی مانند بنا دیا گیا ہے۔ یہاں تمام شہری سہولتیں حاصل ہیں۔ تعلیم اور طبی خدمات کا اعلیٰ انتظام، جدید طرز کی لائبریری اور دوسری تمام ماڈرن سہولتیں یہاں موجود ہیں ۔ یہ سائی سنٹر بہت بڑے رقبے میں واقع ہے۔ سائی بابا کا پرائیویٹ ایئر پورٹ بھی بنا ہوا ہے۔ سر سبز درختوں اور کھلے میدانوں کے درمیان اس سنٹر

میں ہم کو چند دن گزارنا تھا۔ پٹاپر تھی کو اب انٹرنیشنل ولج کہا جاتا ہے۔ مجھے اس سنٹر کے گیسٹ ہاؤس میں ٹھہرایا گیا ۔ یہ گیسٹ ہاؤس میرے ذوق کے مطابق تھا۔ یہاں تکلفات والی کوئی چیز نہ تھی۔ مگر سادگی، صفائی، سکون اور باقاعدگی جیسی چیزیں یہاں کامل طور پر موجود تھیں ۔ یہ شور اور دھوئیں سے پاک ایک دنیا تھی۔ تازہ ہوا اور چڑیوں کی آوازیں یہاں کے ماحول کو ایسا بنائے ہوئے جیسے کہ آدمی فطرت کی آغوش میں جی رہا ہو۔

دعوت نامے کے اعتبار سے میں سائی سنٹر میں آیا تھا، مگر ماحول کے اعتبار سے میں گویا فطرت کا مہمان تھا۔ یہاں کا پورا ماحول گویا فطرت کا ایک تعارف تھا۔ صبح کے وقت یہاں اگر چہ لاؤڈ سپیکر سے بلند ہونے والی اذان سنائی نہیں دیتی تھی، مگر صبح ہوتے ہی چڑیاں قدرتی مؤذن کا کام کرتی تھیں ۔ وہ اپنی سہانی آواز میں بتاتی تھیں کہ فجر کا وقت ہو گیا اور صبح کی عبادت کا لمحہ شروع ہو گیا۔ یہ ایک انٹرنیشنل کانفرنس تھی۔ اس لیے یہاں دنیا کے مختلف مقامات کے لوگ آئے ہوئے ان لوگوں سے ملاقاتوں کے درمیان مذہب ، روحانیت، ہندوازم اور اسلام کے متعلق گفتگو ہوتی میرے ساتھی دہلی سے ہمارے یہاں کی چھپی ہوئی انگریزی کتابیں لے آئے تھے۔ کو مطالعے کے لیے دی گئیں۔ سائی بابا کو بھی کئی انگریزی کتابیں دی گئیں۔ جن کو انھوں نے خوشی کے ساتھ قبول کیا اور کہا کہ میں اور میرے ساتھی ان کتابوں کو پڑھیں گے۔ یہاں تمام لوگ انگریزی زبان بولتے تھے، خواہ وہ کوئی عام آدمی ہو یا خاص آدمی۔

ایک صاحب نے کہا کہ ہم تمام مذہبوں کو مانتے ہیں، ہر مذہب ہمارے نزدیک برابر ہے۔ آدمی جس مذہب کو بھی اختیار کر لے وہ سچائی کو پا جائے گا۔ میں نے کہا کہ اگر آپ یہ کہیں کہ ابتدائی طور پر تمام مذاہب یکساں تھے اور ہر مذہب میں سچائی موجود تھی تو ماضی کے اعتبار سے آپ کا یہ بیان بالکل درست ہوگا۔ مگر آپ کا یہ بیان حال کے اعتبار سے درست نہیں۔

میں نے کہا کہ آج آپ پرنٹنگ پریس کے زمانے میں ہیں ۔ ہر مذہب کی کتابیں چھپی ہوئی ہزاروں کی تعداد میں موجود ہیں۔ مگر یہ آج کی بات ہے ، قدیم زمانے میں ایسا نہ تھا۔ قدیم زمانے میں

کتابیں لوگوں کے حافظے میں رہتی تھیں۔ وہ عوام تک نہیں پہنچی تھیں ۔ اس بنا پر ان کتابوں میں تبدیلیاں چنانچہ آج قدیم زمانے کی کوئی بھی مذہبی کتاب اپنی اصلی حالت میں محفوظ نہیں ۔ اسلام ساتویں صدی عیسوی میں آیا۔ جب کہ قدیم طرز کا کاغذ وجود میں آچکا تھا۔ پپائرس (Papyrus) کہا جاتا تھا۔ اس زمانے میں کتابت کا فن ترقی کر چکا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ پہلی بار ایسا ہوا کہ قرآن کا کاغذ پر لکھ کر باقاعدہ جلد کی صورت میں تیار کر لیا گیا۔ اس کے بعد لوگ اس کی نقل کر کے مزید جلدیں تیار کرتے رہے۔ یہاں تک کہ انیسویں صدی میں پرنٹنگ پریس کا زمانہ آگیا۔ اب قرآن کے نسخے چھاپ کر تیار کیے جانے لگے۔ اب قرآن کے مطبوعہ نسخے ہر گھر، ہر ادارے اور ہر لائبریری میں پہنچ گیے۔ اس طرح اب یہ امکان ہی باقی نہ رہا کہ قرآن میں کوئی تبدیلی کی جاسکے۔ اس طرح بطور ایک تاریخی حقیقت ، نہ کہ صرف بطور عقیدہ، ایسا ہوا کہ قرآن مستند مذہبی متن کے طور پر باقی رہا۔ قرآن کے سوا کسی بھی مذہب کی کوئی مقدس کتاب ایسی نہیں جو اپنی اصل حالت پر آج باقی ہو۔ یہی وجہ ہے کہ اب کسی طالبِ حق کے لیے علمی طور پر اس کے سوا کوئی اور صورت نہیں کہ وہ قرآن کو مستند کتاب کے طور پر لے اور اس سے ہدایت حاصل کرے ۔

کانفرنس کے ایک اور صاحب سے گفتگو ہوئی ۔ ان کا کہنا یہ تھا کہ آپ یہ کہتے ہیں کہ اسلام کو قرآن سے سمجھو، مسلمانوں کی زندگیوں سے اسلام کو نہ سمجھو۔ مگر سوال یہ ہے کہ قرآن اگر آپ کے کہنے کے مطابق ، سچی کتاب ہے تو مسلمان جو قرآن کو مانتے ہیں ، ان کی عملی زندگی میں قرآن کیوں نہیں۔ ایسے قرآن سے کیا فائدہ جو اپنے ماننے والوں کو اپنا پیروکار نہ بنا سکے۔ میں نے کہا کہ قرآن کا معاملہ الگ ہے اور مسلمانوں کا معاملہ الگ۔ قرآن کی حیثیت ایک کتاب کی ہے جب کہ انسان موجود دنیا میں ٹسٹ کی حالت میں ہے۔ یہ ٹسٹ جس طرح دوسرے انسانوں کا ہے، اسی طرح وہ مسلمانوں کے لیے بھی ہے۔ ٹسٹ کے معاملے میں مسلمان اور دوسرے انسانوں میں کوئی فرق نہیں۔ جس طرح دوسرے انسانوں کے لیے ہے کہ وہ ٹسٹ میں پورے اتریں یا پورے نہ اتریں ، اسی طرح مسلمانوں کے لیے ہے کہ وہ ٹسٹ میں پورے اترتے ہیں یا پورے نہیں اترتے۔

قرآن آزادانہ طور پر معیار کی ایک کتاب ہے۔ خدا جس طرح دوسرے انسانوں کو قرآن کے معیار سے جانچے گا، اسی طرح وہ مسلمانوں کو بھی قرآن کے معیار سے جانچے گا، اور جو شخص اس معیار پر جیسا ثابت ہوگا ویسا ہی اس کے ساتھ معاملہ کیا جائے گا۔ اس معاملے میں مسلمان اور غیر مسلمان کے درمیان کوئی فرق نہیں۔

اس قیام کے زمانے میں کانفرنس کے شرکاء سے برابر ملاقاتیں ہوتی رہیں۔ یہ ملاقاتیں زیادہ تر ناشتے اور کھانے کی میز پر ہوتی تھیں۔ یہی ہر کانفرنس کا طریقہ ہے۔ کانفرنس کی کارروائیوں کے درمیان تبادلہ خیال کے مواقع بہت کم ہوتے ہیں۔ زیادہ تر ایسا ہوتا ہے کہ لوگ چائے، ناشتے، اور کھانے کے اوقات میں ایک دوسرے سے تبادلہ خیال کرتے ہیں۔

ایک بار گفتگو کے دوران ایک صاحب نے کہا کہ سائی بابا خدائی اوتار (god incarnet) میں نے کہا کہ موجودہ زمانے میں کئی افراد خدائی اوتار کہے جاتے ہیں۔ مثلاً پاپر تھی کے سائی بابا، شانتی گری آشرم کے گرو، ساؤتھ کوریا کے مسٹرمون، اور اس طرح کے دوسرے کئی لوگ۔ پھر اگر خدا ایک ہے تو اس کے اوتار اتنے زیادہ کیوں۔ آپ اس کی توجیہہ کس طرح کریں گے۔ اس موضوع پر دیر تک گفتگو ہوئی، مگر وہ کوئی اطمینان بخش جواب نہ دے سکے۔ آخر میں انھوں نے کہا کہ ہم سب لوگ خدائی اوتار ہیں۔ آپ بھی ایک اوتار ہیں اور میں بھی ایک اوتار ہوں۔ ان کی یہ بات اور بھی زیادہ ناقابل فہم تھی۔ اس لیے میں نے گفتگو کا موضوع بدل دیا۔

۲۳ جولائی کے اجلاس میں میری تقرری تھی۔ میری تقریر کا موضوع اسلام اینڈ پیس‘‘ تھا۔ آدھ گھنٹے کا وقت دیا گیا تھا۔ میں نے انگریزی میں اس موضوع پر اظہار خیال کیا، اور قرآن وحدیث کے حوالے سے اس کی وضاحت کی۔ میری کرسی اور سائی بابا کی کرسی قریب قریب تھی۔ سائی بابا میری تقریر کو بہت دھیان سے سنتے رہے۔ جب تقریر ختم کرکے میں اپنی کرسی پر بیٹھا تو سائی بابا نے اپنی مخصوص کرسی میری کرسی کے قریب کرتے ہوئے کہا:

Printed page