Al-Risala · January 2007

نئی دہلی، یکم فروری ۲۰۰۶ دعا گو وحید الدین

Al-Risala, January 2007, pp. 9–10

By Maulana Wahiduddin Khan

میرے دوخط روانہ کرنے کے بعد ان کا ایک خط مجھ کو ملا۔ وہ خط یہاں نقل کیا جاتا ہے : محترم المقام جناب حضرت مولانا وحید الدین خاں صاحب حفظہ اللہ وتولاہ السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ چند دن پہلے والا نامہ موصول ہوا، جس میں آپ نے موجودہ دنیا کو دارالدعوة قرار دینے سے متعلق ، ڈاکٹر یوسف القرضاوی اور محمد محروس مدرس الاعظمی کے حوالے کے سلسلے میں استفسار فرمایا ہے۔ عرض یہ ہے کہ یوسف القرضاوی صاحب کے فتاویٰ کی دو جلدیں (اردو ترجمہ) مرکزی مکتبہ اسلامی نے شائع کی ہیں۔ پہلی جلد پر مولانا جلال الدین عمری کا مقدمہ ہے۔ مقدمہ میں انھوں نے یہ بات ڈاکٹر قرضاوی کے بارے میں لکھی ہے کہ وہ موجودہ پوری دنیا کو دارالدعوۃ قرار دیتے ہیں اور دار الاسلام اور دارالحرب کی فقہی تقسیم پر نظرثانی کی رائے رکھتے ہیں۔ مولانا عمری کے اس بیان پر تکیہ کر کے راقم نے زندگی نو والے مضمون میں ڈاکٹر قرضاوی کی طرف یہ بات منسوب کر دی ہے۔ محمد محروس مدرس الاعظمی کا تذکرہ راقم کی غلطی ہے۔ اور مجھے اپنی غلطی کا اعتراف ہے۔ حوالہ دارالاسلام اور دارالحرب کے سلسلے میں دیا جانا تھا۔

عید الاضحیٰ کی وجہ سے جواب میں تاخیر ہوگئی ہے اس کے لیے معذرت خواہ ہوں۔ آپ کی بیش قیمت تالیفات سے برابر استفادہ کرتا رہتا ہوں۔ اگرچہ کہیں کہیں اختلاف کی جسارت بھی کر ڈالی ہے لیکن اس سے انشاء اللہ آپ کبیدہ خاطر نہ ہوں گے ۔ حاشا و کلا یہ ہرگز مقصود بھی نہیں۔ اگر کہیں سوئے ادب ہو گیا ہو تو میں اُس کے لیے معافی کا خواستگار ہوں۔

۱۶ جنوری ۲۰۰۶ء والسلام غطریف شہباز ندوی ان کے اس خط کو پڑھ کر میں نے انھیں درج ذیل خط روانہ کیا :

برادر محترم مولانا غطریف شہباز ندوی ! السلام علیکم ورحمۃ اللہ آپ کا خط مورخہ ۱۴ فروری ۲۰۰۶ ملا۔ اللہ تعالیٰ ہر طرح آپ کی مدد فرمائے اور آپ کو آپ کی اعلیٰ صلاحیت کے مطابق، دینی خدمت کا موقع عطا فرمائے۔

مولانا جلال الدین عمری کی تحریر کا جو حوالہ آپ نے دیا ہے، وہ مکمل نہیں ہے۔ براہِ کرم ان کے اصل

الفاظ اور کتاب کا صفحہ نمبر دونوں روانہ فرمائیں۔ اللہ تعالیٰ آپ کو جزائے خیر عطا فرمائے۔ نئی دہلی، ۱۸ فروری ۲۰۰۶ دعا گو وحید الدین ان کے پہلے خط کو پڑھ کر میں نے مذکورہ کتاب میں اس کا کوئی حوالہ نہ پایا تو میں نے انھیں دوبارہ درج ذیل خط روانہ کیا:

برادر محترم مولانا غطریف شہباز ندوی! السلام علیکم ورحمۃ اللہ آپ نے اپنے خط مؤرخہ ۱۶ جنوری ۲۰۰۶ میں لکھا تھا کہ: ’’یوسف القرضاوی صاحب کے فتاوی کی دو جلدیں (اردو ترجمہ) مرکزی مکتبہ اسلامی، نے شائع کی ہیں۔ پہلی جلد پر مولانا جلال الدین عمری کا مقدمہ ہے۔ مقدمے میں انھوں نے یہ بات ڈاکٹر قرضاوی کے بارے میں لکھی ہے کہ وہ موجودہ پوری دنیا کو دار الدعوۃ قرار دیتے ہیں‘‘۔ میں نے ’’فتاویٰ یوسف القرضاوی‘‘ نامی مذکورہ کتاب کی پہلی جلد حاصل کی اور اس میں مولانا جلال الدین عمری کے پیش لفظ کو دیکھا، مگر اس میں نہ تو دار الدعوہ کا لفظ موجود ہے اور نہ یہ بات کہ ڈاکٹر یوسف القرضاوی موجودہ پوری دنیا کو دار الدعوۃ قرار دیتے ہیں۔ براہ کرم مطلع فرمائیں کہ آپ نے یہ بالکل بے اصل بات آخر کس طرح لکھ دی۔

Printed page