Al-Risala · March 2007

Muslims have rediscovered their pride in Islam.

Al-Risala, March 2007, pp. 10–17

By Maulana Wahiduddin Khan

موجودہ زمانے میں جب مغربی علوم مسلم دنیا میں آئے تو اُس وقت مسلم رہنماؤں نے یہ سمجھا کہ اصل ضرورت صرف یہ ہے کہ ایسے افراد پیدا کیے جائیں جو قدیم موضوعات کی تعلیم کے ساتھ جدید موضوعات کی تعلیم بھی حاصل کریں۔ گویا کہ وہ ایک طرف دینی مدرسے سے وہاں کی سند لیں اور اسی کے ساتھ سیکولر تعلیمی اداروں سے بی اے اور ایم اے کی ڈگری حاصل کرلیں، مگر یہ اصل صورت حال کا نہایت کم تر اندازہ تھا۔

اس معاملے کا گہرائی کے ساتھ جائزہ لیجیے تو معلوم ہوگا کہ جدید ضرورت کو پورا کرنے کے لیے ہمیں جس قسم کے افراد کی ضرورت ہے، وہ سادہ طور پر سند یافتہ یا ڈگری یافتہ عالم نہیں ہیں، بلکہ وہ تخلیقی (creative) عالم ہیں۔ ہمیں مفکر کی ضرورت ہے نہ کہ سادہ طور پر صرف عالم کی۔ سند یافتہ عالم یا ڈگری یافتہ مسٹر اُس ضرورت کو پورا کرنے کا سرے سے اہل ہی نہیں جو آج ہم کو درپیش ہے۔ مروّجہ اصول تعلیم کے مطابق، یہ ہوتا ہے کہ مدرسوں میں کلاسکل کتابیں پڑھائی جاتی ہیں۔ اسی طرح یونیورسٹیوں میں بھی جو نصاب پڑھایا جاتا ہے، وہ کلاسکل کتابوں کے اوپر مبنی ہوتا ہے۔ کہ مدرسہ اور یونیورسٹی دونوں میں علوم ماضی پڑھائے جاتے ہیں۔ تخلیقی معنوں میں علوم جدید دونوں میں سے کہیں نہیں پڑھائے جاتے ہیں۔ اس معاملے کی وضاحت کے لیے یہاں دو مثالیں نقل کی

حدیث کی تمام کتابوں میں صحیح البخاری سب سے زیادہ مستند کتاب مانی جاتی ہے۔ اس کی تشریح میں ابن حجر العسقلانی نے فتح الباری بشرح صحیح البخاری لکھی ہے جو تیرہ جلدوں پر مشتمل فتح الباری اتنی جامع کتاب ہے کہ اس کو حدیث کا انسائیکلو پیڈیا کہا جاتا ہے۔ صحیح البخاری میں کتاب الجنائز کے تحت ایک روایت آئی ہے۔ اس میں بتایا گیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ کے ایک راستے میں بیٹھے ہوئے تھے۔ اُس وقت وہاں سے ایک جنازہ کچھ لوگ جنازے کو اٹھا کر قبرستان کی طرف لے جارہے تھے۔ روایت کے مطابق، یہ ایک یہودی عالم (حبر من الیہود) کا جنازہ تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس جنازے کو دیکھ کر اس

کے احترام میں کھڑے ہو گئے۔ حاضرین میں سے کسی نے کہا کہ اے خدا کے رسول، یہ تو ایک یہودی کا آپ نے فرمایا: أليست نفساً (کیا وہ انسان نہیں)

(فتح الباری بشرح صحیح البخاری، جلد 3، صفحہ 214)

صحیح البخاری تمام مدارس میں پڑھائی جاتی ہے۔ یہ حدیث واضح طور پر احترامِ انسانیت کی اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ اسلام کی تعلیم یہ ہے کہ مذہب و ملت کے فرق کے بغیر ہر انسان کا یکساں طور پر احترام کیا جائے ۔ اس واضح تعلیم کے باوجود ہم دیکھتے ہیں کہ مساجد اور مدارس میں انسانیت کے اس عمومی احترام کا کوئی تصور نہیں۔ کہا جاتا ہے کہ تبلیغی جماعت مسلمانوں کی سب سے بڑی دینی جماعت ہے۔ اس جماعت کے بانی اور رہنما سب کے سب علماء کے طبقے سے تعلق رکھتے ہیں، لیکن اس جماعت کے اصول میں ” اکرامِ مسلم“ تو ہے، لیکن اکرامِ انسان کا ذکر بطورِ اصول اس میں موجود نہیں۔

احترام انسان کی اِس واضح تعلیم کے باوجود ہمارے مدارس اور مساجد میں کیوں ایسا ہے کہ اس کا ماحول ہمارے مدارس اور مساجد میں موجود نہیں۔ اس کا سبب یہ ہے کہ احترام انسان کی مذکورہ حدیث کو ہمارے فارغینِ مدارس جن کتبِ شرح کے ذریعے پڑھتے ہیں، اُن کتابوں میں حدیث کا یہ مفہوم سرے سے موجود ہی نہیں۔ فتح الباری نہایت مستند شرح سمجھی جاتی ہے، لیکن آپ اس حدیث کی شرح فتح الباری میں پڑھیں تو آپ دیکھیں گے کہ فتح الباری میں اس حدیث کی دس سے زیادہ تاویلیں موجود ہیں، لیکن اس میں وہی تاویل موجود نہیں جو حدیث کا اصل مقصود ہے، یعنی

یہ تمام شرحیں اِس مفروضے پر قائم ہیں کہ غیر مسلم کا احترام مسلمانوں کے لیے کوئی مطلوب چیز نہیں، مسلمانوں کو مسلمانوں کا احترام کرنا ہے نہ کہ غیر مسلموں کا۔ فتح الباری میں اس حدیث کی شرح کے تحت بہت سے علماء کی رائیں نقل کی گئی ہیں۔ ان تمام رایوں میں یہ ثابت کرنے کی کوشش کی گئی ہے کہ رسول اللہ ﷺ یہودی کے جنازے کے احترام میں نہیں اٹھے، بلکہ آپ کے اٹھنے کا سبب کچھ اور تھا۔

مثلاً کسی نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرشتوں کے احترام میں اٹھے جو جنازے کے ساتھ چل رہے تھے (إنما قمنا للملائكة) ، کسی نے کہا کہ جنازے کے بخور (دھونی) کی بو سے آپ کو اذیت پہنچی، اس لیے آپ کھڑے ہوگئے (فاذاه ريح بخورها) ، کسی نے کہا کہ جنازہ آپ کے سر کے اوپر سے گزر رہا تھا۔ آپ نے اس کو پسند نہیں کیا، اس لیے آپ کھڑے ہوگئے (كراهية أن تعلو رأسه)، کسی نے کہا کہ آپ نے شروع میں ایسا کیا تھا اور بعد میں اس کو ترک کر دیا، اس لیے اب یہ طریقہ منسوخ ہے (أنه ترك بعد فعله، فالأمر بالقيام منسوخ)، کسی نے کہا کہ آپ نے ایسا صرف بیانِ جواز کے لیے کیا تھا (كان قعوده لبيان الجواز)، وغیرہ۔ صحیح البخاری میں کوئی شخص اس حدیث کو پڑھے تو وہ اس سے یہ اخذ کرے گا کہ اسلام میں انسان کے احترام کی بہت زیادہ اہمیت ہے۔ احترامِ انسان اسلام کا ایک اعلیٰ اصول ہے۔ جب آپ اس حدیث کو شارحینِ حدیث کی کہی ہوئی باتوں کی روشنی میں دیکھیں تو یہ تاثر بالکل بدل اس حدیث میں آپ کو احترامِ انسانیت کا کوئی سبق نہیں ملے گا۔ پچھلی صدیوں میں عملاً یہی ہمارے مدارس سے لاکھوں لوگ صحیح البخاری پڑھ کر نکلے، مگر میرے علم کے مطابق، کسی نے اس حدیث کو احترامِ انسانیت کی تعلیم کے طور پر نمایاں نہیں کیا۔ حالاں کہ دورِ جدید کی نسبت سے یہ حدیث بے حداہمیت رکھتی ہے۔

دورِ جدید میں تمام انسانوں کا یکساں احترام ان کے مطلق حق کے طور پر تسلیم کیا گیا ہے۔ اس اعتبار سے یہ حدیث دورِ جدید کے انسانوں کے لیے بہت زیادہ اہم ہے، مگر مدرسوں میں کلاسکل لٹریچر کو پڑھ کر جو لوگ نکلتے ہیں، وہ صرف تقلیدی ذہن کے حامل ہوتے ہیں، وہ تخلیقی فکر (creative thinking) سے عملاً پوری طرح خالی ہوتے ہیں۔ اس بنا پر ایسا ہوا کہ قدیم کتابوں میں اس حدیث کی شرح میں جو کچھ لکھ دیا گیا تھا، اس کو انھوں نے آخری سمجھ لیا۔ اور تخلیقی غوروفکر کے ذریعے حدیث کے غیر روایتی معنی کو دریافت کرنے میں وہ ناکام رہے۔

اب یونیورسٹی ایجوکیشن کی ایک مثال لیجیے۔ موجودہ زمانے کی تمام یونیورسٹیوں میں ارتقاءِ حیات

کے نظریے کو بطور نصاب پڑھایا جاتا ہے ، جس کو عام طور پر ڈاراون ازم (darwinism) کہا جاتا ہے ۔ وہ تمام لوگ جو یونیورسٹیوں سے پڑھ کر نکلتے ہیں ، وہ ڈارون کے نظریۂ ارتقاء کو اس طرح مانتے ہیں جیسے کہ وہ کوئی ثابت شدہ حقیقت ہو۔ ان کا یہ عقیدہ اس لیے بنتا ہے کہ یونیورسٹی نصاب کے تحت ، وہ جن کتابوں کو پڑھتے ہیں ان میں ایسا ہی لکھا ہوا ہے اور اس کی تقلید میں ان کا پروفیسر اس موضوع کو اسی طرح پڑھاتا ہے۔ حالاں کہ یونیورسٹی نصاب کے باہر ایسی بہت سی کتابیں لکھی گئی ہیں اور چھپ کر شائع ہوچکی ہیں ، جن میں اس نظریے کو سرتاسر بے بنیاد ثابت کیا گیا ہے، مثلاً لُن (Lunn) کی کتاب روولٹ اگینسٹ ریزن (Revolt Against Reason)، وغیرہ۔

نظریۂ ارتقاء کو میں نے تفصیل کے ساتھ پڑھا ہے۔ میرے مطالعے کے مطابق ، اس کا خلاصہ یہ ہے کہ انواع حیات کے جسمانی ڈھانچے میں مشابہت (similarity) پائی جاتی ہے۔ مثلاً بلی اور شیر کا ڈھانچہ ایک دوسرے کے مشابہ ہے ۔ بکری اور زرافہ کا ڈھانچہ ایک دوسرے سے مشابہ ہے ۔ اور انسان کا ڈھانچہ ایک دوسرے سے مشابہ ہے۔ اس ظاہری مشابہت کی بنا پر یہ سمجھ لیا گیا کہ مختلف انواع کے درمیان ایک ارتقائی رشتہ ہے ، یعنی بلی میں عضو یاتی ارتقا ہوتا رہا ، یہاں تک کہ وہ شیر بن گئی۔ بکری میں عضویاتی ارتقا ہوتا رہا ، یہاں تک کہ وہ زرافہ بن گئی ۔ بندر میں عضویاتی ارتقا ہوتا رہا ، یہاں تک کہ وہ انسان بن گیا ۔

یہ ایک بے بنیاد دعویٰ ہے ۔ مشاہدے کے ذریعہ جو چیز دریافت ہوئی تھی ، وہ صرف مشابہتِ انواع ہے ، لیکن بے بنیاد قیاس کے تحت یہ فرض کر لیا گیا کہ مشابہتِ انواع دراصل ارتقاء انواع کو بتا رہا حالاں کہ اس قسم کا قیاس سرتا سر بے اصل ہے۔

اس موضوع پر گفتگو کرتے ہوئے ایک صاحب نے کہا کہ آپ خدا کے وجود کو ثابت کرنے کے لیے استنباط (inference) کو منطقی طور پر درست سمجھتے ہیں۔ اصحاب ارتقاء بھی اسی استنباط کے ذریعے اپنے نظریے کو ثابت کرتے ہیں ، پھر کیوں آپ اس کو نہیں مانتے ۔ میں نے کہا کہ یہ ایک مغالطے کی بات ہے۔ اس لیے کہ خدا کے وجود کو ثابت کرنے کا معاملہ یہ ہے کہ اس میں ایک ثابت شدہ

واقعے کی توجیہ کے لیے استنباط کو استعمال کیا جاتا ہے۔ مثلاً یہ کہنا کہ: Where there is a design there is a designer. اس کے برعکس، نظریۂ ارتقاء کا معاملہ یہ ہے کہ اس میں ایک غیر ثابت شدہ واقعے کی توجیہ کے لیے استنباط کے طریقے کو استعمال کیا گیا ہے، یعنی مختلف انواع کے درمیان ارتقائی عمل خود غیر ثابت شدہ ہے، مگر اس غیر ثابت شدہ عمل کو لے کر وہ حیاتیاتی فلسفہ بنا لیا گیا جس کو ڈارون ازم کہا جاتا ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ جدید دور میں ہمیں صرف عالم کی ضرورت نہیں، بلکہ عالمِ مفکر کی ضرورت صرف عالمِ دورِ جدید میں اسلام کی نمائندگی نہیں کر سکتا۔

مثال کے طور پر موجودہ زمانے میں مسلمانوں کے لیے جو سب سے بڑا مسئلہ پیدا ہوا، وہ یہ تھا کہ مغربی قوموں نے مسلمانوں کے ہزار سالہ سیاسی دبدبے کو ختم کر دیا۔ یہ مسلمانوں کے لیے ایک نیا اس کو سمجھنے کے لیے نہ مدرسی تعلیم کافی تھی اور نہ یونیورسٹی کی تعلیم۔ اس معاملے کو سمجھنے کے لیے تخلیقی فکر درکار تھی۔ چوں کہ دونوں طرف کے اصحابِ علم میں تخلیقی فکر مفقود تھی، اس لیے اس معاملے میں کوئی بھی شخص مسلمانوں کو صحیح رہنمائی نہ دے سکا۔

حقیقت یہ ہے کہ دورِ جدید میں مسلمانوں کے سیاسی غلبے کا ختم ہونا، ایک اضافی چیز تھی۔ سے زیادہ بڑی بات یہ تھی کہ جدید انقلاب نے ساری دنیا میں سائنسی دور پیدا کر دیا۔ تاریخ میں یہ جو تبدیلی پیش آئی، وہ عین اسلام کے حق میں تھی۔ جدید سائنسی دور اسلام کا معاون دور تھا نہ کہ

اس معاملے کو میں نے تفصیل کے ساتھ اپنی کتابوں میں لکھا ہے۔ خلاصہ یہ کہ رسول اور اصحابِ رسول کے ذریعے دنیا میں جو انقلاب آیا، اُس انقلاب نے تاریخ میں ایک نیا پر اس جاری اسی پر اس کا ایک نتیجہ یہ تھا کہ دنیا میں سائنسی دور پیدا ہوا، یعنی فطرت کا مطالعہ کر کے فطرت کے اُن قوانین کو دریافت کرنا جن کو قرآن میں آیات آفاق اور آیات انفس (حم السجدہ: 53) کہا گیا ہے۔

اس انقلاب کا ایک بے حد اہم پہلو یہ تھا کہ اس نے تاریخ میں پہلی بار دلیل کو تلوار کا قائم مقام بنا دیا۔ پہلے زمانے میں اسلامی دعوت کا کام تلوار کا مقابلہ کر کے کرنا پڑتا تھا، اب یہ ممکن ہو گیا کہ کسی بھی قسم کے تشدد کے بغیر صرف دلیل کی طاقت سے اسلامی دعوت کا فریضہ ادا کیا جائے۔

یہ ایک عالمی اصول ہے کہ ہر تہذیب کے دو حصے ہوتے ہیں۔ اسی طرح مغربی تہذیب کے بھی دو حصے ہیں۔ ان میں سے ایک حصے کو سائنس اور دوسرے حصے کو کلچر کہا جا سکتا ہے۔ انسانی فلسفوں میں سے ایک فلسفہ نہیں ہے۔ سائنس تمام تر قوانینِ فطرت کی دریافت کا نام ہے۔ فطرت کے قوانین براہ راست خدا کے قائم کیے ہوئے ہیں۔ یہ قوانین نہ مغربی ہیں اور نہ مشرقی۔ نہ مغربی ہیں اور نہ سیکولر۔ وہ خدا کے تخلیقی نقشے کے مطابق، براہ راست خدا کے حکم سے ہماری دنیا میں ان قوانین کو سائنس نے لمبی کوشش کے بعد دریافت کیا اور اس کو ایک علم کی صورت میں

یہ سائنسی علم اہل اسلام کے لیے اتنا ہی اہم ہے جتنا کہ غیر اہل اسلام کے لیے۔ یہ علم یکساں طور پر ہر ایک کے لیے مفید اور قابلِ قبول ہے۔ اس سائنسی علم کا ایک پہلو وہ ہے جس کو ٹکنالوجی کہا جاتا ٹکنالوجی کے ذریعے مشین اور دوسری مادی چیزیں بنتی ہیں۔ یہ چیزیں انسانی تمدّن کے لیے کار آمد ہیں، جیسے کار، ہوائی جہاز اور ٹیلی فون، وغیرہ۔

سائنسی علم کا دوسرا پہلو وہ ہے جس کو نظریاتی سائنس کہا جاتا ہے۔ مثلاً شمسی نظام کا علم، زمین کی گردش کا علم، بارش اور نباتات کا علم، وغیرہ۔ یہ دوسرا علم عین وہی چیز ہے جس کو قرآن میں آیاتِ آفاق وانفس کہا گیا ہے۔ اس علم کو قرآن میں آیاتِ الہیہ کا نام دیا گیا ہے۔ کیوں کہ وہ ہمارے اعتقادات کو علمی بنیاد فراہم کرتا ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ یہ سائنسی علم دورِ جدید کا علمِ کلام ہے۔ اس سائنسی علم نے تاریخ میں پہلی بار ایسا کیا ہے کہ عقلی دلیل واحد فیصلہ گن چیز بن گئی ہے۔ اس کی وجہ سے اب یہ ممکن ہو گیا ہے کہ دین توحید کی صداقت کو کسی بھی تشدد کے بغیر صرف نظریاتی دلائل کے ذریعے ایک ایسی ثابت شدہ چیز بنا دیا

جاۓ جس کو ماننے کے لیے انسان کی عقل مجبور ہو۔

مغربی تہذیب کا دوسرا حصہ اس کا کلچر ہے۔ یہ کلچر اہل مغرب کی قومی چیز ہے۔ سائنسی علم سے اس کا براہِ راست کوئی تعلق نہیں۔ مثلاً مغربی قوموں میں موجودہ زمانے میں اباحیت پسندی اور عریانیت پیدا ہوئی ہے، مگر اس اباحیت اور عریانیت کا سائنس سے کوئی تعلق نہیں۔ وہ مغربی قوموں کی اپنی پیدا وار ہے۔ تاریخ کے قدیم زمانے میں بھی اس قسم کی اباحیت کا ثبوت ملتا ہے۔ مثلاً قومِ لوط میں اباحیت ایسے انتہائی درجے تک پہنچ گئی تھی کہ خدا نے ان کو آسمانی عذاب کے ذریعے ہلاک کر دیا۔ مغربی قوموں میں جو بے قید آزادی پیدا ہوئی اس کی ذمے داری بھی براہِ راست یا بالواسطہ طور پر خود مسلم رہنمائوں پر عائد ہوتی ہے۔ مغربی سائنس فطرت پر عقلی غور و فکر کے ذریعے پیدا ہوئی۔ اس بنا پر جب سائنس کا عروج ہوا تو اسی کے ساتھ عقلی غور و فکر کا بھی عروج ہو گیا۔ اب فطری طور پر ایسا ہوا کہ موجودہ زمانے کے اہل علم مذہب کو بھی عقلی معیاروں پر جانچنے لگے۔

اب ضرورت تھی کہ مسلم رہنما اسلام کی تعلیمات کو ایسے عقلی اور سائنسی دلائل کے ذریعے پیش کریں جو آج کے انسان کے مائنڈ کو ایڈریس کرنے والا ہو، مگر مسلم رہنماؤں کا حال یہ ہوا کہ وہ مغربی سائنس اور مغربی کلچر کے درمیان فرق کو سمجھنے سے عاجز رہے اور انھوں نے مغربی تہذیب کو اسلام دشمن سمجھ کر اس کی مخالفت شروع کر دی۔ وہ اسلام کو عقلی دلائل پر پیش کرنے کے بجاۓ جدید نسل کے لوگوں کو ملحد اور مرتد قرار دے کر ان کے خلاف فتوے کی زبان بولنے لگے۔ حالاں کہ یہاں فتویٰ ایکٹوزم نہیں بلکہ سائنسی ایکٹوزم کی ضرورت تھی۔

مسلم رہنمائوں کی یہی وہ بھیانک غلطی ہے جس نے سارے مسائل پیدا کیے۔ اسی غلطی کا یہ نتیجہ تھا کہ سائنسی انقلاب جو دینِ حق کی تائید کے طور پر آیا تھا۔ وہ دینِ حق کا رقیب اور حریف بن کر رہ اور یہ سب کچھ صرف اس لیے ہوا کہ موجودہ زمانے میں سند یافتہ علماء اور ڈگری یافتہ رہنما تو بہت پیدا ہوئے، لیکن ہمارے ادارے کوئی تخلیقی مفکر پیدا نہ کر سکے۔

راقم الحروف نے خدا کے فضل سے اس میدان میں ذاتی محنت کے ذریعے اتنا زیادہ کام کیا

ہے جو وقت کی اس کمی کو بھر پور طور پر پورا کر سکتا تھا، لیکن بدء الاسلام غریباً و سیعود کما بدأ کے مطابق، ایسا ہوا کہ روایتی ذہن کی بنا پر لوگ اس کی اہمیت کو سمجھنے سے عاجز رہے اور اس کے جواب میں انھوں نے انتہائی نادانی کے ساتھ منفی رد عمل کا ثبوت دیا۔ یہ تاریخ جدید کا ایک پر اس تھا ۔ حضرات پر فرض تھا کہ وہ اس پر اس کا حصہ بنیں، لیکن انھوں نے اس پر اس کا حصہ بننے کے بجائے اس کی مخالفت کو بے بنیاد طور پر اپنی ذمے داری سمجھ لیا۔

یہ تمام لوگ جس جدید علمی اور فکری ضرورت کا تقاضا کر رہے تھے، عملاً وہ چیز ظاہر ہوئی لیکن عجیب بات ہے کہ یہ لوگ اس کے مقابلے میں ولا تكونوا أول كافر به کا مصداق بن کر رہ گئے ۔

"تذکیر القرآن" کے ہندی اور انگریزی ترجموں کے بعد اب دیگر مقامی زبانوں — تلگو، تامل، آسامی، گجراتی، مراٹھی، پنجابی، بنگالی، اُڑیا، کنڑ، نیز مختلف عالمی زبانوں — جرمن، فرینچ، اسپینش، روسی، جاپانی اور چینی، وغیرہ میں اُس کا ترجمہ اور اشاعت مطلوب ہے۔ حضرات "تذکیر القرآن" کے ترجمہ اور کمپوزنگ اور اشاعت کا دعوتی کام کرنا چاہتے ہوں، وہ ادارے کو اپنا مخلصانہ تعاون دیں، اور اپنے مکمل پتے سے آگاہ فرمائیں۔ اس سلسلے کے تمام اخراجات ادارے کے ذمے ہوں گے۔

Printed page