۲۰ فروری، ۲۰۰۶ دعا گو وحید الدین
Al-Risala, January 2007, pp. 10–11
By Maulana Wahiduddin Khan
میرے اس خط کے بعد ان کا ایک خط مجھے ملا، جو یہاں نقل کیا جاتا ہے:
محترم المقام حضرت مولانا وحید الدین خاں صاحب! السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ ادھر آپ کے کئی والا نامے ملے۔ امید ہے کہ میرا جواب بھی آپ کو موصول ہوا ہوگا۔ حال ہی میں میرے مطالعے میں ایک کتاب آئی ہے: ’’الإسلام والتعايش السلمي مع الآخر‘‘ (للدكتور طه جابر علوانی) صدر اداره المعهد العالمي للفكر الاسلامی واشنگٹن، امریکا، صفحات (۱۰۲) اس کے اخیر کے دو صفحات آپ کی خدمت میں فیکس کر رہا ہوں، ان میں تقریباً وہی بات کہی گئی ہے جو دنیا کے ’’دار دعوت‘‘ ہونے کے سلسلے میں آپ کا موقف ہے اور خاکسار بھی اسی سے اتفاق رکھتا ہے۔
۲۱ فروری، ۲۰۰۶، نئی دہلی والسلام غطریف شہباز ندوی ان کے اس خط کے بعد میں نے انھیں درج ذیل خط روانہ کیا:
السلام علیکم ورحمۃ اللہ برادر محترم مولانا ظریف شہباز ندوی !
آپ کا خط مورخہ ۲۱ فروری ۲۰۰۶ ملا۔ اس کے ساتھ آپ نے ایک عربی کتاب کے ایک صفحے کی فوٹو کاپی روانہ کی ہے۔ اس صفحے کو پڑھنے سے بات واضح نہیں ہوتی۔ میں اصل کتاب دیکھنا چاہتا ہوں۔ براہِ کرم اصل عربی کتاب مجھے عاریتاً عنایت فرمائیں۔ آپ مولا نا محمد حسان ندوی کو یہ کتاب دے دیں۔ وہ مجھ کو کتاب پہنچادیں گے۔ میں اس کو پڑھنے کے بعد کتاب آپ کو لوٹا دوں گا۔