تفریق کیا ہے
Al-Risala, March 2007, pp. 18–23
By Maulana Wahiduddin Khan
قرآن کی سورہ نمبر 3 میں اہلِ ایمان کو خطاب کرتے ہوئے ایک اہم اجتماعی تعلیم دی گئی ہے، اس آیت کا ترجمہ یہ ہے :
"اور تم لوگ اللہ کی رسی کو مضبوط پکڑ لو، اور متفرق نہ ہو جاؤ،" (آل عمران: 103) مفسرین نے اس آیت کی تفسیر کے تحت اُس حدیث کو نقل کیا ہے جس میں پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پچھلی امتیں بہتر فرقوں میں بٹ گئیں اور تم لوگ تہتر فرقوں میں ہوگے۔ ان میں ہر جماعت گمراہ ہوگی، سوا اُس جماعت کے جو رسول اور اصحابِ رسول کے طریقے پر ہو (ما أنا عليه
صحیح مسلم میں یہ روایت آئی ہے کہ خدا قیل وقال اور کثرتِ سوال کو سخت نا پسند کرتا ہے۔ (القرطبی، جلد 4، صفحہ 164) اس حدیث میں کثرتِ سوال سے مراد یہ ہے کہ آدمی نصوص میں خوض کرکے نئے نئے نکتے نکالے اور ان نکتوں کی بنیاد پر نصوص کی خود ساختہ تعبیر کرنے لگے۔ ان خود ساختہ تعبیرات پر اصرار کرنے ہی کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ امت متفرق گروہوں میں بٹ جاتی ہے، اور ہر گروہ یہ سمجھنے لگتا ہے کہ وہی حق پر ہے۔
اصل یہ ہے کہ ایک چیز ہے دین کی معلومات، اور دوسری چیز ہے حکمت اور بصیرت معلومات نصوص کے مطالعے سے حاصل ہوتی ہیں، لیکن وہ چیز جس کو حکمت اور بصیرت کہا جاتا ہے اس کا ذریعہ صرف ایک چیز ہے، اور وہ ہے خدا کا خوف۔ اس بات کو قرآن میں ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے: واتقوا الله ويعلمكم الله (البقرة: (282) اسی بات کو حدیث میں ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے: رأس الحكمة مخافة الله (البيهقی) حکمت کا سر اللہ کا خوف ہے۔ سادہ فہم کے لیے معلوماتی علم کافی ہے، لیکن دین کی تشریح و تعبیر گہری بصیرت کے بغیر ممکن نہیں۔ اس معاملے پر زیادہ گہرائی کے ساتھ غور کیجیے تو معلوم ہوگا کہ تفرق فی الدین عوام کا فتنہ نہیں،
اصلاَ یہ خواص کا فتنہ ہے۔ ایسا ہوتا ہے کہ ایک شخص جوذ ہن تو ہو لیکن خوفِ خدا والی بصیرت اس کے اندر موجود نہ ہو، وہ قرآن اور حدیث کو پڑھ کر ایک غیر ضروری نکتہ نکالتا ہے۔ اس نکتے کی کاٹ کے لیے اس کے اندر گہری بصیرت موجود نہیں ہوتی، اس لیے وہ نکتے کو درست سمجھ کر اس کا پرچار شروع کر دیتا ہے۔ دھیرے دھیرے کچھ اور سادہ لوح افراد اس کے گرد اکٹھا ہو جاتے ہیں۔ اس طرح ایک فرقہ وجود میں آ جاتا ہے۔ چند نسلوں کے بعد فطری اسباب کے تحت، اس میں تعصب کا عنصر شامل ہو جاتا ہے، یہاں پہنچ لوگ اُس فرقے سے اِس طرح جڑ جاتے ہیں کہ اُن کے لیے اُس سے جدائی ممکن نہیں ہوتی، کیوں کہ دلیل کا جواب تو دلیل کے ذریعے دیا جا سکتا ہے، لیکن دلیل کے ذریعے تعصب کی دیوار کو توڑا نہیں جا سکتا۔ اس طرح ایک کے بعد ایک فرقے بنتے رہتے ہیں، یہاں تک کہ ان کی تعداد ستر سے بھی زیادہ ہو جاتی ہے۔
تفرق فی الدین کیا ہے۔ تفرق فی الدین در اصل تعبیرِ دین میں اختلاف کے نتیجے میں پیدا دین کی تعبیر، دین کی ایک فطری ضرورت ہے، لیکن تعبیر اور نکتہ آفرینی میں فرق ہے۔ صحیح تعبیر وہ ہے جو علمی تجزیے میں پوری اترے۔ جو نصوصِ دین کے مجموعی مطالعے سے درست ثابت جو ”ما أنا عليه وأصحابي‘‘ کا بدلے ہوئے حالات میں انطباق (application) کے ہم معنیٰ جس سے مقتضیاتِ دین میں کوئی تضاد واقع نہ ہوتا ہو۔
اس کے برعکس، نکتہ آفرینی وہ ہے جو کچھ افراد کے ذاتی ذوق کو تسکین دیتی ہو، لیکن وسیع تر علمی تجزیے میں وہ اپنی صحت کو ثابت نہ کر سکے۔ مثال کے طور پر کچھ لوگ اسلام کا نشانہ یہ بتاتے ہیں کہ اس کا مقصد زمین پر حکومتِ الہیہ کا قیام ہے۔ اس نظریے کے ثبوت میں قرآن کی یہ آیت پیش کرتے ہیں: إن الحكم إلا الله (یوسف: 40) مگر یہ حوالہ بداہتاً درست نہیں۔ آیت کے سیاق و سباق کے مطالعے سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ آیت فوق الفطری حکم کے معنی میں ہے نہ کہ سیاسی حکم کے معنی میں، جیسا کہ اس کے دعوے دار بتاتے ہیں۔ اس مثال سے نکتہ آفرینی اور حقیقی تشریح و تعبیر کے فرق کو سمجھا جا سکتا ہے۔
اس معاملے کو اس طرح بھی بیان کیا جاسکتا ہے کہ حدیث کے الفاظ میں تشریحِ دین کی دو ایک، اجتہادِ صحیح اور دوسرے، تفسیر بالرائے۔ اجتہادِ صحیح وہ ہے جو تمام متعلق نصوص کے اُس سے شرعی احکام میں کوئی تضاد نہ پیدا ہوتا ہو۔ اس کے مقابلے میں تفسیر بالرائے وہ ہے جو ایک شخص کی ذاتی رائے ہو، لیکن جب اس کو متعلق نصوص پر رکھ کر جانچا جائے تو درست ثابت نہ اس معاملے کی مزید وضاحت کے لیے چند مثالوں کو لیجیے۔
1- حدیث میں آیا ہے کہ: مَن قال لا الہ الا الله دخل الجنة (صحیح البخاری) اس حدیث کو اور اس قسم کے دوسرے نصوص کو لے کر کچھ لوگوں کے دماغ میں آیا کہ جنت میں داخلے کے لیے صرف ایمان کافی ہے۔ یہ وہ لوگ تھے جن کے پاس معلومات تو تھیں، لیکن اُن کے اندر گہری بصیرت موجود نہ تھی۔ چنانچہ انھوں نے اس حدیث کو لفظی معنوں میں لے کر یہ رائے بنائی کہ جنت کے حصول کے لیے صرف ایمان کافی ہے۔ اگر ان کے اندر گہری بصیرت ہوتی تو ان کی بصیرت ان کے لیے مہیمن بن جاتی اور وہ سمجھ لیتے کہ اس قسم کی رائے محض ایک بے بنیاد نکتہ ہے وہ کوئی حقیقی نظر یہ نہیں، لیکن گہری بصیرت نہ ہونے کی وجہ سے اس نکتے کا بے اصل ہونا اُن کی سمجھ میں نہ آیا، وہ اپنے اس نکتے پر اصرار کرتے رہے، یہاں تک کہ اس کی بنیاد پر ایک نیا فرقہ وجود میں آ گیا۔ اس فرقے کے لوگوں کی طرف اس قسم کے اقوال نقل کیے جاتے ہیں:
ليس لله عزّ وجلّ علیٰ خلقه فريضة سوی الإيمان به، فمن امن به فليفعل ماشاء. الطاعة ليست من الإيمان (القرطبی، جلد 4، صفحہ 162)
اس قسم کی بات کرنے والوں کے پاس اگر تقویٰ اور بصیرت کا سرمایہ ہوتا تو وہ اس معاملے پر غور کرتے ہوئے دوسرے نصوص کو بھی ضرور سامنے رکھتے اور پھر وہ پا لیتے کہ جنت محض کسی قسم کے تلفظ لسانی کی بنا پر کسی کو نہیں ملے گی، بلکہ یہ سارا معاملہ تعمیر شخصیت کا معاملہ ہے۔ جنت دراصل اُس سعادت مندر وح کے لیے ہے جو تزکیہ یافتہ شخصیت لے کر آخرت میں حاضر ہو (ذلک جزاء من تزکی، ط : 76) اور جو شخص تزکیہ کے درجے میں اسلام کا حامل بن جائے اس کے لیے قول اور عمل میں کوئی فرق باقی
اس کا ایمان ایک ایسی معرفت پر کھڑا ہوتا ہے جو پوری انسانی شخصیت کے اندر انقلاب کے ہم معنی بن جائے۔
2- قرآن کی سورہ نمبر ۵ میں ارشاد ہوا ہے: وَمَن لم يحكم بما أنزل الله فاولئك هم الكافرن (المائدہ: 44) یعنی جو شخص اُس (قانون) کے مطابق ، فیصلہ نہ کرے جو اللہ نے اتارا ہے تو وہی لوگ منکر ہیں۔ اس آیت کو لے کر کچھ لوگوں نے یہ نظریہ بنایا کہ جو انسان خدا کے حکم اور اس کے نازل کردہ قانون کو چھوڑ کر اپنے یا دوسرے انسانوں کے بنائے ہوئے قوانین کے مطابق فیصلہ کرتا ہے، وہ ایسا کر کے کافر ہو جاتا ہے۔ اس جماعت کا ایک قول ان الفاظ میں نقل کیا گیا ہے: مَن حاکم إلى مخلوق فهو كافر (القرطبی، جلد 4، صفحہ 161)
اس گروہ کی غلطی یہ ہے کہ انھوں نے قرآن کی ایک آیت کو لیا اور دوسری متعلق آیتوں کو سامنے رکھے بغیر اس کا مفہوم متعین کرنے کی کوشش کی۔ قرآن کی دوسری آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ کسی فعل کا غلط ہونا تعمد قلب پر موقوف ہے (البقرہ: 225)۔ جس فعل میں آدمی کا قلبی ارادہ شامل نہ ہو وہ اس کے لیے ذمے دار نہیں ٹھہرایا جائے گا۔
شرعی حکم کی کچھ شرطیں ہوتی ہیں، ان شرطوں کی موجودگی کے بغیر وہ حکم متحقق نہیں ہوتا۔ مثلاً ہر حکم کے ساتھ یہ لازمی شرط جڑی ہوتی ہے کہ آدمی اس کی استطاعت رکھتا ہو (اتقوا الله ما استطعتم، التغابن: 16) اس اصول کو شریعت میں تکلیف بقدر وسع (البقرہ: 286) کہا گیا ہے۔ مثال کے طور پر ہندوستان کے مسلمان اگر حکم شریعت کے مطابق ، فیصلہ نہ کریں تو وہ مذکورہ آیت کا مصداق نہیں ٹھہریں گے۔ اس لیے کہ ہندوستان میں مسلمانوں کو نفاذ شریعت کا اختیار حاصل ہندوستان میں مسلمانوں کی ذمے داری ان کے دائرۂ اختیار کے اعتبار سے متعین ہوگی نہ کہ فہرست احکام کے اعتبار سے۔ چناں چہ ہندوستان میں مسلمانوں کو جو کام کرنا ہے وہ دعوت الی اللہ ہے جس کا اس دورِ آزادی میں انھیں پورا اختیار حاصل ہے۔
اسی طرح پاکستان کے مسلمان بھی اگر شرعی احکام کا نفاذ نہ کریں تو اس بنا پر وہ "کافر" نہیں
قرار پائیں گے۔ اس لیے کہ پاکستان کا معاشرہ ایک بگڑا ہوا معاشرہ ہے اور بگڑے ہوئے معاشرے میں اسلامی عمل کا آغاز احکام کے نفاذ سے نہیں ہوتا، بلکہ اس سے ہوتا ہے کہ غیر سیاسی سطح پر اصلاحی کوشش کے ذریعے معاشرے کے اندر احکام کی قبولیت کی استعداد پیدا کی جائے۔
3- اس طرح کچھ لوگوں نے قرآن اور حدیث میں جہاد کے احکام پڑھے۔ ان احکام کو پڑھ کر اُن کے ذہن میں جہاد کی اہمیت کا ایک غُلُو آمیز تصور قائم ہوا۔ اس غلو آمیز تصور کی بنا پر انھوں نے جہاد کو فرض عین کا درجہ دے دیا۔ انھوں نے یہ نظریہ بنایا کہ جو شخص جہاد کو چھوڑ دے، خواہ وہ مرد ہو یا عورت، تو وہ کافر ہو گیا:
أن من ترك الجهاد من ذكر أو أنثى كفر (القرطبی، جلد4، صفحہ 161)
جہاد کے بارے میں یہ نظریہ یقینی طور پر بے بنیاد ہے۔ یہ لوگ جہاد کو اُسی طرح ابدی سمجھتے ہیں جس طرح نماز ایک ابدی حکم ہے، مگر جہاد کا معاملہ ایسا نہیں ۔ دیگر نصوص کا مطالعہ کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ جہاد (بە معنی قتال) ایک مشروط حکم ہے، وہ کوئی مطلق حکم نہیں۔ یعنی جہاد (بە معنی قتال) دفاعی طور پر صرف اُس وقت کیا جائے گا جب کہ خارج سے باقاعدہ مسلح جارحیت کی گئی ہو۔ یہ دفاعی جہاد بھی منّظم ریاست کا فریضہ ہے نہ کہ افراد یا غیر حکومتی ادارے کا۔
مزید یہ کہ جہاد (بە معنی قتال) کا تعلق حالات سے ہے۔ یعنی جس وقت جہاد کا فعل کرنا ہو، اُس وقت کے حقیقی حالات کی نسبت سے دیکھا جائے گا کہ فریق ثانی کے مقابلے میں نتیجہ خیز جدوجہد کا طریقہ کیا ہے۔ مثال کے طور پر موجودہ زمانے میں قتال عملاً ایک ناممکن چیز بن چکی ہے۔ قتال اب کسی کے لیے بھی کوئی درست انتخاب نہیں۔
جیسا کہ معلوم ہے، موجودہ زمانہ ایٹم بم کا زمانہ ہے۔ پہلے زمانے میں تلوار سے جنگ ہوتی تلوار کے ذریعے جنگ کا دائرہ بہت محدود ہوتا تھا، مگر موجودہ زمانے میں جدید ہتھیاروں کی تیاری نے جنگ کو عمومی تباہی (mass destruction) کا زمانہ بنا دیا ہے۔ ان ہتھیاروں کی فہرست میں ایٹم بم نمبر ایک کی حیثیت رکھتا ہے۔ موجودہ زمانے میں تقریباً تمام بڑے ملک یا تو ایٹم بم بنا چکے ہیں، یا
انھوں نے ایٹم بم بنانے کی صلاحیت اپنے اندر پیدا کرلی ہے۔ اس سلسلے میں ایک تازہ سروے کی رپورٹ نئی دہلی کے انگریزی روزنامہ ٹائمس آف انڈیا (17 اکتوبر 2006) میں چھپی ہے۔ سرخی کے الفاظ یہ ہیں: