نئی دہلی، ۲۷ فروری ۲۰۰۶ دعا گو وحید الدین
Al-Risala, January 2007, pp. 11–16
By Maulana Wahiduddin Khan
کافی انتظار کے بعد جب مجھے ان کا کوئی جواب نہیں ملا تو میں نے درج ذیل خط انھیں روانہ کیا: السلام علیکم ورحمۃ اللہ برادر محترم مولانا ظریف شہباز ندوی !
عرض یہ کہ آپ نے اپنے مطبوعہ مضمون میں یہ دعوی کیا تھا کہ ڈاکٹر یوسف القرضاوی پوری دنیا کو دار الدعوہ قرار دیتے ہیں۔ میں نے حوالے کے ساتھ یہ واضح کیا کہ آپ کا یہ دعوی بے بنیاد ہے۔ موصوف کی کسی کتاب میں دار الدعوہ کا یہ تصور نہیں پایا جاتا۔ مگر آپ نے اپنی غلطی کا اعتراف کیے بغیر ایک اور ناقص حوالہ پیش یہ ڈاکٹر طٰہ جابر العلوانی کی کتاب "الإسلام والتعايش السلمي مع الآخر" کے دو صفحات (صفحہ نمبر درج نہیں ) کی فوٹو کاپی ہے۔
مجھے ابھی تک اصل عربی کتاب نہیں ملی۔ تاہم آپ نے کتاب کے دو صفحات کی جو فوٹو کاپی بھیجی ہے اس کو میں نے بغور پڑھا۔ دوبارہ میں کہوں گا کہ ان مُرسلہ صفحات سے آپ کا یہ دعویٰ ثابت نہیں ہوتا کہ ڈاکٹر العلوانی کے یہاں دار الدعوہ کا تصور پایا جاتا ہے۔ یہ صحیح ہے کہ اس کتاب میں ایک مقام پر دارِ دعوت کا لفظ موجود ہے، مگر صرف لفظ کی موجودگی سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ مصنف کے یہاں وہ تصور موجود ہے جس کو دار الدعوہ کہا گیا ہے۔ آپ نے مُرسلہ صفحات کے حسب ذیل جملے کی طرف اشارہ کیا ہے: ثم تنقسم الأرض من حيث كونها دارًِ إلى "دار إجابة" و "دار دعوة" وكلاهما "دار إسلام" (پھر زمین بحیثیت ایک دار کے، دو حصوں میں تقسیم ہو جاتی ہے، دارِ اجابت اور دارِ دعوت، اور دونوں دارِ اسلام ہیں)۔ مصنف کے اس جملے میں دارِ دعوت کا لفظ ضرور ہے، لیکن اصل عبارت میں اس کا مفہوم بالکل واضح مصنف کا کہنا ہے کہ زمین دارا اجابت اور دارِ دعوت میں منقسم ہے، اور یہ دونوں ہی دار، بیک وقت دارِ اسلام
یہ جملہ صرف مصنف کے کنفیوژن کو بتاتا ہے۔ دار دعوت اور دار اسلام کی اصطلاحیں دو مختلف منطقوں کے درمیان فرق کو بتانے کے لیے ہیں، لیکن جب دونوں اصطلاحوں کو ایک کہہ دیا جائے تو دونوں کے درمیان فرق سرے سے ختم ہو جاتا ہے۔ اسی کا نام کنفیوژن ہے۔
ایسا معلوم ہوتا ہے کہ مصنف نے کسی مفروضہ مفہوم کے تحت، دار دعوت کا لفظ تو استعمال کیا، مگر اُن پر یہ واضح نہیں تھا کہ دار دعوت حقیقتاً کیا ہے۔ دار دعوت یا دار الدعوہ دراصل یہ بتانے کے لیے ہے کہ غیر مسلموں کی نسبت سے مسلمانوں کی جو ذمے داری ہے وہ یہ ہے کہ مسلمان ان کے اوپر دعوت الی اللہ کے عمل کو انجام دیں۔ لیکن جب دار دعوت اور دار اسلام دونوں کو ایک کہہ دیا جائے تو دار الدعوہ کی وہ نوعیت ہی گم ہو جاتی ہے جس کی وضاحت کے لیے یہ اصطلاح وضع کی گئی ہے۔
اصل یہ ہے کہ دماغ میں جب وضوح (clarity) ہو تو آدمی ایک چیز کو دوسری چیز سے الگ کر کے دیکھنے کے قابل ہوتا ہے، لیکن جب دماغ میں کنفیوژن ہو تو آدمی فرق کو نہیں سمجھ پاتا اور وہ ایک قسم کے فکری تضاد میں مبتلا مثلاً ایسا آدمی یہ کہہ سکتا ہے کہ برصغیر ہند، دو منطقوں میں تقسیم ہے۔ انڈیا دار دعوت ہے اور پاکستان دار اسلام، اور پھر دونوں بیک وقت دار الاسلام ہیں۔ اس قسم کی بات کہنے والے کے بارے میں یہ کہنا صحیح ہوگا کہ وہ امتحان کی اصطلاح میں مائنس مارکنگ (minus marking) کا مستحق ہے۔ یعنی وہ انڈیا کی شرعی نوعیت سے بھی بے خبر ہے اور پاکستان کی شرعی نوعیت سے بھی بے خبر۔
میں عرض کروں گا کہ یہ کوئی صحیح علمی طریقہ نہیں کہ آدمی ایک بیان دے اور پھر جب وہ بیان غلط ثابت ہو جائے تو وہ اپنی غلطی کا کھُلا اعتراف نہ کرے بلکہ غیر متعلق باتیں بول کر یہ ظاہر کرے کہ اس کا بیان درست تھا۔ اس قسم کی روش نفسیات کی اصطلاح میں، کمزور شخصیت (weak personality) کا ثبوت ہے۔ جو آدمی کمزور شخصیت کا حامل ہو اس کو اپنی اس روش کی یہ بھاری قیمت دینی پڑتی ہے کہ اس کا علمی ارتقا مستقل طور پر رک جائے اور وہ اعلیٰ فکری ترقی کا تجربہ نہ کر سکے۔
نئی دہلی، ۹ مارچ ۲۰۰۶ء اس خط کے بعد مولانا غطریف شہباز ندوی کی طرف سے ان کا ایک خط ملا۔ اپنے اس خط میں انھوں نے اعتراف کر کے اس بحث کو ختم کر دیا تھا۔ ان کا یہ خط یہاں نقل کیا جاتا ہے:
محترم المقام حضرت مولا نا وحید الدین خاں صاحب مدظلہم العالی السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ گرامی نامہ موصول ہوا۔ اس ناچیز کے لیے آپ نے زحمت اٹھائی اس کا شکریہ۔ آپ نے جو کچھ تحریر فر مایا ہے میں اس کے لفظ لفظ سے متفق ہوں۔ اس سے پہلے ایک خط میں اپنی یہ غلطی صاف طور پر قبول کر چکا ہوں کہ دنیا کے دار دعوت ہونے کے سلسلے میں یوسف القرضاوی وغیرہ کی طرف جو بات میں نے منسوب کر دی تھی وہ میری غلطی تھی۔ ہاں ایسا ضرور محسوس ہوتا ہے کہ بعض علما، قدیم فقہاء وعلماء کے برعکس، دنیا کو دوداروں دارالاسلام ودار الحرب میں تقسیم کرنے کے سلسلے میں کچھ نئے انداز سے سوچنے لگے ہیں۔ اس کے ثبوت کے طور پر محمد محروس مدرس الاعظمی کے مضمون کی اردو تلخیص کا ایک تراشہ بھی آپ کی خدمت میں راقم نے روانہ کیا تھا۔ اس مسئلے میں آپ کے استثناء کے ساتھ باقی اکثر علماء کوئی نئی بات کہنی بھی چاہتے ہیں تو گول مول انداز میں کہتے ہیں۔ بعض تحریروں کے مطالعہ سے غلطی سے راقم نے یہ نتیجہ نکال لیا کہ بعض علماء دنیا کو دار الدعوہ سمجھنے اور کہنے لگے ہیں۔ یہ بات اگر بعض علماء کی نسبت سے صحیح بھی ہو تب بھی بغیر حوالہ کے ایسا کہنا درست نہ تھا۔ بذریعہ فیکس طہ جابر العلوانی کی تحریر کا جو صفحہ میں نے روانہ کیا تھا اس کا مقصد اپنی کسی بات کی پیچ کرنا نہیں تھا بلکہ آپ کے سامنے صرف یہ رکھنا تھا کہ بعض جدید عرب علماء بھی اس انداز میں سوچتے ہیں۔ باقی علوانی کی اس تحریر پر آپ کا نقد نہایت مضبوط ہے۔ آپ کا یہ فرمانا بھی بالکل بجا ہے کہ موجودہ دور کے تمام علماء و فقفاء اس موضوع پر کنفیوژن کا شکار ہیں۔ خاکسار کے نزدیک اس کا سبب یہ ہے کہ ان کی اکثریت قدیم فقہی لٹریچر اور مصطلحات کی اسیر ہے۔ اس نپے تلے فقہی چوکھٹھ سے باہر آنے کی ہمت نہیں کر پاتے، لہذا ان کی ساری بحث دار الكفر دار الاسلام، پھر دار الكفر کی مزید تقسیمات دار العہد، دار الامن ودار الحرب وغیرہ کے گرد ہی گھومتی ہے۔ نتیجہ میں کنفیوژن پیدا ہو جاتا ہے۔ آپ چوں کہ نئے انداز سے سوچنے کی ہمت اور اجتہادی بصیرت رکھتے ہیں اور عصری اسلوب میں اپنی بات کہنے کا فن بھی جانتے ہیں۔ لہذا آپ کی تحریروں میں غموض اور ابہام کی جگہ شجاعت اور وضاحت پائی جاتی ہے۔ جو ایک پڑھے لکھے قاری کو اپیل بھی کرتی ہے۔ لیکن اس کو کیا کیجئے کہ عرب ہوں یا عجم، مسلم امت ان چیزوں کو ابھی تک محض روایتی انداز میں دیکھنے اور برتنے کی عادی ہے۔ عام علماء اور وہ لوگ جو مزعومہ تحریکات اسلامیہ سے وابستہ ہیں دعوت دعوت تو ضرور چلاتے ہیں، لیکن وہ دعوت کو آخرت سے جوڑنے اور اسے ہر صاحب ایمان کی ذاتی، دینی، انسانی و اخلاقی ذمہ داری کے بجائے ” امامت عالم اور قیادت عالم“ کے مزعومہ تصورات سے ہی جوڑ کر دیکھنے کے عادی
لہذا دعوت ان کے ہاں بھی ذمہ داری سے زیادہ فخر و مباہات کی نفسیات کی علامت بن کر رہ گئی ہے۔ خیر امت ہیں"، ایک دعوے کے طور پر دہرایا جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ موجودہ انقلابی تحریکات، اسلام سے زیادہ مسلم قومیت کے خودساختہ تصور کی نمائندگی کرتی ہیں۔ اسلامی دعوت کی صحیح اور واضح ترین نمائندگی صرف آپ کی فکر کرتی ہے۔ مسلمان، تحریکی لوگ ہوں یا علماء، سب آپ سے مخاصمانہ رویہ برتتے ہیں اس لیے وہ آپ کی دعوت اور فکر سے بھی عام مسلمانوں کو کاٹ دینے کی کوشش دانستہ کرتے رہتے ہیں۔
آپ اسے مبالغہ یا کذب بیانی خیال نہ فرمائیں۔ موجودہ علماء و مفکرین میں مجھے سب سے زیادہ آپ کی ہی تحریریں پسند ہیں۔ سیاسی فکر، قانون بین الاقوامی، مسلمانوں کے غیر مسلم دنیا سے تعلقات کی نوعیت (مسالمہ یا محاربہ) وغیرہ)، مختلف موضوعات پر خاکسار کچھ نہ کچھ پڑھتا رہتا ہے۔ آپ بھی رہنمائی فرمائیں۔ والسلام غطریف شہباز ندوی ان کا یہ خط ملنے کے بعد میں نے انھیں ایک مختصر تحریر روانہ کی جو یہاں نقل کی جاتی ہے: برادر محترم مولانا غطریف شہباز ندوی السلام علیکم ورحمۃ اللہ آپ کا خط مورخہ ۳۱ مارچ ۲۰۰۶ ملا، شکریہ۔ اب اس موضوع پر آپ سے خط و کتابت کا سلسلہ ختم اللہ تعالیٰ آپ کو جزائے خیر عطا فرمائے۔
۷ اپریل ۲۰۰۶ء دعا گو وحید الدین مراسلت نمبر ۴ ڈاکٹر محمد فاروق خان پاکستان کے ایک مسلم دانشور ہیں۔ ان کی ایک کتاب لاہور سے ۲۰۰۵ میں چھپی اس کتاب کے باب پنجم میں ایک ذیلی عنوان "دار الدعوة" کے تحت، انھوں نے یہ تحریر کیا ہے کہ اخوانی رہنما حسن البضیبی کے یہاں دار الدعوة کا تصور پایا جاتا ہے۔ میرے مطالعے کے مطابق، یہ ایک بے بنیاد دعویٰ تھا۔ چنانچہ میں نے صاحب کتاب کو ایک خط لکھا۔ اس خط کا مضمون یہ تھا:
برادر محترم ڈاکٹر محمد فاروق خان ! السلام علیکم ورحمۃ اللہ آپ کی تازہ کتاب "جہاد، قتال اور عالم اسلام" نظر سے گذری۔ اس کتاب کے ایک ذیلی عنوان "دار الدعوة" کے تحت، آپ نے لکھا ہے:
دُورِ حاضر میں ایک نئی اصطلاح ”دار الدعوة“ استعمال کی گئی ہے۔ جس کا مطلب یہ ہے کہ غیر مسلم ممالک نہ دار الحرب ہیں اور نہ دار الکفر، بلکہ وہ ”دار الدعوة“ ہیں۔ یعنی یہ وہ ممالک ہیں جنھیں اسلام کی دعوت پہنچانا ہمارا کام ہے۔ یہ اصطلاح...... اخوان المسلمون کے مرشدِ عام امام حسن الہضیبی نے استعمال کی ہے۔ الہضیبی نے اپنی کتاب ”دُعاۃ... لا قضاۃ“ ”یعنی ہم داعی ہیں نہ کہ قاضی“ میں وضاحت اور تفصیل کے ساتھ اپنے موقف کو بیان کیا ہے کہ ہمارا کام کسی کو کافر اور دشمن قرار دینا نہیں، بلکہ تمام غیر مسلم ہمارے مدعو ہیں اور ہم یعنی ہم اُن کو اسلام کی دعوت پہنچانے کے مکلّف ہیں۔
میں نے شیخ حسن الہضیبی کی کتاب ”دُعاۃ... لا قضاۃ“ پڑھی ہے، مگر میں نے اس میں وہ بات نہیں پائی جو آپ نے اُن کی بابت تحریر فرمائی ہے۔ حتّی کہ اس کتاب میں ”دار الدعوة“ کا لفظ بھی موجود نہیں۔ براہِ کرم مطلع فرمائیں کہ ”دار الدعوة“ کی یہ بات مذکورہ کتاب کے کس صفحے پر موجود ہے۔
نئی دہلی، ۱۹ جنوری ۲۰۰۶ میرے اس خط کا کوئی جواب صاحبِ کتاب کی طرف سے نہیں ملا۔ کافی انتظار کے بعد میں نے دوبارہ اُنھیں ایک خط روانہ کیا۔ میرے اس دوسرے خط کا مضمون یہ تھا:
برادرِ محترم ڈاکٹر محمد فاروق خان!
عرض یہ کہ میں نے آپ کے نام ایک خط مورّخہ ۱۹ جنوری ۲۰۰۶ روانہ کیا تھا، مگر اب تک مجھے اس کا جواب نہیں ملا۔ میں نے اپنے خط میں لکھا تھا کہ آپ نے اپنی کتاب میں مصری عالم، حسن الہضیبی کا ذکر کیا ہے اور لکھا ہے کہ انھوں نے اپنی کتاب ”دُعاۃ... لا قضاۃ“ میں تفصیل کے ساتھ لکھا ہے کہ غیر مسلم اقوام ہماری مدعو ہیں اور ہم اُن کے لیے داعی ہیں، غیر مسلم ممالک کی حیثیت دار الدعوة کی ہے نہ کہ دار الحرب اور دار الکفر کی۔ میں نے لکھا تھا کہ مذکورہ کتاب میں نے پڑھی ہے، مگر اس میں دار الدعوة کا لفظ کہیں موجود نہیں۔ کے قریبی جواب کا انتظار ہے۔
نئی دہلی، ۶ فروری ۲۰۰۶ السلام علیکم ورحمۃ اللہ محترم مولانا محمد ذکوان ندوی صاحب امید ہے آپ بخیر و عافیت ہوں گے۔ محترم و مکرم مولانا وحید الدین خاں صاحب کا خط چند روز پہلے مجھے
موصول ہوا تھا۔ ’المورد‘ کی لائبریری شفٹ کرنے کے دوران میں مطلوبہ کتاب کہیں misplace ہوگئی۔ نے سوچا تھا کہ وہ کتاب مل جائے تو میں اپنی معروضات پیش کروں گا تا ہم ابھی تک وہ کتاب نہیں مل سکی۔ نزدیک اس کتاب کا لب لباب وہی ہے جو میں نے تحریر کیا ہے۔ کتاب کے نام سے بھی یہی ظاہر ہے۔ ۱۲ فروری، ۲۰۰۶ ڈاکٹر محمد فاروق خان موصوف کے اس خط کے بعد میں نے انھیں ایک خط روانہ کیا جس کی نقل یہاں درج کی جاتی ہے: برادر محترم ڈاکٹر محمد فاروق خان صاحب!