Al-Risala · March 2007

40 more countries have skill to build the bomb.

Al-Risala, March 2007, pp. 23–27

By Maulana Wahiduddin Khan

اکتوبر 2006 میں نارتھ کوریا نے ایٹم بم کا تجربہ کیا۔ اس کے بعد تحقیق کی گئی تو معلوم ہوا کہ امریکا کی، نیوکلیئر پرولیفریشن (nuclear proliferation) کورو کرنے کی پالیسی مکمل طور پر ناکام ہو چکی چنانچہ معلوم طور پر کم از کم چالیس ملکوں تک نیوکلیئر ہتھیاروں کا پھیلاؤ پہنچ چکا ہے۔ ایسی حالت میں جہاد کے نام پر جنگ کی بات کرنا، صرف تباہی کی بات کرنا ہے۔ ایک مثبت فائدے کے لیے کیا جاتا ہے، لیکن جب جنگ عملاً صرف دو طرفہ تباہی کے ہم معنی بن چکی ہو تو جہاد (بہ معنی قتال) کا حکم بلاشبہ بدل جائے گا، جیسا کہ اسلامی شریعت کا مسلمہ ہے: تتغیر الأحکام بتغیر الزمان والمکان۔

یہ ایک حقیقت ہے کہ موجودہ زمانے میں جنگ ایک غیر عملی چیز بن چکی ہے۔ اب جنگ کسی کے لیے بھی کوئی قابلِ انتخاب چیز نہیں۔ اسلام کا دعویٰ ہے کہ وہ ایک ابدی مذہب ہے۔ اگر جہاد (بہ معنی جنگ) کو اسلام کا ابدی حصہ مانا جائے تو ایسا ماننا، خود اسلام کی ابدیت کو مشتبہ کر دے گا۔ میں نے واشنگٹن (امریکا) کے ایک سیمنار (فروری 1998) میں اس موضوع پر بولتے ہوئے کہا تھا: Islam claims to be an eternal religion, and an eternal religion cannot afford, in its scheme, a principle which was not sustainable in the later periods of human history. حقیقت یہ ہے کہ جو لوگ ایسا کہتے ہیں کہ جہاد (بہ معنی قتال) شریعت کا ایک ابدی حکم ہے، جو مسلمان قتال نہ کرے وہ کافر ہو جائے گا۔ ایسا کہنے والے لوگ، دوسرے الفاظ میں، یہ کہہ رہے ہیں کہ موجودہ زمانے میں کسی مسلمان کے لیے اب صرف دو میں سے ایک کا انتخاب رہ گیا ہے— یا تو وہ جہاد (بہ معنی قتال) کر کے اپنے آپ کو ہلاک کرلے، یا وہ جہاد کو چھوڑ کر کافر بن جائے۔

وہ گمراہی جس کو قرآن میں تفرق کہا گیا ہے، وہ ہمیشہ اس طرح پیدا ہوتی ہے کہ ایک ذہین انسان ایک نص کو پڑھتا ہے، اس کو پڑھتے ہوئے اس کے ذہن میں ایک نکتہ یا شوشہ آ جاتا ہے، وہ اس نکتے کو ایک بڑی چیز سمجھ کر اسی میں جینے لگتا ہے، وہ اس کے حق میں دلیلیں جمع کرتا ہے، اس کو لوگوں سے بیان کرتا ہے، اس طرح کچھ لوگ اس سے متاثر ہو جاتے ہیں، یہاں تک کہ دھیرے دھیرے اس کا ایک حلقہ بن جاتا ہے۔ پھر کچھ لوگ اُس سے متاثر ہو جاتے ہیں، یہاں تک کہ دھیرے دھیرے اس کا ایک حلقہ بن جاتا ہے۔ پھر یہ ہوتا ہے کہ وقت گزرنے کے بعد اس حلقے میں تعصّب کا عنصر شامل ہو جاتا جب ایسا ہوتا ہے تو یہ گروہ ایک متعصّب فرقے کی حیثیت حاصل کر لیتا ہے۔ یہاں آ کر اس کی گمراہی اپنے آخری درجے تک پہنچ جاتی ہے۔

اس فتنے سے بچنے کی تدبیر کیا ہے۔ اس کی تدبیر صرف یہ ہے کہ آدمی ذہن میں جب اس قسم کا کوئی نکتہ آئے تو وہ ہمیشہ ایسا کرے کہ اس کو اپنی ذاتی پسندی کی بنا پر اختیار نہ کرلے، بلکہ وہ پوری سنجیدگی کے ساتھ اپنے خیال کو شرعی معیار پر جانچے۔ اس شرعی معیار کو حدیث میں ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے: ما أنا عليه وأصحابى (الترمذی) اس شرعی معیار کو دوسرے لفظوں میں قرآن اور سنت بھی کہا جا سکتا ہے۔ یعنی وہ اپنے ذاتی نکتے کو انتہائی بے آمیز انداز میں قرآن اور سنت کے نصوں پر پرکھے، وہ کھلے ذہن کے ساتھ اس پر ڈسکشن کرے، وہ اس کے لیے دعائیں کرے، وہ اس کے لیے اس طرح کے لمبے تحقیقی مرحلے کے بعد جب اس کا ذہن مطمئن ہو جائے تو اُس وقت وہ اس کو لوگوں کے سامنے ایک نقطۂ نظر کے طور پر بیان کرے۔ اس کے باوجود وہ ہمیشہ رجوع کے لیے تیار رہے، یعنی جب اس کے نقطۂ نظر کے خلاف کوئی شرعی دلیل پیش کی جائے تو وہ تو بہ کرے، یعنی اپنے نقطۂ نظر کو چھوڑ دے۔ وہ ایسا نہ کرے کہ غیر متعلق الفاظ بول کر یہ ظاہر کرے کہ وہ حق پر ہے، اس نے حق سے انحراف نہیں کیا۔ یہاں میں اپنے ذاتی تجربے کے مطابق، اس معاملے کی چند مثالیں درج کرتا ہوں۔

موجودہ زمانے میں مسلمانوں کے تمام لکھنے اور بولنے والے لوگ تقریباً اتفاق کے ساتھ

یہ کہتے ہیں کہ موجودہ زمانے میں مسلمانوں کے خلاف جو سنگین مسائل پیش آرہے ہیں، وہ دوسروں کی عداوت کی بنا پر پیش آرہے ہیں۔ یہ لوگ متفقہ طور پر یہ کہتے ہیں کہ یہودیوں کی سازش، امریکیوں کی دشمنی اور ہندوؤں کا تعصب ان مسائل کا اصل سبب ہے۔

راقم الحروف نے اپنی تقریروں اور تحریروں میں مسلسل طور پر یہ بتایا کہ یہ نظریہ سرتا سر ایک غیر قرآنی نظریہ ہے۔ قرآن میں واضح طور پر بتایا گیا ہے کہ مسلمانوں کے ساتھ جو مصیبت بھی پیش آتی ہے وہ ان کے اپنے اعمال کا نتیجہ ہوتی ہے (وما أصابكم من مصيبة فبما كسبت أيديكم، الشوری : 30) اس موضوع پر میں نے قرآن اور حدیث کے دلائل کے ذریعے قطعی طور پر ثابت کیا کہ مسلم رہنماؤں کی سوچ غلط سوچ ہے، لیکن ان رہنماؤں نے رجوع اور اعتراف کا طریقہ اختیار نہیں کیا، بلکہ انھوں نے خود میرے خلاف الزام تراشی شروع کردی۔

2- اسی طرح مسلمانوں کے ایک گروہ نے یہ دعویٰ کیا کہ أقيموا الدين (الشوری: 13) کی آیت مسلمانوں پر یہ فریضہ عائد کرتی ہے کہ وہ مکمل اسلامی نظام کو نافذ کریں اور اس مقصد کے لیے اقتدار پر قبضہ کریں۔ میں نے قرآن اور حدیث کے دلائل کے ذریعے ثابت کیا کہ یہ نقطۂ نظر بے بنیاد ہے، اس کے حق میں کوئی حقیقی دلیل موجود نہیں۔ یہاں بھی ان حضرات نے رجوع اور اعتراف کا طریقہ اختیار نہیں کیا، بلکہ وہ بے بنیاد طور پر میرے خلاف الزام تراشی کرنے لگے۔ 3- اسی طرح ایک گروہ ہے جو ’’مسجد والے‘‘ اعمال کو زندہ کرنے کی تحریک چلا رہا ہے، لیکن وہ اپنی اس تحریک کو دعوت کا نام دیتا ہے۔ وہ کہتا ہے کہ ہم دعوت کا کام کر رہے ہیں۔ میں نے قرآن کے واضح نصوص کے ذریعے ثابت کیا کہ دعوت اُس عمل کا نام ہے جو غیر مسلموں کے درمیان اسلام کا پیغام پہنچانے کے لیے کیا جائے۔ مسجد والے اعمال کو زندہ کرنے کی تحریک ایک اصلاحی کام ہے نہ کہ دعوتی یہاں بھی ان حضرات نے رجوع اور اعتراف کا طریقہ اختیار نہیں کیا، بلکہ غیر متعلق باتیں بول کر بے بنیاد طور پر یہ ظاہر کرنے لگے کہ ان کا کام عین وہی کام ہے جس کو قرآن میں دعوت الی اللہ کہا گیا ہے۔ یہی وہ مزاج ہے جس کو قرآن میں تفرق کہا گیا ہے اور جس سے فرقے وجود میں آتے

اس گمراہی سے بچنے کی صورت صرف یہ ہے کہ آدمی یا تو اپنے آپ کو اجتہاد سے بچائے ، یا وہ اس کی قیمت اس طرح ادا کرے کہ وہ ہمیشہ رجوع اور اعتراف کے لیے تیار رہے۔

غلطی کوئی سادہ غلطی نہیں ہے ، بلکہ وہ ایک سنگین غلطی ہے۔ یہ کہنا کہ یہ محض ایک لفظی فرق کا معاملہ ہے ، غلطی پر سرکشی کا اضافہ ہے۔ اور یاد رکھنا چاہیے کہ غلطی پر سرکشی کا اضافہ ، غلطی کو جرم بنا دیتا غلطی قابل معافی ہے لیکن جرم قابل معافی نہیں ، الّا یہ کہ آدمی توبہ کرے اور کھلے طور پر اپنی غلطی کا اعتراف کر کے حق کی طرف دوبارہ واپس چلا جائے۔

اوپر ہم نے اس قسم کی تین مثالیں دی ہیں۔ ان میں سے پہلی مثال کو لیجیے۔ اس مثال کا ایک عظیم نقصان یہ ہوا کہ مسلمان کے اندر غیر مسلم قوموں کے خلاف نفرت پیدا ہو گئی۔ اس نفرت کا نتیجہ یہ ہوا کہ مسلمانوں کے لیے یہ قومیں مدعونہ رہیں ، بلکہ عملاً وہ ان کے لیے حریف اور رقیب بن گئیں۔ جب ایسا ہو کہ مدعو قوم داعی کو دشمن اور حریف دکھائی دینے لگے تو اس کا فطری نتیجہ یہ ہوگا کہ داعی کے دل میں اس قوم کے لیے دعوت کا جذبہ ختم ہو جائے گا۔ یہی وہ واحد سبب ہے جس کی بنا پر موجودہ زمانے میں مسلمانوں کے اندر کمیونٹی ورک تو بہت بڑے پیمانے پر پایا جاتا ہے، لیکن دعوت ورک کا سرے سے وجود ہی نہیں۔ حالاں کہ دعوت ورک مسلمانوں کی ایک ایسی لازمی ذمے داری ہے جو کسی بھی حال میں ان سے ساقط نہیں ہوتی ۔ حقیقت یہ ہے کہ دعوت ورک کے بغیر مسلمانوں کا امت محمدی ہونا ہی مشتبہ ہو جاتا ہے۔

اسی طرح دوسری مثال کو لیجیے ، قرآن میں اقيموا الدين (الشوریٰ) کی آیت اس معنی میں آئی ہے کہ ذاتی اختیار کے دائرے میں جو دینی فرائض ہیں ، اُن کو ہر ہر فرد پوری طرح اپنی ذاتی زندگی میں اختیار کرے ، لیکن جب اس آیت کا مطلب یہ بتایا گیا کہ اسلامی حکومت قائم کرو اور شرعی قوانین کا نفاذ کرو تو لوگوں کے ذہن میں عمل کا نشانہ بدل گیا۔ اُن کی نظر میں ذاتی طور پر مومن اور متقی بننے سے زیادہ اہم بات یہ قرار پائی کہ وہ سیاسی جھنڈا اٹھائیں اور انقلاب کا نعرہ لگائیں۔ اس طرح ”مکمل دین‘ کی اقامت کے نام پر ”جزئی دین‘‘ کی اقامت بھی حذف ہو کر رہ گئی۔

یہی معاملہ مذکورہ تیسری مثال کا ہے۔ ان حضرات کا کام مثلاً اصلاحِ المسلمین کی نوعیت کا کام ہے، مگر وہ اس کو دعوت الی اللہ کا کام بتاتے ہیں۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا ہے کہ اس تحریک میں نہ تو مسلمانوں کی اصلاح کے حقیقی تقاضے پورے ہوتے ہیں، اور نہ غیر مسلموں کے درمیان دعوت الی اللہ کا کام انجام پاتا ہے۔

اس تحریک کے اصولوں کا مطالعہ کیجئے تو آپ پائیں گے کہ اُن کے اصولوں میں ’’اکرامِ مسلم‘‘ تو ہے، مگر اکرام انسان موجود نہیں۔ ان کے یہاں ’’امت کا درد‘‘ تو ہے، مگر انسانیت کا درد نہیں۔ تصور نے اس تحریک کو ایک محدود فرقہ بنا کر رکھ دیا۔

اس ذہن کا مزید نقصان یہ ہوا کہ غیر مسلموں کے درمیان دعوت کا کام کرنے کا ذہن بالکل ختم وہ شعوری یا غیر شعوری طور پر ایک ایسے کام کو دعوتی کام سمجھنے لگے جو دعوتی کام نہ تھا۔ نے ان کے اندر یہ فرضی یقین پیدا کر دیا کہ وہ دعوت الی اللہ کا کام کر رہے ہیں، حالاں کہ وہ سرے سے دعوت الی اللہ کا کام ہی نہ تھا۔ اس طرح دعوت کے نام پر اٹھنے والی یہ تحریک عملاً دعوت کی قاتل بن گئی۔ جب انھیں اس غلطی کی طرف توجہ دلائی گئی تو انھوں نے ایسا نہیں کیا کہ وہ اپنی غلطی کا اعتراف کر کے اپنے ذہن کو درست کر لیں اور صحیح ذہن کے ساتھ اپنا کام کرنے لگیں۔

طلبہ اور اساتذہ کے لیے ماہ نامہ الرسالہ کا سالانہ زرِ تعاون صرف 50 روپے کر دیا گیا ہے۔ کالج اور یونیورسٹی کے طلبہ بھی اس خصوصی اسکیم سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔

Printed page