موت کا مثبت تصور
Al-Risala, March 2007, pp. 28–30
By Maulana Wahiduddin Khan
وسیع خلا میں ان گنت ستارے اور سیارے مسلسل گھوم رہے ہیں ، لیکن ان کی رفتار اتنی کامل صحت کے ساتھ قائم ہے کہ ہزاروں سال گزرنے کے باوجود کبھی ان میں ادنیٰ فرق بھی نہیں ہوتا۔ روز کے اخبار میں منٹ اور سیکنڈ کے تعین کے ساتھ یہ چھپتا ہے کہ آج کی صبح سورج کے طلوع کا وقت کیا ہے اور شام کو اس کے غروب کا ٹھیک وقت کیا۔ یہی حال تمام ستاروں اور سیاروں کا ہے۔ کائنات میں تنظیم اوقات (time management) معیاری صحت کی آخری حد پر ہے۔ جب کہ انسانی زندگی میں ایسا نہیں۔
اسی طرح مادی کائنات پوری کی پوری ایٹموں کا مجموعہ ہے۔ کائنات کا اصل مادی سورس ایٹم ایٹم کو بے شمار صورتوں میں ترتیب دے کر کائنات کی تمام چیزیں بنی ہیں، اور جیسا کہ مطالعہ بتاتا ہے کہ کائنات کی ہر چیز آخری حد تک مکمل ہے۔ مثلاً گھاس اپنے فائنل ماڈل پر ہے۔ شمسی نظام اپنے فائنل ماڈل پر ہے، اسی طرح تمام چیزیں ۔ گویا کہ کائنات سورس مینجمنٹ (source management) کا آخری کامل نمونہ ہے۔ جب کہ انسان کو اپنی زندگی میں یہ چیز حاصل نہیں ہوتی۔ اسی طرح کائنات کا مطالعہ بتاتا ہے کہ اس کے اندر بے شمار سرگرمیاں ہر لمحہ جاری رہتی ہیں، لیکن یہ تمام سرگرمیاں پوری طرح نتیجہ خیز (result-oriented) صورت میں ہوتی ہیں۔ وسیع دنیا میں کوئی بھی سرگرمی بے نتیجہ نہیں۔ حتیٰ کہ کیڑے مکوڑے جو رات دن سرگرم عمل رہتے ہیں، وہ بھی انتہائی مفید کام انجام دینے میں مصروف ہیں۔ جب کہ انسان کی زندگی میں اس قسم کی کامل درجے میں مفید سرگرمیاں موجود نہیں۔ اسی طرح کائنات کا مطالعہ بتاتا ہے کہ یہاں کی کوئی بھی چیز جمود کی حالت میں نہیں۔ مسلسل طور پر متحرک ہے۔ ایٹم کے اندر برقی ذرات کی غیر مرئی گردش سے لے کر وسیع خلا میں ستاروں کی مسلسل گردش تک ہر چیز حالت حرکت میں ہے۔ اس کے باوجود کائنات کے کسی بھی حصے میں ٹکراؤ کا حادثہ پیش نہیں آتا۔ گویا کہ ہماری دنیا میں عالمی سطح پر بے مسئلہ کلچر (no problem culture) قائم
جب کہ انسان کو اس قسم کی زندگی حاصل نہیں۔
اسی طرح کائنات کا مطالعہ بتاتا ہے کہ یہاں کی تمام چیزیں نفع بخشی کے اصول پر اپنا کام کرتی سورج سے نکلنے والی شعاعوں سے لے کر درختوں سے نکلنے والی آکسیجن تک تمام چیزیں دوسروں کے لیے یک طرفہ طور پر نفع بخش بنی ہوئی ہیں۔ اس مقصد کے لیے وہ کامل ہم آہنگی کے ساتھ اپنا فریضہ انجام دیتی ہیں۔ گویا کہ موجودہ دنیا میں ہر طرف لینے کے بجائے دینے کا کلچر (giver culture) رائج ہے، مگر انسان کی دنیا میں اس قسم کا کلچر موجود نہیں۔
ایک فلسفی کا قول ہے کہ ـــ موجودہ دنیا میں ہر چیز حسین ہے، یہ صرف انسان ہے جو کہ حسین یہ ایک ایسی حقیقت ہے جس کا تجربہ ہر عورت اور مرد کو ہوتا ہے۔ سورج جب صبح کو طلوع ہوتا ہے اور شام کو جب وہ غروب ہوتا ہے تو وہ کسی آنکھ والے کے لیے ایک انتہائی حسین مشاہدہ ہوتا ہے۔ درخت کو دیکھ کر آنکھ کو بے پناہ تازگی ملتی ہے۔ بہتے ہوئے دریا کے کنارے آپ کھڑے ہوں تو وہاں آپ کو ایک اتھاہ سرور کا تجربہ ہوتا ہے۔ پھول اور پھل، دریا اور پہاڑ حتیٰ کہ گھاس تک میں بھی آدمی کے لیے حسنِ مشاہدہ کی ایک کائنات نظر آتی ہے۔ مگر انسان کو خود اپنی زندگی میں یہی خوشی حاصل نہیں ہوتی۔ انسان اپنی پیدائش کے اعتبار سے معیار پسند (idealist) واقع ہوا ہے۔ اس کے اندر بے پناہ حد تک یہ تمنا ہوتی ہے کہ وہ اپنے خوابوں کی معیاری دنیا پائے اور اس کے اندر ہیشگی کی زندگی بسر کرے، مگر آدمی اپنی اس مطلوب دنیا کو نہیں پا تا اور محدود عمر گزار کر ایک ایسی دنیا میں مر جاتا ہے جہاں کی ہر چیز اُس کو یہ پیغام دے رہی ہے کہ یہاں معیاری دنیا کو پا نا پوری طرح ممکن ہے۔ فلسفیوں کے نزدیک موت کے دو تصور ہیں۔ ایک ہے منفی تصورِ موت (negative concept of death) اور دوسرا ہے مثبت تصورِ موت (positive concept of death)۔ سائنس کا اصول ہے کہ جو تصور حقائق سے زیادہ مطابقت رکھتا ہو، اس کو بطور واقعہ قبول کر لیا جائے گا اور جو تصور حقائق سے مطابقت نہ رکھتا ہو، وہ تصور غیر واقعی سمجھ کر رد کر دیا جائے گا اس پہلو سے دیکھیے تو منفی تصورِ موت قابلِ ردقرار پا تا ہے اور مثبت تصورِ موت قابلِ قبول ٹھہرتا ہے۔
کائنات پر غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ دنیا میں ہر چیز اپنے امکان (potential) کو واقعہ (actual) بنا رہی ہے۔ مثلاً درخت کا بیج اپنے امکان کو آخری حد تک واقعہ بنانے میں کامیاب ہوتا ایٹم اپنے امکان کو آخری حد تک واقعہ بنائے ہوئے ہے، وغیرہ۔ یہ صرف انسان ہے جو اتھاہ امکان لے کر پیدا ہوتا ہے، لیکن وہ اپنے امکانات کو تکمیل تک پہنچائے بغیر مر کر دفن ہو جاتا ہے۔ انسان کے مائنڈ میں سویلین بلین بلین پارٹیکل ہیں۔ انسان کا مائنڈ اتھاہ امکانات کا خزانہ ہے، لیکن انسان اس امکان کو بمشکل چند فیصد استعمال کرتا ہے اور پھر موت اس کی زندگی کا خاتمہ کر دیتی ہے۔ موت کا مثبت تصور ہی موت کا حقیقی تصور ہے۔ کیوں کہ تمام متعلق حقائق (relevant data) اس کی تصدیق کرتے ہیں۔ موت کے مثبت تصور کا مطلب یہ ہے کہ موت زندگی کا خاتمہ نہیں، بلکہ موت ابدی زندگی میں داخلے کا دروازہ ہے۔ موت کے بعد آدمی اُس طویل تر مرحلہ حیات میں داخل ہو جاتا ہے جہاں وہ اپنے خوابوں کی دنیا کو پا سکے۔ جہاں اس کو یہ موقع ہو کہ وہ اپنی ہستی کے اتھاہ امکانات کو بروئے کار لا سکے۔
موت کے مثبت تصور کا پیغام یہ ہے کہ موت سے پہلے کے مختصر مرحلہ حیات میں اپنے اندر اُس ربانی شخصیت کی تعمیر کرو جو موت کے بعد کے مرحلہ حیات میں تم کو تمھاری آرزوؤں کے مطابق، ابدی طور پر خوشیوں اور راحتوں کی دنیا میں جینے کا مستحق بنائے۔
سہارن پور (یو پی) میں مولا نا وحید الدین خاں کی عصری اسلوب میں فکر انگیز اسلامی کتابیں اور ماہنامہ الرسالہ حسب ذیل پتے پر دستیاب ہیں ۔ یہاں سے دعوتی مقصد کے لیے کتابیں مفت بھی حاصل کی جاسکتی ہیں ۔ پتہ درج ذیل ہے:
Dr. Mohd. Aslam 3/1108, Dehradun Chowk