To see his desires by detaching the reality.
Al-Risala, March 2007, p. 33
By Maulana Wahiduddin Khan
اصل یہ ہے کہ ہر آدمی اپنے لیے ایک ایسی دنیا بنانا چاہتا ہے جہاں وہ اپنی خواہشوں (desires) کو لامحدود طور پر پورا کرسکے، مگر جب وہ دنیا میں اپنی خواہشوں کی تکمیل کے لیے جدوجہد کرتا ہے تو اس کو محسوس ہوتا ہے کہ یہاں ہر قدم پر حد بندیاں (limitations) موجود ہیں۔ مختلف قسم کی رکاوٹیں اس بات کو ناممکن بنا دیتی ہیں کہ وہ یہاں اپنی خواہشوں کی دنیا تعمیر کرسکے۔ نقصان، اندیشہ، حادثہ، بیماری، بڑھاپا، موت اور اس طرح کی دوسری ناموافق چیزیں آدمی کے لیے حصول مقصد کی راہ میں فیصلہ گن طور پر رکاوٹ بن جاتی ہیں ۔ بظاہر سب کچھ ہوتے ہوئے بھی وہ ذہنی تناؤ کا شکار بن جاتا ہے۔
اس مسئلے کا حل صرف ایک ہے، اور وہ ہے اپنی خواہش کو خارجی حقیقتوں سے الگ کردینا۔ آدمی ایسا کرے اس کو فورا ذہنی سکون حاصل ہوجائے گا۔ اب اس کی سوچ یہ بنے گی کہ جو کچھ مجھے ملا، عملاً وہی مل سکتا تھا، اس سے زیادہ کو پانا میرے لیے ممکن ہی نہیں۔ اور جس چیز کو پانا ممکن ہی نہ ہو اس کا غم کرنے کی کیا ضرورت۔