Global warming is man-made
Al-Risala, April 2007, pp. 3–7
By Maulana Wahiduddin Khan
اس خبر کو لے کر قرآنی آیت کا مفہوم اس طرح بیان کیا جا سکتا ہے:
Man-made corruption has spread in the land and in the sea. مذکورہ رپورٹ میں جو باتیں بتائی گئی ہیں، اُن میں سے ایک یہ ہے کہ صنعتی دور سے پہلے کے مقابلے میں اب زمین کے اوپر کی فضا بہت گرم ہو گئی ہے۔ اور اس کا امکان ہے کہ فضا میں کاربن ڈائی آکسائڈ کی مقدار تقریباً دوگنا ہو جائے۔
اسی طرح رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ بڑھی ہوئی گرمی کی بنا پر قطبین کی برف (Polar Ice) اور پہاڑوں کے گلیشئر مسلسل پگھل رہے ہیں۔ اس کی بنا پر سمندر میں پانی کی سطح بلند ہوتی جا رہی ہے۔ اندیشہ ہے کہ قریبی مستقبل میں سمندروں میں پانی کی سطح ایک میٹر تک بلند ہو جائے اور ساحلی مقامات اُس کے تحت ڈوبنے لگیں، کہیں زیادہ اور کہیں کم۔ رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ ہماری دنیا میں جو خطر ناک تبدیلیاں واقع ہو رہی ہیں، وہ سب ناقابلِ منسوخی نقصان (irreversible damage) کی حیثیت رکھتی ہیں۔ تباہی کے اس عمل کو اب پیچھے کی طرف لوٹانا ممکن نہیں۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ان تبدیلیوں کے نتیجے میں زمین پر قحط آئیں گے۔ شدید خشک سالی لائف سپورٹ سسٹم شدید طور پر متاثر ہو گا۔ رپورٹ کے مطابق، یہ سب کچھ جو پیش آ رہا ہے، وہ انسانی عمل کے نتیجے میں ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ــ ہم موجودہ زمین پر آباد تمام انواع حیات کو خطرے میں ڈال رہے ہیں۔ ہم انسانی نسل کو نا قابلِ تلافی خطرے سے دوچار کر رہے ہیں: We are endangering all species on earth, we are endangering the future of the human race. حدیث کی کتابوں میں بہت سی روایتیں آئی ہیں جن میں بتایا گیا ہے کہ قیامت جب قریب آئے گی تو پیشگی طور پر بہت سی نشانیاں ظاہر ہوں گی ۔ مذکورہ رپورٹ میں جو باتیں کہی گئی ہیں، اُن کو دیکھا جائے تو یہ ساری علامتیں اب ظاہر ہو چکی ہیں۔ ان تمام علامتوں کا بیان یہاں مقصود نہیں
یہاں اُن میں سے صرف بعض علامتوں کا ذکر کیا جاتا ہے۔
حدیث میں آیا ہے کہ: إذا كان يوم القيامة أدنیت الشمس من العباد (مسند احمد، جلد 6، صفحہ 3) یعنی جب قیامت کا دن قریب ہوگا تو سورج، انسان کے نزدیک آجائے گا اور اس کی وجہ سے زمین کی گرمی بہت بڑھ جائے گی۔ اس حدیث میں عین وہی بات ہے جو مذکورہ سروے میں بتائی گئی ہے۔ یہ واضح ہو کہ سورج کے قریب آجانے کا مطلب یہ نہیں ہے کہ خود سورج کا آتشیں گولا، فاصلے کے اعتبار سے قریب آجائے گا۔ کیوں کہ سورج اگر خود فاصلے کے اعتبار سے قریب آجائے تو زمین پر انسانی زندگی ہی سرے سے ختم ہو جائے گی۔ یہ قربت علامتی معنوں میں ہوگی۔ خود سورج قریب نہیں آئے گا، بلکہ سورج کی گرمی انسان کے قریب آجائے گی۔ درجہ حرارت بہت زیادہ بڑھ جائے گا۔
قیامت سے پہلے جب سورج قریب آجاۓ گا تو انسان کا کیا حال ہوگا، اُس کو حدیث میں ان الفاظ میں بتایا گیا ہے: يكون الناس على قدر أعمالهم فى العرق، فمنهم من يكون إلى كعبيه، ومنهم من يكون إلى ركبتيه، ومنهم من يكون إلى حقويه، ومنهم من يلجمهم العرق إلجاماً۔ وأشار رسول الله صلى الله عليه وسلم بيده الى فيه (مشکاۃ المصابیح، رقم الحدیث: 5540) یعنی اُس دن لوگ اپنے اعمال کے مطابق، پسینہ پسینہ ہوں اُن میں سے کوئی ٹخنے کے بقدر پسینے میں ڈوب جائے گا، اور اُن میں سے کوئی گھٹنے کے بقدر، اور ان میں سے کوئی اپنی کمر کے برابر، اور اُن میں سے کوئی اپنے منھ تک پسینے میں ڈوب جائے گا۔ اس روایت میں 'عَرَق' کا لفظ آیا ہے۔ 'عرق' کے معنی عام طور پر پسینے کے لیے جاتے ہیں، لیکن 'عرق' کا اصل مفہوم نچوڑا ہوا پانی (squeezed water) ہے۔ پسینے کو 'عرق' اس لیے کہتے ہیں کہ وہ آدمی کے پورے جسم سے نچڑ کر نکلتا ہے۔ اسی طرح انگور سے نچوڑی ہوئی شراب کو 'عرق' کہا جاتا
اس روایت میں دراصل علامتی طور پر اس حقیقت کو بتایا گیا ہے کہ آخری زمانے میں جب
زمین پر سورج کی گرمی زیادہ پڑنے لگے گی تو قطبین پر جمی ہوئی برف اور پہاڑوں کے گلیشیر پگھلنے لگیں گے۔ اس کے نتیجے میں یہ ہوگا کہ سمندروں کے پانی کی سطح بلند ہو جائے گی۔ اس بنا پر سمندروں کے ساحلی علاقوں میں بستیاں ڈوبنے لگیں گی۔ زمین کی سطح مرتفع کے لحاظ سے یہ پانی کہیں زیادہ بلند ہو جائے گا اور کہیں کم۔ سطح ارض کی بلندی اور پستی کی نسبت سے زمین کے کچھ حصے کم متاثر ہوں گے، کچھ زیادہ اور کچھ بالکل ڈوب جائیں گے۔
3- اسی طرح ایک حدیث میں بتایا گیا ہے کہ قیامت سے پہلے ایک دھواں ظاہر ہوگا۔ سلسلے میں روایت کے الفاظ یہ ہیں: یملأ الدّخان ما بین المشرق والمغرب (القرطبی، جلد 16، صفحہ 131) یعنی قیامت سے پہلے ایک دھواں ظاہر ہوگا جو پورب سے پچھم تک ہر طرف بھر
اس روایت میں واضح طور پر اس جدید ظاہر ے کا ذکر ہے جو جدید صنعت کے نتیجے میں پیدا ہوا ہے، یعنی فضائی کثافت (air pollution)۔ اس قسم کی فضائی کثافت قدیم زمانے میں موجود نہ تھی اور نہ اس کا کوئی تصور پایا جاتا تھا۔ یہ روایت بلا شبہہ اُس جدید ظاہر ے کی پیشین گوئی ہے جس کو صنعتی سرگرمیوں کی پیدا کردہ فضائی کثافت کہا جاتا ہے۔
4- اسی طرح حدیث میں قیامت سے پہلے ظاہر ہونے والی ایک علامت اس طرح بیان کی گئی ہے: يوشك الفرات أن يحسر عن جبل من ذهب، فإذا سمع به الناس ساروا إليه، فيقول مَنْ عنده: لئن تركنا الناس يأخذون منه ليذهبن به كلّه۔ قال : فيقتتلون عليه فيقتل من كلّ مأۃ تسعة وتسعون (صحیح مسلم، کتاب الفتن وأشراط الساعة، جلد 18، صفحہ 19) یعنی عن قریب ایسا ہوگا کہ دریائے فرات میں سونے کا ایک پہاڑ ظاہر ہوگا۔ جب لوگ اُس کو سنیں گے تو وہ اُس کی طرف چلیں گے۔ اُس کے پاس جو شخص ہوگا، وہ کہے گا کہ ــــ اگر ہم، لوگوں کو اس میں سے لینے دیں تو وہ سارا کا سارا لے جائیں گے۔ پھر وہ اُس پر قبضہ کرنے کے لیے باہم جنگ پھر اِس جنگ میں ننانوے فیصد لوگ قتل کر دیے جائیں گے۔
اس روایت میں واضح طور پر زمین سے تیل نکلنے کی پیشین گوئی ہے، جس کو موجودہ زمانے میں سیال سونا (liquid gold) کہا جاتا ہے۔ یہ سیال سونا دریائے فرات کے علاقہ، بالمقابلہ دیگر شرقِ اوسط سے بہت بڑی مقدار میں نکلا ہے۔ اس صنعتی خزانے کے اوپر باقاعدہ لڑائیاں بھی ہوئی ہیں اور ہو رہی ہیں اور اس سے عظیم تباہی برپا ہوئی ہے۔
5- ایک روایت کے مطابق، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: لا يبقىٰ علىٰ وجهِ الأرضِ بيتُ مَدَرٍ ولا وبَرٍ إلا أدخلَهُ اللهُ كلمةَ الإسلامِ (مسند احمد، مشكاة المصابيح، رقم الحديث: 42) یعنی زمین کی سطح پر کوئی بھی گھر یا خیمہ باقی نہیں رہے گا، مگر اللہ اس کے اندر اسلام کا کلمہ داخل کر دے گا۔
یہ حدیث رسول بھی واضح طور پر قربِ قیامت کی ایک علامت کو بتاتی ہے۔ زمین کی سطح پر بنے ہوئے تمام چھوٹے بڑے گھروں میں کلمہ اسلام کا داخل ہو جانا، قدیم زمانے میں ممکن ہی نہ تھا۔ صرف موجودہ زمانے میں ممکن ہوا ہے جب کہ مختلف قسم کے ذرائع ابلاغ وجود میں آئے ہیں، جن کو ملٹی میڈیا (multi media) کہا جاتا ہے۔ یہ جدید ملٹی میڈیا، اُس وقت ظہور میں آیا ہے جب کہ دوسری علاماتِ قیامت بالکل ظاہر ہو چکی ہیں۔ اس لیے یقینی طور پر کہا جا سکتا ہے کہ زمین کے ہر چھوٹے اور بڑے گھر میں کلمہ اسلام کا داخل ہونا، قربِ قیامت کی علامتوں میں سے ایک علامت ہے۔ کلمہ اسلام کا ہر گھر میں یہ داخلہ بالفعل واقع ہو چکا ہے۔ آج ٹیلی ویژن اور دوسرے وسائل ابلاغ کے ذریعے عملاً ہر گھر میں اسلام کا چرچا پہنچ چکا ہے۔ آج ہر جگہ اسلام نیوز میں آچکا بروقت اسلام کا یہ چرچا منفی خبر کی صورت میں ہے۔ ضرورت صرف یہ ہے کہ اس منفی خبر کو مثبت خبر بنا دیا جائے۔ یہ عمل بھی ساری دنیا میں مسلسل جاری ہے۔ اسلام کے منفی چرچا کی بنا پر یہ ہوا ہے کہ ساری دنیا میں لوگوں کے اندر اسلام کو جاننے کے لیے تجسس (curiosity) پیدا ہو چکی ہے۔ کثرت سے اسلام کے بارے میں جاننا چاہتے ہیں۔ گویا کہ اسلام کا کلمہ پچاس فیصد ہر گھر میں داخل ہو چکا ہے۔ اور بقیہ پچاس فیصد داخلے کا عمل برابر جاری ہے۔ یقینی ہے کہ جلد ہی یہ عمل اپنی انتہا
کو پہنچ جائے گا۔ یہ واقعہ اس بات کی علامت ہوگا کہ وہ قیامت اب بالکل قریب آگئی جس کی خبر خدا کے پیغمبروں نے دی تھی۔
حدیث کے مطالعے سے مزید معلوم ہوتا ہے کہ قیامت سے پہلے تین نفحات پیش آئیں گے ـــ نفخة الفزع، نفخة الصّعق، نفخة القیام نفخ کا اسم مرّہ ہے۔ نفخ کے معنی پھونکنے کے ہوتے ہیں ، اسی لیے کہا جاتا ہے نفخت الریح، یعنی ہوا کا جھونکا اچانک آگیا۔ اسی لیے صور پھونکے جانے کو نفخ کہا گیا ہے۔ یہ کہنا غالباً صحیح ہوگا کہ حدیث میں جن تین نفحات کا ذکر ہے، وہ یہ ہیں ـــ پہلا، الارمنگ بلو (alarming blow) اور دوسرا ، ڈیٹھ بلو (death blow) اور تیسرا، رائزنگ بلو (rising blow) ۔
راقم الحروف کے اندازے کے مطابق، سائنسی سروے کی مذکورہ رپورٹ جو انتہائی نشانیاں (Warning Signs) کے نام سے چھپی ہے، وہ ’نفخة الفزع‘ (alarming blow) کا درجہ رکھتی یہ گویا قرب قیامت کا پہلا اعلان ہے جو سائنس کی زبان میں کیا گیا ہے۔ دوسرا نفخہ موت کا نفخہ ہوگا جب کہ تمام انسان مر جائیں گے۔ اُس کے بعد تیسرا نفخہ ہوگا جب کہ لوگ دوبارہ زندہ ہو کر خدا کے سامنے میدانِ حشر میں اکٹھا کیے جائیں گے۔
قرآن میں اعلان کیا گیا ہے کہ : إنّ الساعة لآتية لا ريب فيها (المؤمن : 59) یعنی قیامت یقیناً آنے والی ہے، اُس کے آنے میں کوئی شک نہیں۔ علامات بتاتی ہیں کہ یہ آنے والا وقت بہت قریب آچکا ہے۔ اب آخری طور پر وہ وقت آگیا ہے جب کہ انسان تو بہ کرے اور خدا کی رحمت میں پناہ لینے کی طرف دوڑ پڑے۔