احیائے اسلام
Al-Risala, April 2007, pp. 8–13
By Maulana Wahiduddin Khan
ایک روایت کے مطابق، پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ان الله يبعث على رأس كل مائة سنة من يجدد لها دينها (سنن ابی داؤد، کتاب الملاحم)۔ یعنی اللہ ہر سو سال کے سرے پر ایک شخص کو اٹھائے گا جو دین اسلام کی تجدید کرے گا۔
تجدد کے لفظی معنی ہیں، نیا کرنا (to renew)۔ حدیث میں یہ لفظ اس معنی میں آیا ہے کہ اُمت کے اندر جب دین کا تصور گرد آلود ہو جائے تو اُس کو دوبارہ صاف کر کے اُس کی اصل صورت میں نمایاں کیا جائے ۔ اس عمل کے لیے حدیث میں دوسرا لفظ احیاء (revival) بھی آیا ہے۔ کا مطلب ایک ہے۔
ایک اور حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: خير القرون قرنى ثم الذين يلونهم ثم الذين يلونهم (سب سے بہتر زمانہ میرا زمانہ ہے، پھر اُس کے بعد، اور پھر اُس کے بعد) اس حدیث میں تین ادوار کے بارے میں خیر کی شہادت دی گئی ہے۔ علماء نے ان تین دوروں کو قرون مشہود لہا بالخیر قرار دیا ہے، یعنی وہ ادوار جن کے خیر ہونے کی گواہی دی جا چکی ہو۔ زمانوں سے مراد ہیں۔ عہدِ رسالت ، عہدِ صحابہ ، عہدِ تابعین۔
اصل یہ ہے کہ جب پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں توحید کی دعوت اُٹھی تو اُس وقت جو لوگ اُس میں شامل ہوئے وہ ایسے لوگ تھے جنھوں نے معرفت یا شعوری دریافت کے ذریعے دین حق کو پایا تھا۔ یہ اعلیٰ درجے کے لوگ تھے۔ دوسری نسل میں جو لوگ اسلام میں داخل ہوئے ، وہ معرفت کے اعتبار سے پہلی نسل کے برابر نہیں ہو سکتے تھے۔ اس کے بعد تیسری نسل میں جو لوگ اسلام میں داخل ہوئے وہ فطری طور پر معرفت میں کچھ اور کم ہو چکے تھے۔ اس طرح نسل در نسل یہ ہوتا رہا کہ بعد کے زمانے میں جو لوگ ملت اسلامی کا حصہ بنے اُنھیں اسلام زیادہ ترنسلی تعلق کے ذریعے حاصل ہوا تھا، نہ کہ شعوری دریافت کی بنا پر۔
فطرت کے اسی قانون انحطاط (degeneration) کی بنا پر وہ صورتِ حال پیش آتی ہے جس میں اسلام کی تجدید یا ملت کے احیاء کا عمل کیا جائے۔ ہر ایک سوسال، بالفاظِ دیگر چند نسلوں کے گزرنے کے بعد، ملت کے اندر اتنا زوال آچکا ہوتا ہے کہ اُس وقت یہ ضرورت ہوتی ہے کہ کوئی صاحبِ معرفت شخص اُٹھے جو افرادِ ملت کے رسمی ایمان کو دوبارہ عارفانہ ایمان بنائے۔ جو لوگوں کے تقلیدی اسلام کو دوبارہ تخلیقی اسلام کا درجہ دے۔ جو اسلام کو بعد کے اضافوں اور ملاوٹوں سے پاک کرکے اُس کو اُس کی خالص صورت میں پیش کرے۔
یہ کام کوئی آسان کام نہیں، وہ بے حد مشکل کام ہے۔ زمانہ گزرنے کے بعد ہمیشہ ایسا ہوتا ہے کہ لوگ اصلی اور ابتدائی اسلام کو بھول جاتے ہیں۔ وہ بعد کے مبتدعانہ اسلام ہی کو اصل اسلام سمجھنے ایسی حالت میں جب بھی کوئی مجدد اٹھتا ہے تو وہ لوگوں کے درمیان فوراً ایک نزاعی شخصیت بن جاتا ہے۔ اُس کا بتایا ہوا دین لوگوں کو اجنبی معلوم ہونے لگتا ہے۔ یہی وہ حقیقت ہے جس کو حدیث میں ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے: بدأ الاسلام غريبا وسيعود كما بدأ فطوبى للغرباء (صحیح مسلم ، کتاب الایمان ) یعنی اسلام شروع ہوا تو وہ اجنبی تھا اور دوبارہ وہ اجنبی ہو جائے گا تو سعادت مندی ہے ایسے اجنبیوں کے لیے۔
تاریخ سے معلوم ہوتا ہے کہ ’قرونِ مشہود لھا بالخیر‘ کے بعد امت میں ایسے افراد پیدا ہوتے رہے، جنھوں نے اپنے اپنے حالات میں تجدید کا کام کیا۔ مجددین کی کوئی حتمی فہرست بنانا ممکن نہیں۔ تاہم اس سلسلے میں مثال کے طور پر چند نام یہ ہیں— حسن بصری، عمر بن عبدالعزیز، ابن تیمیہ، شاہ ولی اللہ، اشرف علی تھانوی، وغیرہ۔
مولا نا اشرف علی تھانوی نے اپنے بارے میں کہا تھا— مجدد کامل تو نہیں، مگر مجددِ معاشرت میرے نزدیک یہی معاملہ تمام مجددین امت کا ہے۔ پچھلے زمانوں میں جتنے مجدد اٹھے وہ سب جُزئی معنوں میں مجدد تھے، نہ کہ کُلی معنوں میں۔ میرے مطالعے کے مطابق، مجددِ کامل صرف آخری زمانے میں پیدا ہوگا اور غالباً وہ وہی ہے جس کو حدیث میں مہدی کہا گیا ہے۔
مجد دِ کامل کا دوسرا نام ہے۔ مزید یہ کہ مہدی صرف مہدی ہوگا، وہ ہادی نہیں ہوگا۔ یعنی وہ خود اعلیٰ درجے کی معرفت دین کا حامل ہوگا اور وہ دوسروں کو اس سے باخبر کرے گا۔ مگر ایسا نہیں ہوگا کہ اُس کے گرد لوگوں کی بھیڑ اکٹھا ہو جائے ، وہ سارے عالم میں ہدایت کا انقلاب برپا کر دے اور وہ پورے کرہ ارض پر اسلام کی حکومت قائم کر دے۔
جزئی مجدد کا مطلب ناقص مجدد نہیں ہے اور نہ کامل مجدد کا مطلب معیاری مجدد ہے۔ الفاظ نوعیت کار کو بتانے کے لیے ہیں ، نہ کہ امتیازی رتبے کو بتانے کے لیے۔ اصل یہ ہے کہ پچھلے ادوار میں زندگی کا وہ روایتی نظام ٹوٹا نہیں تھا جو مذہبی اور اخلاقی اور روحانی قدروں پر بنا تھا۔ اُس میں صرف جزئی خرابیاں پیدا ہوئی تھیں ۔ چنانچہ پچھلے زمانوں میں محدود تجدیدی کام مطلوب تھا جس کو جزئی مجددین نے انجام دیا۔ مگر سائنسی اور صنعتی انقلاب کے بعد دنیا بالکل بدل گئی ہے۔ صدیوں کا روایتی ڈھانچہ مکمل طور پر ٹوٹ چکا ہے۔ اس بنا پر بعد کے زمانے میں صرف محدود تجدیدی کام کافی نہیں۔ بعد کے حالات میں ضروری ہوگا کہ ایسا شخص اُٹھے جو انقلابی معنوں میں تجدیدی کام انجام دے۔ فرق درجے کے اعتبار سے نہیں ہے بلکہ ضرورت کے اعتبار سے ہے۔
دورِ اول کے بعد کی صدیوں میں تجدید کے جو کام ہوئے ہیں اُن کی تفصیل بیان کرنا یہاں البتہ اِس معاملے کی وضاحت کے لیے کچھ مثالیں یہاں درج کی جاتی ہیں۔ میرے اندازے کے مطابق ، اسلام کی تاریخ میں پہلا انحطاط خلفاء راشدین کے آخری زمانے میں شروع ہوا۔ یہ انحطاط ، حدیث کے الفاظ میں، خشوع کے خاتمے کی صورت میں پیدا ہوا۔ دوسرے لفظوں میں یہ کہ اکثریت کے اندر دین کی اسپرٹ باقی نہ رہی۔ دین اب بھی بظاہر پوری طرح موجود تھا مگر وہ فارم کے اعتبار سے تھا ، نہ کہ اسپرٹ کے اعتبار سے۔ یعنی حدیث کے الفاظ میں مسجدیں بظاہر نمازیوں سے بھری ہوئی تھی، مگر وہ داخلی ہدایت سے خالی تھیں (مساجدھم عامرة وهي خراب من الھدیٰ)۔
اِس صورت حال کے پیدا ہونے کے بعد اُمّت میں بہت سے مصلحین اُٹھے۔ ایک علامتی نام
کے طور پر یہاں حسن بصری کا حوالہ دیا جا سکتا ہے۔ حسن بصری اور دوسرے تابعین اور تبع تابعین نے روحِ اسلام کو دوبارہ زندہ کرنے کے لیے کافی کوششیں کیں۔ یہی وہ سلسلہ اصلاح ہے جس نے بعد کو تصوف یا صوفی ازم کی زیادہ منظم صورت اختیار کی۔ اپنی حقیقت کے اعتبار سے صوفی ازم اسلام کی اصل روح (ربانیت) کو زندہ کرنے کی کوشش ہے۔ اگر چہ یہ متعین کرنا مشکل ہے کہ صوفیاء اپنی اس کوشش میں کتنا کامیاب ہوئے۔
2- عمر بن عبدالعزیز (وفات 101 ھ) علم اور اخلاص دونوں میں اعلیٰ درجہ رکھتے تھے۔ مجددِ دین امت میں شمار کیا جاتا ہے۔ اُن کا خاص کارنامہ یہ ہے کہ اُنھوں نے سیاست میں غیر دینی عناصر کو ختم کرنے کی کوشش کی۔ اُنھوں نے اپنے ڈھائی سالہ دورِ حکومت کو دوبارہ خلافتِ راشدہ کے نمونے پر قائم کیا۔ چنانچہ اُنھیں پانچواں خلیفہ راشد کہا جاتا ہے۔ عمر بن عبدالعزیز اور بھی کئی اہم کام کرنا چاہتے تھے، مثلاً احادیثِ رسول کی تدوین، مگر جلد وفات کی بنا پر وہ ایسا نہ کر سکے۔ 3- بنو امیہ کے دور میں یہ ہوا کہ اسلام کا شورائی نظام حکومت باقی نہ رہا۔ وہ ملوکیت کے ڈھانچے میں تبدیل ہو گیا۔ اس تبدیلی کو جائز قرار دینے کے لیے اُنھوں نے خلیفہ کا لفظ استعمال کیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد ابو بکر صدیق ، عمر فاروق، عثمان بن عفان، علی بن ابی طالب کو خلیفہ نہیں کہا گیا تھا بلکہ اُن میں سے ہر ایک کو امیر المومنین کہا جاتا تھا۔ بنو امیہ نے اپنے زمانے میں پہلی بار خلیفہ کا لفظ اپنے حکمرانوں کے لیے رائج کیا۔ یہ ایک قسم کی سیاسی بدعت تھی۔ عمر بن عبدالعزیز نے اس سیاسی بدعت کو ختم کرنا چاہتا تھا۔ تاہم قلیل مدت کی بنا پر وہ اس میں زیادہ کامیاب نہ ہو سکے۔ 4- بنو عباس کے زمانے میں ایک نئی چیز وجود میں آئی۔ وہ یہ کہ عباسی حکمرانوں کے زیرِ اثر فقہاء نے پوری دنیا کو دو حصوں میں تقسیم کر دیا— دار الاسلام اور دار الحرب۔ نزدیک ، دار الاسلام وہ ملک تھا جہاں مسلمانوں کی حکومت قائم ہو اور دار الحرب وہ ملک تھا جہاں مسلم حکومت قائم کرنے کی ضرورت ہو اور اس بنا پر وہ امکانی طور پر مسلمانوں سے بر سرِ جنگ (potentially at war) کی حیثیت رکھتا ہو۔ دار الاسلام اور دار الحرب کا یہ تصور قرآن اور حدیث
میں موجود نہ تھا۔ وہ صرف اس لیے اختیار کیا گیا کہ وہ اُس وقت کے مسلم حکمرانوں کے تووسی عزائم سے موافقت رکھتا تھا۔
میرے نزدیک اس کی ضرورت تھی کہ دار الاسلام اور دار الحرب کی اس سیاسی بدعت کے خلاف تجدیدی آواز بلند ہو۔ مگر فقہاء نے اس تقسیم کو عمومی طور پر قبول کر کے اُسے ایک شرعی سند دے دی جو یقینی طور پر درست نہ تھی۔ میرے نزدیک دار الاسلام کے سوا جو ملک ہیں اُن کو دار الانسان یا دار الدعوہ کہا جانا چاہیے، نہ کہ دار الحرب یا دار الکفر ۔
اسی طرح کے انحراف کی ایک مثال وہ ہے جو ترکوں کی عثمانی خلافت کے زمانے میں پیدا انیسویں صدی کے آخر میں مغربی افکار کے زیر اثر عرب قومیت کی تحریک عرب ملکوں میں پھیلی۔ اُس وقت یہ عرب ممالک ترکی کی عثمانی خلافت کے ماتحت تھے۔ عرب ملکوں میں ان کے خلاف رجحان اس رجحان کا آغاز لبنان میں ہوا اور پھر وہ مصر اور دوسرے ملکوں میں پھیل گیا۔ اس تحریک کا نشانہ یہ تھا کہ ہر عرب ملک میں قومی اسٹیٹ بنائی جائے جو وطنی مفاد کے مطابق کام کرے۔ اس تحریک کو کاؤنٹر کرنے کے لیے ترکی کے خلیفہ عبد الحمید ثانی کے زمانے میں الامۃ کا تصور اس کے مطابق، تمام دنیا کے مسلمان ایک قوم تھے۔ مسلمانوں کی قومیت مبنی بر وطن نہ تھی بلکہ وہ اُن کے مذہب سے تعلق رکھتی تھی۔ مذہبی قومیت کا یہ تصور مسلم لیڈروں میں عام طور پر مقبول ہو گیا۔ سید جمال الدین افغانی، امیر شکیب ارسلان، سید قطب، ڈاکٹر اقبال، ابوالکلام آزاد، آیت اللہ خمینی، سید ابوالاعلیٰ مودودی، محمد علی جناح، وغیرہ سب اس کے حامی بن گئے۔
میرے نزدیک یہ ایک گمراہ کن نظریہ تھا۔ اس نظریے کے تحت بیش تر ملکوں کے مسلمان خود اپنے ملک میں غیر وفادار بن کر رہ گئے۔ کیوں کہ اس عقیدہ کے مطابق، اُن کی قومیت مبنی بر وطن نہ تھی بلکہ بنی بر بدقسمتی سے اس پورے دور میں کوئی قابلِ ذکر مسلم رہنما ایسا نہیں اٹھا جو اس بے بنیاد نظریے کی غلطی واضح کرے اور مسلمانوں کو اس سے بچائے کہ وہ دورِ جدید میں خود اپنے وطن میں مشکوک ہو کر رہ یہ بلاشبہ ایک تجدیدی کام ہے اور ضروری ہے کہ بلا تاخیر اُس کو انجام دیا جائے۔
موجودہ زمانے میں ایک اور سنگین نوعیت کا انحراف پیدا ہوا ہے جس کو تہذیبوں کا تصادم (clash of civilizations) کہا جاتا ہے۔ یہ سمجھا جانے لگا ہے کہ صلیبی دور ایک نئی صورت میں تاریخ میں دوبارہ واپس آ گیا ہے۔ مسلمانوں کو دوسری قوموں کی سازش اور دشمنی کا سامنا ہے۔ یہ ایک سنگین چیلنج ہے جس کا مقابلہ صرف مسلح جہاد کے ذریعے ہو سکتا ہے (الجهاد هو الحل الوحید)۔ ذہن کی ترجمانی ایک عرب شاعر نے اس طرح کی ہے:
جدّدی حطّین أو شبہ حطّينا هات صلاح الدين ثانيةً فينا اسی ذہن کی نمائندگی فلسطینیوں کے قومی ترانے میں اس طرح کی گئی ہے: