فإن القتال سبيل الرشاد هلم نقاتل هلم نقاتل
Al-Risala, April 2007, pp. 13–16
By Maulana Wahiduddin Khan
میرے نزدیک یہ ایک سنگین نوعیت کا انحراف ہے۔ اس کے نتائج ہر اعتبار سے مسلمانوں کے لیے تباہ کن ہیں۔ بدقسمتی سے یہاں بھی کوئی قابل ذکر رہنما نہیں اٹھا جو اس معاملے میں تجدیدی ذمے داری کو انجام دے۔ وہ اس مفروضہ صلیبی جنگ کے تصور کو فکری اعتبار سے ختم کرے اور اس طرح مسلمانوں اور غیر مسلموں کے درمیان تعلقات کو مسلح جہاد کے بجائے پر امن دعوت کی بنیاد پر قائم
اسلام کا ظہور ساتویں صدی عیسوی میں ہوا۔ اُس کے بعد تقریباً ایک ہزار سال تک اسلام اپنی پوری عظمت کے ساتھ تاریخ میں مارچ کرتا رہا۔ اٹھارویں صدی کے آغاز میں صورت حال بدل اب اسلام یا ملت اسلام کا زوال شروع ہو گیا۔ یہ زوال مسلسل بڑھتا رہا اور وہ اب تک جاری پچھلے تقریباً تین سوسال کے درمیان تجدید اور احیاء نو کے نام پر بہت بڑی بڑی تحریکیں اُٹھیں۔ کروڑوں مسلمانوں نے ان تحریکوں کا ساتھ دیا۔ اس جدوجہد کے دوران جان و مال کی اتنی زیادہ قربانی دی گئی جو اس سے پہلے ہزار سال کی مدت میں بھی نہیں دی گئی تھی۔ مگر انجام کار کے اعتبار سے دیکھیے تو یہ کہنا درست ہوگا کہ یہ کوششیں سب کی سب عملاً بے نتیجہ ہو کر رہ گئیں۔ میرے نزدیک اس ناکامی کا بنیادی سبب صرف ایک ہے۔ اور وہ یہ کہ موجودہ زمانے کی
نسبت سے جو تجدیدی کام مطلوب تھا وہ انجام نہ پا سکا۔ حدیث کے الفاظ میں، مجدد کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنے زمانے سے باخبر ہو (أن يكون بصيرا بزمانه)۔ موجودہ زمانے میں جو مسلم رہنما تجدیدی کام کے لیے اٹھے وہ زمانی بصیرت سے خالی تھے۔ اس لیے وہ کوشش کے باوجود نتیجہ خیز طور پر اس کام کو انجام نہ دے سکے۔
اصل یہ ہے کہ حالیہ تین سو سالہ دور ایک نیا دور تھا جس کو سائنسی دور یا غیر روایتی دور کہا جا سکتا جب کہ اس سے پہلے ہزار سالہ دور روایتی دور تھا۔ پچھلے روایتی دور میں تقلیدی قسم کی تجدید کافی چنانچہ پچھلے دور کے مسلم رہنما اپنے اندر کوئی نئی صلاحیت پیدا کیے بغیر تجدید کا کام اُس وقت کے روایتی ڈھانچے میں انجام دے سکتے تھے۔ مگر سائنسی اور صنعتی انقلاب کے بعد دنیا ہر اعتبار سے ایک نئے دور میں داخل ہو چکی تھی۔ اب تجدید کے ساتھ اجتہاد کی ضرورت تھی، وہ بھی کامل اجتہاد، نہ کہ جزئی اب ایک مجتہد مطلق درکار تھا جو قرآن اور سنت سے گہری واقفیت کے ساتھ زمانی تبدیلیوں سے بخوبی واقف ہو۔ زمانہ حاضر میں کسی ایسے صاحب بصیرت مجتہد کے فقدان کا نتیجہ یہ ہوا کہ مطلوب تجدیدی کام نہ ہوسکا۔ کامل مجدد کا مطلب یہ نہیں ہے کہ وہ ہمہ گیر سیاسی انقلاب برپا کرے۔ دراصل وہ ہے جو زمانی تبدیلی کے بعد نئے غیر روایتی حالات میں اسلام کی فکری تشکیل کر سکے۔ اس معاملے کی ایک مثال یہ ہے کہ موجودہ زمانے میں جو مسلم رہنما اٹھے اور جنھوں نے بڑی بڑی تحریکیں چلائیں اُنھوں نے ہمیشہ حکومت کی تبدیلی کو اپنا نشانہ بنایا۔ یہ مقلّدانہ ذہن کا نتیجہ تھا، نہ کہ مجتہدانہ ذہن کا نتیجہ۔ قدیم زمانے میں زندگی کی تمام سرگرمیوں کا مرکز سیاسی اقتدار ہوتا تھا۔ اقتدار کو ہر معاملے میں مرکزی عامل کی حیثیت حاصل تھی۔ اس لیے سمجھا جاتا تھا کہ سیاسی اقتدار پر قبضہ حاصل کیے بغیر تجدید کا کام مؤثر انداز میں انجام نہیں دیا جا سکتا۔
اس روایتی ذہن کی بنا پر یہ ہوا کہ موجودہ زمانے کے مسلم رہنماؤں نے یہ سمجھا کہ تجدید کا کام کامل طور پر انجام دینے کے لیے ضروری ہے کہ سیاسی اقتدار پر قبضہ حاصل کیا جائے۔ المسلمون کے منشور میں یہ درج ہے کہ: الجہاد منہجنا (جہاد ہمارا طریق کار ہے)۔
روایتی ذہن کی غمازی کرتا ہے۔ مسلح جہاد اقتدار کے خلاف ہوتا ہے۔ مسلح جہاد کو اپنا طریقہ کار بتانے کا مطلب یہ ہے کہ تحریک کے سامنے جو نشانہ ہے وہ سیاسی اقتدار ہے۔ مگر موجودہ زمانے میں یہ نشانہ صرف مقلدانہ ذہن کی علامت ہے، نہ کہ اجتہادی ذہن کی علامت۔
اصل یہ ہے کہ اس اعتبار سے انسانی تاریخ کے دو دور ہیں۔ دور حکومت اور دور پچھلے زمانے میں جب کہ اقتصادیات کا پورا نظام زراعت پر مبنی ہوتا تھا، تمام اسباب اور ذرائع کا تعلق حکومت سے ہوا کرتا تھا۔ حکومت کے باہر کسی کے لیے کوئی بڑا کام کرنے کے مواقع موجود نہ موجودہ زمانے میں یہ صورت حال بدل گئی ہے۔ اب ایک نئی چیز ظہور میں آئی ہے جس کو ادارہ (institution) کہا جاتا ہے۔ موجودہ زمانے میں حکومت کی حیثیت محدود طور پر انتظامیہ (administration) کی ہوگئی ہے۔ اس کے باہر بے شمار شعبے ہیں جن کا تعلق اداروں (institutions) سے ہے اور ان کو حکومت کے بغیر آزادانہ طور پر انجام دیا جا سکتا ہے۔ نئے انقلاب نے سیکڑوں قسم کے نئے شعبے پیدا کیے ہیں جن کو ادارہ کی صورت میں بھر پور طور پر انجام دیا جا سکتا ہے۔ ان اداروں نے موجودہ زمانے میں آزاد متوازی سلطنت کی حیثیت حاصل کر لی ہے۔ مثلاً ایجوکیشن، جرنلزم، مالیاتی تنظیمیں، سوشل سروس، پروفیشنل ادارے، میڈیا، مطبوعاتی تنظیمات، اس طرح کی سیکڑوں غیر حکومتی تنظیمات (NGO's) ہیں جن کو اقتدار کے بغیر قائم کر کے تقریباً ہر وہ کام انجام دیا جا سکتا ہے جن کے لیے قدیم زمانے میں سیاسی اقتدار ضروری سمجھا جاتا تھا۔ موجودہ زمانے کے رہنما دور حکومت کے ذہنی نقشہ میں سوچتے رہے۔ وہ دور ادارہ کے ذہنی نقشہ میں اپنے عمل کی منصوبہ بندی نہ کر سکے۔ اس لیے یہ رہنما حکومتی اقتدار سے ٹکراؤ کرتے رہے اور ایک طرفہ تباہی کے سوا وہ کوئی مثبت نتیجہ پیدا کرنے میں ناکام رہے۔ دوسری طرف ایسے رہنما بھی ہیں جنھوں نے بظاہر پولیٹکل اقتدار حاصل کیا۔ چنانچہ بنگلہ دیش سے لے کر ایریٹیریا تک 57 مسلم ممالک ہیں جو مسلم رہنماؤں کی کوشش کے نتیجہ میں وجود میں آئے، مگر 57 مسلم ریاستوں کے قیام کے باوجود احیاء اسلام یا احیاء ملت کا کام کسی بھی درجے میں انجام نہ پا سکا۔
موجودہ زمانے میں بدستور ایک بگڑا ہوا انسانی قافلہ بنی ہوئی ہے۔
حدیث میں یہ پیشین گوئی آئی ہے کہ آخری زمانے میں ایک شخص پیدا ہوگا جس کو حدیث میں مہدی کہا گیا ہے، یعنی ہدایت پایا ہوا۔ میں سمجھتا ہوں کہ مہدیِ دورِ آخر کا وہ انسان ہوگا جس کو اوپر مجدد کامل کہا گیا ہے۔ وہ کوئی عالمی حکومت قائم نہیں کرے گا بلکہ اپنی معرفت اور بصیرت کی بنیاد پر وہ اس قابل ہوگا کہ بدلے ہوئے حالات میں اسلام کو از سر نو دریافت کرے اور عصری انداز میں اس کی فکری تشکیل کر سکے۔ اس مہدی کی حیثیت ایک رول (role) کی ہے، اُس کی حیثیت پیغمبر کی مانند ایک نامزد عہدہ کی نہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ مہدی خود یہ دعویٰ نہیں کرے گا کہ وہ مہدی ہے۔ دوسرے لوگ اُس کے کام کو دیکھ کر یہ سمجھیں گے کہ یہی وہ شخص تھا جس کو حدیث میں مہدی کہا گیا ہے۔ اس آنے والے انسان کو حدیث میں ہادی کے بجائے مہدی کہنے میں یہ اشارہ ملتا ہے کہ جب وہ ظاہر ہوگا تو ایسا نہیں ہوگا کہ لوگ بہت بڑی تعداد میں اُس کے گرد اکٹھا ہو جائیں۔ وہ ایک مفکر اور مصلح ہوگا، نہ کہ عالمی سیاسی لیڈر۔ اس کا وجود فکر اسلامی کے اظہار کا ذریعہ بنے گا، نہ کہ اہل اسلام کے عمومی سیاسی اقتدار کا ذریعہ۔ وہ نظریاتی معنوں میں عارف باللہ ہوگا، نہ کہ سیاسی معنوں میں کوئی سلطان۔ ماہنامہ الرسالہ کا انگریزی ایڈیشن ماہنامہ الرسالہ کا انگریزی ایڈیشن بمبئی سے شائع ہو رہا ہے۔ ایڈیشن کا نام دی اسپرپچول مسیج (The Spiritual Message) ہے۔ اس کی تفصیل یہ ہے:
دی اسپرپچول مسیج، فی کاپی 15/- روپے، سالانہ 165/- روپے ۔
خط و کتابت کا پتہ ہے:
The Spiritual Message 302, Koldongri CHS, Sahar Road Andheri (East), Mumbai-400 099 (India)
Tel.: 2834 1654/ 28346079/ 2821 8609, Fax: 2823 6323