Al-Risala · April 2007

کلچرل ہیریٹج کا پر یزرویشن

Al-Risala, April 2007, pp. 17–22

By Maulana Wahiduddin Khan

کلچرل ہیریٹج (cultural heritage) اُسی چیز کا دوسرا نام ہے جس کو عام طور پر ہسٹاریکل مانیومینٹ (historical monument) کہا جاتا ہے۔ مقامی ریفرنس کے اعتبار سے وہ کلچرل ہیریٹج ہے اور یونیورسل ریفرنس کے اعتبار سے وہ ہسٹاریکل مانیومینٹ۔ کلچرل ہیریٹج یا ہسٹاریکل مانیومینٹ کی اہمیت اسلامی ٹریڈیشن میں بھی وہی ہے جو دوسرے ٹریڈیشن یا ڈسپلن میں مانی جاتی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ کلچرل ہیریٹج کا پر یزرویشن (preservation) انسانیت کے اُن عمومی معاملات میں سے ہے جس میں سکولر پوائنٹ آف ویو اور اسلامک پوائنٹ آف ویو کے درمیان کوئی اسلام کے مطابق بھی وہ بلاشبہ اس قابل ہے کہ اُس کو پر یزرو کیا جائے۔ ماضی کے ریکارڈ کو اگر محفوظ نہ رکھا جائے تو مستقبل کی نسلوں کے لیے علم کا ایک معتبر ذریعہ ضائع ہو جائے گا۔ یہ ایک ایسا تاریخی نقصان ہے جس کی تلافی کسی اور ذریعہ سے ممکن نہیں۔

اسلام فطرت کا دین ہے۔ ہر وہ چیز جو فطرت اور ریزن کے مطابق قابل لحاظ ہو، وہ یقیناً اسلام میں بھی قابل لحاظ قرار پائے گی۔ کسی چیز کا فطری تقاضا ہونا بجائے خود اس بات کا ثبوت ہے کہ وہ اسلام کا تقاضا بھی ہے۔

اسلامی شریعت میں ایک اہم اور مسلمہ اصول یہ ہے کہ: الأصل فى الاشياء الإباحة (چیزوں میں اصل ان کا مباح ہونا ہے) اس شرعی اصول کی روشنی میں دیکھیے تو کلچرل ہیر ٹیج کو پر یزرو کرنا یقینی طور پر اسلام میں ایک جائز کام ہے۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ قرآن اور سنت میں کہیں بھی یہ حکم نہیں دیا گیا ہے کہ کلچرل ہیر ٹیج کو پر یزرو نہ کرو۔ اور جب قرآن اور سنت میں اس قسم کی کوئی ممانعت موجود نہیں تو کلچرل ہیر ٹیج کو پر یزرو کرنا اپنے آپ جائز قرار پائے گا۔ اس عمل کو جائز ٹھہرانے کے لیے مزید کسی دلیل کی ضرورت نہیں۔

تاہم قرآن کے مطالعے سے معلوم ہوتا ہے کہ کلچرل ہیر ٹیج کی اہمیت کے بارے میں ایسے

حوالے بھی موجود ہیں جو اِس کی اہمیت کو ثابت کرنے کے لیے براہِ راست ثبوت کی حیثیت رکھتے یہاں اس سلسلے میں اسلامی مآخذ سے چند متعلق حوالے درج کیے جاتے ہیں۔ قرآن میں اس سلسلے کی ایک آیت یہ ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا: تم میرے پاس اس سے پہلے کی کوئی کتاب لے آؤ یا کوئی علم جو چلا آتا ہو (46:4) قرآن کی اس آیت میں ’اثرۃ من علم‘ کا مطلب (remnant of knowledge) ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ اُس سے مراد وہی چیز ہے جس کو آج کل کی زبان میں آرکیالوجیکل ریکارڈ یا ہسٹاریکل ریکارڈ کہا جاتا ہے۔ اس قسم کا ریکارڈ ماضی کے واقعات کو جاننے کے لیے نہایت اہم علمی ذریعہ ہے۔ ایسی حالت میں ماضی کے اس ریکارڈ کو محفوظ رکھنا انتہائی ضروری ہے، علمی نقطۂ نظر سے بھی اور اسلامی نقطۂ نظر سے بھی۔ کلچرل ریکارڈ یا ہسٹاریکل ریکارڈ کو محفوظ رکھنے کی ایک عملی مثال قرآن میں وہ ہے جو فرعون کے تذکرہ کے ذیل میں آئی ہے۔ قرآن میں بتایا گیا ہے کہ موسیٰ کا ہم عصر فرعون جب غرق ہو کر مرا تو اللہ تعالیٰ نے اُس سے فرمایا کہ آج ہم تمھارے بدن کو محفوظ رکھیں گے تا کہ وہ تمھارے بعد والوں کے لیے نشانی ہو (10:92)

جیسا کہ معلوم ہے، مذکورہ فرعون کا جسم مصری رواج کے مطابق، مرنے کے بعد مومیائی کر کے ایک اہرام میں رکھ دیا گیا تھا۔ یہ بلاشبہ قدیم مصری کلچر کا ایک حصہ تھا۔ مصری کلچر کا یہ حصہ خود خدا کے منصوبے کے تحت محفوظ رہا، یہاں تک کہ انیسویں صدی کے آخر میں اُس کو مصر کے ایک اہرام سے نکالا اور کاربن ڈیٹینگ کے جدید طریقہ کو اپلائی کر کے یہ معلوم ہوا کہ یہ وہی فرعون ہے جو حضرت موسیٰ کے زمانے میں غرق ہوا تھا۔ فرعون کا یہ محفوظ جسم قاہرہ کے میوزیم میں قرآن کی مذکورہ آیت کی ایک شہادت کے طور پر آج بھی رکھا ہوا ہے۔

جیسا کہ معلوم ہے، فرعون ایک مشرک بادشاہ تھا۔ اس کے باوجود اللہ کی مرضی یہ ہوئی کہ اُس کے جسم کو محفوظ رکھا جائے۔ اس سے معلوم ہوا کہ کلچرل ہسٹری کی نہ صرف عام چیزیں بلکہ مشرک بادشاہ کا جسم بھی محفوظ کیا جا سکتا ہے۔ اس پر قیاس کرتے ہوئے یہ کہنا درست ہوگا کہ بامیان میں واقع بودھ

کے دو ہزار سالہ مجسموں کو محفوظ رکھنا اسلام میں بھی اُسی طرح مطلوب ہے جس طرح دوسرے ٹریڈیشن یا ڈسپلن میں مطلوب ہے یا ہو سکتا ہے۔

3- قرآن میں بنی اسرائیل کی تاریخ کے ذیل میں بتایا گیا ہے کہ اُن کے یہاں ایک وراثتی تابوت (صندوق) موجود تھا جو نسل در نسل اُن کے یہاں ذریعۂ سکون کے طور پر محفوظ رہا۔ میں آل موسیٰ اور آل ہارون کے تبرکات محفوظ کئے گئے تھے۔ گویا یہ عین وہی چیز تھی جس کو موجودہ زمانے میں کلچرل ہیریٹیج کہا جاتا ہے۔ قرآن سے معلوم ہوتا ہے کہ اس وراثتی تابوت کو اتنی زیادہ اہمیت حاصل تھی کہ ایک موقع پر اُس کو فرشتے ایک جگہ سے دوسری جگہ لے گئے۔

میں سمجھتا ہوں کہ کلچرل ہیریٹیج کو محفوظ کرنے کی یہ ایک براہِ راست مثال قرآن میں موجود اس سے کلچرل ہیریٹیج کی اہمیت بھی ثابت ہوتی ہے اور یہ بھی کہ ایسی چیز کو نسل در نسل محفوظ رکھنا شریعتِ الہی کے خلاف نہیں۔

4- قرآن میں مومن کی ایک صفت 'السائح' بتائی گئی ہے (9:112) یعنی سیاحت کرکے زمین کے مختلف مقامات پر جانا اور پچھلی قوموں کے چھوڑے ہوئے آثار و مساکن کو دیکھ کر اُن سے نصیحت لینا (28:58)- قرآن میں بتکرار یہ آیت آئی ہے: قل سیروا فی الأرض ثم انظروا کیف کان عاقبة المكذبين (6:11)

اس کے مطابق، اسلام میں یہ مطلوب ہے کہ ماضی کے تاریخی آثار کو اُس کی ابتدائی شکل میں محفوظ رکھا جائے تا کہ دیکھنے والے لوگ اُن سے سبق لے سکیں۔ تاریخی آثار کو محفوظ نہ رکھنے کی صورت میں اسلام کا یہ سیاحتی مقصد ہی فوت ہو جائے گا۔

5- کلچر ہمیشہ ایک طبقہ یا ایک کمیونٹی کی وراثت ہوتا ہے۔ ہر کمیونٹی کو یہ مطلق رائٹ حاصل ہے کہ وہ اپنے کلچر کا تحفظ کرے۔ کلچر کے معاملے میں نہیں دیکھا جائے گا کہ وہ اسلام کے موافق ہے یا اس کے خلاف۔ جب بھی کوئی کمیونٹی کسی کلچر کو اپنا کلچر سمجھے اور اس کو محفوظ رکھنا چاہے تو یہ حق اس کو دیا یہ حق جس طرح سیکولرزم میں تسلیم کیا گیا ہے اسی طرح وہ اسلام میں بھی تسلیم شدہ ہے۔

اس کی ایک مثال یہ ہے کہ اسلام کے خلیفہ ثانی عمر فاروق کی خلافت کے زمانے میں یروشلم (ایلیا) فتح ہوا تو خود عمر فاروق مدینہ سے سفر کر کے یروشلم گئے۔ اس وقت اسلامی خلافت اور مسیحی فرقہ کے درمیان جو معاہدہ ہوا، اُس میں دوسری باتوں کے علاوہ یہ بھی لکھا گیا کہ مسیحی چرچوں میں جو چیزیں ہیں وہ محفوظ رہیں گی۔ مثلاً مریم اور مسیح کے بت، وہ مقدس لکڑی جس پر مسیحی عقیدہ کے مطابق، حضرت مسیح کو سولی دی گئی، وغیرہ (تاریخ الطبری) اس قسم کی چیزیں مسیحی کلچر کا حصہ تھیں مگر معاہدہ میں یہ لکھا گیا کہ مسیحی فرقہ کو یہ حق ہوگا کہ ان کے چرچ ڈھائے نہ جائیں اور ان کے کلچرل ہریٹیج کو کسی قسم کا نقصان نہ وہ جس طرح چاہیں اپنے کلچر کی حفاظت کریں۔

خلیفہ ثانی کے اس عمل سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ ہر قوم کو یہ حق حاصل ہے کہ جس چیز کو وہ اپنے کلچر کا حصہ سمجھتی ہے اُس کو وہ محفوظ رکھے، خواہ وہ مسلم حکومت کے اندر ہو یا مسلم حکومت کے باہر۔ حکومت کو یہ حق نہیں کہ وہ کسی گروہ کے کلچر کے معاملے میں دخل دے۔ کلچر کے تحفظ کا معاملہ حکومتی مداخلت سے آزاد معاملہ ہے۔

اس سلسلے میں ایک اہم بات یہ ہے کہ بین الاقوامی اہمیت کی چیزوں میں اسلام کا نارم (norm) بھی وہی ہوگا جو دوسری قوموں کا متفقہ نارم ہو۔ انٹرنیشنل نارم کے معاملے میں اسلام کا یہ اصول پیغمبر اسلام کے بعض واقعات سے مستنبط ہوتا ہے۔

مثلاً رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے آخری زمانے میں یمن کے ایک شخص مسیلمہ نے نبوت کا اُس نے دو آدمیوں پر مشتمل اپنا ایک وفد رسول اللہ کے پاس مدینہ بھیجا اور یہ کہلوایا کہ آپ میری نبوت کو قبول کریں۔ پیغمبر اسلام نے اُن دو آدمیوں سے پوچھا کہ مسیلمہ کے معاملے میں تمھاری اپنی رائے کیا ہے۔ دونوں نے کہا کہ ہم بھی اُس کو اُس کے دعویٰ کے مطابق، نبی مانتے آپ نے فرمایا کہ اگر یہ رواج نہ ہوتا کہ سفیروں کو قتل نہیں کیا جاتا تو میں ضرور تم دونوں کو قتل کر دیتا (سیرت ابن ہشام)

پیغمبر اسلام کے اس ارشاد سے واضح طور پر معلوم ہوتا ہے کہ اگر کوئی چیز انٹرنیشنل طور پر تسلیم

کر لی جائے تو اسلام میں بھی اُس کو تسلیم کیا جائے گا۔ اس اصول کی روشنی میں کلچرل ہہیریٹیج کو محفوظ کرنا اسلام میں بھی اتنا ہی اہم ہے جتنا کہ وہ دوسری قوموں کے نزدیک اہم ہے۔ جدید دنیا میں کلچرل ہہیریٹیج یا ہسٹاریکل مانیومنٹ کو نہایت اہمیت کے ساتھ محفوظ کیا جاتا ہے۔ اسلام میں بھی بلا شبہہ ایسا ہی کیا اس معاملے میں دوسروں سے الگ اسلام کا کوئی طریقہ نہیں۔

پیغمبر اسلام مکہ میں پیدا ہوئے۔ وہاں کھجور کے درخت نہیں ہوتے تھے۔ اس کے بعد آپ ہجرت کر کے مدینہ آئے۔ یہاں کھجوروں کے باغ ہوا کرتے تھے۔ ایک دن آپ ٹاؤن سے باہر ایک باغ کے پاس سے گزرے۔ یہاں کچھ لوگ کھجور کے درخت پر چڑھ کر اپنے ہاتھوں سے ہینڈ پالی نیشن (hand-pollination) کا کام کر رہے تھے۔ آپ نے انھیں ایسا کرنے سے منع کر دیا۔ اگلے سال کھجور کی فصل کم آئی۔ آپ نے سبب پوچھا تو لوگوں نے بتایا کہ آپ نے پالی نیشن (تأبير نخل) سے منع کر دیا تھا جب کہ اُسی سے کھجور میں اچھی فصل آتی ہے۔ یہ سن کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا کہ تم جو کرتے تھے اُس کو کرو، کیوں کہ تم اپنی دنیا کے معاملے میں زیادہ جانتے ہو (أَنْتُمْ أعلم بأمور دنیاکم)

پیغمبر کے اس قول سے ایک اہم اصول معلوم ہوتا ہے اور وہ ہے عقیدہ اور امور دنیا کا فرق۔ اسلام کے مطابق، زندگی کے وہ معاملات جو اپنی نوعیت کے اعتبار سے امور دنیا سے تعلق رکھتے ہیں، ان کو عقیدہ کے تابع نہیں رکھا جائے گا، بلکہ ایسے موضوعات علمی ریسرچ کے تابع ہوں گے۔ وہی چیز درست قرار پائے گی جو علمی ریسرچ سے درست قرار پاتی ہو۔ اگری کلچر اور ہارٹی کلچر سے لے کر انجینئرنگ اور ہسٹری کے شعبے تک سب اس میں شامل ہیں۔ میں سمجھتا ہوں کہ کلچرل ہہیریٹیج یا ہسٹاریکل مانیومنٹ کے پرزرویشن کا معاملہ بھی انھیں چیزوں میں سے ہے جو علمی ریسرچ کے تابع ہیں، نہ کہ عقیدہ (faith) کے تابع۔

خلاصہ یہ کہ اصولی ہدایات اور عملی نظائر دونوں اعتبار سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ کلچرل ہہیریٹیج یا ہسٹاریکل مانیومنٹ کے پرزرویشن کے معاملے میں اسلام کی رائے بھی وہی ہے جو دوسرے ٹریڈیشن یا

ڈسپلن کی ہے۔ بالفرض اگر کسی مسلم ملک میں کوئی مانیومنٹ ایسا ہو جس کو کسی مصلحت کی بنا پر ملک کے اندر رکھنا مناسب نہ ہو تو ایسی حالت میں اُس کو تباہ نہیں کیا جائے گا بلکہ خواہش مند قوموں اور ملکوں کو اُسے ایکسپورٹ کر دیا جائے تاکہ وہ اُس کو اپنے میوزیم میں محفوظ کر سکیں۔ افغانستان (بامیان) میں گوتم بدھ کے مجسموں کو جس طرح توڑا گیا وہ ہرگز اسلام نہ تھا، وہ غلو (ایکسٹریمزم) تھا، اور قرآن اور حدیث کے مطابق، غلو (ایکسٹریمزم) اسلام میں نہیں۔ لیے ملاحظہ ہو، راقم الحروف کی کتاب’ہند۔ پاک ڈائری‘، صفحہ: 247) مولانا وحید الدین خاں مولانا وحید الدین خاں مولانا وحید الدین خاں

Printed page