آغاز کلام
Al-Risala, April 2007, pp. 23–33
By Maulana Wahiduddin Khan
قرآن خدا کی کتاب ہے۔ وہ اپنی اصل عربی زبان میں پوری طرح محفوظ ہے۔ کتاب کا ترجمہ کبھی اصل کتاب کا بدل نہیں بن سکتا۔ ترجمۂ قرآن کا مقصد صرف تقریب فہم ہے، مگر اس کا یہ مطلب نہیں کہ جو شخص عربی زبان نہ جانتا ہو، وہ قرآن کو سمجھ نہیں سکتا۔ قرآن، ایک غیر عربی داں کے لیے بھی ایک قابل فہم کتاب ہے۔ قرآن بظاہر عربی زبان میں ہے، لیکن اپنی حقیقت کے اعتبار سے وہ فطرت کی زبان میں ہے، یعنی وہ زبان جس نے خدا نے تخلیق کے وقت سارے انسانوں سے براہ راست خطاب کیا تھا۔ یہ خطاب ہر عورت اور مرد کے اندر غیر شعوری طور پر ہمیشہ موجود رہتا ہے۔ اس لیے قرآن ہر انسان کے لیے ایک قابل فہم کتاب ہے، کسی کے لیے شعوری طور پر اور کسی کے لیے غیر شعوری طور پر۔
اس حقیقت کو قرآن میں ان الفاظ میں بتایا گیا ہے: بل ھو آیت بینت فی صدور الذین اوتو العلم (العنکبوت: 49) یعنی یہ کھلی ہوئی آیتیں ہیں اُن لوگوں کے سینوں میں جن کو علم ہوا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ قرآن جس حقیقت ربانی کو شعور کی زبان میں بتا رہا ہے، وہ غیر شعوری زبان میں پہلے سے انسان کے اندر موجود ہے۔ قرآن کا پیغام انسان کے لیے کوئی اجنبی پیغام نہیں، وہ اُسی معرفت کا ایک لفظی اظہار ہے جس سے انسان فطرت کی سطح پر پہلے سے آشنا ہے۔ قرآن میں بتایا گیا ہے کہ جو انسان بعد کے زمانے میں پیدا ہورہے ہیں، وہ سب ابتدائی طور پر تخلیق آدم کے وقت ہی پیدا کر دیے گئے تھے۔ اُس وقت خدا نے ان انسانی روحوں سے براہ راست خطاب کیا۔ اس معاملے کو قرآن میں ان الفاظ میں بتایا گیا ہے:
اور جب تیرے رب نے بنی آدم کی پیٹھوں سے ان کی اولا د کو نکالا اور ان کو گواہ ٹھہرایا خود اُن کیا میں تمھارا رب نہیں ہوں‘‘۔ انھوں نے کہا: ہاں، ہم اقرار کرتے ہیں۔ یہ اس لیے ہوا کہ کہیں تم قیامت کے دن کہنے لگو کہ ہم کو تو اس کی خبر نہ تھی‘‘۔
خدا اور بندے کے درمیان ایک اور مکالمے کا ذکر قرآن میں اس طرح آیا ہے:
"ہم نے امانت (اختیاری عمل) کو آسمانوں اور زمین اور پہاڑوں کے سامنے پیش کیا تو انھوں نے اُس کو اٹھانے سے انکار کیا اور وہ اس سے ڈرگئے ، اور انسان نے اس کو اٹھالیا۔ شک وہ ظالم اور جاہل تھا۔ (الاحزاب : 72)
ان دونوں آیتوں سے معلوم ہوتا ہے کہ ابتداء تخلیق میں خدا نے تمام انسانوں کو براہِ راست طور پر خطاب کیا تھا۔ اس خطاب میں جو بات کہی گئی تھی ، وہ تمام انسانوں کے لاشعور میں محفوظ کر دی گئی۔ گویا کہ خدا کے جس کلام کو انسان، قرآن کی صورت میں پڑھ رہا ہے، اس سے پہلے براہِ راست خدائی خطاب کے تحت وہ اُس کو سُن چکا ہے اور سمجھ چکا ہے۔ قرآن، انسان کے لیے ایک معلوم بات کو جاننا ہے، نہ کہ کسی نامعلوم بات کو اچانک سُننا۔ حقیقت یہ ہے کہ قرآن انسانی ذہن کی اُن فولڈنگ
اس بات کو سامنے رکھا جائے تو یہ جاننا مشکل نہیں کہ قرآن کو سمجھنے کے لیے قرآن کا ترجمہ بھی ایک کافی ذریعے کی حیثیت رکھتا ہے۔ جس آدمی کی فطرت زندہ ہو، جس نے اپنے آپ کو بعد کی کنڈیشنگ سے بچایا ہو، وہ جب قرآن کا ترجمہ پڑھے گا تو اس کے ذہن کے وہ خانے کھل جائیں گے جہاں خدا کا خطاب اوّل پہلے سے محفوظ ہے۔ عہدِ الست اگر خدا کا خطاب اوّل ہے تو قرآن خدا کا دونوں ایک دوسرے کے لیے تصدیق کی حیثیت رکھتے ہیں۔ کوئی آدمی اگر عربی زبان نہ جانتا ہو ، یا کم جانتا ہو اور وہ صرف ترجمہ قرآن پڑھنے کی پوزیشن میں ہو تو اُس کو فہم قرآن کے بارے میں مایوسی کا شکار نہیں ہونا چاہیے۔ قرآن کا یہ تصور انسان موجودہ زمانے میں ایک سائنسی حقیقت بن موجودہ زمانے میں جینیٹک کوڈ کی سائنس اور انتھراپالوجی کا مطالعہ، دونوں اس قرآنی نقطہ نظر کی کامل تائید کرتے ہیں۔
ہر کتاب کا ایک موضوع (subject) ہوتا ہے۔ قرآن کا موضوع یہ ہے کہ خدا کے تخلیقی نقشہ (creation plan of God) سے انسان کو آگاہ کیا جائے، یعنی انسان کو یہ بتایا جائے کہ خدا نے یہ دنیا
کس لیے بنائی ہے۔ انسان کو زمین پر بسانے کا مقصد کیا ہے۔ موت سے پہلے کے دور حیات میں انسان سے کیا مطلوب ہے، اور موت کے بعد کے دورِ حیات میں انسان کے ساتھ کیا پیش آنے والا انسان ایک ابدی مخلوق ہے۔ اس کا سفرِ حیات موت کے بعد بھی جاری رہتا ہے۔ پورے سفرِ حیات کے لیے ایک رہنما کتاب کی حیثیت رکھتی ہے۔ انسان کو اس حقیقت سے باخبر کرنا، یہی قرآن کا مقصد ہے اور یہی قرآن کا موضوعِ کلام۔
خدا نے انسان کو ایک ابدی مخلوق کی حیثیت سے پیدا کیا۔ پھر اس کے عرصہ حیات (life span) کو دو حصوں میں بانٹ دیا۔ اس کا بہت تھوڑا حصہ قبل از موت دور میں رکھا اور اس کا زیادہ بڑا حصہ بعد از موت دور میں رکھ دیا۔ موت سے پہلے کا جو دور ہے، وہ ٹیسٹ کا دور ہے اور موت کے کا جو دور ہے، وہ ٹیسٹ کے مطابق، اچھا یا بُرا انجام پانے کا دور۔ قرآن، زندگی کی اسی حقیقت کے لیے ایک تعارفی کتاب کی حیثیت رکھتا ہے۔
انسان کے بارے میں یہ کہنا صحیح ہوگا کہ وہ پیدائشی طور پر ایک متلاشی (seeker) ہے۔ انسان کے دماغ میں یہ سوال چھپا ہوا ہے کہ میں کون ہوں، میرا مقصدِ حیات کیا ہے، زندگی کی حقیقت کیا ہے اور موت کی حقیقت کیا، اس دنیا میں آدمی کی کامیابی اور ناکامی کا راز کیا ہے، وغیرہ۔ قرآن کے مطابق، اِس سوال کا جواب یہ ہے کہ موجودہ دنیا امتحان کی جگہ ہے اور بعد کی دنیا امتحان کا انجام پانے کی جگہ۔ قبل از موت دورِ حیات میں انسان کو جو کچھ ملا ہے، وہ سب امتحان کا پرچہ بعد از موت دورِ حیات میں انسان کو وہ چیز ملے گی جس کا استحقاق اس نے موجودہ دنیا میں پیدا کیا اس دنیا میں آدمی کی کامیابی کا راز یہ ہے کہ وہ خدا کے تخلیقی نقشے کو سمجھے اور اس کے مطابق، اپنے زندگی کی منصوبہ بندی کرے۔
ایک عام آدمی جب قرآن کو پڑھتا ہے تو اُس کو محسوس ہوتا ہے کہ قرآن بظاہر متفرق بیانات (fragmentary statements) کا مجموعہ ہے۔ یہ احساس بظاہر خلافِ واقعہ نہیں۔ مگر قرآن کا یہ انداز کسی کمی کی بنا پر نہیں ہے بلکہ وہ عین منصوبہ قرآن کے مطابق ہے۔ قرآن موجودہ حالت میں
جیسا ہے، ویسا ہی اُس کو ہونا چاہیے۔
حقیقت یہ ہے کہ قرآن خدائی تنبیہ کی ایک کتاب ہے۔ وہ اَسباب اور نصیحت کا ایک مجموعہ قرآن، عام طرزِ تصنیف کے مطابق تیار نہیں ہوا۔ زیادہ صحیح طور پر قرآن ایک بُلک آف وزڈم قرآن کا مقصود یہ ہے کہ قرآن کو پڑھنے والا اگر قرآن کا صرف ایک صفحہ پڑھے، یا اُس کا صرف ایک جملہ سُنے تب بھی اُس کو اُس میں ایک میسیج مل جائے۔
قرآن ایک اعتبار سے مُنعم کی طرف سے انعام کی یاددہانی ہے۔ خدا نے انسان کو استثنائی اور اوصاف کے ساتھ پیدا کیا۔ پھر اُس کو زمین جیسے سیارے پر بسایا، جہاں انسان کے لیے ہر قسم کا لائف سپورٹ سسٹم موجود ہے۔ قرآن کا مقصود یہ ہے کہ انسان، فطرت کے ان انعامات سے استفادہ کرتے ہوئے مُنعم کو یاد رکھے۔ وہ انعامات کے خالق کو اکنا لِج کرے۔ انعامات کو استعمال کرتے ہوئے مُنعم کو اکنا لِج کرنا اور اُس کے تقاضے پورے کرنا، یہی ابدی جنت کا سرٹیفکٹ ہے۔ اور انعامات کو استعمال کرتے ہوئے مُنعم کو فراموش کر دینا، آدمی کو جہنم کا مستحق بنا دیتا ہے۔ قرآن دراصل اِسی سب سے بڑی حقیقت کی یاددہانی ہے۔
کچھ لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ قرآن کو پانے کے لیے صحبت ضروری ہے۔ ان کے نزدیک کسی صاحب کمال کی صحبت سے پر اسرار طور پر قرآن کے معانی آدمی کے اوپر کھل جاتے ہیں۔ یہ قرآن اور انسان دونوں کی تصغیر ہے۔ قرآن، انسان کی عقل کو خطاب کرتا ہے۔ اور عقل انسان کی سب سے بڑی صفت عقل کی سطح پر قرآن کو پانا ہی قرآن کو پانا ہے۔ جو لوگ عقل سے کم تر کسی سطح پر قرآن کو پائیں، انھوں نے قرآن کو پایا ہی نہیں۔ عقل کی سطح پر پانے والے کے لیے قرآن اٗس کی فکری دریافت بن جاتا اس کے برعکس، جو لوگ قرآن کو عقل کی سطح پر نہ پائیں، وہ اُس کو صرف قومی روایت کے طور پر اور قومی روایت کے طور پر پانا، قرآن کو صرف کم تر سطح پر پانے کے ہم معنی ہے۔ قرآن کی ایک صفت یہ ہے کہ وہ صرف اصولی اور بنیادی باتوں کو بیان کرتا ہے۔ وہ ان باتوں کو مؤ کد (emphasize) کرنے کے لیے اُنھیں بتکرار بیان کرتا ہے۔ اس کے مقابلے میں جُزئی
باتیں یا ظاہری فارم سے متعلق باتیں قرآن میں اتنی کم ہیں گویا کہ وہ موجود ہی نہیں۔ اس سے قرآن کی اسکیم کا اندازہ ہوتا ہے۔ قرآن کے نزدیک فارم کی اہمیت تمام تر سیکنڈری ہے۔ قرآن کے نزدیک ساری اہمیت اُن چیزوں کی ہے جن کو خدائی دین میں اصولی اور بنیادی حیثیت حاصل ہے۔ قرآن کا یہ پہلو اتنا زیادہ واضح ہے کہ کوئی بھی شخص جو قرآن کو پڑھے، وہ اس کو محسوس کیے بغیر نہیں رہ سکتا۔ اصل یہ ہے کہ اسلامی شخصیت کی تعمیر میں ساری اہمیت داخلی اسپرٹ کی ہے۔ اگر پیدا ہو جائے تو فارم اپنے آپ پیدا ہو جائے گا۔ ظاہری فارم کبھی بھی داخلی اسپرٹ کو پیدا کرنے والا نہیں بن سکتا۔ البتہ داخلی اسپرٹ اگر بھر پور طور پر پیدا ہو جائے تو ظاہری فارم لازماً پیدا ہو کر رہتا ہے۔ اس لیے قرآن کی ساری کوشش یہ ہے کہ آدمی کے اندر ذہنی انقلاب لایا جائے۔ ذہنی انقلاب کے لیے قرآن میں معرفت، یا عرفان حق (المائدہ : 83) کا لفظ آیا ہے۔ قرآن کا سارا زور اس پر ہے کہ آدمی معرفت کے درجے میں سچائی کو پائے۔ ایمان باللہ وہی ہے جو معرفت کی سطح پر کسی آدمی کو حاصل ہو۔ معرفت نہیں تو ایمان بھی نہیں۔
آپ قرآن کو پڑھیں تو آپ اُس میں بار بار اس قسم کے بیانات پائیں گے کہ یہ خدا کا اتارا ہوا کلام (Word of God) ہے۔ بظاہر یہ ایک سادہ سی بات ہے، لیکن جب اس کو تقابلی طور پر دیکھا جائے تو معلوم ہوگا کہ یہ انتہائی غیر معمولی بات ہے۔ دنیا میں بہت سی کتابیں ہیں جن کے بارے میں لوگوں کا عقیدہ ہے کہ وہ مقدس کتابیں ہیں۔ لیکن قرآن کے سوا کسی بھی مقدس مذہبی کتاب میں آپ کو یہ لکھا ہوا نہیں ملے گا کہ یہ خدا کا کلام ہے۔ اس قسم کا بیان استثنائی طور پر صرف قرآن میں موجود ہے۔ قرآن میں اس قسم کا بیان ہونا، اُس کے قاری کو ایک نقطۂ آغاز دیتا ہے۔ وہ اس کا مطالعہ ایک استثنائی کتاب کے طور پر کرتا ہے، نہ کہ عام انسانی کتاب کے طور پر۔
اسی طرح قرآن میں بار بار اس طرح کا خطاب ملتا ہے— اے انسان، یہ تیرا رب ہے جو تجھ سے خطاب کر رہا ہے۔ تو اس خطاب کو سُن اور اس کا اتباع کرنا۔ یہ اندازِ خطاب بھی انتہائی استثنائی کسی بھی دوسری کتاب میں اس قسم کا براہِ راست خدائی خطاب موجود نہیں۔ یہ طرزِ خطاب انسان کو
غیر معمولی طور پر متاثر کرتا ہے۔ وہ محسوس کرتا ہے کہ میرا خدا براہ راست طور پر مجھ کو خطاب کر رہا ہے۔ یہ احساس آدمی کو مجبور کرتا ہے کہ وہ قرآن کے بیان کو انتہائی سنجیدگی کے ساتھ لے۔ وہ اُس کے ساتھ عام انسانی کتاب جیسا معاملہ نہ کرے۔
قرآن کا اسلوب بیان بھی ایک منفرد اسلوب بیان ہے۔ عام انسانی کتابوں کا طریقہ یہ ہے کہ اُس میں چیزیں تصنیفی ترتیب کے ساتھ درج ہوتی ہیں۔ اُس میں اے سے زیڈ تک سلسلہ وار ترتیب کی صورت میں چیزوں کو بیان کیا جاتا ہے۔ مگر قرآن میں اس قسم کا اسلوب موجود نہیں۔ عام انسان کو بظاہر قرآن ایک غیر مرتب کلام معلوم ہوتا ہے، لیکن حقیقت کے اعتبار سے دیکھا جائے تو وہ ایک انتہائی مربوط اور مرتب کلام نظر آئے گا۔
قرآن کے اسلوبِ کلام کے بارے میں یہ کہنا صحیح ہوگا کہ اُس کا اسلوب ایک شاہانہ اسلوب قرآن کو پڑھتے ہوئے ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے اُس کا مصنف ایک ایسے برتر مقام پر ہے جہاں سے وہ ساری انسانیت کو دیکھ رہا ہے۔ ساری انسانیت اُس کا کنسَرن ہے۔ وہ اپنے مقامِ عظمت سے پوری انسانیت کو خطاب کر رہا ہے۔ البتہ اِس خطاب کے دوران اُس کا رخ کبھی ایک گروہ کی طرف مُڑ جاتا ہے اور کبھی دوسرے گروہ کی طرف۔
قرآن کا ایک خاص پہلو یہ ہے کہ اُس کا قاری کسی بھی لمحہ اُس کے مصنف سے کنسَلٹ کر سکتا قرآن کا مصنف خدا ہے۔ وہ ایک زندہ خدا ہے۔ وہ سارے انسانوں کا احاطہ کیے ہوئے ہے۔ راست طور پر ہر انسان کی بات کو سنتا ہے اور اُس کا جواب دیتا ہے۔ اِس لیے قرآن کے قاری کے لیے ہر لمحہ یہ ممکن ہے کہ وہ خدا سے ربط قائم کر سکے۔ وہ خدا سے پوچھے اور خدا سے اپنے سوال کا جواب پالے۔ جو لوگ صرف میڈیا کے ذریعے قرآن کو جانتے ہیں، وہ عام طور پر سمجھتے ہیں کہ قرآن جہاد کی کتاب ہے، اور جہاد ان کے نزدیک نام ہے تشدد کے ذریعے اپنے مقصد کو حاصل کرنا۔ مگر یہ صرف غلط فہمی کی بات ہے۔ جو آدمی بھی قرآن کو براہِ راست پڑھے، اُس کو یہ سمجھنے میں مشکل پیش نہیں آئے گی کہ قرآن کا تشدد سے کوئی تعلق نہیں۔ قرآن مکمل طور پر کتاب امن ہے، نہ کہ کتاب تشدد۔
یہ صحیح ہے کہ قرآن کی تعلیمات میں سے ایک تعلیم وہ ہے جس کو جہاد کہا جاتا۔ لیکن جہاد پر امن کوشش کا نام ہے، نہ کہ کسی قسم کے متشددانہ عمل کا۔ قرآن کا تصور جہاد قرآن کی ایک آیت سے معلوم ہوتا وہ آیت یہ ہے: وجاهدهم به جہاداً كبيراً۔ یعنی قرآن کے ذریعے اُن کے ساتھ جہاد کرو،
Do great Jihad with the help of the Quran. (25:52)
قرآن کی اس آیت میں قرآن کے ذریعے جہاد کرنے کی تعلیم دی گئی ہے۔ ظاہر ہے کہ قرآن کوئی ہتھیار نہیں، قرآن ایک نظریاتی کتاب ہے۔ قرآن، خدائی آئیڈیالوجی کا تعارف ہے۔ قرآن کا تصور جہاد واضح طور پر معلوم ہوتا ہے۔ قرآن کے مطابق، جہاد دراصل پُر امن نظریاتی جدوجہد (ideological struggle) کا نام ہے۔ اس نظریاتی جدوجہد کا نشانہ قرآن میں یہ بتایا گیا ہے کہ قرآن کا پیغام لوگوں کے دلوں میں اُتر جائے: وقل لهم فی أنفسهم قولا بلیغاً And speak to them a word to reach their very soul. (4:63)
اس آیت کے مطابق، قرآن کا مطلوب قول وہ ہے جو قول بلیغ ہو، یعنی ایسا کلام جو لوگوں کے مائنڈ کو ایڈریس کرے ۔ جو لوگوں کو مطمئن کرنے والا ہو۔ جس کے ذریعے لوگوں کو قرآن کی صداقت پر یقین پیدا ہو۔ جس کے ذریعے لوگوں کے اندر فکری انقلاب برپا ہو جائے۔ یہ قرآن کا مشن ہے۔ اس قسم کا مشن صرف دلائل کے ذریعے انجام دیا جا سکتا ہے۔ تشدد یا کسی بھی مسلح کارروائی کے ذریعے اس نشانے کو پانا ممکن نہیں۔
یہ صحیح ہے کہ قرآن میں کچھ ایسی آیتیں ہیں جو قتال (war) کی اجازت دیتی ہیں۔ لیکن یہ آیتیں صرف جنگی حالات کے لیے ہیں۔ وہ صرف حملے کے وقت دفاع کے معنی میں ہیں۔ دفاع کے سوا کوئی جنگ اسلام میں جائز نہیں۔ یہ دفاع بھی صرف ایک قائم شدہ ریاست (established state) کر سکتی ہے۔ اسٹیٹ کے سوا کسی بھی فرد، یا تنظیم کو جہاد چھیڑنے کی اجازت نہیں۔ قرآن کو سمجھنے کے لیے ایک اہم بات یہ ہے کہ قرآن کوئی قانونی کتاب نہیں ہے، قرآن ایک
دعوتی کتاب ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ قرآن کا اسلوب کلام قانونی نہیں ہے، بلکہ دعوتی ہے۔ قانون کی زبان تعینات کی زبان ہوتی ہے۔ قانونی تحریر میں چیزیں لفظی طور پر مطلوب ہوتی ہیں۔ جب کہ دعوتی تحریر کا معاملہ ایسا نہیں۔ دعوتی تحریر میں اس کے معانی پر زور ہوتا ہے۔ میں الفاظ کی حیثیت صرف ذریعے کی ہو جاتی ہے۔ جب کہ قانونی کتاب میں الفاظ خود مقصود بالذات بن جاتے ہیں۔
اس کا ایک پہلو یہ ہے کہ دعوتی تحریر میں تاکید کے مقصد کو حاصل کرنے کے لیے شدت کے اسلوب کو اختیار کیا جاتا ہے۔ دعوتی تحریر میں ایسے الفاظ استعمال کیے جاتے ہیں جو بظاہر نہایت سخت معلوم ہوتے ہیں، مگر دعوتی کلام میں یہ سختی بر بناہ حکمت ہوتی ہے۔ ایسے کسی کلام میں شدت کو دیکھ کر اُس کو قانونی شدت کے معنی میں لینا، سرتا سر نادانی کی بات ہوگی۔ اِس حکمت کا یہ نتیجہ ہے کہ دعوتی کلام میں اکثر ایسا ہوتا ہے کہ اُس میں ایک ایسی بات کہی جاتی ہے جو قانونی اسلوب کے اعتبار سے نہایت سخت معلوم ہوتی ہے، لیکن دعوتی اسلوب کے اعتبار سے وہ صرف جھنجھوڑنے کے لیے ہوتی ہے، وہ صرف اس لیے ہوتی ہے کہ آدمی کی فطرت کو جگایا جائے۔ اس کے اندر چھپے ہوئے احساسات کو متحرک چند مثالوں سے اس کی وضاحت ہوتی ہے۔
1- پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں بدر (2 ہجری) کی لڑائی پیش آئی۔ آپ نے دفاع کے طور پر کی تھی۔ اس لڑائی میں آپ کو جیت ہوئی۔ جنگ کے بعد آپ نے مخالفین کے ستر آدمیوں کو گرفتار کر لیا۔ اس کے بعد یہ لوگ اسیران جنگ کی حیثیت سے مدینہ لائے گئے۔ واقعے پر قرآن میں یہ آیت اتری: ما كان لنبيّ أن يكون له أسرى حتى يثخن في الأرض (الانفال: 67) یعنی کسی نبی کے لیے لائق نہیں کہ اُس کے پاس قیدی ہوں، جب تک وہ زمین میں اچھی طرح خون ریزی نہ کرلے۔
اس آیت کے الفاظ کو اگر قانونی مفہوم میں لیا جائے اس کا مطلب یہ ہوگا کہ اسیران جنگ کو لازماً قتل کیا جانا چاہیے۔ جیسا کہ معلوم ہے، یہ اسیران جنگ بوقت نزول آیت پوری طرح رسول اللہ
صلی اللہ علیہ وسلم کے قبضہ اختیار میں تھے۔ ایسی حالت میں اگر یہ آیت قانون کی زبان میں ہوتی تو اُس میں اِس قسم کے الفاظ ہونے چاہیے تھے کہ۔ جن ستر آدمیوں کو تم میدانِ جنگ سے گرفتار کر کے مدینہ لائے ہو، وہ سب کے سب اپنے جرم کی بنا پر گردن زدنی ہیں۔ اس لیے فوراً انھیں قتل کر کے ان کا خاتمہ کر دو۔ مگر نہ قرآن میں ایسی آیت اتری اور نہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس آیت کو قانونی آیت سمجھ کر اُس کی لفظی تعمیل کی۔
اس واقعے سے واضح طور پر معلوم ہوتا ہے کہ یہ آیت اپنے ظاہری الفاظ کے اعتبار سے مطلوب نہ تھی، بلکہ وہ اپنی حقیقت کے اعتبار سے مطلوب تھی، یہ شدتِ کلام کا معاملہ تھا جو اس لیے تھا کہ اسیرانِ جنگ کے اندر اپنی اصلاح کا جذبہ ابھرے۔ دوسرے لفظوں میں یہ کہ قرآن کی مذکورہ آیت میں جو بات تھی، وہ کوئی قانونی حکم نہ تھا بلکہ وہ صرف ہیمرنگ کی زبان (language of hammering) اس آیت کا مطلب مجرمین کی اصلاح تھا، نہ کہ مجرمین کا قتل۔ چناں چہ ان قیدیوں میں سے بیش تر لوگ بعد کو اسلام میں داخل ہو گئے۔ مثال کے طور پر سہیل بن عمرو، وغیرہ۔ 2- اسی طرح قرآن کی ایک آیت یہ ہے: يأيها النبى جاهد الكفار والمنافقين واغلظ عليهم (التوبہ: 73) یعنی اے نبی، منکروں اور منافقوں سے جہاد کرو اور ان پر کڑے بن اس آیت کو لے کر کچھ لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ اس میں پیغمبر کو یہ حکم دیا گیا ہے کہ وہ منکروں اور منافقوں سے جنگ کرے۔ مگر واقعات بتاتے ہیں کہ پیغمبر نے کبھی بھی وہاں کے منکروں اور منافقوں سے مسلح اقدام کر کے جنگ نہیں کیا۔ پیغمبرِ اسلام جب بھی کسی جنگ میں شامل ہوئے تو وہ صرف دفاع کے طور پر، نہ کہ اپنی طرف سے حملے کے طور پر۔ یہ واقعہ اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ اس آیت میں جہاد اور غلظہ کے جو الفاظ استعمال ہوئے ہیں، وہ صرف ہیمرنگ کی زبان (language of hammering) کے طور پر ہیں، نہ کہ کسی قانونی حکم کے طور پر۔ اگر وہ کوئی قانونی حکم ہوتا تو پیغمبر اسلام ضرور اُس پر عمل کرتے ہوئے اُن کے خلاف مسلح جنگی اقدام کرتے۔
3- قرآن میں ہجرت کے وقت سورہ الکافرون اتری۔ اُس میں اہل مکہ کو ’’اے منکرو‘‘ کے
لفظ سے خطاب کیا گیا اور کہا گیا کہ تمھارے لیے تمھارا دین اور میرے لیے میرا دین۔ مگر واقعات کو ملا کر دیکھا جائے تو یہ ماننا ہوگا کہ یہ ہیمرنگ کی زبان تھی۔ اگر ان الفاظ کا مطلب یہ ہوتا کہ اہل مکہ کا کفر متحقق ہو چکا ہے، وہ اب خدا کی نظر میں ’’کافر‘‘ قرار پا چکے ہیں، اب خدا کے نزدیک ان کے لیے دین کفر ہے، اس کے سوا اور کچھ نہیں۔
اگر یہ بات ہوتی تو اہل مکہ کفر پر جیتے اور کفر پر مرتے، مگر عملاً اس کے برعکس ہوا۔ اس کے بعد جو ہوا وہ یہ تھا کہ اہل مکہ میں سے کچھ لوگ جنگ بدر میں مارے گیے اور جو لوگ بچے، اُن سب نے بعد کو اسلام قبول کیا۔ اسی عملی پہلو کو سامنے رکھ کر سورہ کا مطالعہ کیا جائے تو معلوم ہوگا کہ سورہ الکافرون کے الفاظ ہیمرنگ کی زبان میں تھے، وہ قانونی حکم کی زبان میں نہ تھے۔
قرآن کے اسلوب کے بارے میں یہ بات بے حد اہم ہے۔ قرآن کا مطالعہ کرتے ہوئے اس اصول کو سامنے رکھنا بہت ضروری ہے کہ قرآن ایک دعوتی کتاب ہے۔ قرآن کوئی قانونی کتاب نہیں۔ قرآن میں جہاں بظاہر شدت ہے، وہ دعوتی حکمت کی بنا پر مخاطب کی ذہنی ہیمرنگ کے لیے ہے۔ اسلوب کے بارے میں اس اصولی بات کو سامنے رکھے بغیر قرآن کو صحیح طور پر سمجھا نہیں جا سکتا۔ قرآن خدا کی کتاب ہے، جو پیغمبر اسلام محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو دی گئی۔ قرآن ایک مجموعے کی صورت میں نہیں اترا، بلکہ تئیس سال کی مدت میں متفرق اجزاء کی صورت میں وہ اتارا گیا۔ مکہ میں تھے۔ جب کہ 610 عیسوی میں قرآن کا پہلا حصہ اترا۔ اس کے بعد برابر اس کے مختلف حصے آپ اُترتے رہے۔ قرآن کا آخری حصہ آپ پر 632 عیسوی میں اترا، جب کہ آپ مدینہ میں تھے۔ قرآن کا یہ نزول فرشتہ جبریل کے ذریعے ہوتا تھا۔ آخر میں خود فرشتہ جبریل کی تعلیم کے مطابق، قرآن کے مختلف حصوں کو ایک مجموعے کی شکل میں مرتب کیا گیا۔
قرآن میں کل 114 سورتیں ہیں، کچھ بڑی سورتیں ہیں اور کچھ چھوٹی سورتیں ہیں۔ تعداد تقریباً ساڑھے چھ ہزار ہے۔ تلاوت کی ضرورت کے لیے قرآن کو تیس پاروں اور سات منزلوں کی صورت میں تقسیم کیا گیا ہے۔
قرآن ساتویں صدی کے رُبعِ اول میں اترا۔ اُس وقت کا غذ وجود میں آچکا تھا۔ یہ کا غذ بعض مخصوص درختوں کے ریشے سے لے کر دستی صنعت کے طور پر بنایا جاتا تھا۔ اُس کو پائرس (Papyrus) کہا جاتا ہے۔ قرآن کا کوئی حصہ جب بھی اُترتا تو اُس کو اس کا غذ پر لکھ لیا جاتا تھا۔ جس کو عربی زبان میں قرطاس (الانعام: 7) کہا جاتا ہے۔ اِسی کے ساتھ لوگ قرآن کو اپنے حافظے میں محفوظ کر لیتے کیوں کہ اُس وقت قرآن ہی واحد اسلامی لٹریچر تھا۔ قرآن کو نمازوں میں پڑھا جاتا تھا اور دعوہ ورک کے تحت اس کو لوگوں کے سامنے پڑھ کر سنایا جاتا تھا۔ اِس طرح قرآن ایک بیک وقت لکھا بھی جاتا رہا اور اِسی کے ساتھ اس کو یاد بھی کیا جاتا رہا۔
پیغمبر اسلام کے آخری زمانے تک قرآن کو محفوظ کرنے کا یہی طریقہ جاری رہا۔ آپ کی وفات 632 عیسوی میں ہوئی، اس کے بعد ابو بکر صدیق اسلام کے پہلے خلیفہ بنے۔ انھوں نے با قاعدہ اہتمام کے تحت، قرآن کا ایک مجلد نسخہ بنایا۔ یہ نسخہ قدیم زمانے کے کا غذ یا قرطاس پر بنایا گیا تھا۔ یہ مجلد قرآن چو کور صورت میں تھا۔ چناں چہ اس کو ربعہ (square) کہا جاتا تھا۔ اس طرح قرآن، خلیفہ اول کے زمانے میں مجلد کتاب کی صورت میں محفوظ ہو گیا۔ تیسرے خلیفہ عثمان بن عفان کے زمانے میں اس مجلد قرآن کے مزید نسخے تیار کیئے گیے اور اس کو مختلف شہروں میں بھیج دیا گیا۔ یہ نسخے شہر کی جامع مسجدوں میں موجود رہتے تھے۔ لوگ اُن کو پڑھتے بھی تھے اور اُن سے مزید نسخے تیار کرتے تھے۔ کتابتِ قرآن کا یہ سلسلہ انیسویں صدی عیسوی تک جاری رہا۔ انیسویں صدی میں پرنٹنگ پریس ایجاد ہوا اور ساتھ ہی کا غذ بھی جدید صنعتی طریقے پر بڑی تعداد میں تیار کیا جانے لگا۔ انیسویں صدی میں قرآن کو باقاعدہ طور پر پرنٹنگ پریس کے ذریعے چھاپنے کا آغاز ہو گیا۔ کے طریقوں میں مسلسل ترقی ہوتی رہی۔ اِسی کے ساتھ قرآن کے مطبوعہ نسخے بھی زیادہ بہتر طور پر تیار اب قرآن کے مطبوعہ نسخے اتنے زیادہ عام ہو گئے ہیں کہ وہ ہر گھر میں اور ہر مسجد میں اور ہر لائبریری میں اور ہر مارکیٹ میں اس طرح وافر مقدار میں موجود ہیں کہ ہر انسان قرآن کے چھپے ہوۓ خوب صورت نسخے حاصل کر سکتا ہے، خواہ وہ گُرۂ ارض کے کسی بھی مقام پر ہو۔