السلام علیکم ورحمۃ اللہ
Al-Risala, January 2007, pp. 16–17
By Maulana Wahiduddin Khan
آپ کا خط مؤرخہ ۱۲ فروری ۲۰۰۶ ملا۔ آپ کا یہ خط اصلا میرے خط کے جواب میں ہے۔ لیکن کسی غلط فہمی کی وجہ سے اس میں مولانا محمد ذکوان ندوی کو ایڈریس کیا گیا ہے۔
آپ نے اپنے اس خط میں میرے سوال کا جواب نہیں دیا ہے بلکہ براہِ راست جواب سے اعراض فرمایا مسئلہ یہ ہے کہ آپ نے اپنی کتاب میں مصری عالم استاذ حسن الہضیبی کا ذکر کیا ہے، اور بتایا ہے کہ انھوں نے اپنی کتاب ’’دُعاة...... لا قضاۃ‘‘ میں غیر مسلم ممالک کو دار الدعوۃ قرار دیا ہے۔ میرا سوال مذکورہ کتاب کے صرف اس حوالے کے بارے میں تھا۔ میں نے پوچھا تھا کہ استاذ حسن الہضیبی نے اپنی مذکورہ کتاب کے کس صفحے پر غیر مسلم ممالک کے لیے’’ دار الدعوۃ‘‘ کا لفظ استعمال کیا ہے اور یہ لکھا ہے کہ غیر مسلم ممالک دار الحرب اور دار الکفر نہیں بلکہ وہ ’’دار الدعوۃ‘‘ ہیں۔ میں نے یہ کتاب پڑھی ہے اور میں نے اس میں کہیں بھی دار الدعوۃ کا لفظ نہیں پایا۔ آپ کا مذکورہ جواب علمی اعتبار سے مکمل طور پر غیر تشفی بخش ہے۔ آپ کا یہ کہنا کہ۔ ’’کتاب کا لب لباب وہی ہے، اور کتاب کے نام سے بھی یہی ظاہر ہے‘‘۔ باتیں سخت غیر علمی ہیں۔ کیوں کہ میں نے آپ سے یہ نہیں پوچھا تھا کہ کتاب کا لب لباب کیا ہے، بلکہ یہ پوچھا تھا کہ آپ کے دعوے کے مطابق ،کتاب میں متعین طور پر ’’دار الدعوۃ‘‘ کی اصطلاح کہاں استعمال ہوئی ہے۔ کا یہ عذر کہ کتاب مس پلیس (misplace) ہوگئی ہے، موجودہ پریس اور کمیونیکیشن کے دَور میں مضحکہ خیز حد تک ناقابل قبول ہے۔ شریعت کا اصول ہے کہ: البیّنۃ علی المدّعی۔ چوں کہ آپ نے ایک دعویٰ کیا ہے، اِس لیے اب آپ ہی کی یہ ذمے داری ہے کہ آپ اپنے اس دعوے کے حق میں مطلوب ثبوت پیش فرمائیں۔ نئی دہلی، ۱۶ فروری ۲۰۰۶
میرے اس خط کے بعد ان کا ایک خط مجھے ملا، جو یہاں نقل کیا جاتا ہے :
محترم ومکرم مولانا وحید الدین خاں صاحب السلام علیکم ورحمۃ اللہ امید ہے مزاج گرامی بخیر ہوں گے۔ میں آپ کا نہایت شکر گزار ہوں کہ آپ نے ایک اہم غلطی کی طرف میری تو جہ دلائی۔ میں اپنے پبلشر کو پیغام دے رہا ہوں کہ ان کے پاس جتنے نسخے بھی موجود ہیں، ان کے متعلقہ صفحے سے استاذ حسن الہضیبی کا نام کاٹ دیں۔ فی الوقت یہ کتاب صرف پانچ سو کی تعداد میں چھپی ہے اور میرا خیال ہے کہ اس کے کم ہی نسخے نکلے ہوں گے۔ انشاء اللہ جب اس کتاب کا اگلا ایڈیشن شائع ہوگا تو اس میں نہ صرف یہ کہ اس غلطی کی اصلاح کردی جائے گی بلکہ اس میں جناب حسن الہضیبی کے بارے میں تبصرہ بھی اس موضوع سے علیحدہ درج کیا جائے گا۔ انشاء اللہ اگلے ایڈیشن میں موجودہ ایڈیشن کی اس غلطی کا تذکرہ بھی ہوگا تا کہ زیادہ سے زیادہ قارئین تک یہ بات پہنچ جائے۔
آپ نے میرا عذر قبول نہیں فرمایا حالانکہ میری بات بالکل حقیقت پر مبنی تھی۔ میں ایک دور افتادہ چھوٹے سے شہر میں رہتا ہوں جہاں پریس اور کمیونیکیشن کا وہ حال نہیں ہے جو بڑے شہروں میں ہوتا ہے۔ جب بھی آپ کا کوئی نمائندہ لاہور آئے تو وہ کتاب مس پلیس ہونے سے متعلق ذمے دار افراد سے خود اس بات کی تصدیق کرسکتے ہیں۔ ۱۹ فروری، ۲۰۰۶ آپ کا مخلص ڈاکٹر محمد فاروق خاں ان کے اس خط کے بعد میں نے حسب ذیل خط ان کو روانہ کیا :
برادر محترم ڈاکٹر محمد فاروق خاں!