ویل للمطففین
Al-Risala, April 2007, pp. 34–35
By Maulana Wahiduddin Khan
قرآن کی سورہ نمبر 83 میں ارشاد ہوا ہے: ویل للمطففین الذین اذا اکتالوا علی الناس يستوفون وإذا كالوهم أو وزنوهم يخسرون (المطفيف : (1-3) یعنی خرابی ہے ناپ تول میں کمی کرنے والوں کی۔ جو لوگوں سے ناپ کر لیں تو پورا لیں اور جب اُن کو ناپ کر یا تول کر دیں تو گھٹا
تطفیف کے معنی ہیں، ناپ اور تول میں کمی کرنا۔ اس آیت میں ناپ اور تول میں کمی سے مراد سادہ طور پر صرف ترازو یا ناپ کا پیمانہ نہیں ہے بلکہ اس میں تمثیل کی زبان میں ایک انسانی صفت کی حقیقت کو بتایا گیا ہے، وہ یہ کہ آدمی کو ایسا نہیں کرنا چاہیے کہ وہ اپنے آپ کو ایک معیار سے جانچے اور دوسرے کو کسی اور معیار سے۔ وہ اپنی صرف خوبیاں لے اور دوسرے کی صرف برائیاں۔ طرح غیر منصفانہ تقابل کے ذریعہ یہ ظاہر کرے کہ وہ صرف اچھا ہے اور اس کے مقابلے میں دوسرا شخص صرف برا۔
تطفیف کا یہ انداز بہت عام ہے۔ ہر سماج میں لوگ کثرت سے اسی روش پر کاربند ہوتے یہی سب سے بڑی وجہ ہے جس کی بنا پر سماج کے اندر باہمی خیر خواہی اور حسنِ ظن کی فضا پیدا نہیں مثلاً دو آدمیوں نے مل کر ایک کاروبار کیا۔ اُن میں سے ایک شخص نے دس لاکھ روپیہ کا سرمایہ دیا اور دوسرے شخص نے اپنی محنت اور قابلیت کو کاروبار میں وقف کر دیا۔ کچھ عرصے کے بعد کاروبار بڑھا اور اُس کی مالیت ایک کروڑ روپیہ کے برابر ہوگئی۔
اب تطفیف یہ ہے کہ ابتدائی سرمایہ لگانے والا صرف اپنے سرمایہ کو جانے اور فریق ثانی نے اپنی محنت سے اس ابتدائی سرمایہ پر جو اضافہ کیا ہے اُس کو بھول جائے۔ دوسری طرف محنت کرنے والا فریق صرف اپنی محنت کو دیکھے اور دوسرے پارٹنر نے اپنے سرمایہ کے ذریعہ اُس کو جو بنیاد فراہم کی اُس کو
وہ فراموشی کے خانہ میں ڈال دے۔ اس قسم کی تطفیف دونوں شریکوں کے دل میں ایک دوسرے کے خلاف منفی جذبات پیدا کرے گی یہاں تک کہ دونوں لڑکرا ایک دوسرے سے الگ ہو جائیں گے۔ اس کے برعکس اگر ایسا ہو کہ دونوں ایک دوسرے کے حصہ (contribution) کو یاد رکھیں اور اُس کا کھلا اعتراف کریں تو دونوں کے دل میں ایک دوسرے کی عزت اور اہمیت ہوگی۔ میں اُن کا مشترک کاروبار مسلسل چلتا رہے گا یہاں تک کہ وہ عظیم کامیابی تک پہنچ جائے گا۔ یہی معاملہ گروہی نزاعات کا ہے۔ گروہی نزاعات میں بھی عام طور پر لوگ تطفیف کا شکار ہو جاتے ہیں۔ ہر گروہ اپنی طرف کے ظلم کو حذف کر کے دوسرے گروہ کے ظلم کو بیان کرتا ہے۔ گروہ کے لوگوں نے دوسرے گروہ کے لوگوں پر پتھر برسا کر اُنھیں زخمی کر دیا۔ اُس کے بعد دوسرے گروہ کے لوگ مشتعل ہو گئے اور انھوں نے پتھر کے جواب میں بم کا استعمال کر کے مزید اضافہ کے ساتھ فریق اول کو نقصان پہنچایا۔
اب یہ ہوتا ہے کہ دونوں فریق، معاملے کی یک طرفہ رپورٹنگ کرتے ہیں۔ یعنی ایک فریق یہ کرتا ہے کہ وہ صرف دوسرے فریق کے بموں کا حال بتا کر اُس کو ظالم ثابت کرتا ہے۔ اسی طرح دوسرا فریق یہ کرتا ہے کہ وہ مخالف فریق کی طرف سے آنے والے پتھروں کا ذکر کر کے ظاہر کرتا ہے کہ وہی یک طرفہ طور پر ظالم ہے۔ یہ بلاشبہہ تطفیف ہے۔ اس قسم کی تطفیف جس سماج میں رائج ہو جائے اُس کے معاملات کبھی درست نہ ہوں گے۔ اُس کے لوگوں کے درمیان ہمیشہ نفرت اور ٹکراؤ کا ماحول باقی اور نفرت اور ٹکراؤ کے ماحول میں نہ ایک گروہ ترقی کر سکتا ہے اور نہ دوسرا گروہ۔ اس کے بجائے صحیح طریقہ یہ ہے کہ لوگ انصاف اور غیر جانب داری کا طریقہ اختیار کریں۔ ایک یہ کرے کہ دوسرے کی کوتاہی بتانے کے ساتھ وہ خود اپنی کوتاہی کو بھی بتائے۔ دوسرے کے ظلم کی نشاندہی کے ساتھ وہ اپنے حصہ کے ظلم کا بھی کھلا اقرار کرے۔ یہی منصفانہ روش ہے اور اسی قسم کی منصفانہ روش سے یہ ہوتا ہے کہ کسی سماج میں اعلیٰ اخلاقی قدریں فروغ پائیں اور وقتی رکاوٹوں کے باوجود سماج کا تر قیاتی سفر مسلسل آگے کی طرف جاری رہے، یہاں تک کہ وہ اپنی آخری منزل پر پہنچ جائے۔