یہود کی حیثیت
Al-Risala, April 2007, pp. 36–37
By Maulana Wahiduddin Khan
قرآن میں یہود کے بارے میں بتایا گیا ہے کہ اللہ نے ان پر لعنت کی اور وہ اللہ کے غضب کا دوسری طرف صحیح البخاری (کتاب الجنائز) میں یہ روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک بار دیکھا کہ مدینہ کے ایک راستے سے ایک جنازہ گزر رہا ہے۔ آپ اس وقت بیٹھے جنازہ کو دیکھ کر آپ اس کے احترام میں کھڑے ہو گئے۔ کسی نے کہا کہ اے خدا کے رسول، یہ تو ایک یہودی کا جنازہ تھا۔ آپ نے فرمایا: اَلَیْسَتْ نَفْسًا (کیا وہ انسان نہیں): Was he not a human being? یہاں یہ سوال ہے کہ قرآن کے بیان کے مطابق، یہودی قابل لعنت ہیں اور دوسری طرف پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے عمل کے مطابق وہ قابل احترام۔ اب سوال یہ ہے کہ ان دو مختلف بیانات کے درمیان تطبیق کیا ہے۔ غور کرنے سے یہ بات سمجھ میں آتی ہے کہ قرآن میں جو بات کہی گئی ہے اس کا تعلق اللہ تعالیٰ سے ہے۔ یعنی یہ اللہ کے اپنے نزدیک یہود کی حیثیت کا بیان ہے اور صحیح البخاری میں پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کا جو عمل بیان ہوا ہے، وہ یہود کی اس انسانی حیثیت کو بتاتا ہے جو موجودہ دنیا میں انھیں انسان کی نسبت سے حاصل ہے۔
یہود یا غیر یہود کا ایک معاملہ وہ ہے جس کا تعلق براہِ راست اللہ سے ہے۔ اس کا عمومی اظہار صرف آخرت میں ہوگا۔ جہاں تک موجودہ دنیا کا تعلق ہے، ہمارا فرض ہے کہ ہم ان کے ساتھ وہی اخلاقی اور انسانی برتاؤ رکھیں جو ہر انسان کے لیے مقرر ہے، ہمیں یہ حق نہیں کہ ہم اخلاقی تعلقات میں یہود اور غیر یہود کے درمیان فرق کریں۔
اس سلسلے میں دوسری بات جو واقعات کے ذریعہ معلوم ہوتی ہے، وہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کا غضب یہود کی تمام نسلوں کے ساتھ علی الاطلاق طور پر نہیں ہے۔ بلکہ وہ صرف ان یہودی افراد سے ہے جو اللہ کے علم کے مطابق، قابل لعنت فعل کے مرتکب ہوئے ہوں۔ اس کا ایک ثبوت یہ ہے کہ یہودی
نسل کے بہت سے لوگوں کو اسلام قبول کرنے کی توفیق حاصل ہوئی، پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں بھی اور بعد کے زمانہ میں بھی۔ یہودی مردوں اور عورتوں کے قبولِ اسلام کا یہ سلسلہ آج تک
جب یہودی نسلوں میں برابر ایسے افراد نکل رہے ہوں جو توبہ کریں اور دینِ حق کو اپنا دین بنائیں، ایسی حالت میں دعوت کے نقطۂ نظر سے یہ جائز نہیں ہو سکتا کہ ان سے نفرت کرکے انھیں مستقل طور پر اپنے سے دور کر دیا جائے۔
قرآن کی سورہ الفاتحہ میں المغضوب علیہم کا لفظ آیا ہے۔ عام طور پر اس کی تشریح میں کہا جاتا ہے کہ اس سے مراد یہودی ہیں مگر یہ صحیح نہیں، اس میں ایک صفت کا ذکر ہے نہ کہ کسی خاص نسل حقیقت یہ ہے کہ کوئی بھی شخص اپنے ذاتی فعل کی بنا پر مغضوب قرار پا سکتا ہے، یہودی بھی اور غیر یہودی بھی۔ حتیٰ کہ مسلمانوں میں بھی ایسے لوگ ہو سکتے ہیں جو اپنے فعل کی بنا پر اس کے مستحق قرار پائیں، مگر کسی قوم کی تمام نسلوں کے لیے یہ لفظ نہیں بولا جا سکتا۔