In comparison that we understand
Al-Risala, April 2007, pp. 38–39
By Maulana Wahiduddin Khan
یہ علمی طریق مطالعہ کا ایک اہم اصول ہے۔ وہ اسلام کے مطالعہ کے لئے بھی اتنا ہی اہم ہے جتنا دوسرے علوم کے مطالعہ کے لیے۔ یہاں قرآن اور سنت سے اس معاملے کی چند مثالیں درج کی
پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم 570ء میں مکہ میں پیدا ہوئے۔ 610ء میں آپ کو نبوت عطا اس وقت جو ابتدائی احکام قرآن میں اترے، اُن میں سے ایک حکم یہ تھا: وربک فکبر (المدثر: 3) یعنی اپنے رب کی تکبیر کر۔
اب اس آیت کو سمجھنے کے لیے تقابل کا طریقہ استعمال کیجئے ۔ اسلام کے دورِ اول میں جب مکہ میں یہ آیت اتری اس وقت مشرکین نے توحید کے گھر کعبہ پر قبضہ کرکے وہاں 360 بت رکھ دئے یہ واضح طور پر ایک ناقابل برداشت فعل تھا۔ ایسی حالت میں بظاہر یہ حکم اترنا چاہیے تھا کہ: والأصنام فدمر (بتوں کو توڑ ڈالو) مگر اس وقت قرآن میں تد میر اصنام کے بجائے تکبیر رب کا حکم
اس تقابل پر غور کیجئے تو ایک نہایت گہری حکمت معلوم ہوتی ہے۔ وہ یہ کہ اسلامی تحریک یا دینی دعوت کا طریقہ یہ ہے کہ افکار میں تبدیلی کی پرامن جدوجہد سے اپنے عمل کا آغاز کیا جائے، نہ کہ نظام یا ظاہری ڈھانچہ کو تشدد کے ذریعہ توڑنے سے۔ اس ربانی حکمت کو نہ سمجھنے کی وجہ سے موجودہ زمانہ کے
مصلحین نے نظام کو توڑنے سے اپنے عمل کا آغاز کیا جو قانونِ الہیٰ کے خلاف ہونے کی بنا پر اصلاح کے نام پر فساد کا باعث بن گیا۔ یہی وہ ذہن ہے جس کی ترجمانی اقبال نے اپنے اس شعر میں کی ہے: گفتند جهان ما آيا بتو می سازد گفتم که نمی سازد گفتند که برہم زن پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم اپنی نبوت کے ابتدائی 13 سال تک مکہ میں رہے۔ مکہ میں مشرکین کا غلبہ تھا۔ انھوں نے رسول اور اصحابِ رسول کے خلاف طرح طرح کے مسائل پیدا مثلاً مکہ میں آزادانہ طور پر عبادت کرنا سخت مشکل ہوگیا۔ اس وقت قرآن میں یہ آیت اتری: ان مع العسر يسرا (الانشراح: 4) یعنی بے شک مشکل کے ساتھ آسانی ہے۔
تقابل کے اصول پر غور کیجئے تو یہاں دوسرا حکم یہ نازل ہو سکتا تھا کہ مشکلات کی چٹان کو توڑوتا کہ تمھارے لیے اسلام پر عمل کرنے کا راستہ ہموار ہو جائے، مگر ایسا نہیں ہوا۔ اس تقابلی مثال سے معلوم ہوتا ہے کہ مشکلات سے ٹکرانا اسلام کا طریقہ نہیں، بلکہ مشکلات سے اعراض کرتے ہوئے ممکن دائرہ میں اپنے لیے عمل کے مواقع تلاش کرنا، یہ اسلام کا طریقہ ہے۔ ایک جملہ میں، قرآن کا فارمولا یہ ہے___ مسائل کو نظر انداز کرو اور مواقع کو استعمال کرو: