Al-Risala · April 2007

Ignore the problems, avail the opportunities.

Al-Risala, April 2007, pp. 39–41

By Maulana Wahiduddin Khan

اس اسلامی حکمت کو نہ سمجھنے کی وجہ سے یہ ہوا کہ موجودہ زمانے کے مصلحین نے مسائل کو دیکھتے ہی مسائل کے خلاف جنگ کا اعلان کر دیا کیوں کہ خود ساختہ سوچ کے تحت انھوں نے یہ سمجھا کہ پہلے مسائل سے لڑ کر مسائل کا خاتمہ کرو، اس کے بعد ہی ہمارے لیے کام کے مواقع پیدا ہو سکتے ہیں۔ وہ ذہن ہے جو عرب دنیا کے رہنماؤں کے یہاں اس نعرہ کی شکل میں جاری ہوا: الجهاد هو الحل الوحيد (جہاد ہی واحد حل ہے) حالانکہ اگر وہ قرآنی حکمت کو سمجھتے تو ان کا قول برعکس طور پر یہ ہوتا: الدعوة هى الحل الوحيد (دعوت ہی واحد حل ہے)۔

مکہ کے 13 سالہ دور میں اگرچہ سو سے زیادہ آدمی اسلام میں داخل ہو گئے تھے، مگر مشرکین کے غلبہ کی بنیاد پر وہاں رسول اور اصحابِ رسول کے لیے حالات دن بدن سخت ہوتے چلے گئے۔

تک کہ تیرھویں سال ہجرت کا فیصلہ ہوا۔ چنانچہ آپ اور آپ کے اصحاب مکہ کو چھوڑ کر مدنیہ چلے گئے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب رات کے وقت مکہ کو چھوڑا تو صورت حال یہ تھی کہ وہاں کے مشرکین تلوار سے مسلح ہو کر آپ کے مکان کو گھیرے ہوئے تھے۔ یہ گویا ان کی طرف سے ایک قسم کی دعوتِ قتال تھی۔ مگر آپ مقابلہ سے اعراض کرتے ہوئے خاموشی کے ساتھ رات کے وقت مکہ سے نکلے اور 400 میل کا سفر طے کرکے مدینہ آگئے۔

ہجرت کا یہ واقعہ اللہ تعالیٰ کے حکم سے ہوا۔ جیسا کہ ایک روایت کے مطابق آپ نے فرمایا: أُمِرتُ بقريةٍ تأكل القُرَى يقولون يثرب و هي المدينة۔ ہجرت کا یہ واقعہ اسلام کی تاریخ میں اتنا اہم تھا کہ اس سے اسلامی کیلنڈر کا آغاز کیا گیا۔

مگر تقابلی اعتبار سے دیکھیے تو یہاں ایک اور صورت ممکن تھی۔ وہ یہ کہ ہجرت، بالفاظ دیگر مقابلہ کے مقام سے ہٹ جانا، کے بجائے محاصرہ کیے ہوئے مشرکین سے جنگ کی جائے خواہ اس کا نتیجہ جس شکل میں بھی برآمد ہو۔ موجودہ زمانے کے مسلم رہنماؤں کے اعتبار سے دیکھیے تو اس معاملے میں یہی دوسرا طریقہ زیادہ معیاری تھا۔ موجودہ زمانے کے مسلم رہنماؤں کی یہی عام سوچ رہی ہے۔ کی ترجمانی سلطان ٹیپو (وفات : 1799) نے میں ان الفاظ میں کی تھی۔ شیر کی ایک دن کی زندگی گیڈر کی ہزار سالہ زندگی سے بہتر ہے۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں جو لڑائیاں پیش آئیں، ان میں سے ایک وہ ہے جسے کو غزوۂ احد کہا جاتا ہے۔ اس غزوہ میں مسلمانوں کو شکست ہوئی اور ان کے ستر افراد مارے گئے۔ یہ مشرکین کی طرف سے بلاشبہ ایک ظالمانہ واقعہ تھا۔ مگر قرآن میں جب اس پر تبصرہ آیا تو مشرکین کو الزام دینے کے بجائے خود مسلمانوں کو نصیحت کی گئی۔ قرآن میں یہ آیت اتری: حتی اذا فشلتُم وتنازعتم في الامر (آل عمران: 152) یعنی جب تم کمزور پڑ گئے اور معاملے کے بارے میں تمھارے اندر نزاع پیدا ہوگئی۔

تقابلی اعتبار سے دیکھیے تو اس معاملے میں دوسری صورت یہ تھی کہ حملہ آور مشرکین کے خلاف

غصے کا اظہار کیا جاتا ، جیسا کہ اس طرح کے معاملات میں مسلم رہنماؤں کا عام طریقہ ہے۔ مواقع پر رنج و غم کا اظہار کرتے ہیں ۔ اور احتجاج کی زبان میں کلام کرتے ہیں ۔ مثلاً بیسویں صدی کے ربع اول میں جب اٹلی کی فوجیں لیبیا میں داخل ہوگئیں تو ایک مشہور عالم نے اپنے جذبات کا اظہار ان الفاظ میں کیا:

Printed page