Al-Risala · April 2007

كيف القرار وقد نكس أعلمنا بطرابلس

Al-Risala, April 2007, pp. 41–42

By Maulana Wahiduddin Khan

مکہ سے مدینہ کی طرف ہجرت کر جانے کے بعد بھی مشرکین نے اپنی مخالفانہ کارروائیوں کو ختم نہیں کیا۔ اب انھوں نے یکطرفہ جارحیت کا طریقہ اختیار کرتے ہوئے جنگ کا سلسلہ شروع مگر جنگوں کے ذریعے کوئی فیصلہ نہ ہوسکا۔ اب اللہ تعالیٰ نے الصلح خير (النساء: 128) کے اصول کے مطابق، ایک ایسی تدبیر کا حکم دیا جس کے نتیجہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور مشرکین مکہ کے درمیان امن کا معاہدہ طے پا گیا جو اسلام کی تاریخ میں صلح حدیبیہ کے نام سے مشہور ہے۔ صلح حدیبیہ کی تفصیلات حدیث میں اور سیرت کی کتابوں میں موجود ہیں۔ اس کا خلاصہ یہ ہے کہ حدیبیہ کے مقام پر دو ہفتہ کی گفت و شنید جاری رہی۔ مگر مشرک سردار اپنی ضد کو چھوڑنے پر تیار نہیں اس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مشرکین کی شرطوں کو یکطرفہ طور پر منظور کرتے ہوئے ان سے امن کا معاہدہ کر لیا اور مدینہ واپس آگئے ۔

اس معاہدہ کی تکمیل کے بعد قرآن میں یہ آیت اتری: انا فتحنا لك فتحا مبينا (الفتح: 1) یعنی ہم نے تم کو کھلی ہوئی فتح دے دی۔

اب اس معاملے کو تقابلی اصول پر دیکھیے ۔ حدیبیہ کی تفصیلات بتاتی ہیں کہ یہ صلح صلح نامہ کی ظاہری دفعات کے مطابق ، بظاہر مشرکین کی جیت کے ہم معنی تھی ۔ ایسی حالت میں دوسری بات جو کہی جاسکتی تھی وہ یہ تھی کہ تم لوگوں نے حدیبیہ کے مقام پر جو صلح کی ہے ، وہ تو تمھارے لیے شکستِ مبین کی حیثیت رکھتی ہے۔ مگر اس کے بجائے قرآن میں اس صلح کو فتح مبین کا نام دیا گیا ، جیسا کہ حقیقت بعد کو پیش آیا ۔

اس تقابل پر غور کیجئے تو یہ حقیقت سامنے آتی ہے کہ صلح اور جنگ کے معاملے میں اسلام کا نقطۂ نظر کیا ہے۔ وہ یہ ہے کہ اس طرح کے معاملے کو عزت اور ذلت کا مسئلہ نہ بنایا جائے بلکہ مستقبل کے امکانات کو سامنے رکھتے ہوئے فیصلہ کیا جائے۔ حال کی ظاہری پسپائی اگر مستقبل کی فتح بننے والی ہو تو حال کو نظر انداز کرتے ہوئے مستقبل کی بنیاد پر فیصلہ کر لینا چاہیے۔ بدقسمتی سے موجودہ زمانے کے مسلم رہنماؤں نے اس راز کو نہیں سمجھا۔ چنانچہ بیسویں صدی کے آغاز میں جب عرب قوموں کا مقابلہ مغربی طاقتوں سے پیش آیا تو انھوں نے برعکس طور پر اپنی قوم کو یہ جنگی نعرہ دیا: موتوا اليوم اعزاء ، قبل ان تموتوا أذلاء (آج عزت کے ساتھ مر جاؤ، اس سے پہلے کہ کل تم کو ذلت کے ساتھ مرنا پڑے)۔

Printed page