نئی دہلی ، ۲۰ فروری ۲۰۰۶ دعا گو وحید الدین
Al-Risala, January 2007, pp. 18–19
By Maulana Wahiduddin Khan
کافی انتظار کے بعد جب ان کا کوئی جواب مجھے نہیں ملا تو میں نے ان کی خدمت میں درج ذیل خط روانہ کیا: برادر محترم ڈاکٹر محمد فاروق خان ! السلام علیکم ورحمۃ اللہ عرض یہ کہ آپ کی کتاب ’’جہاد، قتال اور عالم اسلام‘‘ کے بارے میں میں نے آپ سے ایک خط و کتابت کی تھی مگر آپ نے واضح اور متعین جواب سے اعراض فرمایا۔ حقیقت یہ ہے کہ اس معاملے میں آپ کے لیے صرف دو میں سے ایک کا انتخاب ہے، یا تو آپ بتائیں کہ آپ کے دعوے کے مطابق ، کتاب ’’دعاة...... لا قضاة‘‘ کے صفحے پر دار الدعوة‘‘ کی اصطلاح استعمال ہوئی ہے، یا پھر صاف طور پر یہ اعتراف کریں کہ آپ نے جو حوالہ دیا وہ ایک غلط حوالہ تھا۔ آپ کے لیے یہ کوئی درست طریقہ نہیں کہ آپ اصل سوال کا براہ راست جواب نہ دے کر ٹالنے والے جواب (evasive reply) کا انداز اختیار کریں۔
میں عرض کروں گا کہ آپ کا یہ طریقہ سخت غیر علمی طریقہ ہے۔ اس قسم کی روش کا نتیجہ آدمی کے حصے میں یہ آتا ہے کہ اس کی علمی ترقی رک جائے اور وہ اعلیٰ فکری ارتقاء کے درجے تک نہ پہنچ سکے۔ نئی دہلی ، ۸ مارچ ۲۰۰۶ دعا گو وحید الدین مراسلت نمبر ـــــــــ ۵ ڈاکٹر فضل الرحمن فریدی مدیر ماہ نامہ زندگیِ نو (نئی دہلی) کا ایک مضمون زندگیِ نو میں ’’اشارات‘‘ کے طور پر چھپا۔ اس کا تعلق ڈنمارک میں شائع ہونے والے حالیہ کارٹون سے تھا۔ اس مضمون کو پڑھنے کے بعد میں نے انھیں ایک خط روانہ کیا جس کا متن یہ تھا:
برادر محترم ڈاکٹر فضل الرحمن فریدی ! السلام علیکم ورحمۃ اللہ ماہ نامہ زندگی نو کا شمارہ اپریل ۲۰۰۶ دیکھا۔ اس کے ’’اشارات‘‘ میں آپ نے ڈنمارک کے ایک اخبار میں شائع شدہ کارٹون پر تبصرہ فرمایا ہے۔ اس تحریر کے آخر میں آپ نے ’’ایک معروف مفکر‘‘ کے حوالے سے ان کی طرف کچھ باتیں منسوب کی ہیں ، مگر آپ نے اس معروف مفکر کا نام نہیں لکھا اور نہ یہ حوالہ دیا کہ انھوں نے اپنی کس تحریر یا کتاب میں وہ بات لکھی ہے جو آپ نے ان کی طرف منسوب فرمائی ہے۔
براہِ کرم مذکورہ معروف مفکر کا نام تحریر فرمائیں، نیز یہ کہ انھوں نے اپنی کس تحریر میں وہ بات لکھی ہے جو آپ نے ان کی طرف منسوب کی ہے، تاکہ یہ معلوم کیا جاسکے کہ آپ نے جو بات اُن کی طرف منسوب کی ہے وہ خود انھوں نے لکھی ہے یا آپ نے ان کی بات کو بطور خود بگڑی ہوئی صورت میں پیش کیا ہے۔ براہِ کرم نام اور حوالہ دونوں تحریر فرمائیں، تاکہ اس معاملے کو متعین طور پر سمجھا جاسکے۔
نئی دہلی، ۳۱ مارچ ۲۰۰۶ مذکورہ خط کا جواب موصول نہیں ہوا تو اس کے بعد میں نے بطور یاد دہانی انھیں دوسرا خط روانہ کیا۔ تاہم ان کی طرف سے میرے خط کا کوئی جواب موصول نہیں ہوا۔ میرے مذکورہ خط کا متن درج ذیل ہے: برادر محترم ڈاکٹر فضل الرحمن فریدی!