غير حقیقی ذہن
Al-Risala, April 2007, pp. 45–46
By Maulana Wahiduddin Khan
ایک سفید فام امریکی نومسلم ہیں اُن کا قدیم نام اسٹیو اسکلر (Steev Sklar) تھا۔ نے اپنا اسلامی نام محمد مصطفیٰ رکھا۔ انھوں نے اسلام قبول کرنے کے بعد دس سال سے زیادہ مدت مسلم ملکوں میں گزاری۔ انھوں نے عربی زبان اتنی سیکھ لی ہے کہ اب وہ بے تکلف عربی بولتے ہیں۔ میں ان سے ملاقات ہوئی۔ انھوں نے کہا کہ میں نے موجودہ زمانے کے مسلمانوں کا گہرائی کے ساتھ مطالعہ کیا ہے۔ میرے مطالعے کے مطابق، موجودہ زمانے کے مسلمانوں کا کیس وہی ہے جس کو انگریزی میں پیرانوئیا (paranoia) کہا جاتا ہے، یعنی اپنی بڑائی کا وہم۔
محمد مصطفیٰ صاحب کئی بار دہلی آئے اور ہر بار مجھ سے تفصیلی ملاقات ہوئی۔ وہ جب بھی میرے پاس آتے، وہ روزے سے ہوتے۔ ان کا کہنا تھا کہ تنہا آپ کو چھوڑ کر موجودہ زمانے کا ہر مسلمان میرے نزدیک ایک پیرانوئک کردار (paranoic character) بن گیا ہے۔
پیرانوئیا کا مفہوم تقریباً وہی ہے جس کو ایک فارسی مقولے میں ’پدرم سلطان بود‘ کہا گیا میں اپنے تجربہ اور مطالعہ کی روشنی میں یہ کہہ سکتا ہوں کہ اسلام کے بعد کے زمانے میں مسلمانوں میں جو نفسیات پیدا ہوئی، وہ عین اسی کے مطابق تھی۔ مسلمانوں میں جب بادشاہت تھی تو اگرچہ بادشاہ صرف ایک ہوتا تھا مگر سارے مسلمان ’مسلمان پدرم سلطان است‘ کی نفسیات میں جیتے تھے۔ اور اب جب کہ قدیم طرز کی بادشاہت ختم ہو گئی تو اب سارے مسلمان ’مسلمان پدرم سلطان بود‘ کی نفسیات میں جیتے ہیں۔
عجیب بات ہے کہ مسلمانوں کی اکثریت پچھلے تقریباً ہزار سال سے اسی قسم کی نفسیات میں جی رہی ہے۔ مسلمانوں کی بعد کی نسلوں میں غلط طور پر شاہانہ عظمت، ترقی اور تنزلی کا معیار بن اگر انھیں دنیا میں شاہانہ حیثیت حاصل ہو تو وہ اپنے آپ کو عظمت کے پہاڑ پر کھڑا ہوا محسوس کریں گے ۔ اور اگر شاہانہ حیثیت ختم ہو جائے تو اُن کا وہی حال ہوگا جس کو اقبال نے
اپنے ایک مصرعہ میں اس طرح بیان کیا ہے:
ثریا سے زمیں پر آستاں نے ہم کو دے مارا!
حقیقت یہ ہے کہ سیاسی اقتدار کا ہونا یا نہ ہونا دونوں اضافی چیزیں ہیں۔ یہ مومن کا کمال ہے کہ وہ ہر حال میں ففروا إلى اللہ (الذاریات : 50) کا مصداق بنا ہوا ہو۔ وہ ہر حال میں اللہ کی دنیا میں پانا اس کو آخرت کی محرومی کی یاد دلائے اور دنیا کی محرومی اُس کے لیے تعلق باللہ میں اضافہ کا سبب بن جائے۔ اُس کو غلبہ حاصل ہو تو وہ آخرت کی باز پرس کے احساس سے کانپ وہ مغلوب ہو جائے تو اُس کا عجز اُس کو اللہ کی قدرت کی یاد دلائے۔ اُس کو دنیا کی نعمتیں ملیں تو وہ سہم اُٹھے کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ آخرت میں اُس سے یہ کہہ دیا جائے کہ ـــــ أذهبتم طيباتكم في حياتكم الدنيا (الاحقاف : 20) اور اگر دنیا کی نعمتوں میں اس کو حصہ نہ ملے تو وہ کہہ اُٹھے کہ خدایا، اگر تو مجھے آخرت کی نعمتوں سے محروم نہ کرے تو دنیا کی نعمتوں سے محرومی کی مجھے پروا نہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ دنیا کی پوری زندگی ایک مسلسل امتحان ہے۔ یہاں صاحب اقتدار ہونا بھی امتحان ہے اور بے اقتدار ہونا بھی امتحان۔ یہاں ملنا بھی امتحان ہے اور چھن جانا بھی امتحان۔ با عظمت ہونا بھی امتحان ہے اور بے عظمت ہونا بھی امتحان۔ اصل قابلِ لحاظ چیز یہ ہے کہ آدمی کو جس آزمائش میں بھی ڈالا جائے اُس میں وہ پورا اُترے۔
سہارن پور (یوپی) میں مولانا وحید الدین خاں کی عصری اسلوب میں فکر انگیز اسلامی کتابیں اور ماہنامہ الرسالہ حسب ذیل پتے پر دستیاب ہیں۔ یہاں سے دعوتی مقصد کے لیے کتابیں مفت بھی حاصل کی جاسکتی ہیں۔ پتہ درج ذیل ہے:
Dr. Mohd. Aslam 3/1108, Dehradun Chowk, Saharanpur-247001, U.P. Mob. 9997153735, Email: dr_aslm@rediffmail.com