Al-Risala · May 2007

روحانی شخصیت کی تعمیر

Al-Risala, May 2007, pp. 2–9

By Maulana Wahiduddin Khan

قرآن اور حدیث کے مطالعے سے معلوم ہوتا ہے کہ خدا کے نزدیک فلاح یاب انسانوں کی جو درجہ بندی ہے، اُس میں بنیادی طور پر تین گروہ شامل ہیں— رسول، اصحاب رسول، اخوان رسول۔ رسول سے مراد وہ لوگ ہیں جنھوں نے وحیِ خداوندی کی سطح پر سچائی کو جانا۔ اصحاب رسول سے مراد وہ لوگ ہیں جن کو پیغمبر آخرالزمان صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت (companionship) سے فیض یاب ہونے کا موقع ملا۔ اخوان رسول سے مراد وہ لوگ ہیں جو بعد کے زمانے میں ارتقا یافتہ شعور کے ذریعے، رسول اور اصحاب رسول کے زمانے کو اس طرح دریافت کریں کہ وہ دوبارہ عملاً پیغمبر کی زندہ صحبت (living companionship) کا تجربہ کرسکیں۔

رسول، عام انسانوں میں سے کوئی منتخب انسان ہوتا ہے۔ اُس پر خدا کی طرف سے فرشتے کے ذریعے سچائی کا علم اترتا ہے۔ اسلامی تصور کے مطابق، آدم پہلے پیغمبر تھے۔ آدم سے لے کر مسیح ابن مریم تک، ایک لاکھ چوبیس ہزار پیغمبر آئے۔ ان پیغمبروں نے یکساں درجے میں خدائی سچائی کا اعلان کیا۔ لیکن انھیں اپنے زمانے میں ساتھیوں کی کوئی بڑی جماعت نہ مل سکی۔ چناں چہ یہ پیغمبر مذہبی عقیدے کا حصہ تو بنے، لیکن وہ مذہبی تاریخ کا حصہ نہ بن سکے۔

سلسلہ نبوت کے آخری فرد محمد بن عبداللہ تھے۔ وہ 570ء میں عرب میں پیدا ہوئے، 610ء میں ان کو پیغمبری ملی۔ 632ء میں ان کی وفات ہوئی۔ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو استثنائی طور پر یہ موقع ملا کہ آپ کو خود اپنے زمانے میں طاقت ور ساتھیوں کی ایک ٹیم حاصل ہوگئی۔ یہ لوگ تقریباً ڈیڑھ لاکھ تھے۔ اس طرح محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے یہ ممکن ہوا کہ وہ خدائی مذہب کو تاریخِ بشری کا ایک مستند حصہ بنا اور اس طرح بعد کی نسلوں کے لیے ایک ابدی نمونے کا مقام حاصل کر لیں ۔ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی شخصیت کو اگر نفسیات کی زبان میں بیان کریں تو یہ کہنا صحیح ہوگا کہ آپ ایک اسپرچول جینیس (spiritual genius) تھے۔ رسول کا کام دراصل یہی ہوتا ہے کہ وہ مادی انسان

کو رو حانی انسان بنائے ۔ رسول اس لیے آتا ہے تا کہ وہ انسان کو خدا کے کریشن پلان سے آگاہ کرے۔ خدا کا کریشن پلان یہی ہے کہ انسان اپنا تزکیہ کر کے اپنے آپ کو اسپرچول انسان بنائے۔ طرح اپنے آپ کو جنت میں داخلے کا مستحق ثابت کرے۔

اسپرچولٹی کے لیے قرآنی لفظ ربانیت (آل عمران : 79) ہے۔ حقیقی اسپرچول انسان وہ ہے جو ربانی انسان ہو۔ اسپرچولٹی کوئی ایسی چیز نہیں جو مراقبہ(meditation) اور یوگا ورزش کے ذریعے حاصل کی جائے۔ اس قسم کی تمام چیزیں اسپرچولٹی کا کم تر فارم(reduced form) ہیں۔ اسپرچولٹی کا واحد ذریعہ رزق خداوندی (آل عمران : 37) ہے۔ یہ دراصل روحانی صحت کے اعتبار سے اپنے آپ کو اعلیٰ درجے کا انسان بنانا ہے۔ یہ ایک عظیم ذہنی عمل ہے جو کسی انسان کے اندر آفاقی عمل کے دوران انجام پاتا ہے۔

اسپرچول انسان بننا، امکانی طور پر ہر عورت اور مرد کے لیے ممکن ہے۔ لیکن اسپرچول انسان بننے کے لیے بے پناہ قربانی دینی ہوتی ہے۔ ہر شخص یہ قربانی نہیں دے سکتا۔ اس لیے ہر شخص حقیقی معنوں میں اسپرچول انسان بھی نہیں بن سکتا۔ اس لیے خدا نے اس مقصد کے لیے یہ نظام بنایا کہ وہ بعض افراد کو اپنی خصوصی نصرت کے ذریعے ایسے حالات فراہم کرتا ہے کہ وہ اسپرچول جائنٹ (spiritual giant) بن سکے۔ عام انسانوں کا کام یہ ہے کہ وہ اسپرچول جائنٹ کو پہچانیں اور اپنے آپ کو اُس کی غیر مشروط رہنمائی میں دے کر اعلیٰ اسپرچولٹی کا درجہ حاصل کریں۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم ایک اعتبار سے گویا اسی قسم کے ایک اسپرچول جائنٹ تھے۔ کے ہم عصر لوگوں میں ایک لاکھ سے زیادہ ایسے افراد نکلے جنھوں نے اس غیر معمولی معرفت کا ثبوت دیا کہ انھوں نے پیغمبر کو خالص جوہر (merit) کی سطح پر پہچانا۔ انھوں نے پیغمبر کو اس کے ابتدائی دور میں اُس وقت دریافت کیا جب کہ ابھی وہ پُر عظمت تاریخ کا مینار نہیں بنا تھا۔ یہ بلاشبہ کسی انسان کے لیے مشکل ترین کام ہے۔ یہ حال کے اندر مستقبل کو دیکھنا ہے۔ پیغمبر کے ہم عصر اہل ایمان نے اس مشکل ترین صفت کا ثبوت دیا، اس لیے وہ اصحابِ رسول کے ابدی مقام پر سرفراز کیے گئے۔

یہ اصحابِ رسول کس طرح اصحابِ رسول بنے۔ اس پر اس کا نقطۂ آغاز یہ تھا کہ انھوں نے نظریاتی سطح پر خدائی سچائی کو دریافت کیا جس کو ایمان کہا جاتا ہے۔ ایمان کے بعد انھوں نے اپنی عملی زندگی میں اُس نقشے کو اختیار کر لیا جس کی تعلیم انھیں خدا کے رسول کے ذریعے ملی تھی۔ ایسا کر کے وہ گویا اصحابِ رسول کے گروہ میں شامل ہو گئے۔

لیکن اعلیٰ اسپرچول شخصیت کی تعمیر کے لیے صرف اتنا کافی نہیں۔ اعلیٰ اسپرچول شخصیت کی تعمیر اُس عمل کے ذریعے ہوتی ہے جس کو قرآن میں توسّم (الحجر : 75) کہا گیا ہے، یعنی مادیّ حقیقتوں سے ربانی خوراک حاصل کرنا، روز مرّہ کے مادی واقعات کو روحانی تجربے میں تبدیل کرنا: Spirituality is the ability to convert daily events into spiritual جن معاصر اہلِ ایمان کو پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت ملی، وہ تاریخ کی اعلیٰ ترین اسپرچول شخصیتیں تھیں۔ یہ شخصیتیں کسی پُر اسرار نسبت کے ذریعے نہیں بنیں ۔ وہ معلوم فطری قانون کے ذریعے بنیں ۔ وہ فطری قانون خاص طور پر یہ تھا کہ پیغمبر نے ایک اسپرچول جائنٹ کی حیثیت سے تزکیہ کے عمل میں اُن کی مسلسل رہنمائی کی۔ یہ رہنمائی خاص طور پر توسّم کے ذریعے ہوئی ۔ طریقہ یہ تھا کہ آپ روز مرّہ کے واقعات اور مشاہدات میں ایسے پہلوؤں کی نشان دہی فرماتے تھے کہ یہ واقعات اور مشاہدات اہلِ ایمان کے لیے روحانی خوراک بن جائیں۔ خدا پر زندہ عقیدے کے بعد یہی توسّم اصحابِ رسول کی روحانی تربیت کا سب سے بڑا ذریعہ تھا۔

قرآن میں اِس عمل کو ذِکر کثیر (الاحزاب : 41) کہا گیا ہے۔ ذکر کثیر کا لفظی مفہوم ہے— اللہ کو بہت زیادہ یاد کرنا۔ لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ اصحابِ رسول ہر وقت اللہ، اللہ، اللہ، کہتے رہتے اس قسم کا مفہوم بلاشبہہ ذکرِ کثیر کی تصغیر ہے۔ اس کا مطلب دراصل یہ ہے کہ روز مرہ کے واقعات اور مشاہدات پر غور کر کے اُن کو روحانی تجربے میں کنورٹ کرنا۔ یہ کنورژن مومن کا رزق ہے۔ رزق کو قرآن میں اس طرح بیان کیا گیا ہے: و رزق ربّک خیر و أبقیٰ (طٰہ: 131)

اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ اپنے معاصر اہل ایمان کی روحانی تربیت کے لیے آپ کا طریقہ کیا وہ طریقہ توسم پر مبنی ہوتا تھا، یعنی آس پاس کے واقعات اور مشاہدات کو تربیتی غذا میں کنورٹ کرنا۔ اور اس طرح لوگوں کو اس قابل بنانا کہ وہ توسم کے ذریعے اپنی مسلسل روحانی تربیت کرتے رہیں۔ اس تربیتی اسلوب کو سمجھنے کے لیے قرآن کی ایک آیت کا مطالعہ کیجیے: فإذا قضیت الصلوة فانتشروا فی الأرض وابتغوا من فضل الله واذكروا الله كثيراً لعلكم تفلحون (الجمعه: 10) یعنی اور جب نماز ختم ہو جائے تو تم زمین میں پھیل جاؤ اور خدا کا رزق تلاش کرو اور اللہ کو بہت زیادہ یاد کرو، تا کہ تم فلاح پاؤ۔ اس آیت کا مطلب یہ نہیں ہے کہ زمین میں پھیل کر ہر جگہ خفی یا جلی انداز میں اللہ، اللہ کرتے رہو، بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ تم زمین میں پھیل جاؤ اور اس طرح غور وفکر کے ساتھ رہو کہ فطرت کے مشاہدات اور زندگی کے واقعات تمھارے لیے ربانی تجربہ یا قرآنی الفاظ میں رزق رب بنتے رہیں ؀ احادیث کا بیش تر ذخیرہ گویا اسی قسم کے توسم کی مثال ہے۔ جیسا کہ عرض کیا گیا، اسپرچول تربیت کے لیے ایک اسپرچول جائنٹ کی صحبت ضروری ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ پیغمبر کے معاصر اہل ایمان کو یہ صحبت تو فطری طور پر مل گئی تھی۔ اب بعد کے لوگوں کے لیے اس تربیتی کورس کے حصول کا ذریعہ کیا ہوگا۔ یہ بلاشبہ ایک اہم سوال ہے۔ ہمارا عقیدہ ہے کہ خدا یکساں طور پر سارے انسانوں کا رب ہے۔ وہ ایک زمانے کے انسان اور دوسرے زمانے کے انسان کے درمیان یہ فرق نہیں کر سکتا کہ وہ ایک زمانے کے لوگوں کو اعلیٰ روحانی تربیت کے مواقع دے، لیکن دوسرے زمانے کے لوگوں کو اس سے محروم کر دے۔

بلکہ اس کے برعکس، حدیث سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ بعد کے زمانے کے لوگوں کے لیے خدا ایسے اسباب پیدا کرے گا کہ اگر وہ چاہیں تو اس معاملے میں اور بھی زیادہ بڑا درجہ حاصل کر سکتے یہ بات اُس حدیث سے ثابت ہوتی ہے جس کے الفاظ یہ ہیں: عباد ليسوا بأنبياء ولا شهداء يغبطهم النبيون والشهداء لمقعدهم وقربهم من الله يوم القيامة (مسند احمد، جلد 5،

شہید ہیں، اُن کے اوپر پیغمبر اور شہید بھی رشک کریں گے، اُن کے اِس درجے اور قربت کی وجہ سے جو انھیں خدا کے یہاں حاصل ہوگا۔ اِس حدیث سے واضح طور پر یہ ثابت ہوتا ہے کہ بعد کے زمانے کے لوگوں کے لیے بھی اعلیٰ درجہ روحانیت کے مواقع حاصل ہیں، جس طرح پہلے زمانے کے لوگوں کو حاصل تھے۔ جیسا کہ معلوم ہے، احادیث رسول کا تقریبا پورا ذخیرہ کتابوں کی صورت میں آج بھی ہمارے پاس موجود ہے۔ یہ احادیث رسول، یا اقوال رسول وہی ہیں جن کو آپ کے معاصر اہلِ ایمان نے سُنا اور اُن سے ان کو وہ اعلیٰ روحانی غذا ملی جس نے انھیں اصحابِ رسول کا درجہ دے دیا۔ اب جو چیز غیر موجود ہے، وہ کلام نہیں ہے بلکہ صرف متکلم ہے۔ اس کمی کی تلافی خدا کی اس دنیا میں ناممکن نہیں بلکہ وہ پوری طرح ممکن ہے، بشرطیکہ اس معاملے کو کامل سنجیدگی کے ساتھ پوری طرح سمجھا جائے۔ ایک محدث نے بجاطور پر کہا ہے کہ : مَنْ كَانَ فِي بَيْتِهِ مَجْمُوعَةٌ مِنَ الْأَحَادِيثِ، فكأنما فِي بَيْتِهِ النَّبِيَّ يَتَكَلَّم (جس آدمی کے گھر میں احادیث کا ایک مجموعہ ہو، اُس کے گھر میں گویا کہ خود پیغمبر کلام کرتا ہوا موجود ہے) یہ بات کسی استعارے کے بغیر درست ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ احیاء شخصیت بھی اُسی طرح ممکن ہے جس طرح احیاء سنت کو ممکن سمجھا جاتا ہے۔ اِس احیاء شخصیت کے لیے تین ضروری شرطیں ہیں:

1- اس کی پہلی شرط سنجیدگی ہے۔ لوگوں کو اس معاملے میں اتنا زیادہ سنجیدہ ہونا چاہیے کہ وہ سچے متلاشی (seeker) بن جائیں۔ وہ ہر قسم کے تعصبات سے اوپر اٹھ کر چیزوں کو لے سکیں۔ اور پیغمبر کے دوران جو دوری ہے، وہ حقیقتاً فاصلے کی دوری نہیں ہے بلکہ مزاج کی دوری ہے۔ کے لوگوں کے اندر حقیقی معنوں میں رسول اور اصحابِ رسول والا مزاج پیدا ہو جائے تو یہ دوری عملاً غائب ہو جائے گی۔ مزاجی مناسبت ماضی اور حال کے درمیان کا فاصلہ ختم کر دے گی۔ آج کا انسان بھی اُسی طرح خدا کے رسول سے جُڑ جائے گا جس طرح معاصر اہلِ ایمان اُن سے جُڑے ہوئے تھے۔ نفسیاتی طور پر یہ ایک ثابت شدہ حقیقت ہے کہ قربت کا تعلق حقیقتاً بعد مکانی یا قرب مکانی سے نہیں ہے بلکہ خود اپنے مزاج سے ہے۔ پیغمبر اسلام کے زمانے میں جو لوگ تھے اُن میں سے بھی صرف

انھیں لوگوں کو آپ کی حقیقی قربت ملی جو مزاجی اعتبار سے آپ سے قریب تھے۔ جو لوگ اپنے مزاجی اعتبار سے دور تھے، انھیں پیغمبر کا ہم عصر ہونے کے باوجود قربت کی سعادت حاصل نہیں ہوئی۔ 2- اس سلسلے میں دوسری چیز یہ ہے کہ خدا کے منصوبے کو سمجھا جائے۔ خدا اپنے منصوبے کے تحت، ہر دور میں ایک اسپرچول جائنٹ پیدا کرتا ہے۔ پچھلے زمانوں میں اسپرچول جائنٹ کا یہ درجہ پیغمبروں کو حاصل ہوتا تھا۔ بعد کے زمانے میں خدا ایسا مجدد پیدا کرتا ہے جو اپنی معرفت کے اعتبار سے اسپرچول جائنٹ کا مقام رکھتا ہے۔ ایسا انسان دوسروں کے لیے گویا پیغمبر کی غیر موجودگی کی تلافی ہوتا البتہ یہ تلافی صرف اُن لوگوں کے حصے میں آئے گی جو اُس کو پہچانیں اور پہچان کر اس سے

3- بعد کے زمانے میں اس مقصد کے لیے جو کام کرنا ہے، وہ خاص طور پر یہ ہے کہ اقوال رسول کا مطالعہ دوبارہ صحبت رسول کے حوالے سے کیا جائے ۔ یہ گویا پیغمبر کی تاریخ کو ری پراس (re-process) کرنا ہے۔ یہ گویا کہ صحبت رسول کا احیا کرنا ہے۔ یہ گویا کہ دوبارہ اپنے آپ کو صحبتِ رسول میں لے جانا ہے۔ دوسرے لفظوں میں اس کو صحبت رسول کی توسیع کہہ سکتے ہیں۔ سے کم تر درجے کا کوئی کام اعلیٰ اسپرچول شخصیت پیدا کرنے کا ذریعہ نہیں بن سکتا۔ اس معاملے میں یہ کرنا ہوگا کہ حدیث کے مطالعے کے سلسلے میں بھی وہی طریقہ اختیار کریں جو قرآن کے مطالعے کے سلسلے میں کیا جاتا ہے۔ قرآن کے مطالعے کا طریقہ، عام طور پر، یہ ہے کہ قرآن کی آیتوں کو اُس کے شانِ نزول یا اسباب نزول کی روشنی میں سمجھا جاتا ہے۔ احادیث رسول کا بھی شانِ نزول ہے۔ یہ شانِ نزول کبھی قولِ رسول کے ساتھ اشارۃً یا تفصیلاً موجود رہتا ہے اور کبھی موجود نہیں رہتا۔ ہمیں یہ کرنا ہوگا کہ گہرے مطالعے کے ذریعے حدیثوں کے ساتھ اُس کے شانِ نزول کو شامل کریں۔ اس طرح ہم اُس صورتِ حال کو جان لیں گے جس صورتِ حال میں پیغمبر اسلام نے کوئی بات کہی۔ حدیثوں کا اس طرح مطالعہ گویا کہ حدیثِ رسول کے ساتھ صحبت رسول کا اضافہ کرنا ہے۔ یہ ایک اعتبار سے اعادہ تاریخ ہے۔ حدیث کے مطالعے کا یہ اسلوب ایک

انقلابی اسلوب ہے جو مطالعہ حدیث کو صحبت رسول کے ہم معنی بنا دینے والا ہے۔ اس معاملے کو چند مثالوں کے ذریعے سمجھیں۔

پیغمبر اسلام کے صحابی ابوذر غفاری کہتے ہیں کہ: ولقد تر کنا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وما یتقلب طائر جناحیہ فی السماء إلا ذکر لنا منہ علماً (مسند احمد، جلد 5، صفحہ 162) یعنی ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس حال میں چھوڑا کہ ایک چڑیا بھی اگر آسمان میں اپنا پر پھڑپھڑاتی تو آپ اُس سے ہم کو ایک علم کی یاد دلاتے تھے۔

اس مثال میں قولِ رسول کے ساتھ اس کا پس منظر بھی موجود ہے۔ اس پر غور کر کے ہم بآسانی یہ سمجھ سکتے ہیں کہ رسول اللہ کے زمانے میں اس طرح کے واقعات پیش آئے کہ آپ اپنے اصحاب کے ساتھ چل رہے تھے۔ اس دوران آپ نے دیکھا کہ ایک چڑیا فضا میں اڑتی ہوئی جارہی ہے۔ نے اپنے اصحاب کو فطرت کے اس ظاہرے کی طرف متوجہ فرمایا۔ غالباً آپ نے قرآن کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا ہوگا کہ اس کو دیکھو اور قرآن کی اس آیت پر غور کرو: أو لم يروا إلى الطير فوقهم صفت ويقبضن، ما يمسكهنّ إلا الرحمن، إنه بكل شيء بصير (الملک : 19) یعنی کیا وہ پرندوں کو اپنے اوپر نہیں دیکھتے، پر پھیلائے ہوئے، اور وہ ان کو سمیٹ بھی لیتے ہیں۔ رحمان کے سوا کوئی نہیں جو اُن کو تھامے ہوئے ہو۔ بے شک وہ ہر چیز کو دیکھ رہا ہے۔

یہ کوئی سادہ بات نہیں۔ چڑیا فطرت کا ایک انوکھا ظاہر ہ ہے۔ اُس پر غور کرتے ہوئے یہ بات سامنے آتی ہے کہ چڑیاں کی ساخت کو مخصوص طور پر اس طرح بنایا گیا ہے کہ وہ فضا میں اُڑ سکے۔ چڑیا کی نقل کر کے موجودہ زمانے میں ہوائی جہاز بنائے گیے ہیں۔ مچھلی کا جسم پانی کے اعتبار سے بنایا گیا ہے اور چڑیا کی ساخت فضا کے اعتبار سے اور چوپائے کی ساخت سطح زمین کے اعتبار سے، وغیرہ۔ مختلف ڈیزائن اس بات کا ثبوت ہے کہ کائنات اتفاقی طور پر وجود میں نہیں آئی بلکہ وہ ایک ذہین منصوبہ بندی (intelligent planning) کا نتیجہ ہے۔

کچھ اور حدیثیں ہیں جن میں قول تو موجود ہوتا ہے لیکن اس کا پس منظر موجود نہیں ہوتا۔

کے اقوال یہ بتاتے ہیں کہ آپ نے ایک منظر کو دیکھا اور پھر آپ نے اُس کو سبق میں کنورٹ کرکے ایک نصیحت کی بات کہی۔ اب ہمارا کام یہ ہے کہ اس قول کو ری کنورٹ کرکے دوبارہ ابتدائی مشاہدے سے جوڑ کر دیکھیں ۔ جب ہم ایسا کریں گے تو گویا ہم نے اُس لمحے کو زندہ کیا جب کہ پیغمبر بنفسہ موجود تھے، اور اپنے ساتھیوں کو بتا رہے تھے کہ کس طرح وہ فطرت کے مشاہدات کو روحانی تجربات میں کنورٹ کرکے اپنے تزکیے کا سامان کر سکتے ہیں۔

مثلاً حدیث میں آیا ہے کہ: مثل المؤمن كمثل خامة الزرع ۔ یہاں ہم کامن سنس سے یہ اضافہ کر سکتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے کچھ اصحاب کے ساتھ چل رہے تھے کہ راستے میں ایک نرم پودا دکھائی دیا۔ وہ ہوا کے جھونکے کے مقابلے میں اکڑتا نہیں تھا بلکہ جھک جاتا تھا۔ دیکھ کر آپ نے اپنے اصحاب سے فرمایا کہ مومن بھی اسی طرح ایک نرم مزاج والا انسان ہوتا ہے۔ کے اندر ٹکراؤ کا مزاج نہیں ہوتا بلکہ ایڈجسٹمنٹ کا مزاج ہوتا ہے۔

اس مزاج کا فائدہ مومن کو یہ ملتا ہے کہ غیر متعلق چیزوں میں الجھ کر وہ اپنے اندر ذہنی اور روحانی ارتقا کے عمل کو بلا روک جاری رکھتا ہے۔ اس کے وقت اور اس کی طاقت کا کوئی بھی لمحہ کسی غیر متعلق کام میں ضائع نہیں ہوتا— اس طرح اقوالِ رسول میں اپنے کا من سنس سے اُس کے ماحول کا تصور کرکے ہم اپنے آپ کو گویا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت میں پہنچا سکتے ہیں۔ ایسا کرنے سے یہ ہوگا کہ جو چیز اصحابِ رسول کو واقعاتی طور پر حاصل تھی، وہ ہم کو تصوراتی طور پر حاصل ہو جائے گی۔ سے یہ کہنا بالکل درست ہوگا کہ: مَنْ كان في بيته مجموعة من الاحاديث كأنما هو في صحبة النبی صلی اللہ علیہ وسلم (جس کے گھر میں احادیث رسول کا کوئی مجموعہ موجود ہو، وہ گویا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت میں جی رہا ہے)۔

Printed page