Al-Risala · January 2007

السلام علیکم ورحمۃ اللہ

Al-Risala, January 2007, pp. 19–21

By Maulana Wahiduddin Khan

عرض یہ کہ ۳۱ مارچ ۲۰۰۶ کو میں نے آپ کی خدمت میں ایک جواب طلب خط روانہ کیا تھا مگر اس سلسلے میں آپ کی طرف سے ابھی تک کوئی جواب موصول نہیں ہوا۔ براہِ کرم اس سلسلے میں اپنا جواب ارسال فرمائیں۔ مسئلہ یہ ہے کہ آپ نے ماہ نامہ زندگی نو (اپریل ۲۰۰۶) میں’’اشارات‘‘ کے تحت، ڈنمارک کے اخبار میں چھپنے والے حالیہ کارٹون کے بارے میں اپنے خیالات کا اظہار کیا تھا۔ اس سلسلے میں آپ نے مزید لکھا تھا کہ: ’’شیطانی کارٹون کے خلاف امت مسلمہ کے عالم گیر اضطراب اور احتجاج کے دوران ملتِ اسلامیہ کے بعض مسلم ناصحین بھی میدانِ کار میں اتر آئے ہیں۔ یہ سب نصیحت فرمانے لگے ہیں کہ’’مسلمانو! صبر کا رویہ اختیار کرو، جیسا کہ دُشنام طرازی کہ مابین خود رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا۔ قرآن کریم نے خود حریفوں کی الزام تراشی اور ہر زہ گوئی کے درمیان صبر کا رویہ اختیار کرنے کی تعلیم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دی تھی: فاصبر علیٰ ما یقولون، وسبّح بحمد ربّک ۔ (یہ لوگ جو کچھ کہتے ہیں آپ اس پر صبر کیجئے اور اپنے رب کی تسبیح و پاکی بیان کیجئے اور حمد وثنا کیجئے)۔ اس لیے مسلمانوں کو بھی صبر کرنا چاہیے‘‘۔ یہ نصیحت ہندوستان کے ایک معروف مفکر اکثر ہندی مسلمانوں کو ہد یہ کرتے رہتے ہیں اور اس طرح ارشاد فرماتے ہیں کہ گویا گناہ گار خود مسلمان ہیں‘‘۔

آپ نے اپنی اس تحریر میں جن صاحب کا حوالہ دیا ہے ان کا نام آپ نے ذکر نہیں فرمایا۔ براہِ کرم نام کی تصریح کے ساتھ مطلع فرمائیں کہ یہ کون صاحب ہیں، اور انھوں نے اپنی کس کتاب یا مضمون میں وہ نقطہ نظر تحریر

کیا ہے جس کو آپ نے اپنے’’اشارات‘‘ میں ان کی طرف منسوب فرمایا ہے۔

نئی دہلی، ۱۳؍ اپریل ۲۰۰۶ء طالبِ جواب وحیدالدین ڈاکٹر اشتیاق احمد ظلّی، مدیر مجلّہ علوم القرآن (علی گڑھ) کا مولاناحمیدالدین فراہی کے بارے میں ایک مضمون چھپا تھا۔ اس مضمون کو پڑھ کر میں نے انھیں درج ذیل خط روانہ کیا:

برادر محترم ڈاکٹر اشتیاق احمد ظلّی! السلام علیکم ورحمۃ اللہ عرض یہ کہ علی گڑھ سے شائع ہونے والے ششماہی مجلّہ علوم القرآن (جنوری۔ دسمبر ۱۹۹۱) میں آپ کا ایک مضمون دیکھا، اس کا عنوان یہ تھا:

’’ترجمان القرآن، مولاناحمیدالدین فراہی کی فکری اور اصلاحی تحریک‘‘۔

اپنے اس مضمون میں آپ نے یہ لکھا تھا کہ مولاناحمیدالدین فراہی علی گڑھ کے زمانۂ قیام میں’’نہ صرف عصری علوم سے آشنا ہوئے بلکہ عصری اسلوب ومزاج اور عصری اندازِ تحقیق وترسیل سے پوری واقفیت بہم پہنچائی۔ یہیں انگریزی زبان پر عبور حاصل کیا اور فلسفۂ جدید کے ذوق آشنا ہوئے… یہ امر واقعہ ہے کہ قدیم و جدید کا جیسا مجمع البحرین اُن کی ذات والاصفات میں نظر آتا ہے اس کی مثال ملنی مشکل ہے۔ ‘‘ (صفحہ ۷۸) اس کے بعد مجھے سرائے میر (اعظم گڑھ) سے شائع ہونے والے سہ ماہی مجلّہ نظام القرآن کا شمارہ ستمبر، اکتوبر، نومبر ۲۰۰۵ ملا۔ اس میں آپ کا ایک مضمون اس عنوان کے ساتھ چھپا ہے: فکر فراہی، مرض اور علاج۔ اپنے اس مضمون میں آپ نے دوبارہ لکھا ہے کہ مولاناحمیدالدین فراہی نے علی گڑھ میں’’جدید نظریات اور فلسفے سے واقفیت ہی حاصل نہیں کی بلکہ اُن کا گہرا مطالعہ کیا اور علمی اور ذہنی سطح پر اپنے آپ کو اس کام کے لیے تیار کیا جو اُن کے پیش نظر تھا… وہ جدید تعلیم سے براہِ راست واقف تھے‘‘۔ آپ کے ان دونوں مضامین میں آپ کے دعوے کے حق میں مولانافراہی کی کسی تحریر کا کوئی متعلق حوالہ میں نے خود مولاناحمیدالدین فراہی کی تحریریں دیکھی ہیں، مگر ان کی کسی تحریر یا کتاب میں ان کی تصویر مجھے نہیں ملی جس کا ذکر آپ نے اپنے مذکورہ دونوں اقتباس میں فرمایا ہے۔ ان کی تحریروں سے قدیم میں ان کی دست گاہ کا ثبوت تو ملتا ہے لیکن عصری افکار اور جدید علوم میں ان کی مہارت کا کوئی ثبوت نہیں ملتا۔

براہ کرم متعین طور پر بتائیں کہ مولا نا حمید الدین فراہی کی کس کتاب یا کتاب کے کس صفحے سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ وہ عصری افکار اور جدید علوم میں تبحر کا درجہ رکھتے تھے ، جیسا کہ آپ نے اپنے مضامین میں تحریر فرمایا ہے۔ نئی دہلی ، ۳۰ اپریل ۲۰۰۶ ان کی طرف سے کوئی جواب نہیں ملا تو میں نے انھیں یاد دہانی کے طور پر درج ذیل خط لکھا : برادر محترم ڈاکٹر اشتیاق احمد ظلّی!

Printed page