Al-Risala · May 2007

حلال اور حرام کا تصور

Al-Risala, May 2007, pp. 10–12

By Maulana Wahiduddin Khan

حلال اور حرام کا تصور کوئی پر اسرار تصور نہیں۔ وہ فطرت کے قانون (law of nature) کا مذہبی نام ہے۔ حلال اور حرام کا مطلب اُن ابدی اصولوں کو اپنی زندگی میں اختیار کرنا ہے جو نظام فطرت کے تحت آدمی کی ترقی کے لیے ضروری ہیں۔ اصل یہ ہے کہ خالق نے انسان کو استثنائی طور پر ایک عظیم نعمت دی ہے۔ یہ عظیم نعمت وہی ہے جس کو دماغ کہا جاتا ہے۔ انسان کے دماغ میں لامحدود کہا جاتا ہے کہ ہر فرد کے دماغ میں ایک سو ملین، بلین، بلین پارٹکل ہیں۔ پارٹکل انفارمیشن پارٹکل ہیں۔ لیکن ابتدائی طور پر یہ تمام پارٹکل خوابیدہ حالت میں ہیں۔ کوشش سے ان کو اُن فولڈ (unfold) کرتا ہے۔ کوئی آدمی جتنے زیادہ پارٹکل کو اُن فولڈ کرے گا، اتنا ہی زیادہ وہ ذہنی اور روحانی ترقی حاصل کر سکے گا۔

انسان کو موجودہ دنیا میں، جینے کے لیے تھوڑی مدت ملی ہے۔ مثلاً نپولین بونا پارٹ (وفات 1821) غیر معمولی دماغ کا حامل ہونے کے باوجود صرف باون سال کی عمر میں مرگیا۔ سید جمالدین افغانی (وفات: 1897) غیر معمولی دماغ رکھتے تھے۔ لیکن ان کا انتقال صرف اٹھاون سال کی عمر میں ہو گیا، وغیرہ۔ ایسی حالت میں انسان کو اپنے ذہنی امکانات کو ان فولڈ کرنے کے لیے بہت تھوڑا وقت ملا کوئی بھی آدمی اس نادانی کا تحمل نہیں کر سکتا کہ وہ سو سال یا اُس سے بھی کم مدت میں مر جائے اور اُس کے ننانوے فیصد سے بھی زیادہ ذہنی امکانات واقعہ بننے سے رہ گئے ہوں۔ محدود عمر کے اندر لامحدود امکانات کے حصول کا تقاضا ہے کہ آدمی کسی بھی قیمت پر اس نقصان کو برداشت نہ کرے۔ اس نقصان کا سب سے بڑا ذریعہ صرف ایک ہے اور وہ ہے ڈسٹریکشن (distraction)، یعنی ذہنی امکانات کی ان فولڈنگ کے پر اسس کا رک جانا۔ ڈسٹریکشن کیا ہے، اس کو لغت میں اس طرح بیان کیا گیا ہے:

Distraction is the diverting of the attention of an individual or group from the chosen object of attention onto the source of distraction.

حرام (unlawful) در اصل اِسیی ڈسٹریکشن کا مذہبی نام ہے۔ وہ تمام چیزیں جن کو مذہب میں حرام یا منع کیا گیا ہے، وہ سب اِس لیے حرام یا منع ہیں کہ وہ آدمی کے ذہن کو اصل نشانے سے غیر مفید طور پر ہٹا دیتی ہیں، اور اِس طرح آدمی کے اندر ذہنی ارتقا کا عمل، وقتی طور پر یا مستقل طور پر، رُک جاتا ہے۔ اِس ڈسٹریکشن کی دو قسمیں ہیں ــ حرام اور مکروہ۔ موجودہ دنیا میں کچھ چیزیں ایسی ہیں جو مکمل ڈسٹریکشن (total distraction) کا ذریعہ بنتی ہیں، ایسی چیزوں کو مذہب میں حرام قرار دیا گیا اِن کے علاوہ کچھ اور چیزیں ہیں جو جُزئی ڈسٹریکشن (partial distraction) کا ذریعہ بنتی ہیں، اُن کو حرام تو نہیں قرار دیا گیا، لیکن اُن کو مکروہ بتایا گیا۔ یعنی غیر مطلوب یا قابل پرہیز۔ حرام چیزوں میں سے چند چیزیں یہ ہیں ــ بت پرستی، قتل، زنا، شراب، خنزیر، جوا، وغیرہ۔ چیزیں مکروہ قرار دی گئی ہیں، اُن میں سے چند چیزیں یہ ہیں ــ لڑائی جھگڑا، عورت مرد کا اختلاط، شاپنگ، آؤٹنگ، رقص و سرود، بے فائدہ تفریحات، پان سگریٹ، فیشن، میک اپ، پُر تکلف دعوتیں، سامانِ عیش، تحفے تحائف کی رسم، احباب اور اعزہ کی بے معنی دھوم، سماجی تکلفات اور تقریبات، وغیرہ۔ آدمی کا ذہن فطری طور پر جامد ذہن نہیں ہے۔ وہ ہمیشہ متحرک رہتا ہے۔ اِس کے بعد آدمی مطالعہ، مشاہدہ، انٹلکچول ایکسچینج، غور وفکر، عبرت پذیری، وغیرہ کے ذریعہ جو سیکھتا ہے، وہ مسلسل طور پر انسان کی ذہنی ترقی میں مددگار بن جاتا ہے۔ ذہنی ترقی کا یہ عمل ایک مسلسل عمل ہے۔ یہاں تک کہ وہ سونے کی حالت میں بھی جاری رہتا ہے۔ جب بھی آدمی مذکورہ قسم کے محرمات یا ممنوعات میں مشغول ہوتا ہے تو وہ اُس کے لیے ایک ڈسٹریکشن کا لمحہ ہوتا ہے۔ وہ اُس کے اندر اِس فکری پراسس کو، وقتی یا ابدی طور پر، روک دیتا ہے جو آدمی کے ذہنی ارتقا کے لیے ضروری ہے۔

اِس نظریے کو کسی بھی شخص کا مطالعہ کر کے سمجھا جا سکتا ہے۔ مثلاً جو لوگ بزنس یا تفریحات وغیرہ میں زیادہ مشغول رہتے ہیں، اُن سے بات کیجیے تو معلوم ہوگا کہ اگرچہ وہ اپنے پروفیشن میں بظاہر کامیاب ہیں، لیکن وہ فکری ارتقا کے معاملے میں بالکل پس ماندہ ہیں۔ فکری موضوعات پر اُن سے بات کیجیے تو آپ کو فوراً محسوس ہوگا کہ وہ ذہنی پس ماندگی (intellectual backwardness) کا شکار ہیں۔

لوگ جسمانی دیو (physical giant) ہیں اور ذہنی بونے (intellectual dwarf)۔ موجودہ زمانے میں مغربی تہذیب نے تفریحات کو ایک عمومی کلچر کی حیثیت دے دی ہے۔ یہ حال ہے کہ آرٹ ، ٹی وی ، سینما ، فیشن ، عورت مرد کا اختلاط ، تفریحی تقریبات بہت زیادہ عام ہوگئی قدیم زمانے میں اس قسم کی تفریحات کا کوئی وجود نہ تھا۔ اب قدیم اور جدید زمانوں کا تقابل کر کے دیکھئے ۔ جتنے بڑے بڑے فلسفی ، مصنف، سائنس داں اور موجد پیدا ہوئے ، وہ تقریبأ سب کے سب قدیم زمانے میں پیدا ہوئے۔ موجودہ تفریحات کے زمانے میں شاید کوئی بھی بڑا صاحب دماغ آدمی پیدا نہیں ہوا۔ اس کا سبب یہ نہیں ہے کہ عالی دماغ لوگ پیدا ہونا بند ہوگئے ، بلکہ اس کا سبب یہ ہے کہ موجودہ زمانے میں ایسی بے شمار چیزیں وجود میں آگئی ہیں جو مسلسل طور پر انسان کے لیے ڈسٹریکشن کا ذریعہ بنی ہوئی ہیں۔ جب کہ قدیم زمانے میں ڈسٹریکشن کے یہ اسباب موجود نہ تھے۔ اس لیے انسان یکسو ہو کر صرف اپنے علمی یا سائنسی کام میں مشغول رہتا تھا۔ ہندی ترجمہ قرآن (हिन्दी क़ुरआन)

زیر نظر ترجمہ، ہندی زبان میں قرآن کا سلیس اور آسان ترجمہ ہے۔ عوام الناس کا خیال رکھتے ہوئے ہندی کے مشکل الفاظ سے اجتناب کیا گیا ہے۔ یہ ترجمہ عام فہم زبان میں ہونے کی بنا پر عوام اور خواص دونوں کے لیے یکساں طور پر مفید ہے۔

Printed page