فلسفے کی مثال
Al-Risala, May 2007, pp. 13–17
By Maulana Wahiduddin Khan
تمام علوم میں فلسفہ شاید سب سے قدیم علم ہے۔ بڑی تعداد میں اعلیٰ دماغ، فلسفیانہ غور میں مشغول رہے ہیں لیکن فلسفہ انسانی علم میں کوئی مثبت اضافہ نہ کر سکا۔ مثال کے طور پر تقریباً تمام فلسفیوں نے یہ کیا کہ انھوں نے کائنات کے مختلف مظاہر کو وحدت کی اصطلاح میں بیان کرنے کی کوشش کی۔ اس طرح انھوں نے یہ کیا کہ انھوں نے خالق اور تخلیق دونوں کو ایک قرار دے دیا۔ ان کے نزدیک ایک ہی حقیقت تھی جو مختلف اشیا کی صورت میں اپنا ظہور کر رہی تھی۔ اسی فلسفیانہ تفکیر کے نتیجے میں تخلیق کے بارے میں وہ نظریہ پیدا ہوا جس کو وحدتِ وجود (monism) کہا جاتا ہے، سنسکرت میں اسی کو ادویت واد کہتے ہیں۔
یہ نظریہ انسانی فطرت کے خلاف تھا۔ مطالعہ بتاتا ہے کہ انسان کی فطرت میں ایک بڑے کا تصور نہایت گہرائی کے ساتھ پیوست ہے۔ انسان اپنے داخلی تقاضے کے تحت، ایک ایسی ہستی کو پانا
چاہتا ہے جو اُس سے برتر ہو، جو اس کے اعتماد کا سر چشمہ بن سکے ۔ مگر وحدتِ وجود کے نظریے میں انسان کی اس تلاش کا جواب نہیں۔ کیوں کہ یہ نظریہ بتاتا ہے کہ انسان خود ہی خدا ہے۔ انسان کے باہر کوئی اور ہستی موجود نہیں جس کو وہ اپنا مرکز و محور بنا سکے۔ اس طرح وحدتِ وجود کے نظریے نے انسان کی سب سے بڑی طلب کو اس کا مطلوب فراہم کیے بغیر حیرانی اور سرگشتی کی حالت میں چھوڑ دیا۔ دوسری طرف یہ ہوا کہ پوری تاریخ میں پیغمبر اٹھتے رہے۔ انھوں نے بتایا کہ زندگی کی تشریح کا زیادہ صحیح تصورِ وحدتِ وجود نہیں ہے بلکہ توحید (monotheism) ہے۔ اس پیغمبرانہ تصور کے مطابق، یہاں ایک قسم کی ثنویت(dualism) پائی جاتی ہے۔ یعنی خالق اور تخلیق دونوں ایک دوسرے سے الگ ایک خدا ہے جس نے انسان کو اور ساری کائنات کو پیدا کیا۔ دوسرے لفظوں میں یہ کہ خالق الگ ہے، اور تخلیق اُس سے الگ۔
اس پیغمبرانہ تصور کے مطابق، یہ ہوتا ہے کہ نہ صرف انسان اور کائنات کی قابلِ فہم تشریح مل جاتی ہے، بلکہ انسان کو وہ مطلوب بھی حاصل ہو جاتا ہے جس کا تقاضا اس کا پورا وجود کر رہا تھا۔ فلسفیانہ توجیہ کے نادرست ہونے کے بہت سے پہلو ہیں، مگر اس کی نادرستگی کا سب سے بڑا پہلو یہ ہے کہ وہ فطرتِ انسانی کے لیے ایک متباين (incompatable) تصور کی حیثیت رکھتا ہے، اور جو چیز فطرتِ انسانی کے لیے متباين تصور کی حیثیت ہو، وہ اپنے آپ میں قابلِ رد ہے۔ بعد اس کو رد کرنے کے لیے کسی اور چیز کی ضرورت نہیں۔
پیغمبرانہ ہدایت آدمی کو فکری عمل کے لیے رہنما اصول (guideline) دیتی ہے۔ سے رہنمائی لینے والا آدمی فکری بھٹکاؤ سے بچ جاتا ہے۔ وہ اس قابل ہو جاتا ہے کہ صحیح سمت کا اتباع کرتے ہوئے درست شاہ راہ پر اپنا سفر جاری رکھے، یہاں تک کہ وہ اپنی منزل پر پہنچ جائے ۔ سائنس کی مثال فلسفے کے بعد دوسرا سب سے بڑا علم وہ ہے جس کو سائنس یا علومِ قطعیہ (exact sciences) کہا جاتا ہے۔ سائنس اُس علم کا نام ہے جس میں مظاہرِ فطرت کی تحقیق کر کے فطرت کے اصول اخذ
کیے جائیں اور ان کی روشنی میں مادی دنیا کی تعمیر کی جائے۔ یہ علم ابتدائی صورت میں بہت پہلے سے موجود تھا، لیکن وہ انیسویں صدی اور بیسویں صدی میں اپنے عروج پر پہنچا ہے۔ سائنس نے انسان کو بہت سی چیزیں دی ہیں۔ یہاں تک کہ تاریخ میں پہلی بار یہ ممکن ہو گیا کہ مادی قوانین کا اتباع کر کے اپنے لیے ایک پرکشش دنیا بنائی جاسکے۔ انسان ہمیشہ سے راحت اور آسائش کی زندگی کا طالب رہا ہے۔ سائنس نے پہلی بار ایسا کیا کہ بظاہر اس نے اس بات کو ممکن بنا دیا کہ انسان اپنی خواہشوں کو واقعے کی صورت دے سکے۔
لیکن جہاں تک فکری پہلو کا تعلق ہے، سائنس نے انسان کو ایک بہت بڑی بے راہ روی میں ڈال دیا، ایک ایسی بے راہ روی جو اپنے نتیجے کے اعتبار سے کامل تباہی کے ہم معنیٰ ہے۔ وہ فکری گمراہی یہ ہے کہ دنیا میں مختلف قسم کے جو سامانِ حیات موجود ہیں، ان کو سائنس نے صرف یہ حیثیت دی کہ وہ لائف سپورٹ سسٹم (life support system) کے طور پر ہیں۔ حالاں کہ خدا کے تخلیقی نقشے کے مطابق، ان کی اصل حیثیت یہ ہے کہ وہ ٹسٹ سپورٹ سسٹم (test support system) کے طور پر ہیں۔
سامانِ حیات کے سائنسی تصور کی روشنی میں انسان اور اس سامانِ حیات کے درمیان جو تعلق بنتا ہے، وہ وہی ہے جو حیوانات کا ان چیزوں کے ساتھ بنا ہوا ہے۔ حیوان ان چیزوں کو صرف ذریعۂ انتفاع کے طور پر دیکھتا ہے، جس سے کوئی ذمے داری وابستہ نہ ہو۔ سائنسی خاکہ میں یہی حال انسان کا بھی ہو جاتا ہے۔ سائنسی تصور کے مطابق، انسان یہ سمجھنے لگتا ہے کہ دنیوی ساز و سامان سے انتفاع اس کے لیے صرف رائٹ (right) کا ایک مسئلہ ہے، وہ ڈیوٹی (duty) کا مسئلہ نہیں۔ یہ تصور انسان کو اُس سطح پر لے جاتا ہے، جس کو حیوانی سطح کہا جاتا ہے۔
اس کے برعکس، سامانِ حیات کے بارے میں پیغمبرانہ تصور یہ ہے کہ یہ تمام چیزیں امتحانی پرچہ (test papers) کی حیثیت رکھتی ہیں۔ ان کے ساتھ براہِ راست طور پر ذمے داری کا تصور جڑا ہوا اس طرح پیغمبرانہ تصور آدمی کو مکمل طور پر ڈیوٹی کانشش (duty concious) بنا دیتا ہے۔
سائنسی تصور کے مطابق، یہ حال ہوتا ہے کہ ہر آدمی زندگی کو اس نظر سے دیکھنے لگتا ہے کہ وہ اِس لیے دنیا میں ہے کہ وہ بقدر امکان آرام اور آسائش کی چیزیں حاصل کرے اور پھر مر جائے۔ جب کہ پیغمبرانہ تصور کا مطلب یہ ہے کہ اس دنیا میں انسان کو جو کچھ بھی ملتا ہے، وہ صرف اس لیے ہوتا ہے کہ انسان اس کے اندر اپنا امتحان دے، اور پھر موت کے بعد کی ابدی زندگی میں اس کے مطابق، انعام یا سزا کی صورت میں اس کا نتیجہ پائے۔
پیغمبرانہ تصور کے مطابق، خالق نے ہماری زندگی کو دو دوروں میں تقسیم کیا ہے۔ پہلے، اور موت کے بعد۔ موت سے پہلے کا مرحلہ عمل کرنے کا مرحلہ ہے، اور موت کے بعد کا مرحلہ اپنے عمل کا انجام پانے کا مرحلہ۔ سائنسی تصور کے مطابق، زندگی کی معنویت کو سمجھنے کا معیار یہ ہے کہ آدمی اس عارضی مرحلۂ حیات کو کتنا زیادہ پر آسائش بنا سکا۔ جب کہ پیغمبرانہ تصور کے مطابق، سارا معاملہ جنت سے تعلق رکھتا ہے۔ پیغمبرانہ تصور کے مطابق، انسان کی کامیابی یہ ہے کہ وہ دنیا میں ملی ہوئی ہر چیز کو امتحان کا ایک پر چہ سمجھے۔ وہ چیزوں کے درمیان اس احساس کے ساتھ رہے کہ اُسے دنیا میں اُس روش کو اختیار کرنا ہے جو موت کے بعد کے طویل تر مرحلۂ حیات میں اس کو کامیاب بنا سکے۔ لکھنؤ اور سہارن پور میں مولانا وحید الدین خاں کی عصری اسلوب میں فکر انگیز اسلامی کتابیں اور ماہ نامہ الرسالہ حسب ذیل پتے پر دستیاب ہیں:
Mohmmad Hassan Nadwi Star Mobiles & Electronics, Shop No. 6, Sabzi Mandi, Sattya Market, Sector: 17, Lucknow (U.P.) 226016 Mobile: 09305356090, Email: mhcps@yahoo.com Dr. Mohd. Aslam 3/1108, Dehradun Chawk Mob. 9997153735, Email: dr_aslm@rediffmail.com
(History of Withouts)
نظریہ ارتقا کو ماننے والے لوگ زمین پر انسان کی تاریخ کو لاکھوں سال قدیم بتاتے ہیں، لیکن تاریخ کے ریکارڈ کے مطابق، زمین پر انسان کی عمر بہ مشکل پچیس ہزار سال پیچھے تک جاتی ہے۔ اعتبار سے دیکھا جائے تو انسانی زندگی کے دو پہلوؤں میں بہت زیادہ فرق ملے گا_ انسان نے مادی چیزوں میں تو بہت زیادہ ترقی کی، لیکن انسانی علوم میں لمبی مدت گزرنے کے باوجود کوئی ترقی نہ ہوسکی۔ میٹریل ترقی کا خواب انسان نے بڑی حد تک پورا کر لیا، لیکن ذہنی اور روحانی ترقی کی سمت میں ابھی تک کوئی قابلِ ذکر پیش قدمی نہ ہوسکی۔ اسی کا ایک اظہار درج ذیل کتاب ہے جو پہلی بار 1935 اس کا نام یہ ہے: